Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Second Last Part
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 12/01/2026
10 Views
Second Last Part
کرنے دو جو وہ کرنا چاہتی ہے۔‘‘محتصر انداز میں مسکین کو ہدایت دیتا وہ پھر سے پلٹا۔ ’’ضامن بھائی۔۔آپ پہلے بتا کر جائیں کہ اب ان بکروں پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟‘‘وہ مزید بولی جبکہ مسکین نے پاس آکر اس کے ہاتھ سے زیور چھین کر بکروں کے گلے میں ڈالے جو محض ایک گھنٹی پر مشتمل تھے۔ ’’یار تم لوگوں کو سارادن لڑنے کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے کیا؟جب دیکھو بکواس ہی کرتے نظر آتے ہو۔‘‘وہ جھلبلاہٹ میں دونوں کو جھڑک کر واپس اپنی گاڑی کی جانب بڑھا۔جبھی ایسے سامنے سے دل نشین اپنی جانب آتی ہوئی دکھائی دی۔تو اچانک تیوروں نے رخ بدلہ تھا اور مزید تن فن کرتا گاڑی ریورس گیر میں ڈالتا صدر درواززہ عبور کر گیا۔۔جبکہ وہ دونوں ہنوز لڑائی میں مصروف تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا ہوا ؟تمہارا سڑا کریلا بھائی تم دونوں کو کیوں ڈانٹ رہا تھا؟‘‘دل نشین نے دھوپ کے باعث سر پر ہاتھ سے چھجا سا کر کے تفشیشی آنداز میں پوچھا۔ ’’دل نشین آپی دیکھیں۔۔پہلے اس مسکین نے مجھے منڈی نہیں جانے دیا اور اب بکروں کی سجاوٹ بھی اپنی پسند کی کر رہا ہے۔‘‘دل نشین کو دیکھ اس نے فوری اپنا دکھڑارویا۔ ’’کیوں مسکین؟دل نے مسکین کا کان مڑوڑ کر گھورا۔تو وہ کھسیانا ہوا۔ ’’دل آپی میں تو کچھ بھی نہیں کہ رہا ۔۔مگر یہ بکروں پر پنک کلر کرنے کو بول رہی ہے۔‘‘مسکین نے جلدی سے سارا الزام معصومہ کے ناتواں کندھوں پر منتقل کیا۔جبکہ وہ اس قدر سفاک انداز میں جھوٹ بولنے پر حیرت کی زیادتی سے گنگ رہ گئی۔ ’’پنک کلر۔۔۔‘‘دل نشین کی بے ساختہ ہنسی جھوٹی تھی۔ ’’مسکین کے بچے!جھوٹے ۔۔۔‘‘معصومہ غصہٰ سے مسکین کے پیچھے لان میں دوڑی۔جو لان میں گول گول گھوم رہا تھا۔دل نشین کا ہنس ہنس کرُ برا حال تھا۔ ’’دی گریٹ معصومہ تم کھسک چکی ہو۔میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی بچے کہاں سے ہونے ہیں؟‘‘وہ ایسے چڑانے کے لیے ہانک لگا کر دل نشین کی جانب دوڑا ۔کیونکہ اس چڑیل سے اب دل نشین ہی وہ واحد ہستی تھی جو ایسے بچا سکتی تھی ورنہ وہ تو پنچے جھاڑ کر پیچھے پڑ گئی تھی۔ ’’نہیں ہوئی تو کیا ہوابیٹا!اس عید پر تم دونوں کی شادی تو پکی ہی ہے۔‘‘ دل نشین نے پاس آتے مسکین کے سر پر چپت لگاتے دھماکا کیا۔ ’’کیا؟؟؟؟