Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
12 Views
Part 05
ناسمجھ ہیں اور چھوٹے بھی ۔۔اور ابھی یہ رضامند بھی نہیں ۔۔تو ایسے میں اپنی پوتی دل نشین کا نکاح تو کر سکتی ہوں نا جو میری مرضی میں راضی ہے؟‘‘وہ پرسو چ انداز میں بولتیں سب کے سروں پر دھماکا کر گئیں تھیں۔ ’’جب اس نکاح میں بچی کی رضامندی شامل ہے تو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔‘‘دل نشین نے حیرت اور بے یقینی سے ضامن کو دیکھا تھا جو لب بھینچے خاموش کھڑا تھا۔ ’’دل نشین بیٹا اگر آج ہم اس بھری محفل میں تم سے کچھ مانگے تو کیا تم اپنی دادی کو سرخرو کروگی؟‘‘دل نشین نے پریشان نگاہوں سے انہیں دیکھا۔پھر ایک بار پھر ضامن کی جانب دیکھا جو سپاٹ تاثرات سے کھڑا خود پر ضبط کر رہا تھا۔ ’’جی دادی!کیا میں آپ کو انکار کر سکتی ہوں بھلا۔‘‘دل نے اپنی نظروں کا زاویہ درست کر جواب دیا۔ ’’تو پھر آج تمہارا نکاح ہے۔۔‘‘قمروش بیگم کے روح فضا الفاظوں کو سماعتوں سے ٹکراتے ہی ضامن مزید خود پر ضبط نہیں کر سکا تھا اور غصہٰ سے اسٹیج سے اترتا وہاں سے نکلنے لگا تھا کہ دادی جان کے مزید لب کشائی کرنے پر اس کے پیر زمین نے جکڑ لیے تھے۔ ’’دل نشین بہروز بخاری تمہارا نکاح ہے ہمارے پوتے ضامن بخاری کے ساتھ۔‘‘وہ حیرت اور بے یقینی سے چونک کر پلٹا تھا۔جبکہ دل نشین اپنا سانس تک روک گئی تھی۔مسکین اور معصومہ نے منہ کھول کر ہونقوں کی مانند ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا۔ ’’مگر مجھے یہ زبردستی کا نکاح منظور نہیں ہے دادی!‘‘ دل نشین کی آنکھوں میں چھپا بے یقینی کا تاثر پڑھ کر وہ ایک جھٹکے سے پلٹتا ہوا غصہٰ میں تن فن کرتا الٹے قدموں واپس آیا تھا۔ ’’جیسی تمہاری مرضی!مگر میری پوتی تو میری مرضی میں راضی ہے۔ آج دل نشین کا نکاح تو لازمی ہوگا۔تم نا صحیح کوئی اور صحیح۔‘‘شہروز صاحب نے حیرت سے اپنی والدہ ماجدہ کو دیکھا تھا جو اس عمر میں بہکی بہکی باتیں کر رہی تھیں۔ ’’دادی!‘‘ضامن نے دل نشین کا آنسوؤں سر تر چہرہ دیکھ ضبط کا مظاہرہ کیا۔مہمانوں کے لیے تو صورتحال کسی ڈرامہ کا سا منظر پیش کر رہی تھیں۔ ’’دل نشین کیا تمہیں آج اور ابھی سعد کے ساتھ نکاح منظور ہے؟‘‘دادی کے سوال پر اس کے آنسو ؤں میں مزید روانگی آگئی تھی ا سنے ایک نظر سپاٹ تاثرات لیے کھڑے سعد کو دیکھ دھیرے سے سر نفی میں ہلا دیا۔۔ ’’نہیں! دل نشین بخاری کیا تم بھول رہی ہو ؟کہ تم نے کچھ دیر پہلے ہی اپنی زندگی کا فیصلہ میرے ہاتھ میں سونپ کر فیصلے کا مان مجھے بخشا تھا۔۔‘‘قمروش بیگم طنزیہ لہجے میں بولیں تھیں۔ ’’میں نے نکاح سے تو انکار نہیں کیا دادی!