Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
144 Views
Part 01
وہ جانتے نہیں تھے کہ مسکین صاحب کس حد تک ضدی تھے۔ ’’تو بس طے ہوگیا۔ذوالحج کا چاند نظر آتے ہی ان کا نکاح ہوگا اور ٹھیک عید قرباں کے دوسرے دن رخصتی۔میں بُڑھی مرنے سے پہلے اپنے پوتے کے ماتھے پر سہرا سجتا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں۔وہ ایک بد بخت تو محبت کا روگ لیے بیٹھا ہے۔تو اب کیا میں انتظار میں ایسے ہی مر جاؤں۔‘‘ قمروش بیگم غصہٰ سے بڑابڑائیں ۔شہروز صاحب نے فوراًانہیں دلاسہ دیا۔ویسے تعجب تھا کہ دادی کو بھی قربانی کا بکرا بنانے کے لیے بڑے پوتے سے دس سال چھوٹا مسکین ہی ملا تھا۔ ’’بابا!‘‘مسکین نے ملتجانہ آنداز میں منمنا کر بابا صاحب کو معصوم نظروں سے دیکھ قائل کرنا چاہا۔مگر دورسی جانب نو لفٹ کا بورڈ دیکھ ایسے خاموش ہونا پڑا۔ ’’جو حکم !اماں سرکار!اور تم شاباش چلو آٹھو۔کل تمہارا کالج کا آخری پرچہ ہے نا ،جا کر تیاری کرو۔‘‘وہ مسکین کو ناک بھنوئیں چڑھاتا دیکھ سخت لہجے میں بولے۔ ’’جا رہا ہوں!ویسے بھی میں اپنی کلاس کا پوزیشن ہولڈر ہوں آپ کی لاڈلی معصوم کی طرح فیلئیر نہیں ہوں۔‘‘پیچھے وہ غصہٰ سے بڑبڑاتا ہوا۔کمرے سے باہر نکل گیا۔شہروز صاحب تاسف سے سر ہلا کر رہ گئے۔قمروش بیگم نے بھی انہیں گھن چکر بنا دیا تھا۔اتنی چھوٹی عمر میں شادی کرنے کے ہر گز بھی قائل نہیں تھے مگر ماں کے سامنے بولنے کی کہاں جرات تھی بھلا۔ ’’اچھا اماں میں چلتا ہوں۔‘‘شہروز صاحب قمروش بیگم کو ایل سی ڈی پر وحید مراد چوکلیٹی ہیرو کی مووی لگاتا دیکھ وہ آٹھ کر کمرے سے باہر نکل آّّئے۔جبکہ وہ بے نیازی سے ہاتھ کے اشارہ سے انہیں اللہ حافظ کرتیں معین آختر اور انور مْقصود کا لوز ٹاک دیکھنے میں مشغول ہوچکی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’نو ماما نو!ائیم ام سوئیٹ سکس ٹین آئیرز اولڈ!ابھی تو میرا میٹرک کا رزلٹ بھی نہیں آیا۔۔اور آپ چاہتی ہیں میں اس مسکین بندر سے شادی کرلوں۔نو نیور!‘‘معصومہ صدیقی بڑے جزباتی تقریری آنداز میں بولتی فل کاپی کیٹ لگ رہی تھی۔دوپہر کے تین بجے وہ ابھی ناشتہ کر کے بیٹھی تھی۔جبھی ماما نے اس کے نکاح کا زکر چھیڑ دیا تھا۔ ’’معصومہ !بہت ہوگئی بکواس!اور اس شادی میں حرج ہی کیا ہے۔تم آج کل کےبچے سمجھدار ہو۔ٹیکنولجی کی دنیا میں رہتے ہو۔اتنی فاسٹ زندگی ہے۔تو کم عمری میں شادی کرنے میں بھلا کیا حرج ہے۔‘‘نوشین بیگم مسلسل انکار پر زچ ہوگئیں تھیں۔ ’’ماما!