Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
12 Views
Part 05
Bheegi Si Hawa Ho Tum Part 05 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’انکل!اس بار میں بھی منڈی ساتھ جاؤنگی۔میں اپنا بکرا اپنی پسند سے لونگی۔‘‘بخاری ہاؤس کے لاؤنج میں منہ پھولائے بیٹھی معصومہ سینے پر بازو لپیٹے ناراضگی سے بولی تھی۔ ’’ کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔بابا میں نے بتا دیا یہ ہمارے ساتھ نہیں جائے گی۔‘‘مسکین دانت پیس کر بولتا جھڑک چکا تھا۔ ’’میں جاؤنگی۔‘‘وہ بھی پھاڑ کھاتے لہجے میں بولی تھی۔ ’’معصومہ ضد نہیں کرو۔۔چلیں بھائی صاحب۔۔‘‘فیاض صاحب عجلت بھرے آنداز میں لاؤنج میں داخل ہوتے ایسے زرا دپٹ کر بولے تھے۔ ’’نہیں بابا میں بھی ساتھ جاؤنگی نا پلیز!‘‘باپ کو غصہٰ کرتا دیکھ وہ منت بھرے لہجے میں بولی۔ ’’معصومہ جب ایک بار کہ دیا نا کہ نہیں!تو بس نہیں۔‘‘اس بار لہجا سخت تھا۔ ’’فیاض اگر وہ ضد کر رہی ہے تو لے چلو ساتھ ۔۔‘‘شہروز صاحب نے پریشانی سے پیشانی مسل کر معاملہ سلجھانا چاہا۔ ’’نہیں بھائی صاحب یہ کوئی بچی نہیں ہے۔جیسے ساتھ لے جایا جائے۔اور ہر جگہ لڑکیوں کے جانے کی نہیں ہوتی ۔ہم جا تو رہیں گھر کے مرد بھیڑ والی جگہوں پر لڑکی زات کا کیا کام؟‘‘فیاض صاحب ماتھے پر بل ڈالے طیش بھرے لہجے میں بولے تھے۔ ’’میں ساتھ جاؤنگی۔‘‘وہ سیاہ آنکھوں میں آنسو بھر لائی تھی۔ اب ایموشنلی بلیک میل کیا گیا تھا۔ ’’اب بولو!‘‘شہروز صاحب نے معصومہ کو روتا دیکھ تاسف بھرے انداز میں بول کر اشارہ کیا۔ ’’معصومہ خاموش ہوجاؤ بالکل!اگر ہم نے تمہیں لاڈ پیار سے پالا ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے تمہاری ہر اچھی بری ضد کو پوری کردیں گے۔جب ایک بار کہ دیا کہ ہر جگہ لڑکیوں کے جانے کے لیے نہیں ہوتی تو مطلب نہیں ہوتی۔خاموشی سے بیٹھی رہو یہاں۔۔۔‘‘فیاض صاحب سختی سے بولے تھے۔جبکہ معصومہ کو ڈانٹ پڑتا دیکھ مسکین کی تو باچھیں کھل گئین تھیں۔ ’’بس فیاض !بہت ہوگیا خبر دار جو ا ب تم نے ہماری بیٹی کو ایک لفظ بھی کہا تو۔۔چلو اٹھو مسکین ہم جانور لینے کل چلیں جائیں گے۔تم اسےزرا شہر کی رونق دکھا لاؤ۔۔اگر اس کا دل چاہ رہا ہے جانور دیکھنے کا تو ۔۔‘‘فیاض صاحب نے ماحول میں تناؤ بڑھتا دیکھ معاملہ فہمی سے کام لیا۔ ’’نہیں بھائی صاحب!پرسو نکاح ہے۔۔کل تیاریاں بھی کرنی ہے۔۔بس آج کا کام آج کر کے ختم کریں۔۔۔‘‘وہ زرا غصہٰ میں دکھائی دے رہے تھے۔شاید معصومہ کو انہوں نے پہلی بار ہی ڈانٹا تھا۔ ’’پتہ ہے مجھےآپ مجھے اس مسکین کی وجہ سے نہیں لے کر جارہے۔