Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
12 Views
Part 05
اپنی کسی کلاس فیلو کو پسند کرتا ہے۔جب دیکھو وہ مسکین کے پیچھے گھومتی ہے اس دن بھی گھر آئی تھی کہ مسکین ہیں؟‘‘معصومہ نے رازداری سے ایک اہم راز کا پردہ فاش کرتے دانت پیس کر نقل اتاری۔ ’’اچھا تو یہ بات ہے؟صبرکرو زرا میں ابھی سیدھا کرتیں ہوں اس مسکین کو۔۔ہمیں بد بخت الٹے جہانسے دے رہا ہے کہ میرے دوست مزاق اڑائیں گے۔۔اور اندر خانہ یہ سلسلہ چل رہا ہے۔‘‘قمروش بیگم کو غصہٰ ہی تو آگیا تھا ۔کہ کیسے ہر وقت اپنی عزت کا راگ الاپ کر روتا رہتا تھا اور پس منظر کہانی کچھ اور تھئ۔ ’’جی دادی!مسکین نا بہت تیز ہے۔۔۔کیا اب میں جاؤں؟‘‘معصومہ نے فوراً بھاگنے کی تھی۔ ’’ہاں جاؤ تم!میں زرا ضامن کو دیکھ لوں اس عمر میں تم سب نے مجھے پاگل بنایا ہوا ہے۔‘‘وہ جھنجھلا کر رہ گئیں تھیں۔کیونکہ دوسری جانب ضامن بخاری تھا مسکین بخاری نہیں۔جو ضدکا پکا تھا۔۔جبکہ وہ آنکھوں میں چمک لیےفوری کود کر بھاگ گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’گڈ مارننگ کیا چل رہا ہے بھئ؟‘‘دل نشین نارمل آنداز میں بولتی ہوئی کمرےمیں داخل ہوئی تھی۔ضامن جو زرا طبیعت کی بحالی پر ابھی شاور لے کر نکالا تھا محض آنکھیں گھماکر رہ گیا ۔ ’’ضامن تم نے شاور لیا ہے؟تم پاگل تو نہیں ہوگئے ابھی تمہارا زخم تازہ ہے؟‘‘ضامن کو ڈریسنگ ٹیبل کے آئینہ کے سامنے نم بالوں میں برش پھیرتا دیکھ وہ متفکر سے لہجے میں بولتی نزدیک آئی تھی۔ ’’جی لیا ہے؟مگر اس سب سے آپ کو کیا مسئلہ ہے؟‘‘ضامن برش رکھ کر ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوتابرو آٹھا کر سوالیہ آنداز میں بولا ۔ ’’پھر ضدی بچے بن گئے تم!بیوقوف ابھی ڈاکٹر نے تمہیں شاور لینے سے منع کیا ہے۔۔‘‘دل نشین نے اس کا اکھڑ انداز دیکھ دانت پیسے۔ ’’ہاں بن گیا ہوں !مگر اس سب سے آپ کو کیا مسئلہ ہے جا کر اپنی شادی کی تیاریاں کریں نا۔میرے پیچھے پیچھے کیوں گھوم رہی ہیں۔‘‘ضامن نے ماتھے پر بل ڈال کر گھورا ۔ ’’میری شادی سے زیادہ اہم تمہاری صحت ہے۔‘‘وہ سمجھانے والے انداز میں بولی۔ ’’اچھا!تو کیا ساری زندگی میری صحت کا خیال رکھنے کے لیے یوں ہر وقت اپنے سسرال سے بھاگ بھاگ کر آیا کریں گی ڈئیر عمر دراز کزن۔‘‘ضامن نے اس بار دو قدم قریب آکر طنزیہ لہجے میں دریافت کیا۔جو سمندری آنکھوں میں ٖحیرت سموئے اس کے آنداز ملاحظہ کر رہی تھی۔ ’’یہ میرے نام کہ ساتھ عمر دارز کا لفظ لگانا چھوڑ دو ضامن۔۔اب میری اور تمہاری عمر میں اتنا بھی فرق نہیں کہ تم مجھے عمر دراز خاتون سے ہی تشبیہ دے ڈالو۔‘‘وہ زچ ہوتی دانت پیس کر بولی۔۔جبکہ ضامن نے مصنوعی حیرت سے آنکھیں بڑی کر کر بے یقینی سے دیکھا۔ ’’کیا واقعی!مگر بقول آپ کے میں تو کم عقل نا سمجھ سا دودھ پیتا بچہ ہوں ۔۔۔آپ سے چھوٹا بیوقوف جو کچھ بھی بولتا رہتا ہے۔اور آپ ٹھریں ایک میچور سمجھدار معاملہ فہم عقل مند خاتون۔۔‘‘ضامن نے بھی تاک کرلفظوں کا وار کیا تھا۔دل نشین اس کی ساری حرکتیں باخوبی سمجھ رہی تھی۔ ’’ہاں تم تو ہو ہی بیوقوف جبھی تو غصہٰ میں اپنا ایکسیڈینٹ کروا کر بیٹھے ہو۔‘‘دل نشین نے سمندری آنکھوں میں خفگی سمیٹےسینے پر بازو لپیٹے گھورا۔۔ ’’بیوقوف نہیں ہوں میں !اور ویسے بھی آپ کا فیصلہ آپکی مرضی پر چھوڑ چکا ہوں !!تو آپ کیوں بار بار میرے معاملوں میں داخل آندازی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘‘ضامن غصہٰ سے دانت پسیتا اس کا بازوں اپنے مضبوط ہاتھوں کی سخت گرفت میں جکڑتا طیش سے پھنکارا۔ ’’ضامن چھوڑوں مجھے!یہ کیا بد تمیزی ہے؟؟‘‘دل نشین کو تکلیف ہوئی تھی۔جبکہ مقابل کی آنکھوں میں ایک بار پھر جنون عود آیا تھا۔ ’’میں یہی بد تمیزی نہیں کرنا چاہتا آپ سے۔۔مگر آپ بار بار میرے راستہ میں حائل ہوکر میرے جزبات کو ہوا دے رہی ہیں۔۔‘‘وہ جھٹکے سے اسے خود سے دور جھٹکتا ہوا دھاڑا۔وہ ہق دق سی لڑکھڑا کر رہ گئی۔ ’’ضامن تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا؟‘‘دل نشین کو بھی طیش آیا ۔ ’’ہاں ہوگیا ہوں پاگل!اور مجھے پاگل آپ کے فضول سے انکار نے کیا ہے۔۔‘‘غصہٰ میں اس کی جانب قدم اٹھاٹا وہ دل نشین سے دو قدم کے فاصلے پر ٹھرا تھا۔۔جبکہ دل نشین کی نگاہوں میں تاسف اور ملال کا رنگ واضح تھا۔دونوں فریقین اپنی انا کی جنگ میں اس قدر مدہوش تھے کہ علم ہی نہیں ہوسکا کہ کب دونوں کی آنکھیں رنج اور تکلیف کے باعث نمکین پانیوں سے بھر گئیں تھیں۔ ’’کیا ہو رہا ہے یہاں؟‘‘قمروش بیگم جو ضامن کی خیریت پوچھنے آئیں تھیں دونوں کو مقابل کھڑا دیکھ تیز لہجے میں بولیں۔معا اس اچانک آمد پر دونوں ہی گڑ بڑا کر ہوش میں آئے ۔ضامن نے شرمندگی سے رُخ پھیر لیا تھا۔جبکہ دل نشین نے آنکھیں پونچھیں۔ ’’دل نشین کیا ہو اہے یہاں؟تم رو کیوں رہی ہو؟‘‘قمروش بیگم نے ضامن کی پشت گھور کر دل سے سوال کیا۔جس کی تھوڑی کپکپا رہی تھی۔ ’’کچھ نہیں۔۔۔