Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Second Last Part
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 12/01/2026
10 Views
Second Last Part
مخفی نہیں رہا تھا۔ ’’دادی!یہ کیا بول رہی ہے۔میرے اور ضامن کے نکاح میں سعد کا کیا ذکر؟‘‘دل نشین کو اب واقعی دال میں کچھ کالا محسوس ہوا تھا۔ ’’کچھ نہیں بیٹا دراصل بات کچھ یوں ہے کہ سعد اس نکاح سے پہلے ہی تم سے شادی کرنے سے انکار کر چکا تھا۔بس وہ اپنی ماں کی وجہ سے مجبور تھا۔ورنہ وہ باہر ہی کی کسی لڑکی سے شادی کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا۔‘‘بل آخر بلی تھیلے سے باہر آہی گئی تھی۔دل نشین نے منہ کھول کر ہونقوں کی طرح دادی کو دیکھا۔ ’’مطلب ضامن اور میرا نکاح کروانا آپ دونوں کی ملی بھگت تھی؟‘‘ماتھے پر بل ڈالے سوالیہ آنداز میں بولتی وہ حیرانگی سے بولی۔ ’’جی کچھ ایسا ہی ہے۔۔کیوں کہ تم دونوں ہی اپنی اپنی جگہ اٹل تھے۔اب اس اونٹ کو کسی کروٹ تو بیٹھنا ہی تھا نا۔‘‘دادی بیگم نے راز فاش کر بے نیازی سے ہاتھ جھاڑے۔ ’’اور دادی ضامن!کیاوہ ان ساری باتوں سے بے خبر ہے؟‘‘اس بار مزید تفشش ہوئی تھی۔ ’’ضامن اتنا سیدھا نظر آتا ہے تمہیں کہ میرے ایک بار کہنے پر مان جائے گا۔وہ پہلے ہی ہر بات سے آشنا تھا۔کیونکہ سعد نے سب سے پہلے فون کر کے ایسے ہی با خبر کیا تھا۔بس نکاح کروانے کی ساری جدوجہد میری تھی۔اور ضامن اب زرا نخرہ دکھا رہا ہے ورنہ اس کے دل میں تویقیناً خوشی سے لٖڈو پھوٹ رہیں ہونگے۔‘‘دادی نے نخوت سے کہتے سر جھٹکا۔جبکہ دل نشین نے ملامتی نظروں سے دادی اور اس میسنی کو دیکھا ۔جن کی ساری ملی بھگت کے باعث یہ عظیم کام پائے تکمیل تک پہنچا تھا۔ ’’آئے بی بی!اب ایسی مسکین نظروں سے کیوں دیکھ رہی ہو ہمیں۔ہم نے کونسا تم ہر ظلم کردیا ہے۔ویسے بھی دو سال بڑی ہوں بڑی ہوں کہ کر تم نے زیادہ دماغ خراب کر رکھا تھا۔اگر عمر کا راگ نا آلاپتی تو شاید ہم کسی معقول طریقے سے تمہارا رشتہ ضامن سے طے کرتے۔‘‘دل نشین کی نظروں کی تپش خود پر محسوس کر وہ اس کی طبیعت صاف کرگئی تھیں۔جبکہ دروازہ پر موجود ضامن ساری باتیں سنتا وہیں سے لوٹ گیا تھا۔۔۔ ’’تو پھر مجھے بھری محفل میں امتحان میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘دل نے شکوہ کناں انداز میں کہا۔ ’’بی بی جب گھی سیدھی انگلی سے نا نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے۔اگر میں تمہیں اس وقت نکاح کا نہیں کہتی تو تم نے ساری زندگی اپنی فضول سی انا کی نظر کر دینی تھی۔‘‘‘قمروش بیگم نے ماتھے پر بل ڈالے وضاحت دی۔ ’’اور تم۔۔‘‘اس بار توپوں کا رخ معصومہ کی جانب تھا۔ ’’آپی آپی!وہ کہتے ہیں نا جو ہوا اچھا ہوا۔۔۔ہاہاہاہاہاہا۔۔۔میں چلی۔۔بائے بائے۔‘‘وہ دل کے ہاتھ آنے سے پہلے ہی دور سے کھلکھکلا کر شرارتً آنکھ مارتی کمرے سے بھاگ چکی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑی عید کا خوشیوں بھرا تہوار بلآخر سر پر آن پہنچا تھا۔عید کے دوسرے دن ضامن اور دل نشین کی رخصتی کے ساتھ ساتھ فیالحال دونوں کی باہمی رضامندی کے تحت مسکین اور معصومہ کا نکاح رکھا گیا تھا اور سال بعد شادی۔عید میں صرف دو دن باقی تھے۔ اس بار دادی بیگم نے دل نشین اور معصومہ کو عید کی شاپنگ کروانے کی کٹھن زمہ داری اپنے دونوں لاڈلے پوتوں کے کندھوں پر ڈال دی تھی۔ضامن تو دادی کی جھڑکی سننے کے بعد بہت منتیں کروانے کے بعد مانا تھا جبکہ مسکین کو تو معصومہ کی فضول سی فرمائشوں نے عجیب کوفت سے دوچار کر دیا تھا۔ ’’مسکین بتاؤ یہ جھومر مجھ پر جچ تو رہا ہے نا؟‘‘جیولری شاپ میں موجود معصومہ کے سوال پر اس نے نظریں گھمائیں۔جس سے کسی چیز کا انتخاب ہی نہیں ہوسک رہا تھا۔ ’’جی بہت زیادہ ہی جچ رہا ہے۔بلکہ آپ کی زینت بننے کے بعد تو اس کہ حسن میں چار چاند لگ چکے ہیں۔۔‘‘اس کہ لہجے میں طنز کی مہک شامل تھی۔ ’’ہنہہ!مسکین شکل ۔۔‘‘اس نے منہ بنا کر سر جھٹکاجبکہ سیلز مین نے نہایت ہی بیزاری سے اس لڑکی کو دیکھا تھا جو اب تک ہر نیا ڈزائن اپنے ماتھے پر سجا کر دیکھ چکی تھی۔ ٹھیک ہے بھئی!!مگر جو بھی لینا ہےجلدی لو۔اور ذرا سستی چیزیں لے لو۔بابا جان نے مجھے جتنے بھی پیسے دیے تھے وہ سب ختم ہو چکے ہیں۔"مسکین معصومہ کی شاپنگ پر سخت جھنجھلاہٹ کا شکار تھا۔ "ہننہ!!شکل،عقل اور نام سب سے ہی مسکین ہو تم۔۔"وہ ایک زور دار چٹکی بھر کر بولی تھی۔۔ ’’معصومہ مسکین تم دونوں کی شاپنگ ہوگئی؟‘‘ابھی وہ مزید کوئی گوہر افشائی کرتی اس سے پہلے ہی اپنے پیچھے سے شاپ کا گلاس ڈور دھکیل کر داخل ہوتے ضامن کی سرد سی آوزاز پر دونوں ہی سیدھے ہوئے تھے۔ ’’جی بھائی میری تو ہوگئی۔اس مسکین کی ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔‘‘وہ جھٹ سے پینترا بدل کر بولی۔ ’’کیوں مسسکین تم نے ابھی تک اپنی شاپنگ مکمل نہیں کی؟۔‘‘خاموشی سے ساتھ آتی دل نشین نے بھی اسستفساریہ لہجے میں دریافت کیا۔کیونکہ وہ دونوں تو خاموشی سے الگ الگ اپنی اپنی شاپنگ کر چکے تھےالبتہ طوطا مینا کی جوڑی کی ابھی تک لڑائیاں عروج پر تھیں۔ ’’بھائی بابا نے مجھ شاپنگ کے لئے جتنے بھی پیسے دیے تھے وہ میں اس چڑیل کی شاپنگ پر خرچ کر چکا ہوں۔۔اب تو میرے پاس گھر واپس جانے کی پیسے نہیں بچے ہیں۔‘‘مسکین نے بڑا ہی مسکین زدہ سی شکل بنائی تھی۔دل نے مسکراہٹ ضبط کی۔ ’’معصومہ!‘‘ضامن نے گھورا تو وہ منہ باسور گئی۔ ’’ضامن بھائی مجھے اپنی شادی پر ڈزائنر لہنگا ہی خریدنا تھا اب آپ نے آپی کو بھی تو ان کی پسند کی شاپنگ کروائی ہوگی نا۔کیونکہ شادی تو صرف ایک ہی بار ہوتی ہے۔مگر یہ مسکین ایک نمبر کا کنجوس ہے۔‘‘ضامن نے ساتھ کھڑی دل نشین پر ایک سخت سی نگاہ ڈال کر تاسف سے نظر پھیر گیا۔جس نے ضد میں ابھی شادی کی شاپنگ کی ہی نہیں تھی۔محترمہ بس عید کی شاپنگ مکمل کر کہ آرہی تھیں۔کہ شادی کی شاپنگ تو ساتھ ہی کریں گے ورنہ نہیں کریں گے۔‘‘ ’’اچھا چلو! میں پیمنٹ کر دیتا ہوں پھر فٹا فٹ گھر چلو۔کیونکہ تمہاری آپی نے تو ابھی شاپنگ نہیں کی ہے۔ان میڈم کا آن لائن خریداری کرنے کا ارادہ ہے۔‘‘وہ ناگوار لہجے میں بولتا ان سب کو ساتھ لئے شاپ سے باہر نکل گیا تھا۔جبکہ دل کا منہ پھولا ہوا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہ کیا بات ہوئی؟تین دن بعد شادی ہے اور تم نے ابھی تک اپنا ڈریس نہیں لیا؟حد کرتی ہو لڑکی۔‘‘دل نشین کی ضد سن کر وہ تیز لہجے میں بولیں جو منہ بنائے خاموش بیٹھی تھی۔ ’’اور تم!جب میں نے کہا تھا کہ دونوں اپنی پسند کی شاپنگ کر لو تو ایک بات سمجھ کیوں نہیں آتی تم عقل کے گھامڑوں کو؟‘‘دادی بیگم اب ضامن کی جانب متوجہ ہوئیں جو صوفے پر پیر پسار کر بیٹھا مزہ سے دل نشین کی عزت افزائی ہوتی دیکھ رہا تھا۔ ’’دادی مجھے کیا معلوم کہ لڑکیاں کیا پسند کرتیں ہیں ویسے بھی دل نشین جی سمجھدار ہیں ۔مجھ سےبڑی ہیں زیادہ تجربہ کار ہیں۔اب میں دو سال چھوٹا معصوم بچہ!مجھے کیا معلوم تھا۔۔۔‘‘ضامن نے جلتے پر مٹی کا تیل ڈالنے والا کام کیا تھا۔جبکہ دل نے دانت پیسے۔ ’’دادی ضامن کو سمجھا دیں کہ مجھے دو سال بڑی کہنا بند کر دے۔۔اپنی بیوی کو کون بیوقوف خود سے بڑا کہتا ہے۔‘‘دل نشین پہلی بار غصہٰ میں دانت پپیس کر بولی۔چہرہ غصہٰ کی تمازت سے گلابی ہو رہا تھا۔جبکہ ضامن کی شوخ نگاہوںنے یہ تاثر بڑی دلچسی سے دیکھا تھا۔ ’’واہ!اللہ تیری شان کل تک لوگ
