Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Second Last Part
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 12/01/2026
10 Views
Second Last Part
کر سوالیہ پوچھا گیا۔دل نشین نے شرمندگی سے سب کو اپنی ہنسی کنٹرو ل کرتا دیکھ ایسے گھور کر دیکھا۔ ’’چائے اور بریڈ!‘‘دل نشین نے میز پر ایک نگاہ گھما کر روکھے لہجے میں جواب دیا تو وہ اس انوکھی رسم پر د ل ہی دل میں بڑبڑایا تھا۔میڈم کے بجائے وہ ایسے ناشتہ سرو کر رہا تھا۔۔بھئی واہ۔۔‘‘صامن کا دل تو انگاروں پر لوٹ گیا تھا۔ ’’افف !ضامن بھائی اپنے فیس ایکسریشن تو ٹھیک کریں زرا،بالکل بھی اچھے نہیں لگ رہے چلیں جلدی سے مسکرا کر ایک بائٹ کھلائیں ہماری بھابھی جان کو۔‘‘مسکین نے بڑے معصومانہ انداز میں فرمائش کرتے ایسے ایک نئے رشتہ سے پکارا تُھا۔دل نشین کے لیے آج گھر کا ماحول کچھ بدل سا گیا تھا۔ ’’میں!‘‘ضامن نے دادی کی گھورتی نگاہیں دیکھ خود کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھا۔مگر مرتے کیا نا کرتے کے مصداق خاموش رہ گیا۔ ’’ہاں ضامن بخاری تم!شاباش پہلے کھیر سے جلدی سے ہماری بہو کا منہ میٹھا کرواؤ۔‘‘مٹی کے پیالے میں موجود کھیر کا باؤلُ اس کی جانب بڑھا کر شہروز صاحب نے بھی ایسے چھیڑنے کا بھر پور کارنامہ سرانجام دیا تھا۔جبکہ وہ دل ہی دل میں کڑ رہا تھا کہ اپنی مرضی سے ساری ناراضگی ختم کردی۔ورنہ اتنے دن سے منہ بھی لگانے کے روادار نہیں تھے۔ ’’ضامن بھائی جلدی کھلائیں نا۔۔‘‘وہ دونوں باآواز بولے۔ ’’صبر نہیں ہورہا ۔‘‘آنکھیں دکھانے پر وہ دونوں ہی منہ باسور گئے ۔ ’’جبکہ ضامن نے تیز نظر سے نوازتے ایک چمچ بھر کر دل نشین کے منہ کی جانب بڑھایا جس نے سب گھر والوں کی موجودگی میں بڑے ہی شرمائے سے آنداز میں چھوٹا سا منہ کھول کر تھوڑی سی کھیرکھائی تھی۔ ’’یے یے۔۔۔‘‘دونوں نے ہی اس خوبصورت سے منظر کو کیمرہ کی آنکھ میں قید کر تالیاں بجائیں۔ ’’دل آپی۔۔اب آپ کی باری ۔‘‘ان دونوں کی ہی آنکھیں چمکیں تھیں جبکہ وہ گڑبڑا سی گئی۔ ’’یہ تم دونوں ابھی تک یہیں بیٹھے ہو۔جلدی جلدی کھاؤ اور پھر زرا جاکر بکروں کو دیکھو۔انہیں بھی ناشتہ کروانا ہے یا نہیں۔‘‘نوشین بیگم نے دل نشین کو گھبراتا دیکھ دونوں کو جھڑکا۔تو سب ہی اپنی اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے ناشتے کی جانب متوجہ ہوئے۔ضامن کو تنگ کر نجانے کیوں مزہ سا آرہا تھا۔ جوس کا گلاس ختم کرتا ضامن ایک ٹوسٹ پر مکھن لگا کر دو بائٹ میں ختم کرتا سب سے پہلے اُٹھا تھا۔