‘‘دل نشین رخسار پر بہتے آنسو صاف خشک کرتی ضامن کے کمرے باہر نکل گئی تھی۔جبکہ قمروش بیگم جواب ضامن طلبی کے لیے ضامن کی جانب گھومیں ۔ ’’وہ دادی میں جارہا ہوں۔۔کاشف اور شہریار مجھ سے ملنے آئے ہیں۔کچھ دیر میں آجاؤنگا۔‘‘وہ اپنی آنکھیں خشک کرتا خود پر قابوں پر چکا تھا۔وہ تو چلا گیا تھا مگر قمروش بیگم کو گہری سوچوں میں دھکیل گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساحل سمندر سے دور وہ تینوں اس وقت ایک چائے کے ہوٹل پر معمول سے ہٹ کر زرا خاموش بیٹھےتھے۔کیوں کہ ان کا بیسٹ بڈی ضامن جو خاموش تھا۔دونوں نے ایک نظر ایک دوسرے کو دیکھ گلا کھنکھارا ۔جبکہ سامنے والی چیئر پر بیٹھے ضامن کے منہ پر بارہ بج رہے تھے۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے۔مگر ضامن کا گھر واپسی کا کوئی ارادہ ہیں تھا۔ ’’اب کیا ہوا بھائی! کیا بھابھی ابھی تک نہیں مانی۔۔۔اب تو تم نے نکمے عشق کی طرح ایک ادھ ہڈی بھی توڑ والی ہے۔‘‘شہریار نے ماحول کا تناؤ کم کرنا چاہا تھا۔جبکہ کراچی کی سمندری ہواؤں نے ماحول میں خنکی سی پھونک دی تھی۔وہ دونوں تو جیکٹس پہنے ہوئے تھے جبکہ وہ محض ایک سنگل شرٹ میں رومن مین بنا بیٹھا تھا۔ ’’شٹ اپ یار!‘‘ضامن کو اس کی بکواس ناگوار گزری تھی۔ ’’یار ضامن جب تک تو ہمیں بتائے گا نہیں کہ ہوا کیا ہے۔ہم مسئلہ کا حل کیسےنہیں نکالیں گے۔‘‘کاشف نے بہت سنجیدگی سے کہا۔ ’’کیوں تم کوئی بنگالی بابا لگے ہو جو میرے مسئلوں کا حل چٹکیوں میں تلاش کرو گے۔‘‘ضامن نے پلاسٹک کی میز پر رکھا چائے کا کپ اٹھا کر لبوں سے لگاتے طنزیہ لہجے میں کہا۔ ’’نا کر یار!بتا تو صحیح کہ ہوا کیا ہے؟کیا ہم بھابھی سے تیری سفارش لگائیں؟‘‘ ’’دادو نے دل نشین کا نکاح طے کردیا ہے۔‘‘وہ زمین کو گھور کر ایک ٹرانس میں بولا تھا جبکہ وہ دونوں منہ کھولے بیٹھے صدمے میں چلے گئے تھے۔ ’’کیا؟؟؟؟؟واقعی؟؟؟ ’’اب تیرا کیا ہوگا ضامن؟؟؟‘‘وہ دونوں ہی صدمے اور بے یقینی سے چیخ اٹھے تھے۔ضامن کے منہ سے ایکدم چائے باہر آگئی تھی۔ ’’آہمم!کیا بکواس کر رہے ہو۔۔اپنے گھر کے ڈرائینگ روم میں بیٹھے ہو کیا؟زرا آرام سے بولو؟‘‘وہ ارد گرد کی میز کو لوگوں کو اپنی جانب متوجہ ہوتا دیکھ دانت پیس کر غرایا۔ ’’وہ وہ ہم تمہارے۔۔غم میں بولے تھے۔۔‘‘‘وہ دونوں بھی کھسیا کر سیدھے ہوئے۔ ’’ہاں تو زرا آہستہ آواز میں بین کرو میرے غم میں۔۔۔۔‘‘وہ چئیر پر زرا پیچھے ہو کر لہجے میں ناگواری سموکر بولا۔ ’’ اچھا نا یار!مگر اب کیا ہوگا۔۔‘‘ضامن
