Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
12 Views
Part 05
دیکھ تو ایسا لگتا تھا کہ نکاح مسکین کا نہیں بلکہ ضامن بخاری کا تھا۔جبکہ وہ ان سمندری نین کٹوروں کے جال میں ہی کہیں پھنس کر رہ گیا تھا۔جو بلیک کلر کی زرق برق ،نگ موتیوں سے مزئین میکسی پہنے اس کی توجہ اپنی جانب کھنچ گئی تھی۔کندھے پر سے پھسلتا ریشمی دوپٹہ سنبھالتی وہ گڑبڑاہٹ کا شکار تھی۔کالے لنبے سلکی بالوں کی آڑی مانگ نکال کر کچھ بال پیچھے تو کچھ بالوں کو ایک سائیڈ کندھے پر ڈالا ہوا تھا۔ ’’ہاں ضامن معصومہ کو لے آئیں کیا نیچے؟‘‘نوشین معصومہ کو ڈانٹ میں مصروف سی بولی تھیں۔جبکہ وہ دونوں گڑبڑ کر اپنی اپنی پوزیشن کا خیال کر خجالت بھرے انداز میں ایک دوسرے کو دیکھَِ ادھرُ ادھر ہوئے۔ ’’جی خالہ جانی آپ اس معصوم پرنسس کو لے آئیں۔۔‘‘براؤن کھڑی میں مقید پاؤں کو اٹھا کر چھوٹے قدم لیتا وہ نزدیک آیا تھا۔جبکہ وہ کمرے سے ہی غائب ہوگئی تھی۔ ’’آج تو ہماری گڑیا واقعی بہت پیاری لگ رہی ہے۔۔‘‘وہ معصومہ کے معصوم سے نین نقش کو ہلکے میک اپ سے ُابھراُ ابھرا سا دیکھ مسکرا کر گویا ہوا تو نوشین نے آنکھ بھر کر معصومہ کو دیکھا جواپنی تعریف پر مزید چہک آٹھی تھی۔اور نظروں ہی نظروں میں جلدی سے ا سکی نظرُ اتاری تھی۔ ’’چلو چلیں!تم بھائی ہو لے کر جاؤ اپنی بہن کو۔۔کیونکہ دل نشین تو آج دلہا کی بہن بیٹھی ہے ۔‘‘ضامن نے سر کو خم دے کر معصومہ کے اگے جس شاہانہ انداز میں ہاتھ بڑھایا تھا وہ کھکھلا کر ہنسی تھی۔ ’’چلیں!‘‘اس نے مسکراہٹ ضبط کئے پوچھا۔جو اس کا ہاتھ تھامے کس شہزادی کی طرح تنی ہوئی گردان کئے کھڑی ہوئی تھی۔ ’’چلیں!‘‘وہ دنوں مسکرا کر ساتھ ہی سیڑھیاں اترتے لان میں آئے تھے۔ معصومہ کو ضامن کے ساتھ اتا دیکھ سب نے بے ساختہ ماشااللہ کہا تھا۔جو پیچ رنگ ،ہلکے کام والے لہنگا چولی میں ملبوس ضامن کا ہاتھ تھامے پنسل ہیل میں مقید پاؤں کو سہج سہج کر اٹھا تی اسٹیج کے نزدیک آرہی تھی۔جبکہ مسکین نےکڑوا بادام کھالینے کے بعد والا ریکشن دیا تھا۔ ضامن دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا ایسے اپنے ساتھ ہی اسٹیج پر لایا تھا۔اور پھر خود ہی اس کے ساتھ چڑھ کر نشست پر بھی بٹھایا تھا ۔جبکہ مسکین نے زرا سا ہل جل کر جگہ بھی بنانے کی توفیق نہیں کی تھی۔ ’’مسکین بخاری جب دلہن اسٹیج پر آتی ہے تو زرا پیروں کو حرکت دے کر اٹھ جاتے ہیں بے غیرتوں کی طرح نشست پر براجمان نہیں رہتے۔