Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/09/2025
5 Views
Episode no 05
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_5 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افف حیات !!پیچھے ہوکر لیٹو یار !!وہ بڑی مشکل سے اپنی سانس بحال کر سکا تھا۔جو اپنے پورے وجود کا وزن اس پر منتقل کر چکی تھی۔ "سونے دیں بھئی۔" "سونے دیں کی بچی۔۔تم میری جان کو آجاؤ۔اور میں تمھیں سکون سے سُونے دوں۔"وہ چڑ گیا۔ "تم ایسے نہیں مانو گی۔"اس کو شرارت سی سوجھی۔ "حیات جانو !!ذرا پیچھے ہوجاؤ۔"وہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔اور اب اس کی آنکھوں میں شرارت واضح ناچ رہی تھی۔ وہ آہستہ سے بستر چھوڑتا دوسری سائیڈ گھوم کر آتا اسے اپنے حصار میں اُٹھا چکا تھا۔حیات نے ایک آنکھ کھول کر دیکھا جو اُسے ہی بڑی غور سے دیکھ رہا تھا۔مگر وہ یونہی سوتی بنی رہی۔ "اؤ بہت زیاده نیند آئی ہے۔"وہ ماتھے پر شرارت سے پیار کرتا مخالف سمت میں قدم اُٹھانے لگا۔یہ پہلا استحاق بھرا بوسہ تھا۔حیات روح تک سر شار ہوگئی تھی۔۔من ہی من میں اس کا انداز پیارا لگا۔ وہ آہستگی سے قدم اُٹھاتا واشروم کے گیٹ سے جلدی سے اندر داخل ہوتا اُسے باتھ ٹب میں ڈال چکا تھا۔جو اچانک ہوئی کاروائی پر چلا اُٹھی تھی۔ "آہ ہ ہ !!یہ کیا بدتمیزی ہے افگن۔۔"شیر نے بنا تاخیر کے ہینڈ شاور سے دور ہوکر اس کے منہ پر پانی ڈالا تھا۔جو چیختی ہوئی اپنا بچاؤ کر رہی تھی۔ ہاہاہا!!!تمھیں تو بہت شدید قسم کی نیند آرہی تھی نہ تو سو جاؤ اس ٹب میں۔۔"وہ زوردار قہقہہ لگاتا مسلسل اس پر پانی پھینک رہا تھا۔ "افگن پلیز نہیں۔۔۔مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے۔"وہ چاہ کر بھی اپنے پیروں پر سیدھی کھڑی نہیں ہو سک رہی تھی۔ "ٹھنڈ کیوں لگ رہی ہے۔چڑیلوں کی طرح کھڑکیاں دروازہ کھول کر سو رہی تھیں۔جب ٹھنڈ نہیں لگی۔"وہ لمحے بھر کو ٹھرا اور حیات موقع کا فائدہ اُٹھاتی جلدی سے ٹب سے باہر نکلی تھی۔ "آج نہیں بچنے والی تم۔"وہ مزید شرآرت سے بولتا اس کا ہاتھ پکڑ کر شاور کے نیچے لے آیا تھا۔جو اس کی پکڑ میں پھڑپھڑائی۔ "افگن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "اب میں آپ کو بھی نہیں چھوڑوں گی ۔"وہ سانس بھرتی ساتھ ایسے بھی کھینچ چکی تھی۔۔جو گھوری سے نوازتا دور ہوا۔ "حیات بیگم ایسی غلطی نہ کرنا ورنہ پچھتاؤ گی۔۔"وہ جلدی سے دور ہوا تھا۔جو خود مکمل بھیگ چکی تھی اور ساتھ اسے ہی بھیگانے کی سر توڑ کوشیش کر رہی تھی۔۔ "اور میں پچھتانے کے لئے تیار ہوں۔"وہ جھٹ پاس گرا ہینڈ شاور اٹُھاتی اس کا نشانہ لے چکی تھی۔جو دروازہ سے باہر نکلنے کے چکر میں تھا۔مگر اس سے پہلے ہی مکمل بھیگ چکا تھا۔۔ "یار حیات یہ کیا بدتمیزی ہے۔ہٹاؤ اس کو۔۔"وہ بھیگے ہوئے بال پیچھے کرتا چیخا۔ "میری نیند خراب کی وہ کچھ نہیں۔"اب وہ بھی تھک سی گئی تھی۔جبھی ایک گہری سانس بھر کر بولی۔ "اپنے سونے کا اسٹائل دیکھا ہے۔"وہ خشمگیں نگاہوں سے گھور کر بولا۔ "تو بندہ ذرا آرام سے رومانٹک انداز میں بھی تو اُٹھا سکتا ہے۔"وہ بھی کمر پر ہاتھ رکھ کر لڑاکا انداز بولی۔ "اوہ رومانٹک انداز !افگن کی آنکھیں چمکی تھیں۔ "ہاں تو !وہ اس کی آنکھوں میں چھپی شرارت بھانپ ہی نہیں سکی۔ "چلو اؤ پھر ذرا رومانٹک انداز میں بغیر بارش کے محبّت برسا دینا تو ساون آیا ہے والے موسم کا مزہ لیتے ہیں۔"وہ جیسے ہی اسے شاور کے پاس لے جانے لگا وہ جھپاک سے بھاگ کر باہر نکل گئی تھی۔۔۔ رات کی تاریکی میں واشروم میں موجود افگن کا زندگی سے بھرپور قہقہہ گونجا تھا۔۔جبکہ ڈریسسنگ روم میں شرم سے سُرخ ہوتی حیات بھی دل سے مسکرائی تھی۔ __________________ ’’فردوس منزل کے لاؤنج میں اس وقت عدیل صاحب اپنی والدہ کے ساتھ نشست سجا کر بیٹھے محو گفتگو تھے۔جبھی وہ کسی سوچ کے زِیر اثر مدعے پر آئیں۔ ’’عابثہ کے لیے کوئی لڑکادیکھاتم نے؟‘‘فردوس بیگم سنجیدگی سے بولیں۔آج کل عابثہ کی ہڈدھرم طبیعت دیکھ کر ہی اُنہیں ہول اُٹھ جاتے تھے۔ ’’نہیں اماں ابھی تو کوئی بھی نظر میں نہیں ہے۔ویسے بھی لڑکے بازار میں برائے فروخت نہیں ہیں۔ فی الحال مجھے اپنی بیٹیوں کی فکر ہے۔‘‘‘وہ بیزاری سے اکُتاہٹ بھرے لہجے میں بولے ۔فردوس منزل کے سبھی لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں مگن رہنے والے لوگوں میں سے تھے۔ ’’دیکھ لو میاں! ایسا نہ ہو کل کو یہ لڑکی کوئی چاند چڑھا دے اور ہم ہاتھ ہی ملتے رہ جائیں۔‘‘وہ عینک درست کرتی قیاس کر گئیں تھیں۔فردوس بیگم جھاندیدہ خاتون تھیں۔اور عابثہ کی ہڈ دھرم طبیعت سے اچھے سے واقفیت بھی رکھتی تھیں۔جو اپنی مرضی کی مالک کسی کی بات پر کان نہیں دھرتی تھی۔ ’’میرا مسئلہ نہیں ہے وہ ۔اگر زیادہ ہی جلدی ہے آپ کو تو پھر آپ بات کرلیں کسی رشتہ والی سےاور کوئی مناسب سا رشتہ دیکھ کر فارغ کریں اس کو۔‘‘وہ چائے کی پیالی ٹیبل پر رکھ کر ناگواری سے بولے۔ ’’چلو ٹھیک ہے پھر ۔ میں خود ہی کچھ کرتی ہوں۔۔اب اس لڑکی کا مزید اس گھر میں رہنا ٹھیک نہیں ہے۔۔‘‘وہ گہری سانس بھر کر رہ گئیں۔تو عدیل صاحب بھی سر جھٹک کر اپنے کمرے کی جانب چل دئے،ویسے بھی اس گھر کے مکینوں کے لیے عابثہ کا وجود کسی اچھوتی شے سے کم ہر گز نہیں تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موبائل ہاتھ میں لے کر بیٹھی عابثہ کب سے سوچ بچار کا شکار تھی۔شرط تو وہ لگا بیٹھی تھی مگر سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر بات کیسے شروع کی جائے۔ ’’کیا میسج کروں؟دیکھنے میں ہی اتنا کھڑوس ہے ۔پتہ نہیں کس بات کا غرور ہے اس کو۔‘‘عابثہ کو پہلے پہل تو اپنے سانولے سے رنگ کو دیکھ پریشان سی ہوئی تھی۔مگر کمپلیکس کا شکار اور وہ بھی عابثہ یہ تو گویا دو الگ الگ باتیں ہوگئی تھیں۔ ’’ڈی پی چیک کروزرا اسٹائل تو ایسے مار رہا ہے۔جیسے ہولی وڈ کا ہیرو ہو۔‘‘وہ ارتضیٰ عباس کا مغرور اکھڑ انداز دیکھ نظریں گھما گئی۔ یہ باکو کی ایک سڑک کی تصویر تھی جہاں وہ یونہی پیر کو اسٹائل دیے پول سے ٹیک لگا ئے اپنی شاندار شخصیت کے ساتھ کرسٹل گرئے آنکھوں پر بلیک سن گلاسز چڑھائے کتنی ہی حسیناؤں کا دل ڈھڑکا گیا تھا۔عابثہ کا دل بھی ایک الگ ہی لے میں ڈھڑک اُٹھا تھا۔وہ فوراً خود پر قابوں کر نظریں چُرا گئی۔۔ ’’اففف!منحوس انسان کہاں پھنسا دیا مجھے،میسج کروں؟دیکھنے میں ہی اتنا کھڑوس ہے۔‘‘وہ اس کی سنجیدگی سے بھرپور چہرے پر نگاہ ڈالتی خائف ہوئی تھی۔ کہاں پھنسا دیا مجھے۔مجھ سے نہیں ہو رہا یہ۔۔‘‘وہ ارتضیٰ عباس کی جگہ دوسرے نمبر پر روتی شکل والا ریکٹ ڈال کر میسج سینڈ کر چکی تھی۔ ’’پھر مان لو تم ایک نمبر کی بزدل انسان ہو۔‘‘ دوسری جانب سے جوابی کاروائی ہوئی تھی۔ ’’نہیں یار!!اتنا حسین بندہ ہے ۔وہ مجھ سانولی کو کیوں منہ لگائیے گا؟‘‘یہ واحد بندہ تھا جس کے سامنے اس کی زات مکمل عیاں تھی۔ ’’تم کب سے احساس کمتری کا شکار ہو گئی ہو؟‘‘مقابل کا حیران کن جواب موصول ہوا ۔ ’’وہ بات نہیں ہے بھئ!! ‘‘وہ جھنجھلائی تھی۔ ’’تو کیا بات ہے۔اگر تم اس کے اسٹیٹس کو لے کر پریشان ہو تو مت بھولو اپنے بابا کی اکلوتی ہو تم۔۔۔کڑوڑوں کی جائیداد کی اکلوتی وارث۔۔رہی بات شکل و صورت کی تو وہ چھلا ہوا مرغا اتنا بھی خوبصورت نہیں۔‘‘مقابل کا تبصرہ پڑھ کر اس کا جاندار قہقہہ بے ساختہ تھا۔ ’’چھلا ہوا مرغا۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا!‘‘مطلب سچ میں۔‘‘ارتضیٰ عباس آج کل کلین شیوڈ تھا۔ ’’چلیں پھر ڈن ہوگیا اس چھلے ہوئے مرغے کو تو میں ہی انسان بناؤنگی۔‘‘اس سے بات کر وہ ہلکی پھلکی ہوگئی تھی۔اب وجود میں ایک بجلی سی کوند گئی تھی۔دماغ بھی اگے کا