‘‘معصومہ منہ باسور کر کہتی مسکین کو ایک گھوری سے نوازتی دادی کے کمرے کی جانب چل دی تھی۔جبکہ فیاض صاحب دانت نکالتے مسکین کو دیکھ ایک ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئے تھے۔ ’’ان دونوں کی شادی کروارہی ہیں امی جان!‘‘شہروزصاحب نے مسکین کے سر پر چپت لگا کر کہا ۔جو سر سہلا کر رہ گیا۔ ’’آپ چھوڑیں سب کو۔۔۔مجھے تو خالہ جان کا فیصلہ بڑا معقول لگتا ہے۔زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔بس معصومہ میری زندگی میں اپنے گھر کی ہوجائے اتنا ہی اچھا ہے۔اور ابھی چھوٹی ہے جس سانچے میں ڈھالیں گے ڈھل جائے گی۔‘‘وہ مطمئن نظر آرہے تھے۔ ’’یہ تو ہے۔۔اور تم!کھڑے کھڑے دانت کیا نکال رہے ہو۔۔۔ بالکل درست کہتی ہے تمہیں !معصومہ مسکین شکل والے ہی ہو تم۔‘‘شہروز صاحب کے مسکرا کر کہنے پر فیاض کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔دفتعاً رلنگ پر سے بندریاں کی طرح لٹکتی معصومہ کی شفاف سی ہنسی نے بخاری ہاؤس کی درو دیوار تک مہکا دیں تھیں۔ ’’یہ دونوں نہیں ُسدھر سکتے!کیا ہم چلیں بھائی صاحب۔۔‘‘فیاض صاحب نے معصومہ کو مصنوعی گھوری سے نوازتے مسکرا کر کہا۔شہروز نے بھی دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ مسکین کے کندھے پر ہاتھ پھیلا کر قدم باہر کی جانب بڑھائے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’معصومہ میری جان تم کب آئیں!‘‘دادی بیگم جو ابھی مغرب کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں تھیں۔معصومہ کو اپنے پیچھے چپ چاپ بیٹھا دیکھ شفیق سے لہجے میں بولتیں اس کے نزدیک آئیں۔ ’’اس بار میں نے بھی مویشی منڈی ساتھ جانا تھا مگر بابا نے مجھے مسکین کی وجہ سے ڈانٹ دیا!‘‘معصومہ ابھی تک منہ بنا کر بیٹھی تھی۔ ’’کیوں لڑکی منڈی میں تمہارا کیا کام!‘‘وہ نماز کے اسٹائل میں بندھا دوپٹہ لوز کرتیں اس کے قریب ہی پیر پسار کر بیٹھ گئیں تھیں۔ ’’اپنا بکرا میں نے اپنی پسند کا لینا تھا۔۔ہر بار وہ مسکین اپنی پسند کا بکرا لے آتا ہے۔‘‘معصومہ نے رندھے لہجے میں شکوہ کیا ۔ ’’لڑکی جتنی تم نفاست پسند ہو!وہاں ایک منٹ بھی نہیں ٹھرنا تھا تم نے۔اور فیاض گیا تو ہے ساتھ۔بس لے آئیے گا۔پھر تم گھر میں اس کی خدمت کرتی رہنا،۔قربانی کے جانور کی خدمت کرنا بڑے ثواب کا کام ہے۔‘‘انہوں نے رسانیت سےجواز پیش کیا۔ ’’مگر مجھے وائٹ بکرا لانا تھا وہ ہر بار بلیک لے آتے ہیں!‘‘معصومہ نے ایک مزید معصوم سی شکایت درج کروائی۔ ’’رنگ سے کیا ہوتا ہے۔ہر بار جانور خوبصورت تو ہوتا ہے نا ویسے بھی اللہ کی راہ میں خوبصورت جانور کو زبح کرنا چاہیے۔‘‘وہ اس کی شکایت کا مفہوم نہیں سمجھیں تھیں۔ ’’پتہ ہےے دادو!! مگر مجھے بابا نے مسکین کی وجہ سے بہت زور سے ڈانٹا تھا۔‘‘معصومہ کو اب مسکین کو مزہ چکھانا تھا۔ ’’کیوں!کیا کیا اس لڑکے نے؟‘‘دادی کے ماتھے پر بل پڑے۔ ’’میں نے ساتھ جانے کو کہا تھا مگر مسکین نے منع کردیا تو بابا نے مجھے بہت زور سے ڈانٹا تھا۔‘‘اگر مسکین اس کے چہرے کی یہ معصومیت دیکھ لیتا تو یقیناً غش کھا کر زمین بوس ہوجاتا۔ ’’اچھا!آنے دو زرا س لڑکے کو!ابھی خبر لیتی ہوں۔‘‘معصومہ کی آنکھیں چمکیں تھیں۔ ’’جی دادو!اب میں جا رہی ہوں۔۔‘‘معصومہ کا مقصد مکمل ہوتے ہی اس نے جانے کے لیئے پر تولے۔ ’’ٹھر جاؤ لڑکی اور زرا پاس بیٹھو میرے!‘‘وہ اس بار سنجیدہ دکھائی دے رہی تھیں۔معصومہ جو جلد از جلد فرار ہونا چاہ رہی تھی۔دادی کے پکڑنے پر چار و نچار واپس بیٹھ گئی۔ ’’دیکھو معصومہ سب سے پہلے تو تم میری باتیں زرا دھیان سے سنو!اب تم بڑی ہوگئی ہو۔اس طرح خود سے لاپروہ نا گھوما کرو۔۔آئیندہ میں تمہیں اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتا نا دیکھوں۔‘‘دادی کے لفظوں میں چھپا متن تو کچھ خاص سمجھ نہیں آیا تھا۔مگر وہ تابع داری سے اثبات میں سر ضرور ہلا گئی تھی۔ ’’سمجھ رہی ہو نا میری بات!‘‘دادی نے سختی سے پوچھا تو معصومہ نے فوری آنکھیں چلا کر انہیں یقین دلایا۔ ’’اچھی بات ہے!لڑکیوں کو اپنے ارد گرد سے بے خبر ہونا چاہئے۔ویسے بھی اب تمہارا نکاح ہورہا ہے۔نکاح انسانوں پر عرش والے کی جانب سے ایک بڑی زمہ داری ہوتی ہے۔۔تو زرا سمجھ بوجھ سے کام لیا کرو۔‘‘اس بار معصومہ نے بڑی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تھا۔آج دادی اس سے بڑی بہکی بہکی باتیں کر رہی تھیں۔۔ ’’اور ہاں!آئندہ میں تمہیں مسکین کا نام بگاڑتا ہوا نا دیکھوں!نام بگاڑنا بُری بات ہوتی ہے۔۔۔اور آپ لوگ تو اچھے بچے ہو اچھے بچے ایسی حرکتیں نہیں کرتے۔‘‘قمروش بیگم نے مزید سمجھایا ۔ ’’مگر دادی مسکین بھی تو مجھے معصومہ کرتوت کافرانہ کہتا ہے۔‘‘ایسے فوری اپنا غم یاد آیا۔ ’’اچھا!میں سمجھاؤنگی ایسے بھی۔۔مگر تم بھی زرا دھیاں رکھا کرو۔۔اور کیا کہا ہے تم نے اپنی ماں سے تمہیں یہ نکاح نہیں کرنا؟‘‘دادی نے خشمگیں نگاہوں سے گھورا تو اس نے جلدی سے گڑبڑا کر نفی میں سر ہلایا۔ ’’نہیں دادی!میں تو راضی ہوں۔ ایسا تو مسکین نے کہا کہ وہ مجھ سے نکاح نہیں کرے گا۔ویسے بھی میں آپ کو ایک راز کی بات بتاؤں؟‘‘معصومہ نے فوراً سے بیشتر اپنی سائیڈ کلئیر کی تھی۔ ’’ہاں بتاؤ!‘‘وہ ہم تن گوش ہوئیں۔ ’’مسکین نا