‘‘معصومہ کو بیٹھانے کے بعد ضامن نے اس کے کان میں گھس کر سرگوشی کی تھی۔جبکہ معصومہ نے خود ہی ہل جل کر اپنے اور اپنے لہنگے کے لیے جگہ بنا لی تھی۔اب منظر کچھ یوں تھا کہ مسکراتی معصومہ پھیل کر بیٹھتی سب کی توجہ کا مرکز بن گئی تھی۔جبکہ بیچارہ مسکین ایک طرف کو چپک گیا تھا جو تین بندوں کی جگہ سنبھال چکی تھی۔ ’’ضامن بھائی اس چڑیل کو کسی کی مہربانیوں کی کیا ضرورت ہے؟اس وقت تو قابل ہمدردی میری زات ہے۔‘‘مسکین نے دانت کچکچا ئے ۔مگر جب اپنا پیر پنسل ہیل کے نیچے کچلتا محسوس ہوا تو ضبط سے ایسے گھورا۔جو معصوم بنی بیٹھی بے نیازی سے بیٹھی تفخر سے مسکرا رہی تھی۔ ’’خیر سے دونوں بچے آگئے ہیں ۔مولوی صاحب بسم اللہ کیجئے۔‘‘قمروش بیگم جو سنگل سیٹر صوفے پر براجمان تھیں ۔انہیں ہداہات دیتیں مسلسل مسکرا رہی تھیں۔جبکہ ایک ایک کر سب ہی ان کے ارد گرد آکر کھڑے ہوگئے تھے۔اسٹیج کے ایک جانب دل نشین ا ور حنا تھے جبکہ دوسری جانب ضامن ،کاشف،شہریار اور سعد موجود تھے۔جس کی شکل دیکھ ضامن کے منہ میں کڑوے کریلے کا رس گھل گیا تھا۔ دوسری جانب بیٹھے مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا تو اسٹیج پر خاموشی سی چھا گئی،جن کے پاس شہروز اور فیاض صاحب مودب آنداز میں کھڑے تھے۔ ’’معصومہ فياض صدیقی ولد فیاض صدیقی کیا آپ کو مسکین شہروز بخاری ولد شہروز بخاری اپنے نکاح میں قبول ہیں۔۔"مولوی صاحب کی گونجتی شفیق سی آواز پر بھی معصومہ منہ بنائے بیٹھی رہی۔جبکہ سر پر رکھے بھاری دوپٹے کو بار بار درست کرتی وہ بیزار سی دکھائی دے رہی تھی۔ "’’بیٹا جواب دو۔"نوشین فیاض نے ہلکے پیچ رنگ اور سلور موتیوں کے امتزاج کے شرارے میں چھوٹی سی دلہن بنی بیٹھی معصومہ کو زور دار انداز میں ہلادیا تھا۔جس کی خاموشی انہیں مسلسل کچوئے لگا رہی تھی۔ "’’میں کیوں جواب دوں؟مجھے تو اس مسکینوں جیسی شکل والے سے شادی کرنی ہی نہیں ہے۔مولوی صاحب آپ پہلے اس مسکین سے پوچھیں۔"نازک معصوم سے نین نقش والی معصومہ کے جواب پر آسٹیج پر موجود بخاری خاندان ہکا بكا سا منہ کھولے ہی کھڑا رہ گیا۔جو پیر پر پیر رکھے بیٹھی ان کا سکون غارت کئے دے رہی تھی۔۔فیاض اور نوزشین نے گڑبڑا کر ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا۔ "’’واہ پہلے زبح کرنے کے لئے قربانی کا بكرا میں ہی ملا ہوں کیا؟مولوی صاحب آپ پہلے اس نام کی مومنہ اور کرتوت کافرانہ دی معصومہ سے پوچھیں۔"