Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
12 Views
Part 05
سے زیادہ تو انہیں اس کی فکر لاحق ہوگئی تھی۔ ’’ابے چپ کرو یار!مجھے کوئی فضول گوئی نہیں سنی۔۔۔ویسے بھی اب میں پیچھے ہٹ گیا ہوں۔۔وہ جہاں چاہیں شادی کریں۔۔ویسے بھی اب مجھے سمجھ آگئی ہے کہ جیسے میں محبت سمجھتا تھا وہ محض ایک وقتی کشش تھی۔‘‘ سوچوں کے محور میں غرق وہ کپ کی بالائی سطح پر انگلی پھیرتا نہایت ہی سرد مہری سے بولتا استہزایہ مسکرایا تھا۔ ’’تو مطلب ا ب تو دل نشین باجی کی شادی میں ان کا بھائی بن کر کُرسیاں لگائے گا ؟؟اور بابل کے آنگن سے اپنی دعاؤں کے سائے تلے ایک بھائی بن کر رخصت بھی کرے گا؟‘‘ان کے لہجے میں فکرمندی جھلک رہی تھی۔جبکہ اس طرح کی بے لذت بات پر ضامن کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔ ’’شٹ اپ!اب اگر تم دونوں نے مزید کوئی بکواس کی نا تو میں تم دونوں کا قتل کر کے سیدھا جیل جاؤنگا۔‘‘انگشت شہادت اٹھا کر وہ زراجھنجھلا کر بولا تھا۔ ’’اچھا بھائی اچھا!تو پھر یہ بتا دے کہ تمہارے چھوٹے بہن بھائیوں کا نکاح کب ہے؟‘‘وہ دونوں فوراً گڑبڑا کر سیدھے ہوئے۔ ’’پرسو!یاد سے آجانا۔۔چل رات ہورہی ہے میں نکلتا ہوں ویسے بھی بابا مجھ سے بہت ناراض ہیں۔۔گھر نہیں جاؤنگا تو مزید ناراض ہوجائیں گے۔‘‘وہ اپنا سیل فون اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’چل آجا تجھے میں ڈراپ کردوں ویسے بھی یہ تو شاپنگ پر جارہا ہے۔‘‘کاشف اپنی گاڑی کی کیز اٹھاتا شہریار کی جانب اشارہ کر کے بولا۔ ’’چل ٹھیک ہے۔۔اور تمہاری بہن کی شادی کی تیاریاں مکمل ہوگئیں کیا؟‘‘وہ اس کے گلے میں بازو ڈالتاساتھ ہی گاڑی تک آئے تھے۔جو اب زرا ٹھر کر تفصیل بنا رہا تھا۔کچھ دیری کے وقفے سے وہ تینوں اپنی گاڑیوں میں سوار ہوتے الگ الگ منزل کی جانب بڑھ گئے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بخاری ہاؤس میں ایک عجیب افراتفری کا سا علم تھا۔آج خیر سے مسکین اور معصومہ کی نکاح کی سنت ادا ہونی تھی ۔سب ہی اپنی اپنی زمہ داریاں سر انجام دینے میں مصروف تھے۔مسکین اور معصومہ کی لڑائیاں ہنوز برقرار تھیں۔جبکہ دادی بیگم کا فیصلہ اٹل تھا۔جب سے قربانی کے بکرے آئے تھے معصومہ کا تو کیمرہ ہی نیچے نہیں گیا تھا۔وہ تو اپنے نکاح کے فنکشن کو بھر پور انداز میں انجوائے کر رہی تھی۔جبکہ مسکین تھا جو معصومہ کی حرکتیں دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں کڑ رہا تھا۔ نکاح کی تقریب کا انتظام بخاری ہاؤس کے لان میں ہی منعقد کیا گیا تھا۔ نکاح کی تقریب میں بہت ہی مختصر سے مہمانوں کو مدعو کیا گیا تھا۔رخصتی عید کے دوسرے دن جبکہ ولیمہ کا فنکشن اور دل نشین کا نکاح کچھ دن کے وقفے سے رکھا گیا تھا۔شاید ساتھ میں ضامن کی نئیا بھی پار لگانے کا ارادہ تھا۔ دلہا دلہن کا اسٹیج لان کے عین وسط میں لگایا گیا تھا۔ اسٹیج کی سجاوٹ میں زیادہ تر سفید موتیے کے پھولوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔وائٹ ڈبل اور سنگل سیٹر صوفوں پر سے ایک ڈبل سیٹر صوفے پر آج مسکین بیچارہ کو زبح کیا جانے والا تھا۔مسکین کئی مرتبہ مسکین نظروں سے اپنے لیے کیے گئے اس اسسپیشل اہتمام کو دیکھ کر گیا تھا۔جبکہ معصومہ نے کسی ظالم یوٹیوبر کی طرح اس کے سلگتے ارمانوں کی چتا پر سجائےگئے اسٹیج کے سامنے وکٹری کا نشان بنا کر ایک انداز مین پکچر بنا کر وہ وہ کیپشن ڈالے تھے۔کہ مسکین اپنا مسکین چہرہ ایف بی کی دنیا سے چھپاتا پھر رہا تھا۔جبکہ دل میں سلگتے ارمانوں کی جگہ اب شعلے شدت اختیار کر گئے تھے۔ سورج ڈھل چکا تھا۔بس کچھ ہی ثانیوں بعد نکاح کی سنت ادا ہونی تھی۔جبکہ مسکین جلبلاہٹ میں معصومہ کو ڈھونڈتا ہوا تیزی سے ُاپر کی جانب بڑھ تھا۔