دل نشین نے مایوسی سے دادی کو دیکھا کہ موصوف ناراض ہوئے بیٹھے تھے۔۔۔۔جبکہ انہوں نے نظروں سے تسلی کروائی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو!ہاں یار کاشف کہاں ہے تو۔‘‘ضامن اپنے کمرے میں صوفے پر دھپ سے بیٹھتا سر صوفے کی پشت پر پیچھے کو گرا کر موبائل پر بات کرنے میں مصروف تھا۔ ’’ابے یار!!شادی شہریار کی بہن کی ہے۔۔شادی کی شاپنگ تو کرتا پھر رہا ہے۔عجیب حرکتیں لگا رکھی ہیں تم لوگوں نے۔میں کہاں جاؤں۔۔۔اس قدر بوریت ہو رہی ہے مجھے۔‘‘وہ پیشانی مسل کر بیزاری سے بولا۔ ’’کیوں بھئ!کل ہی تو تیرا نکاح ہوا ہے۔وہ بھی تیری محبت کے ساتھ تو جاکر بھابھی کے ساتھ ٹائم گزار۔۔ویسے تو بڑا مجنو ں بنا پھرتا تھا۔۔ساری محبت کیا دو دن میں ہی ہوا ہوگئی ہے۔‘‘دوسری جانب سے بڑے طنزیہ انداز میں بولا گیا۔ ’’ہننہ!کونسی محبت؟اور کونسا نکاح۔۔ضامن بخاری کو تو بکرا سمجھ کر زبح کیا گیا ہے۔جب کوئی راستہ نظر نہیں آیا تو ضامن بخاری نظر آگیا۔ورنہ کل تک میں عمر میں بڑا نظر آرہا تھا۔‘‘‘وہ بھی تپا بیٹھا تھا۔جبھی کھٹکے کی آواز پر کوئی کمرے میں داخل ہوا تھا۔اس نے چو نک کر سر آٹھایا تو سامنے ہی دل نشین گلابی لبو پر مسکراہٹ سجائے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ ’’اچھا فون رکھ !میں تجھ سے بعد میں بات کرتا ہوں۔۔‘‘ضامن نے ایسے نزدیک آتا دیکھ بات ختم کی۔ ’’کہیں جارہے ہو کیا؟‘‘وہ نارمل آندااز میں گویا ہوئی تو اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔ ’’آپ سے مطلب دل نشین جی!‘‘ضامن کے لہجے میں طنز تھا۔ ’’یہ جی سے کیا مراد ہے تمہارا؟‘‘دل نشین ہونق ہوئی۔ ’’میں بڑوں کو آدب سے ہی مخاطب کرتا ہوں۔‘‘وہ دانت پیس کر بولتا ایک جھٹکے سے اُٹھا ۔دل نشین گھبرا کر دو قد م پیچھے ہوئی۔ ’’کیوں آئیں ہیں آپ؟‘‘ضامن اس کی جانب قدم بڑھا کر آنکھوں میں چنگاری لئے پُھنکارا۔ ’’وہ میں پوچھنے آئی تھی کہ تم نے ناشتہ کے بعد کی دوائی لے لی؟‘‘دل نشین نے اس کے بگڑے تیور دیکھ لب کاٹے۔رشتہ بدلنے کے بعد ایک جھجھک سی آڑے آگئی تھی۔ ’’ کیوں میں کوئی چھوٹا بچہ ہوں۔جو آپ میری فکر میں گھُلی جارہی ہیں۔‘‘اس کی آنکھیں ہر جذبہ سے عاری تھیں۔ ’’ضامن وہ میں۔۔‘‘دل نشین اس کےُ اکھڑ آنداز پر گھبرا گئی۔ ’’کیا ضامن؟‘‘وہ ایک قدم مزید قریب آیا جبکہ اب ان دونوں کے درمیان محض ہاتھ بھر کا فاصلہ ہی تھا۔ ’’تم مجھ سے اجنبیوں کی طرح کیوں بات کر رہے ہو؟