Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Part 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Festive Romance
Published: 12/01/2026
144 Views
Part 01
ٹریٹ دے رہا ہے۔‘‘وہ جو شرط جیتنے کے بعد ان دونوں سے جان چھوڑا کر فرار ہونا چاہ رہا تھا۔ان کی ضد پر مسکرا کر رہ گیا۔ ’’تو دے تو رہا ہوں۔یہ پکڑ پانچ سو روپے۔اور کسی بھی اسٹول سے جاکر آنڈے والا برگر اور ایک ایک سیون اپ کا کین لے کر پی لو۔‘‘ضامن نے وولