Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Second Last Part
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 12/01/2026
10 Views
Second Last Part
میری کم عمری کے طعنے دیا کرتے تھے آج اپنی درازی عمر کا غم مناتے نظر آرہے ہیں۔۔‘‘ضامن نے سلگتی نگاہوں سے خود کو گھورتی دل نشین کو مزید سُلگایا ۔ ’’ضامن !بس چپ کرجاؤ!خبر دار جو تم نے آئندہ میری بچی کو بڑی عمر والی کہا بھی تو۔اب تم اس کے شوہر ہو یعنی تم عمر میں بڑے ہو۔بس ختم بات ویسے بھی اتنی نازک سی ہے میری پوتی اور تم ریس کے ہارے ہوئے اڑیل گھوڑے۔‘‘دادی بیگم نے بھی اعلیٰ جواز پیش کرتے خوب نقشہ کھینچا تھا۔جبکہ اپنی اونچی قدامت کو گھوڑے تشبیہ دینے پر وہ غش کھا کر رہ گیا تھا۔ ’شکر مانو میاں!کہ ہم نے تمہیں اپنی اتنی خوبصورت نازک سی پوتی سونپ دی۔۔ورنہ بھلا بتاؤ زرا کوئی ہارے ہوئے گھوڑوں پر بھی پیسے لگاتا ہے کیا؟تمہیں اتنی سگھڑ بچی دینا ہارے ہوئے گھوڑے پر پیسہ لگانا کے ہی مترادف ہے۔‘‘قمروش بیگم کی مزید قیاسہ آرائی پر مسکین کا چھت پھاڑ قہقہہ بلند ہوا تھا جبکہ دادی کے کمرے میں موجود سب ہی لوگوں کی ہنسی بے ساختہ تھی۔ ’’واہ دادی واہ!!دل خوش کردیا۔‘‘مسکین اور معصومہ ساتھ چہکے ۔ ’’تم دونوں کو تو میں ابھی بتاتا ہوں۔‘‘وہ دل نشین کو مسکراتا دیکھ دانت پیس پر کھڑا ہوتا ان کے پیچھے بڑھا جو مزید چڑانے والے انداز میں جملے کستے رفوچکر ہوگئے تھے۔ ’’ٹھرو ضامن!‘‘قمروش بیگم کی سنجیدہ سی پکار پر وہ چونک کر ٹھرا۔ان دونوں کو مزہ چکھانے کا ارادہ وہ فی الحال ملتوی کر گیا تھا۔ ’’جی دادو,!وہ احترام سے بولتا فوری ان کے نزدیک آیا۔ ’’یہاں آؤ میرے پاس بیٹھو۔۔اور تم بھی میرے پاس آکر بیٹھو۔‘‘وہ دونوں قریب ہی مخالف نشستوں پر براجمان ہوگئے تھے۔ضامن کی نظریں کتھئی رنگ کے تھری پیس میں ملبوس دل نشین پر ہی تھی جو اوشن بلیو آنکھوں پر گذار پلکوں کی چلمن گرائے بیٹھی ذرا خفا خفا سی نظر آرہی تھی۔۔ ’’دیکھو ضامن!تم مزاق مستی میں بولتے تھے جب تک ٹھیک تھا۔مگر اب دل نشین تمہاری بیوی ہے۔عمر میں بڑا ہونے میں کوئی قباحت والی بات نہیں ہے۔اس رشتہ کو چلانے کے لیے تم دونوں کی بردباری ،تحمل مزاجی ،اور اعلیٰ ظریفی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔جس رشتہ میں برادشت اور در گزر نہ کی جائے وہ رشتہ زیادہ پائیدار نہیں ہوتے۔کوشش کرنا کہ زندگی میں کبھی بھی لڑائی جھگڑوں کے دوران تم دونوں میں جو بھی غلط ہو مگر فی الفور خاموشی اختیار کر لینا۔کیونکہ جب آپ غصہٰ میں ہوتے ہو تو آپ پر شیطان غالب آجاتا ہے اور جب انسان پر شیطان غالب آجائے تو اس میں انتہا پسندی اور تکبر جیسا مادہ بیدار ہونے لگتا ہے۔اور دونوں ہی فریق اپنے نظریات کے مطابق حق بجانب ہوتے ہیں۔جبکہ در حقیقت سچائی کا علم ہمیشہ وقت گزرنے اور آنکھوں پر سے ’’میں ‘‘کی پٹی اترنے کے بعد ہی ہوتا ہے۔‘‘وہ نجانے انہیں کیا سمجھا نا چاہ رہی تھیں۔دل نشین تو دادی کے لفظوں میں چھپا مفہوم سمجھ گئی تھی۔جبکہ ضامن کسی حد تک بات کو سمجھ گیا تھا۔ ’’دادی یہ سارے سبق آپ اپنی پوتی کو پڑھائیں۔۔زیادہ عقل مند ہونے کی خوش فہمی انہی عمر دراز خاتون کو لاحق ہے۔‘‘ضامن سنجیدگی سے سنتااستہزیہ لہجے میں بولا تو قمروش بیگم نے بے ساختہ ہی اس کی کمر پر دھموکا جڑا تھا۔ ’’خیر یہ بات تو بالکل درست ہے۔‘‘دادی کے طرفداری کرنے پر ضامن نے آنکھیں چھوٹی کر دل نشین کو گھورا۔جو ہنسی چھپا رہی تھی۔مطلب جب سے نکاح ہوا تھا دل نشین جی کے دانت ہی اندار نہیں جارہے تھے۔ضامن نے واضح تبدیلی محسوس کی تھی۔ "خیر سے کل حج ہے۔اور تم دونوں کل کے دن کہیں باہر نہیں جاؤگے۔بس گھر میں رہ کر اللہ کے نام کی تسبیح کرتے رہنا۔ضامن تم نے کل کی تاریخ میں قطعی اپنے لفنگے دوستوں کے ساتھ کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔"دادی بیگم نے ذرا تنبیہ انداز میں بولا۔تو دونوں نے ہی سر خم کیا تھا۔۔ "اچھا جی!!!چلیں پھر دیکھ لیتے ہیں کہ میری پسند کے بغیر اب آپ کی سمجھدار پوتی کیسے ایک دن میں اپنی شادی کا جوڑا ارینج کرتی ہے۔‘‘ساری باتیں سنتا وہ چیلنجنگ آنداز میں بولتا کمرے سے باہر نکل گیا۔جبکہ قمروش بیگم اور دل نشین کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلیک کاٹن کے کڑکڑاتے کُرتا شلوار میں ملبوس خودپر خوشبوؤں کی برسات کرتا وہ عید کی نماز کی تیاری میں مصروف تھا۔آئینہ میں دیکھ کر خود پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتا تیزی سےاپنے بالوں کو پیچھے کی جانب سیٹ کرتا کمرے سے محلق ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا۔دراز سے سفید ٹوپی اور شوز ریک سے اپنے شوز نکال کر پہنتا نیچے کی جانب بھاگا تھا۔عید کی نماز نکلی جارہی تھی۔اور مسکین کا ابھی تک کوئی آتا پتہ نہیں تھا۔ ’’ضامن بھائی شکر ہے آپ مجھے یہیں مل گئے ۔۔چلیں بابا گاڑی میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں عید گاہ ساتھ ہی چلتے ہیں۔‘‘مسکین جو خود بھی سفید سوٹ میں ملبوس اپنی ٹوپی درست کرتا سیڑھیاں چڑھ رہا تھا کہ ضامن کو عجلت بھرے آنداز میں زینہ اترتا دیکھ تیزی سے بول کر واپس پلٹا۔جبکہ ضامن نے بھی اس کی پیرو ی کی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’پیارے بکرے جلدی جلدی سے پانی پی لو پلیز!‘‘معصومہ صاحبہ بکروں کے پاس کھڑیں ان کو زبردستی کھانا کھلانے پر معمور تھیں۔۔جبکہ وہ’’میں ‘‘کی گردان کرتے کبھی اس طرف منہ کر رہے تھےتو کبھی اس طرف۔۔ ’’افف!بکرے کے بچے کیوں تنگ کر رہے ہو مجھ معصوم جان کو۔جلدی جلدی کھالوورنہ وہ جلاد جیسے انکل آجائیں گے تو وہ تمہیں سکون سے ناشتہ بھی نہیں کرنے دیں گے۔‘‘معصومہ نے بڑے راز دارنہ انداز میں کان میں سرگوشی کی تھی۔ ’’معصومہ بچے کیا کر رہی ہو۔۔‘‘ابھی وہ مزید کچھ کہتی کہ پیچھے سے ضامن کی آواز سنائی دی تھی جو شاید نماز پڑھ کر لوٹ آئے تھے۔ ’’کچھ نہیں ضامن بھائی جانوروں کا صبح کا ناشتہ کروارہی ہوں۔‘‘معصومہ کے آنداز پر وہ بے ساختہ ہی مسکرا دیا۔ ’’اچھا چلو شاباش! آپ اندر جاؤ! جانور زبح کرنے والے انکل آگئے ہیں۔۔اب آپ اور آپی باہر نہیں آنا۔ٹھیک ہے۔‘‘وہ مسکین کی ہمراہی میں قصائی کو نزدیک آتا دیکھ سمجھانے والے انداز میں بولا تو وہ بھی تابع داری سے سر ہلاتی اپنے پیارے بکروں کو ایک آخری جھپی ڈال کر گارڈن کے پچھلے حصہٰ سے اندر چلی گئی۔ جبکہ وہ گھر کے تینوں مرد سنت ابراہیمی ادا کرنے میں مصروف ہوگئے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