‘‘وہ بہت دھیمی اواز میں منمنائی تھی۔جبکہ ضامن نے حیرت اور بے یقینی سے ایسے دیکھا تھا۔ ’’ضامن بخاری ہماری پوتی تم سے نکاح کے لیے تیار ہے کیا اب بھی تمہیں اس نکاح پر اعتراض ہے؟‘‘قمروش بیگم نے کیا خوب آنداز میں دل نشین سے ہاں کروائی تھی۔کہ معصومہ صدیقی تو دادی بیگم کی ایکٹنگ پر عش عش کر اٹھی تھی۔ ’’ہاں!‘‘ضامن نے غصہٰ میں دانت پیس کر انکار کیا ۔جبکہ دل نشین نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ضامن کو اس کی حرکت پر مزید غصہٰ آیا تھا۔جو اس کے ہزار بار پوچھنے پر ہمیشہ انکاری ہی رہی تھی اور بھری محفل میں کیسے اس کے ساتھ نکاح کی رضامندی دے رہی تھی۔ ’’سوچ لو ضامن بخاری!اگر آج تم نے اس نکاح سے انکار کیا تو پھر ہمیں دل نشین کے ساتھ زبردستی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘وہ پلٹ کر جاتے ضامن کی پشت دیکھ اٹل لہجے میں بولیں۔۔جس کے قدموں کو زمین نے جکڑ لیا تھا۔رخ زرا سا ترچھا کر کے دل نشین کی جانب دیکھا تھا جو آس بھری نگاہوں سے ایسے ہی دیکھ رہی تھی۔ ’’ٹھیک ہے پھر!مجھے یہ نکاح منظور ہے۔اگر دل نشین میرے ساتھ نکاح کی خواہش رکھتیں ہیں تو میں کسی لڑکی کی جانب سے نکاح کی پیش کش کو نظر اندازکر اس کے ساتھ زبردستی ہوتی نہیں دیکھ سکتا۔۔‘‘‘ضامن کے سپاٹ انداز پر دل نشین نے زخمی جب کہ دادی بیگم نے گھورتی نگاہوں سے ایسے دیکھا تھا جو کل تک جان دینے کو تیار تھا اور اب معصوم بن رہا تھا۔ ’’مولوی صاحب آپ نکاح پڑھانا شر وع کریں۔‘‘معصومہ اور مسکین کی جگہ اُن دونوں کے نشستیں سنبھالتے ہی قمروش بیگم کے حکم پر مولوی صاحب نے نکاح نامہ چینچ کر پھر سے نکاح پڑھانا شروع کردیا تھا۔ یہ چیز کسی نے ناٹ کی ہو یا نا کی ہو مگر ضامن کی زیرک نگاہوں سے کرروائی ہر گز بھی مخفی نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔ ’’ دل نشین نے دھیمی اواز میں جبکہ ضامن نے تو ایسے لٹھ مار آنداز میں قبول ہے کہا تھا جیسے کسی مشرقی لڑکی سے زبردستی قبول قبول ہے کہلوایا گیا ہو۔۔ نکاح کی سنت ادا ہوتے ہی وہ وہاں سے واک آوٹ کر گیا تھا۔جبکہ فائنلی دادی بیگم کی پوتے کے نکاح کی خواہش پوری ہوگئی تھی۔جبکہ مسکین نے ساتھ کھڑی معصومہ کا پیر دبا کر شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کا کام سر انجام دیتے ہوئے اپنی جان خلاصی پر شکر ادا کیا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔ السلام علیکم! آج کی قسط کیسی لگی یہ بتانا ہر گز نہیں بھولیئے گا۔کہانی کا یہ نیا موڑ کیسا لگا؟اب دل نشین اس بگڑے بچے کو آخر کیسے منائے گی جو ہر وقت کسی نا کسی بات پر سڑا رہتا ہے؟؟