مجھے شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔کیونکہ میرے فیورٹ یوٹیوب ولوگر کی بھی ٹونٹی کی ایج میں شادی ہوئی ہے۔اور شوشل میڈیا پر سب انہیں بہت لائک بھی کر رہے ہیں۔مگر ماما آپ میری پریشانی کو آنڈراسٹینڈ نہیں کر رہی ہیں۔‘‘چہک کر آگاہی دیتی معصوم سی پری پیکر حسن کا چلتا پھرتا شہکار تھی۔سانولی سی رنگت اور دلکش نین نقش والی پندرہ سالہ معصومہ صدیقی کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف تھا۔۔ ’’تو پھر کیا مئسلہ ہے؟‘‘وہ تھوڑی تلے ہاتھ رکھ کر پریشانی سے بولیں۔ ’’کم آن ماما!سب سے بڑا مسئلہ تو وہ آپ کا بھانجا مسکین ہے۔مجھے نہیں کرنی بھئ اس سے شادی۔۔دادی کو بولیں میرے لیے نیا دلہا ڈھونڈے۔‘‘دراز قد معصومہ چڑکر ایسے بولی تھی جیسے نئی گڑیا کی فرمائش کر رہی ہو۔ ’’یا میرے اللہ!اب تو تمہیں خالہ صاحب ہی نبٹے گی۔اتنا پیار کرتی ہیں وہ تم سے۔مگر تم ہو جو ہر وقت ناک پر غصہٰ لیے گھومتی ہو۔‘‘نوشین چہرے پر پریشانی سجائے ایسے جھڑک چکی تھیں۔ بولا بھی تھا خالہ جانی کو کہ ابھی صرف نکاح کر لیں مگر نہیں۔انہیں بھی ان دو افلاطونوں کی شادی کرنے کا شوق چڑھ گیا ہے۔‘‘وہ غصہٰ سے بڑبڑاکر رہ گئیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سمندری اوشن بلیو آنکھوں میں اس وقت غصّہ ہچکولے لے رہا تھا۔ماتھے پر بل ڈالے،گلابی پڑتی ناک پر چشمہ ٹکائے وہ ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی جبکہ ضامن مزے سے اس کے کمرے کے صوفے پر چڑھ کر بیٹھا اس کی حالت سے حظ اٹھا رہا تھا۔ ضامن دیکھو!تم مجھ سے دو سال چھوٹے ہو۔یہ بات سمجھ کیوں نہیں آتی تمھیں۔ہمارا کوئی جوڑ نہیں ہے۔"بلآخر خود پر ضبط کئے وہ سمجھانے والے انداز میں بولی۔ "ڈئیر عمر میں بڑی محبّت!اب تم پر دل اگیا ہے تو میں کیا کروں؟اور تم یہ بات کیوں نہیں سمجھتیں کے تم صرف دو سال بڑی ہو۔"وہ کود کر کھڑا ہوتا اس کے مقابل آتا دلکشی سے مسکرایا۔ "ہم بہت اچھے دوست ہیں مگر تم جو چاہ رہے ہو وہ ممکن نہیں۔۔"وہ تکلیف سے رخ پھیر گئی۔ "کیا نا ممکن ہے؟آخر جب میں تمھارے ساتھ کھڑا ہوں تو تمھیں کس بات کا ڈر ہے۔"اس بار وہ گہری سنجیدگی سے بولا۔ دلنشین نے دکھ سے آنکھ بھر کر سامنے کھڑے خوبصورت سے مرد کو دیکھا تھا جو کسی کا بھی آئیڈیل ہو سکتا تھا۔۔ "یار ادھر آئیں دیکھیں خود کو!دیکھیں میں اور آپ کتنے پیارے لگ رہے ہیں۔"وہ سنگھار کے آئینے کے عین سامنے آتا گہری مسکراہٹ سے بولا۔جو ٹرانس میں شیشہ میں نظر اتے اس کی عکس کو دیکھے گئی تھی۔سفید کاٹن کا كلف دار سوٹ پہنے وہ بہت پر کشکش نظر آرہا تھا۔ "مگر ہماری شادی نہیں ہوسکتی۔"وہ پلت کر پیچھے دھکیلتی سختی سے بولی۔۔ "کیوں نہیں ہو سکتی یار !!کیوں اپنے ساتھ ساتھ مجھ معصوم پر بھی ظلم کرنے پر تلی ہیں آپ؟وہ دیکھیں ذرا کیسے دادی صاحبہ اپنے ارمان پورے کرنے کے چکر میں کل کے بچو کی شادی کروا رہی ہیں۔جن کی ابھی فیڈر پینے کی عمر ہے۔اور جو انتظار میں بڑھے ہوئے جا رہے ہیں ان کی کسی کو کوئی خبر ہی نہیں۔۔"ناراضگی سے بولتا وہ سینے پر ہاتھ لپیٹ کر بولا تو دل نے اسے گھورا۔ "تم مجھے بڑھا کہ رہے ہو؟"چن کر بات پکڑی گئی تھی۔ضامن کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔ "ارے نہیں یار !!بڑھے ہوں آپ کے دشمن میں تو یہ کہ رہا تھا کہ دیکھیں ذرا شادی کے چکر میں اگ اور پانی صلح کرنے کو راضی بیٹھے ہیں۔تو پھر ہم تو بچپن کے دوست ہیں۔"اس نے بے چارگی سے ناکام سی کوشش کی۔ "یہی تو میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی ضامن کے میں نے تمھیں آپنا سب سے اچھا دوست مانا۔اور تم نے میرے خلوص کا غلط مطلب نکالا۔۔"گہری سمندری آنکھوں میں دکھ کے سائے تھے۔میدے جیسی رنگت میں سرخیآں گھل گئیں تھیں۔۔ "پلیز!!دل ایسے تو نا کہیں،میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔میں نے کبھی غلط نگاہ سے نہیں دیکھا۔"اسے برا لگا تھا۔ "سب یہی کہتے ہیں۔۔۔"وہ استہزایہ سا مسکرائی تھی۔۔ "کیا آپ اپنی زندگی میں آئے اس پہلے مرد کو بھول نہیں سکتیں۔۔"اس بار چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی۔۔ "نہیں!!بہتر ہے تم اپنے قدم پیچھے لے لو۔۔۔دس دن بعد دونوں بچوں کا نکاح ہے تم بھی چاچی کی بھتیجی سے نکاح کرکی زندگی میں آگے بڑھ جاؤ۔۔۔میرے لئے وہ ایک شخص ہی کافی ہے۔۔"دکھ اور رنج کی کیفیت میں بولتی وہ ضامن کو جزبات کو کسی خاطر میں نہیں لائی تھی۔۔ مشورے کا شکریہ!!!مگر میری زندگی میں بھی اول روز سے صرف ایک ہی لڑکی ہے جس کا نام دلنشین ہے۔اور میری آخری سانس تک وہی رہے گی۔اگر آپ اپنی ضد سے پیچھے نہیں ہٹنا چاھتی تو نا ہٹیں۔۔۔مگر یاد رکھئیے گا۔آپ ضامن شہروزکی پہلی اور آخری محبّت ہیں۔۔۔۔"انگشت شہادت اٹھا کر درشت لہجے میں بولتا۔وہ دل کو ہکا بكا چھوڑ کر وہاں سے غائب ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ . جاری ہے۔۔۔ السلام علیکم ! پڑھ کر اپنی رائے دینے بالکل بھی نا بھولئیے گا۔۔۔ 😍ناول روز پوسٹ ہوگا تو موجودگی کا احساس دلائیں ❤🔥
