Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
144 Views
Part 01
دروازہ پر ہی مرکوز تھیں۔جس کی لائٹ ابھی تک جل رہی تھی۔اور دروازہ بھی کُھولا ہوا تھا۔ٹیچر صاحبہ یقیناًابھی تک جاگ رہی تھیں۔دل میں خیال آیا کہ جاکر اس کے چہرے کا دیدار ہی کر آئے۔مگر پھر ارادہ ترک کر کے موبائل نکال کر گیلری سے اس کی تصویر دیکھ ہولے سے مسکرایا۔کیونکہ جانتا تھا ابھی کا چھیڑنا کل صبح آتش فشاں بن کر پھٹنا تھا۔ ’’تو نا سہی ۔تیری تصویر ہی سہی۔۔۔۔۔‘‘ایک جھٹکے سے آٹھتا اب وہ اپنے کمرے میں غائب ہوگیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوائل دسمبر کی ٹھٹھراتی ہوئی سردی میں ٹھنڈی یخ بستہ تیز ہواؤں کے جھکڑوں نے کراچی شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔آج موسم کے تیور ہی بدلے ہوۓ تھے۔ہر سو ٹھنڈ کے باعث خُنکی سی چھائی ہوئی تھی۔محکمہ موسمیات کے مطابق اس بار کراچی میں سردی کہ کئی پرانے ریکارڈ ٹوٹ چکے تھے۔اور آئندہ دنوں میں مزید ٹھنڈ کی پیشن گوئی بھی تھی۔کراچی پاکستان کے گرم ترین شہروں میں سے ایک اس بار ٹھرٹھرآتی ہوئی سردی کی لپیٹ میں تھا۔ . بلڈنگوں کے پار سے نكلتے آفتاب کی روشن کرنوں کو گہرے بادلوں نے اپنی لپیٹ میں لے کر مدھم کر دیا تھا۔چاروں جانب کالی گھٹا سی چاہی ہوئی تھی۔موسم اَبر الود سا ہو رہا تھا۔اور چلتی خشک ٹھنڈی ہوا نے کراچی والوں کو گرم کپڑے پہننے پر مجبور کر دیا تھا۔جن کا استعمال کراچی میں محض فیشین کی حد تک رہ گیا تھا۔۔ اس وقت صبح کے آٹھ بج رہے تھے۔کمرے کی قدآور کھڑکیوں پر پڑے موٹے موٹے پردوں کے باعث سورج کی ہلكی مدھم سی روشنی بھی کمرے میں اُجالا بکھیرنے میں ناکام ٹھر رہی تھیں۔کمرے میں چھآیا اندھیرا اور ایئر کنڈیشن کے باعث یخ بستہ ہوتے کمرے میں اس وقت فسوں ناک ماحول بنا ہوا تھا۔۔ڈبل بیڈ کے بیچ و بیچ کمفرٹر میں دبک کر سوۓ ہوۓ وجود کو نا تو موسم کے بدلتے تیوروں سے کوئی فرق پڑ رہا تھا۔اور نا ہی کمرے کے خاموش ماحول میں الارام کی مُسلسل چنگھاڑتی ہوئی آواز سے پیدا ہونے والے ارتعاش سے۔بلکہ وہ تو ہر چیز کو فراموش کئے نیند کی وادیوں میں گُم تکیہ پر رکھے ہاتھوں پر ليفٹ سائیڈ کا گال رکھے نیند میں شاید کسی حسین خواب کے زِیر اثر مُسلسل مُسکرا رہی تھی۔ الارام بج بج کر خاموش ہو چکا تھا۔مگر کمرے کی ٹھنڈک اور الارام کی مُسلسل بجتی ہوئی آواز اس کی مدہوش نیند میں خلل ڈالنے میں نآ کامیاب ہی رہی تھی۔کھڑے کھڑے نقش پر ایک الگ ہی مسکان رقصاں تھی۔جیسے شہزادی کسی وادی کی سیر کو نکلی ہو۔ اچانک نیند میں خلل ڈالتی دماغ پر ہتھوڑے کی طرح مُسلسل ضرب لگاتی آواز بار بار اس کہ خواب میں داخل اندازی پیدا کر رہی تھی۔چھوٹے سے ماتھے پر ناگواری کی شکنوں کا جال سا بن گیا تھا۔دماغ کی شریانوں کو ہلا دینے والی دستک مُسلسل جاری تھی۔مگر وہ کچی سی نیند میں نیم غنودگی کی سی کیفیت میں خاصی الُجھی ہوئی تھی۔ کہ اچانک پٹ سا آنکھیں وا کیں تھیں۔دماغ ابھی بھی سویاہوا تھا۔گھبرا کر بستر سے اٹھ کر بیٹھی تو وہ کسی باغ کہ جھولے پر نہیں بلکہ اپنے گھر کہ اپنے مخصوص کمرے میں موجود تھی۔دروازہ پر ہوتی دستک نے فوراً حقیقت کی دنیا میں لا پھینکا تھا۔کچھ گھبرا کر اپنے چھوٹے چھوٹے سے پاؤں ٹھنڈے برف ہوتے ٹآئلز پر جماتی ڈور کر دروازہ کی جانب بھاگی مبادا مقابل کہیں دروازہ ہی توڑ کر نا کمرے میں داخل ہو جائے۔جیسے ہی دروازہ ان لاک کیا کوئی وجود آندھی طوفان کی طرح کمرے میں داخل ہوا تھا۔پر مقابل ہستی کو دیکھ ایک ڈرامائی سانس خارج کرتی اس ہستی کی لن ترانیاں نظر انداز کرتی واپسی جمپ لگا کر بیڈ پر چڑ کر پہلے والی پوزیشن میں لیٹ گئی تھی۔۔ ’’بے بی!بیگم صاحب آپ کو نیچے بلا رہی ہیں۔دن کے بارہ بج رہے ہیں۔آدھا دن چڑھ آیاہے۔اور ابھی تک سو رہی ہیں۔‘‘ملازمہ کمرے میں داخل ہوتی نوشین بیگم کا پیغام سنا کر جلدی جلدی کمرہ سمیٹتی ریڈیو پاکستان کی طرح بس شروع ہی ہوگئی تھی۔ ’’بے بی!آپ نیچے جاؤ۔۔اور ماما سے کہ دو آ ج معصومہ بہت سارا سوئے گی۔ جب تک میں نااُٹھوں مجھے کوئی بھی ڈسٹرب نا کرے۔‘‘وہ چھوٹی سی پری پیکر ہاتھوں کو پھیلا کر بتاتی واپس سے سو گئی تھی۔جبکہ بانو جلدی جلدی اپنا کم نبٹاتی اب نیچے جا رہی تھی۔تاکہ بے بی کا پیغام بیگم صاحبہ تک پہنچا سکے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا دن طلوع ہوتے ہی مسکین پیپر سے فارغ ہوتا سیدھا لاؤنج میں بیٹھ کر آج کا اخبار پڑھتے بابا صاحب کے پاس آیا تھا۔اس سے پہلے کہ دل نشین بہت ہی دل نشین آنداز میں بابا صاحب سے اس کی درگت بنواتی وہ پہلے ہی بازی پلٹ دینا چاہتا تھا۔مگرشہروزصاحب اپنا ہی راگ الاپنے بیٹھ گئے تھے۔ ’’نہیں بابا صاحب میں اس چڑیل سے شادی ہر گز نہیں کرونگا۔بس میں نے کہ دیا۔‘‘ دبلی پتلی جسامت کا سترہ سالہ مسکین بخاری ہڈ دھرمی سے ماتھے پر بل ڈالے ضد لگائے بیٹھا تھا۔چہرہ کے بھول پن میں گہری سنجیدگی پیدا کرنے کی ناکام سی کوشش تھی۔آج وہ کیسے نا کیسے پیپر تو دے آیا تھا۔مگر رات والا غصہٰ ہنوز برقرار تھا۔مگر بھلا ہو قمروش بیگم کا جو اس کی بکوا س سن کر وہیں آگئی تھیں۔ ’’ارے میاں کیوں نہیں کرنی شادی !اتنی پیاری تو ہے اپنی معصوم۔‘‘وہ معصومہ کو پیار سے معصوم ہیُ بلاتی تھیں۔جبھی ماتھے پر بل ڈالے آنکھوں پر لگا نظر کا عینک درست کرتیں گھور کر بولیں۔ ’’پلیز دادی!میں اس بھوتنی سے شادی نہیں کرونگا۔کل بھی اس نے میرے بال نوچے تھے۔‘‘مسکین کو سابقہ دکھ یاد آگئے تھے۔منہ بنا کر بولتا وہ بالکل چھوٹا سا بچہ لگ رہا تھا۔ ’’تو بیٹا وہ آپ سے چھوٹی ہے۔اور چھوٹے بچے تو ویسے بھی شرارت کرتے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔‘‘دادی بیگم کے پاس قائل کرنے کے ایک سو ایک طریقے موجوود تھے۔ ’’مگر بابا صاحب وہ مجھے بالکل بھی اچھی نہیں لگتی۔۔جب دیکھو وہ آپ سے میری شکایت لگاتی رہتی ہے۔‘‘مسکین دادی کی سائیڈ لینے پر ماتھے پر بل ڈالے شہروزصاحب سے مخاطب ہوا تھا۔دادی کی طرف داری ایسے ایک آنکھ بھی نہیں بھائی تھی۔ ’’دیکھ مسکین شادی تو تیری معصومہ سے ہی ہوگی۔اگر تو نے معصومہ سے نکاح ناکیا نا تو بھول جائیو اپنی دادی کو۔‘‘قمروش بیگم نے ناراضگی جتاتے لہجے میں تنبیہ کی۔مسکین نے آنکھوں کے ڈیلے گول گول گھمائے مطلب یہاں دادی بیگم کی جزباتی بلیک میلنگ کی پرواہ کیسے تھی۔ ۔ ’’مگر دادو!آپ میری شادی دل نشین آپی سے کیوں نہیں کروادیتیں۔۔وہ مجھے اتنی اتنی اچھی لگتی ہیں کہ کیا بتاؤں۔میں اس بھوتنی کی جگی دلنشین آپی سے شادی کرنے کے لیئے تیار ہوں۔‘‘مسکین جھٹکے سے دادی کی جانب رخ پھیرتا چہک کر بولا۔مگر آپی لگانا ہر گز نہیں بھولا تھا۔وہ خود سے بارہ سال بڑی کزن کا بڑی محبت سے نام لیتا قمروش بیگم کو بھونچکا کر گیا۔ ’’آئے ہائے بے شرم نا ہو تو۔شہروز تمہاری اولاد نے کیا شرم بیچ کھائی ہے۔کیسے ڈھڑلے سے بڑی بہن کا نام لے رہا ہے۔بد بخت کہیں کا۔‘‘دادی بیگم پھرتی سے کھڑی ہوتیں اس کی کمر پر ایک دھموکا جڑ کر غصہٰ سے بولیں۔ ’’ہاں!تو اس چشمش کے ساتھ قربانی کا بکرا سمجھ کر قرباں کرنے کے لیے کیا میں ہی ملا ہوں۔‘‘اپنی پشت سہلا کر چڑکر بولتا وہ بھی انہی کا پوتا تھا۔ ’’اماں جان!چھوڑیں ایسے۔۔ابھی بچے ہیں ۔۔شادی ہوجائے گی جیسے جیسے وقت گزرے گا خود ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔‘‘شہروزصاحب نے معاملہ رفعہ دفعہ کرنا چاہا۔مگر