آپی ایسا بیہودہ مزاق نا کیا کرو یار میرے ساتھ۔‘‘مسکین کے حلق میں کڑوا بادم آٹک گیا تھا۔ ’’آپی اس مسکین کو آپ مجھے دے دیں!آج میں اس کا دماغ درست کر کہ ہی رہوں گی۔‘‘معصومہ نے کسی گینگ کی لیڈر کی طرح آستینیں چڑھائیں۔ ’’ہاہاہاہا!لڑکی بس کرو۔۔میرا بھائی عمر میں بڑا ہے تم سے۔۔جب دیکھو بیچارے کا پیچھا لیے رہتی ہو۔‘‘دل نشین نے اپنی پشت پر چھپتے مسکین کو دیکھ معصومہ کا گھورا جو مسلسل اسے پکڑنے کی تک ودو میں بندریوں کی طرح اچھل رہی تھی۔ ’’آپ کو نہیں پتہ آپی۔۔آپ کا یہ بھائی بڑا مسینا ہے۔۔۔کل بھی نکاح کے وقت اس نے میری کتنی بےعزتی کی تھی۔‘‘معصومہ کو اپنا سابقہ غم یاد آگیا تھا۔ ’’اچھا!مگر بیٹا جی شروعات آپ کی جانب سے ہی ہوئی تھی۔‘‘دل نے اس کا جارحانہ آنداز دیکھ مسکراہٹ ضبط کی۔ ’’نو!پہلے اس نے انکار کیا تھا۔یہ تو مجھ سےشادی کرنا ہی نہیں چاہتا آپی۔۔یہ تو اپنی دوست کوپسند کرتا ہے۔‘‘معصومہ کے اس قدر ہولناک الزام پر دل کے پیچھے چھپا مسکین چونک کر سیدھا ہوا۔ ’’اوئے!یہ کیا بکواس کر رہی ہو لڑکی۔‘‘دل نشین نے خفگی سے گھورا۔ ’’مذاق نہیں کر رہی آپی بالکل سچ بول ررہی ہوں۔‘‘اس نے آنکھیں چلا کر مسکین کو یکھا جو کینا طور نظروں سے ایسے گھور رہا تھا۔ ’’بکواس کر رہی ہے آپی!‘‘مسکین نے ملامتی نظروں سےدیکھ تاسف زدہ آنداز میں ناگواری سے کہا۔۔ ’’معصومہ اس طرح مذاق میں یا پھر جان بوجھ کر بھی کسی کی ذات سے کوئی غلط بات منسوب کرنا بہت بڑا گناہ ہوتا ہے۔کیا آپ کو نہیں معلوم!‘‘دل نشین نے لہجے میں سنجیدگی سموئے پوچھا۔تو وہ لمحوں میں شرمندگی سے اپنا سر جھکا گئی۔ ’’سوری آپی!‘‘اسے فوراًاپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔وہ شرارتی ضرور تھی مگر ناسمجھ ہر گز بھی نہیں تھی۔ ’’گڈ!اچھے بچے فوراًاپنی غلطی پر معافی مانگ لیتے ہیں۔چلو مسکین اب سے تم بھی ہماری گڑیا کو تنگ نہیں کرنا۔‘‘ا س نے دونوں کے درمیان صلح کا پرچم سر بلند کر امن کا عندیہ دیا تھا مگر وہ انجان تھی کہ آگ اور پانی کبھی ایک نہیں ہوسکتے تھے۔ ’’میں ایسے کچھ بھی نہیں کہتا یہ خودہی سب سے پنگے لیتی پھرتی ہے۔‘‘مسکین نے بلاآخر اپنا شکوہ سر فہرست رکھا۔ ’’جیسے تم تو بڑے شریف ہو ناں؟‘‘وہ پھاڑ کھاتے لہجے میں پھنکاری۔۔ ’’اچھا بس! ابھی چند لمحوں پہلے کیابکواس کی تھی میں نے کہ کوئی کسی کو تنگ نہیں کرے گا۔اور اب پلیز تم دونوں یہ بچوں کی طرح شرارتیں کرنا بند کردو۔بڑے ہو سمجھدار ہو۔۔۔پھر بھی۔‘‘دل نشین نے رسانیت سے توجہ ان کے رویہ کی جانب مبذول کروائی۔ ’’اوکے مگر آپ اس مسکین کو زہن نشین کروادیں کہ ہمارا بکرا میری پسند کے زیور پہنے گا۔‘‘معصومہ کی پھر وہی مرغے کی ایک ٹانگ والی ضد۔ ’’مسکین سُن لیا۔۔بس اب مزید بحث نہیں ہوگی۔اور اتنے سارے بکرےہیں اس کے باوجود تم دونوں بچوں کی طرح لڑرہے ہو۔شاباش خاموشی سے اپنے اپنے حصہٰ کا کام کرو۔‘‘دل نشین نے انہیں سمجھا بھجا کر بیرونی حصہٰ کی جانب قدم بڑھائے۔مگر ان دونوں طوطا مینا کی جوڑی نے ایک بار پھر چونچیں لڑانے شروع کر دی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کتنی بار بتاؤ !کہ کل ہماری پوتی کا نکاح بلقیس خاتون کی موجودگی میں ہی ہوا تھا تو بی بی تم کیوں جامے سے نکلی جارہی ہو۔‘‘دادی بیگم نے کڑک تیوروں سے باور کرواتے جھڑک ڈالا تھا۔ ’’ہاں ہاں!بھئی اللہ کے فضل سے ہماری بچی گھر والی ہوگئی ہے۔تم فضول کی فکر مندی نا جتاو۔‘‘اس وقت تیوروں میں خاصی پر جوشی ہچکولے لے رہی تھی۔ ’’ٹھیک ہے۔ٹھیک ہے۔عید کے بعد اپنے پیسے آکر لے جانا!اللہ حافظ۔‘‘رشتہ والی سے اچھی خاصی تلخ کلامی کے بعد انہوں بلا تخیرکھٹ سے فون بند کر دیا تھا۔خس کم جہاں پاک۔۔۔ ’’دادی کیا ہوا؟اتنا غصہٰ کیوں ہو رہی ہیں؟‘‘اپنی جون میں دل نشین کے کمرے کی جانب جاتی معصومہ دادی بیگم کے کمرے سے باہر تک آتی تیز آوازوں پر اچانک ہی ان وارد ہوئی تھی۔ ’’ارے وہی موئی ہے رشتہ والی۔۔۔عجیب درد سر بن گئی ہے میری زندگی کا۔‘‘انہوں نے تنفر سے سر جھٹکا۔ ’’اچھا!کیا ایسے پتہ چلا گیا تھا؟‘‘معصومہ نے مستفسر آنداز میں تفشیش ظاہر کی۔ ’’نہیں بھئ!اپنے بقایا پیسوں کا کا تقاضہ کر رہی تھی۔اور تم زرا اپنی آواز دھیمی رکھو۔پرائے محلہ تک تمہاری آواز کی گونج سنائی دیتی ہے۔‘‘وہ تو پہلے ہی تپی بیٹھی تھیں جبھی معصومہ کو بے ساختہ جھڑک گئی۔البتہ وہ کھسیا کر رہ گئی۔ ’’اوہ شکر ہے دادو!ورنہ مجھے تو لگا تھا سعد بھائی نے بھانڈا پھوڑ دیا۔شکر ہے دل نشین اور ضامن بھائی کی شادی ہوگئی۔ورنہ فضول میں ہمیں اس رشتہ والی خالہ کی باتیں برداشت کرنی پڑتیں۔۔‘‘معصومہ کی مانو اب جان میں جان آئی تھی۔ ’’کیا مطلب ہے اس بات کا؟کونسا بھانڈا پھوٹنے کی بات زیر بحث ہے جناب؟‘‘دل نشین کی اچانک آمد اور دونوں قریقین ہی گھبرا آٹھے تھے۔ ’’وہ آپی!‘‘معصومہ نے تھوک نگلا،جبکہ دادی بیگم نے اپنا سر پیٹ لیا تھا۔ ’’سچ سچ بتاؤ معصومہ کیا باتیں چل رہی تھیں؟‘‘دل نشین نے آئی برو آٹھا کر مشکوک اندز میں باز پرست کیا۔قمروش بیگم کا نظر چرانا دل نشین کی نظروں سے ہر گز بھی
