Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
144 Views
Part 01
Bheegi Si Hawa Ho Tum / Qalb E Qurban By Huma Qureshi Part No 01 کراچی کے ساحل سے غروب آفتاب سمندر کی اونچی لہروں پر سے رخصت ہوتا اپنی نارنجی کرنیں سمیٹتا الوداع کہنے کو تھا۔کچھ ہی دیر میں سورج غروب ہونے کے بعد شام کے ساۓ گھیرے ہونے والے تھے۔آسمان کی بلندیوں میں پرواز بھرتے پرندے تھک ہار کر واپس اپنے آشیانوں کی جانب گامزن تھے۔ساحل کنارے سیر کرواتے اونٹ اور گھوڑے بھی تھک کر گیلی ریتیلی زمین پر بیٹھ گئے تھے۔غروب آفتاب ہوتے ہی گویا کائنات کی ہر جاندار شے پر تھکن سی سوار ہوگئی تھی۔مگر کچھ منچلے نوجوان ایسے بھی تھے جن کے لئے دن کا آغاز ہی غروب آفتاب کے بعد ہوتا تھا۔ یہ منظر ہے کراچی دو دریا کی لمبی سڑک سے چند قدموں کی دوری پر لگے ہجوم کا۔جو "سی آر "کے ٹریک سے مشہور ہے۔ جہاں شہر کے کچھ منچلے کار اور بائیک ریسنگ کا شوق پورا کرنے یہاں چلے آتے ہیں۔حد نگاہ تک صرف اسپورٹس کار اور ہیوی بایئکس کےساتھ لگا ہجوم ہی نظر آرہا تھا۔کچھ ریس لگا کر اب واپس آرہے تھے۔جبکہ کئی بائیکس پر موت کا کرتب دکھاتے ہوئے اسپیڈ میں جارہے تھے۔ بلیک جینز کی پینٹ ، اور بلیو ٹی شرٹ کے اُپر لیدر کی بلیک جیکٹ پہنے ،پاؤں میں نائیکی کے برینڈڈ شیوز ڈالے وجیہہ سے چہرے پر سنجیدگی سجائے اضطرابی کی سی کیفیت میں وہ بلیک اینڈ روئل بلیو کلر کی "ہزار سی سی" کی سپورٹس بائیک پر بیٹھامسلسل پیر جھلا رہا تھا۔کچھ ہی دیر میں ٹریک کے چمپئین سے اس کی ریس تھی۔ضامن جزبات میں ٹریک چمئین سے شرط لگا بیٹھا تھا۔جس کا خمیازہ اب اس کو ریس جیت کرہی ادا کرنا تھا۔اگر وہ ریس ہار جاتے تو انہوں نے اگلے ایک سال تک روکی کے حکم پر چلنا تھا۔مطلب وہ لورز رہتے اور کوئی ان کے ساتھ ریس نہیں لگا سکتا تھا۔البتہ اگر جیت جاتے تو وہ ایک اگلے ایک سال تک کے لیے ٹریک کا فاتح بن جاتا۔ ’’ہائے بڈی!‘‘ اتنی دیر کہاں لگادی تھی؟‘‘ضامن شہریار کو ریڈ کلر کی ہیوی اسپورٹس بائیک ایک جانب لگاتا دیکھ چڑ کر بولا۔وہ کب سے ان کا منتظر تھا۔مگر وہ اب آرہا تھا۔ ’’کراچی کا ٹریفک اور کیا۔۔"اس نے ایک گہری سانس فضا کے سپرد کی تو ضامن سر جھٹک کر رہ گیا۔ "خیر اچھا ُسن!!ضامن کے سنجیدہ انداز پر شہریار چونک کر متوجہ ہوا۔۔۔ "روکی نے آج یہاں سب کو چیلنج کیا ہے،کہ آج جو اسے ریس میں ہارا کر اس کا ریکارڈ توڑے گا ۔اِسے وہ خود ایک سال کے لئے ٹریک کا چیمپئن ٹھرائے گا۔بقول روکی کہ اِسے کوئی بائیک ریس میں ہارا نہیں سکتا۔کسی میں اتنی ہمّت نہیں ہے۔وہ نہ صرف یہاں کا چیمپئن ہے بلکہ کالج یونیورسٹی میں بھی اس کا ریکارڈ رہا ہے ۔تو جو آج اِسے میں ہارا کر اس کا ریکارڈ ٹوڑنے والا ہوں۔تو تو جانتا ہے ناں مجھ شرطیں جیتنے میں کتنا مزہ آتا ہے۔‘‘غور سے سنتے شہریار کو ساری تفصیلات سے آگاہ کرتا وہ اس وقت خاصہ پرجوش نظر آرہا تھا۔تو وہ پیوٹ کی شکل میں ہونٹ گھماتا اوہ کرتا رہ گیا۔ ’’کیاواقعی سچ میں! اب تو واقعی بڑا مزہ آنے والا ہے۔‘‘شہریار کی آنکھی چمکیں تھیں۔جبکہ روکی نے کاشف کو کار ریس ہار کر لوٹتا دیکھ قہقہہ لگایا۔ ’’تو فکر نہیں کر میرے چیتے یہ ریس تو ہی جیتے گا۔‘‘کاشف نے قریب آکر اس کی ہمت باندھی۔جو خود ابھی کار ریس ہار کر آرہا تھا۔ سات سے آٹھ کلومیٹر کی سیدھی اور خاصی لمبی سڑک تھی۔جہاں ریس لگانے کا اپنا ہی مزہ ہے۔ زرا فاصلہ سے وائٹ اور یلو کلر کی لائنز سے اسٹارٹنگ اور فنش لائن لائن کو ہائی لائٹ کیا ہوا تھا ۔ ٹریک کے دونوں اطراف رش لگا کر کھڑے مداحوں کے جمع عفیر میں ایک ہلچل سی مچ گئی تھی۔ہر کسی کو جاننے کا تجسس ہوا تھا۔آخر کون تھا۔جو روکی کا چیلنج قبول کر رہا تھا۔مگر ضامن کو دیکھ سب پر جوش ہوئے تھے۔ ضامن نے ایک نظر اِرد گرد لگے ہجوم پر گھومائی "شہریار اور کاشف کہ چیئر اپ کرنے پر اب ہر جانب سے “ضامن" ضامن"کی صدائیں بلند کرتے اس کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ اُن سب پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑا کر وہ دونوں اپنی بائیک اسٹارٹنگ لائن کے نزدیک لے آئے تھے۔روکی بھی اپنی بائیک سنبھال چکا تھا۔ہر طرف سے بس "روکی" اور "ضامن" کی صدآئیں بُلند تھیں۔پیچھے کھڑے شہریار اور کاشف مغرورآنہ انداز میں ہاتھ ہلا ہلا کر جوش سے سب سے داد وصول رہے تھے۔ "ابھی بھی وقت ہے۔ہار مان جاؤ اور پیچھے ہٹ جاؤ۔۔"سر پر ہیلمٹ درست کرتا وہ زیر لب مسکرا کر سنی ان سنی کر گیا ۔ وہ دونوں ہی ا سٹارٹنگ لائن پر اپنی سپورٹس بائیکس لئے اکسیلٹر دے رہے تھے۔آنکھوں ہی آنکھوں میں چیلنج قبول کیا۔ دونوں ہی کی عقاب سی نظریں سامنے لمبی سڑک پر ٹکی ہوئی تھیں۔جہاں سے راؤنڈ لگا کر جو پہلے واپس آتا وہی جیت کا حقدار تھا۔فل اکسیلیٹر دینے کےباعث فضا میں اسموک سا پھیل گیا تھا۔ "ٹھا۔۔۔۔"کے ساتھ فائر کی آواز فضا میں گونجتے ہی دونوں بائیکس کو فل ریس دیتے بجلی کی تیزی سے بائیک بھگا لے گئے تھے۔ضامن کی بائیک کی سپیڈ کا کانٹا آہستہ آہستہ اُپر جا رہا تھا۔ پیچھے بہت سی آوازیں تھیں جؤ دونوں کو چیئر اپ کر رہی تھیں۔کبھی ضامن آگے ہوجاتا تو کبھی روکی۔دونوں فل سپیڈ میں تھے۔ضامن کی بائیک ذرا روڈ پر ڈگمگا کرسلوو ہوئی۔ساتھ بائیکس پر ساتھ ساتھ پیچھے آتے دوست زرا مایوس ہوئے۔ ان دونوں کے چہرے پر بھی پریشانی کے آثار واضح ہوۓ۔ روکی نے دور تک ضامن کی بائیک نظر نا آتی دیکھ اسپیڈ ذرا سلو کرنارمل رفتار میں بائیک آگے بڑھانی شروع کردی ۔وہ اِرد گِرد لوگوں میں چند ایک لوگوں کے بیچ سے گزرتا سب کی ہوٹنگ کو بھرپور طریقے سے لطف اٹھاتا اپنی جیت کی خوشی میں چور آگے بڑھ رہا تھا فنش لائن سامنے ہی نظر آرہی تھی۔کہ پیچھے سے آتی آوازوں پر ایک دم چونکا،جب ہجوم نے اچانک ایک بار پھر "ضامن" کے نام کی آوازیں بُلند کیں۔ ابھی دماغ اس کی چال ہی سمجھنے میں لگا ہوا تھا کہ ضامن بجلی کی سی فل سپیڈ سے بائیک بھگاتا اس کے قریب سے اِسے سائیڈ دے کر آگے نکل گیا تھا۔ جبکہ اس چلاکی اور اس کو جیتا دیکھ،روکی غصّہ سے مٹھیاں بھینچ گیا۔ روکی نے خود کو بامشکل گرنے سے بچاکر سنبھل کر سپیڈ بڑھائی۔پر دیکھتے ہی دیکھتے بائیک کو تھوڑا لِٹا کر ٹرن لیتاوہ فنش لائن کراس کرگیا۔ ضامن کے فنشن لائن پار کرتے ہی پورا ہجوم ہی بھرپور تالیوں،سیٹیاں لگاتا چیخ پڑا ۔ "اوہ شٹ!!روکی غصّہ سے تلملا کر اپنے دوستوں کی مایوس شکل دیکھ بائیک ایک سائیڈ پر روک کر کھڑا ہوگیا۔ جبکہ وہ گہری دلکش مسکراہٹ سے مسکراتا ہوا اپنے مخصوص مغرورانہ انداز میں اب سفید لائن سے بائیک گھما کر واپس سلوو سپیڈ میں قریب لایا۔ لائن کے قریب پہنچتے ہی ہوسٹ نے چیخ کر دونوں کو برابر کھڑا کے ضامن کا ہاتھ ہوا میں بلند کرتے اسے ایک سال تک کا فاتح ٹھرایا وہیں روکی کا گروپ اتنی بے عزتی کے بعد غصے سے دو انگلیوں کے اشارے سے بدلہ لینے کا اشارہ کرتا وہاں سے واک اوٹ کر گیا۔۔جبکہ ضامن کو ہارنے کی وہ اب دل سے ٹھان چکا تھا۔ ________ ’’ضامن بس بہت ہوگئی کنجوسی!آج تو اتنی بڑی شرط جیتا ہے۔چل شاباش! اسی خوشی میں تو آج ہمیں