مسکین نے بھی دادی کی گھوری کسی خاطر میں لائے بغیر تڑاخ سے بولتے اپنا حساب بے باک کیا۔ "’’جناب یہ ہو کیا رہا ہے۔"مولوی صاحب تو پہلے ہی یہ سولہ اور سترہ سالہ دلہا دلہن کو دیکھ حیران تھے اور اب اس قدر نازک صورتحال پر پریشان بھی ہو گئے تھے۔۔ضامن نے مسکین کو گھورا۔جو کندھے اچکا گیا تھا۔ "مولوی صاحب جب بچوں کی شادیاں کروائی جائیں گی تو یہی حال ہوگا۔دونوں کو لڑنے سے فرصت ہو تو کچھ سوچیں بھی کہ کیا اوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہے ہیں۔"جواب قریب کھڑے ضامن بخاری کی جانب سے آیا تھا۔جو پہلے ہی اپنے سے کئی سال چھوٹے بھائی کا نکاح ہوتا دیکھ تپا بیٹھا تھا۔اب یہ انکار سن سلگ آٹھا تھا۔جبکہ دل نشین نے زرا کی زرا نظر اٹھا کر ایسے دیکھا تھا۔ "’’بڑی ہی نازک صورتحال ہے۔۔۔بڑی ہی نازک صورتحال ہے۔۔"مسکین کی روندو شکل دیکھ ضامن کے کندھے ہاتھ رکھ کر دلاسہ دیتے کاشف نے باآوازِ بلند، افسوس بھر لہجے میں بول کر زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا تھا۔۔۔ ’’بس خاموش ہوجائیں۔۔معصومہ اپنی رضامندی دو جلدی سے۔‘‘دادی بیگم کی سخت آواز پر وہ سب ٹھر گئے تھے جن کا چہرہ ضبط سے سرخ پڑ رہا تھا۔نکاح کی تقریب میں موجود مہمانوں نے ہونقوں کی طرح صورتحال کا جائزہ لیا ۔ ’’دادی میں!‘‘معصومہ منمنائی۔۔ ’’ایک منٹ خاتون اگر بچےراضی نہیں ہیں تو آپ ان کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتیں ہیں۔‘‘خاموش بیٹھے مولوی صاحب معاملے کی سنگینی بھانپ کر صلح جو نداز میں بولے۔ ’’ہم ان کے بڑے ہیں مولوی صاحب!اور یہ کم عمر بچے۔۔اگر بچے کھیلنے کے لیے اگ مانگے تو ان کے ہاتھ پر کوئلہ نہیں رکھا جاتا؟اسی طرح اگر یہ بچپنے میں غلط فیصلے لیں تو ہم بڑوں کا فرض ہے کہ انہیں اچھے ُبرے کی پہچان کروائیں۔‘‘قمروش بیگم کا چہرہ لہو رنگ ہو رہا تھا۔ ’’آپ کی بات درست ہے خاتون مگر دونوں بچے بالغ ہیں۔اور شرعی حثیت سے دونوں اپنی پسند اور نا پسند کا حق رکھتے ہیں۔‘‘وہ لب بھینچ گئیں ،جبکہ سبھی نے ایک دوسرے کو پریشانی سے دیکھا تھا۔ ’’دیکھیں یہ ابھی کم عمر ہیں نا سمجھ ہیں۔انہیں زرا وقت دیں۔۔جب سمجھ جائیں توآپ نکاح کیا ڈائیریکٹ شادی کروادیجے گا۔‘‘وہ مزید بولے۔ ’’مگر اس وقت میری یہ دلی خواہش ہے کے میں اپنے پوتے کے سر پر سہرا سجتے دیکھوں۔‘‘وہ تھکن بھرے لہجے میں بولیں۔تو سب ہی ضامن کو ملامتی نظروں سے دیکھ خاموش ہوگئے۔ضامن گڑبڑایا۔ ’’ یہ دونوں تو