جو نکاح کی تیاری میں مگن خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔ ’’معصومہ کی بچی!جب تم سے دادی نے رضامندی لی تو تم نے انکار کیوں نہیں کیا ؟ہاں!‘‘معصومہ جو ابھی شاور لے کر نکلی تھی کہ مسکین کو دانت پیس کر قریب آتا دیکھ ڈر گئی۔ ’’مسکین بخاری ہر وقت یہی چیپ حرکتیں کرنا تم!سکون سے نہیں بیٹھ سکتے ؟‘‘معصومہ کو چڑ ہوئی۔ ’’دیکھو معصومہ ہم بہت اچھے دوست ہیں۔مجھے تم سے نکاح پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔مگر ہم دونوں ابھی چھوٹے ہیں یار!‘‘مسکین نے اپنی سمجھ کے تحت ایسے سمجھانا چاہا تھا۔معصومہ بیوقوف تھی مگر وہ تو سمجھداری سے کام لے سکتا تھا نا۔ ’’ہی ہی ہی!مسکین کھمبے جتنے لمبے ہوکر خود کو بچہ تو مت کہو۔۔۔‘‘معصومہ نے عادتً ایک زور دار قہقہہ لگا کر اس کی ساری امیدوں پر پانی پھیرا تھا۔ ’’یا اللہ!کہاں پھنس گیا ہوں میں؟‘‘مسکین نے آسمان کی جانب دیکھ فریاد کی۔ ’’معصومہ کے ولوگ میں۔۔ہاہاہاہا!‘‘اس نے شرارت سے فرنٹ کیمرہ میں اس کا چہرے فاکس میں کر ایسے پل تپایا تھا۔ ’’معصومہ بد تمیزی نہیں کرو!‘‘وہ جھنجھلایا۔ ’’بھئ میں تو دادی کو منع نہیں کرنے والی اگر تمہیں زیادہ شوق چڑ رہا ہے تو خود جا کر منع کردو۔‘‘اس کے اپنے ہی نرالے آنداز تھے۔ ’’چڑیل تم صبر کرجاؤ !دیکھو میں تو پہلے رضامندی ہی نہیں دونگا۔۔پھر مزہ آئیگا۔‘‘وہ اپنی دھُن میں بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا اس بات سے بے خبر کہ پہلے معصومہ کی رضا مندی لی جائے گی جو اپنی من مانی کرنے میں افلاطون کی بھی نانی ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آسمان پر چھائی شفق نے ایک سماں سا باندھ دیا تھا ۔ایسے میں بخاری ہاؤس کے انگن میں اُتری خوشیوں پر سب ہی کے چہروں پر مسکان رقصاں تھی،ماسوائے بخاری ہاؤس کے دونوں سڑو بھائیوں کے۔ دل نشین بھی سب کچھ نظر انداز کئے اس نکاح میں بھر پور طریقے سے شرکت کر رہی تھی۔جبکہ ضامن منہ پھولائے ہر اس جگہ پایا جاتا تھا جہاں دل نشین نہیں ہوتی تھی۔اس روز کی تلخ کلامی کے بعد دونوں میں سے کسی نے بھی پہل نہیں کی تھی۔ چہروں پر دل سے یا پھر زبردستی کی مسکراہٹ سجائے وہ سارے اس وقت اسٹیج کے گرد جھمگٹا سا لگا کر موجود تھے۔جبکہ چند قریبی رشتہ دار تھے جو اپنی اپنی نشستوں پر براجمان تھے۔ان مہمانوں میں سعد بھی اپنی والدہ کے ساتھ موجود تھا۔جبکہ نوید صاحب کی بیٹی حنا چند منٹوں پہلے ہی محفل کا حصہٰ بنی تھی۔جبکہ نوید صاحب ملک سے باہر ہونے کے باعث اس تقریب میں شرکت کرنے سے قاصر تھے۔۔ ’’فیاض بیٹا اجازت ہو تو نکاح کی سنت ادا کردی جائے۔‘‘قمروش بیگم نے وائٹ کرتا شلوار میں ملبوس فیاض کو مخاطب کر اجازت چاہی۔جو زرا رنجیدہ سے دکھائی دے رہے تھے۔ ’’جی بالکل اجازت ہے۔‘‘وہ مسکرا کر بولے تو قمروش بیگم مسکرائیں۔ ’’ضامن جاؤ۔نوشین سے کہو کہ وہ معصومہ کو لے آئیں۔‘‘مسکین تو آج وی ،آئی ، پی پروٹوکول کے باعث کاٹن کا سفید کڑکڑاتا کلف لگا کُرتا شلوار پہنے اسٹیج پر دلہا بنا بیٹھا تھا۔اسی لیے دادی نے بیزار سڑو سی شکل بنا کر کھڑے ضامن کو مخاطب کیا ۔ ’’جی اچھا!‘‘ایک سُلگتی نظر سے چھوٹے بھائی کو نوازتا وہ دانت پیس کر بیرونی حصہٰ کی جانب بڑھا تھا۔ ’’ نوشین آنٹی!‘‘ وہ جو اپنی ہی دُھن میں دروازہ پر دستک دیتا کمرے میں داخل ہوا تھا،کہ سامنے عجلت بھرے انداز میں دروازہ کی جانب آتی دل نشین کو دیکھ لمحہ بھر کے لئے ٹھر گیا تھا۔ سامنے وہ بھی لمحوں کی زد میں دروازہ میں استادہ ضامن کو دیکھ تھم سی گئی تھی۔جو سفید شلوار سوٹ پر پرنس کوٹ پہنے پاکٹ میں برج لگائے ۔۔بالوں کو پیچھے کی جانب سیٹ کیے کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔اس کی تیاری
