Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Second Last Part
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 12/01/2026
10 Views
Second Last Part
Bheegi Si Hawa Ho Tum By Huma Qureshi Second Last Part صبح صادق سے طلوع ہوتے سورج کی تیز کرنیں جیسے ہی ضامن بخاری کے کمرے کی کھڑکی سے داخل ہوتیں اس کے چہرے پر پڑی تھیں تو وہ جھنجھلا کر بیزار ہوا تھا۔ ’’گڈ مارننگ!‘‘گیلے نم بالوں کو پشت پر جھٹکتے ،سمندری آنکھوں میں آنوکھی سی چمک لئے مسکراتے چہرے کے ساتھ صبح کا سلام پیش کرتی وہ ماہ جبین دل نشین ضامن بخاری ہی تھی۔ضامن کو صبح صبح نظروں کے سامنے چلتے اس حسین منظر کو دیکھ خوشگواریت کا سا احساس جاگ آٹھا تھا۔ ساری نیند بھک سے ہوا ہوئی تھی۔کہنیوں کے بل اونچا ہوتا وہ بیڈ پر نیم دراز ہوگیا ۔جبکہ وہ مسکراہٹ ضبط کرتی ایک ادا سے سہج سہج کر قدم آٹھاتی اس کے نزدیک آرہی تھی۔ ضامن نے مسکرا کر ہاتھ اس کی جانب بڑھا کر اپنی جانب کھینچا تو وہ اس غیر متوقع اچانک افتاد پر لہرا کر اس کے سینے پر گڑپڑی تھی۔ ’’آہ ہ ہ!!سینے پر گرتے سل نما وجود کے بھاری بھرکم بوجھ تلے وہ کراہ کر رہ گیا ۔جبکہ مسکین نے غصہٰ سے دانت پیسے۔ ’’ضامن بھائی کیا کر رہے ہیں یار!‘‘مسکین تو اچانک ٹوٹنے والی آفت پر گھبرا کر رہ گیا تھا۔ ’’تم یہاں کیا کر رہے ہو منہوس انسان!‘‘اپنے سینے پر پڑے مسکین کو دیکھ ضامن کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔وہ جو ایک ٹرانس میں تھا ساری بے خیالی کا چشم تصور پل بھر میں ہوا تھا۔۔ ’’میں ؟میں تو آپ کو آٹھانے آیا تھا۔۔آپ پتہ نہیں کیوں مجھے ہاتھ دے کر بلا رہے تھے اورُ اپر سے مجھے اپنےُ اپر گرا بھی لیا آپ نے۔۔‘‘مسکین زچ ہوکر کھڑا ہوتا تنفر سے پھنکارا۔ ’’ابے ہٹو مجھ پر سے پاگل انسان صبح صبح سارے موڈ کا بیڑا غرق کردیا۔‘‘وہ جھٹکے سے اسے پیچھے دھکیلتا خو د پر سے کمفرٹر ایک جانب کرتا بیڈ سے اٹھ کر ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا جبکہ وہ ہونقوں کی مانند حیران پریشان ہی رہ گیا تھا۔ ’’اچھا جلدی سے تیار ہوکر نیچے آجائیں دادی جانی نے آپ کا بلاوا بھیجا ہے۔‘‘وہ منہ باسور کر بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ ضامن غصہٰ میں بڑبڑاتا سلائیڈرز کھینچ کر اپنے لیے ایک ڈریس نکلتا واشروم کی جانب بڑھا جبکہ مسکین تو پہلے ہی نکل چکا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’افف!!!اندھی ہوگئی ہو کیا؟‘‘سامنے سے آتی تیز ایکسپریس سے اچانک تصادم پر مسکین نے بے ساختہ اپنا ماتھا تھاما تھا۔دفتعاًمعصومہ چند لمحوں کے وقفے سے ایک بار پھر اپنا ماتھا اس کے سر سے ٹکرایا۔ ’’آہ چھپکلی پاگل ہوگئی ہو کیا۔‘‘وہ زچ ہوا۔جس کی لاجک کے مطابق ایک بار سرٹکرانے سے کتا پیچھے لگ جاتا ہے۔ ’’میں اندھی اور پاگل نہیں ہوں ۔بلکہ تم اندھے ہو ۔تمہیں اتنی خوبصورت لڑکی نظر نہیں آرہی کیا؟؟جو مجھ سے ٹکراتے پھر رہے ہو۔۔‘‘معصومہ کمر پر ہاتھ رکھتی آنکھیں چڑھا کر پھاڑ کھاتے لہجے میں بولی۔ ’’ہٹو یار!صبح صبح دماغ کی دہی کرنے آگئی۔‘‘‘مسکین نے ناگواری سے کہتے رخ پھیرا ۔معاً وہ پھر سے راستہ میں حائل ہوگیا تھا۔ ’’اچھا تو تمہارے پاس دماغ نامی چیز بھی موجود ہے کیا؟‘‘وہ مزاق اڑانے والے آنداز میں شرارتً بولی۔ ’’معصومہ تم۔۔‘‘انگشت شہادت آٹھا کر وہ دانت پیس کر بولا۔ ’’ہاں میں!‘‘وہ بھی بڑی بڑی آنکھیں مزید بڑی کرتی مقابل آئی۔مسکین نے ایک دم ٹھر کر ایسے دیکھا جو کل دلہن بنی بہت پیاری لگ رہی تھی۔جبکہ اس وقت جولا مکھی بنی بس لاوا آنڈیلنے کے لیے بے چین تھی۔ ’’معصومہ ڈارلنگ!تم اتنی معصوم ہو نہیں جتنی بنتی ہو۔۔اس لیے اپنی یہ معصومانہ حرکتیں میرے سامنے نہیں کیا کرو پلیز!اوکے بے بی۔۔‘‘وہ ایک دم ہی معنی خیزی سی ہنسی ہنستا اسے پچکارنے والے انداز میں بول کر ایک زبردست قہقہہ لگا کر نیچے کی جانب بڑھا جبکہ وہ ہونق بنی کھڑی رہ گئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘سلک کی کیجول پرنٹڈ شرٹ ، بڑے پائنچوں والے فلیپر اور کندھوں پر پھیلائے پرنٹڈ دوپٹہ سوٹ میں ملبوس دل نشین ناشتے کی میز پر آتی اپنے لیے ایک کرسی کھینچ کر بیٹھتی بہت دھیمی آواز میں بولی تھی۔ ’’وعلیکم السلام!آؤ میری جان۔۔اللہ پاک تمہیں ڈھیروں خوشیوں سے نوازے۔۔سدا سہاگن رہو ۔۔آمین۔۔‘‘قمروش بیگم دل نشین کو دیکھ پرجوش ہوئیں تھیں۔جبھی فرط جذبات میں اپنی نشست سے کھڑی ہوتیں باقاعدہ اس کے سر پر سے کئی پانچ پانچ ہزار کے نوٹ وار کر دعائیاں لہجے میں گویا ہوئیں۔ ’’مسکین یہ لو!یہ جاکر غریبوں میں بانٹ دو۔‘‘ساتھ بیٹھے مسکین کی ہتھیلی پر نوٹوں کی گڈی رکھتیں آج وہ بڑی خوش دکھائی دے رہی تھیں۔۔شہروز صاحب نے بھی اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی تھی۔جو شرمائی شرمائی سی بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ’’السلام علیکم!‘‘ابھی وہ لوگ بیٹھتے واپسی نشستہ ہوئے ہی تھے کہ عقب سے ایک بڑی سنجیدہ سی آواز اُبھری تھی۔اور لمحوں میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ میز کے نزدیک آیا تھا۔ بلیک ٹراؤزر شرٹ میں ملبوس سنجیدہ سے ضامن کو دیکھ بے ساختہ ہی دل نشین نے اپنی نگاہوں کا رخ تبدیل کیا تھا۔کل رات کے بعد سے اب باقاعدہ اس کا سامنہ ضامن سے ہوا تھا۔جو کل سے اکھڑ اکھڑ سا تھا۔۔ ’’وعلیکم السلام!‘‘سب کا مشترکہ جواب موصول ہوا تو وہ میز پر موجود افراد پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتا شہروز صاحب کے برابر والی چئیر گھسیت کر بیٹھنے لگا تھا۔جبھی قمروش بیگم نے اسے ٹوک کر مزید کروائی سے باز رکھا تھا۔ ’’اےلڑکے کہاں بیٹھے جا رہے ہو۔۔کل ہی تم دونوں کا نکاح ہوا ہے۔ دل نشین کے برابر والی چئیر پر بیٹھوعقل مند۔‘‘مسکین کی معنی خیزی سی نظر خود پر محسوس کر ، چار ونچار دانت کچکچاتا ہوا دل کے برابر میں بیٹھ گیا ۔جو آج اس انوکھے سے احساس پر خود میں سمٹ کر رہ گئی تھی۔ ’’واہ بھئ!کیا بات ہے۔۔۔صرف ہم ہی لیٹ ہوگئے ہیں دلہا،دلہن تو پہلے ہی آگئے۔۔‘‘نوشین بیگم نے بھی ساتھ ہی چئیر گھسیٹ کر نشست سنبھالی۔معصومہ بھی مسکرا کر اپنی آپی کےدوسری سائیڈ پر برابر میں جا کر بیٹھ گئی تھی۔ ’’ آج خیر سے دل نشین کا اس گھر کی بہو ہونے کی حثیت سے یہ پہلا ناشتہ ہے ۔تو سب خاموشی سی بیٹھ کر ناشتہ شروع کریں۔چلو ضامن دل کو ناشتہ نکال کر دو۔‘‘وہ جو سڑے منہ سے فریش اورنج جوس کا گلاس بھر رہا تھایکدم ٹھر سا گیا۔ ’’میں؟تصدیقی آنداز میں پوچھا گیا کہیں سماعتوں میں کوئی مسئلہ تو پیش نہیں آگیا تھا۔ ’’جی تم!‘‘قمروش بیگم بھی اسی انداز میں بولیں ۔جبکہ دل نشین نے گڑبڑا کر چہرے پر جھولتے بال کان کے پیچھے ُاڑس کر ُایک چور سی نظر ضامن پر ڈالی تھی جو ماتھے پر بل ڈالے ایسے ہی گھور رہا تھا۔ ’’ضامن بھائی شروع ہوجائیں میں ولوگ شوٹ کر رہی ہوں۔۔‘‘دی فیمس ولوگر معصومہ بخاری فوری ایکشن موڈ میں آئیں تھیں۔اب سچوئشن کچھ یوں تھی کہ وہ دونوں ہونق ہوئے بیٹھے تھے جبکہ بخاری ہاؤس کے سب ہی مکین ان کے اگلے عمل کے منتظر تھے۔مسکین اور معصومہ کا کیمرہ نیولی نکاح فائیڈ کپل کو فوکس میں لیا ہوا تھا۔ ’’ضامن چلو بیٹا شروع ہوجاؤ۔‘‘قمروزش بیگم کے ٹوکنے پر وہ ہوش میں آیا۔ایک نظر میز پر ڈالی جو ایسے فل ہوئی پڑی تھی جیسے آدھی بارات کے ناشتہ کا انتظام کیا گیا ہو۔ناشتہ کی ٹیبل دیسی گھی کے آنڈے ، پراٹھے،حلوہ پوری،جیم جیلی بریڈ ،رس،ملائی،تازہ پھل کے جوسز،چائے گو کہ نئے دلہا دلہن کے ناشتے کا اہتمام بڑی دل جمعی سے کیا تھا ۔ ’’ناشتہ میں کیا لینا پسند کریں گی دل نشین جی؟‘‘بڑے ہی والہانہ آنداز میں جبڑے بھینچ