‘‘ اس قدر بے حسی پر وہ آنکھوں میں آنسو بھر لائی۔ ’’کیوں کہ میں آپ سے اپنا ہر رشتہ ختم کر چکا ہوں۔‘‘وہ اس کی اوشن بلیو آنکھوں میں اپنی سپاٹ سی نگاہیں گاڑتابہت سفاکی سے بولا ۔ ’’اور جو کل نیا رشتہ بنایا تھا اس کا کیا؟‘‘اس کو تکلیف سی ہوئی تھی۔ ’’ہاہا ہاہا۔۔وہ وہ تو میں نے آپ کی خواہش کا احترام کیا تھا۔اور سنت پر عمل بھی۔اب اگر ایک لڑکی بھری محفل میں مجھ سے نکاح کی خواہش ظاہر کرے تو میں انکار کرتا اچھا تو نہیں لگتا نا۔‘‘وہ بھی آج سارے حساب بے باک کرنے پر اتر چکا تھا۔دل نشین ایسے بہت خوار کرواچکی تھی۔اور اب اس کی باری تھی۔ ’’سنت پر عمل کر کے تم جیسے بہت نیک بن گئے۔بیوی کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔‘‘دل نشین اسے راستہ بدل کر جاتا دیکھ ہاتھ پکڑ کر اس کا رخ اپنی جانب کرتی پھنکاری۔تو اس نے تاسف سے ایسے گھورا۔ ’’بیوی نہیں منکوحہ!! اور ویسے بھی دل نشین میں پہلے بھی کہ چکا ہوں اب پھر کہ رہا ہوں۔۔بار بار میرے راستہ میں آنے کی کوشش مت کیا کریں پلیز۔۔‘‘غصہٰ سے سرخ پڑتی آنکھوں میں ناگواری لیے انگشت شہادت آٹھا کر تنبیہ آنداز میں بولتا کمرے سے جا چکا تھا۔وہ اس کے جھٹکے سے ہاتھ چھوڑوانے پر گڑبڑا کر ہوش میں آئی تھی۔۔اور کتنی ہی دیر جامد اور ساکت سی کھڑی رہ گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مسکین شکل تم یہاں سے جارہے ہو یا نہیں؟‘‘وہ ناک بھنوئیں چڑھا کر بولی۔ ’’نہیں جارہا کیا کر لوگی؟‘‘مقابل نے بھی طنزیہ آئی برو آٹھائے۔ ’’ضامن بھائی !ضامن بھائی میری بات سنے پلیز!‘‘ا س سے پہلے کے وہ مسکین کی بات کا کوئی تگڑا سا جواب دیتی کہ سامنے ہی ضامن کار پورچ میں نظر آگیا جیسے وہ بے ساختہ ہی پکار بیٹھی۔وہ جو غصہٰ میں تن فن کرتا بس نکلنے ہی والا تھا کہ اپنے پیچھے سے معصومہ کی چیخ و پکار سُن بے ساختہ ہی ٹھر گیا۔ ’’کیا ہوگیا ہے لڑکی؟‘‘ضامن تعجب خیز آنداز میں حیرانگی سے قد م لیتا ان کے نزدیک آیا۔جہاں لان کے دوسری جانب بکروں کو باندھنے کی جگہ بنائی ہوئی تھی۔ ’’کیا ہوا کیوں چلا رہی ہو معصومہ؟‘‘حتیٰ الامکان لہجے میں نرمی برتی گئی تھی۔ ’’دیکھیں ضامن بھائی ۔یہ بکرا اپنی پسند کا خرید کر لایا ہے تو اب کیا میں اس گھر کی سب سے لاڈلی بچی ان بکروں کو اپنی پسند کی جیولری بھی نہیں پہنا سکتی؟‘‘وہ لہجے میں معصومیت سموئے آنکھیں پٹ پٹا کر بولی۔تو وہ ایک گہری تاسف بھری سانس بھر کر رہ گیا۔ ’’بتائیں نا پلیز!‘‘اس کی خاموشی بری طرح کھلی تھی۔ ’’مسکین ،معصومہ کو
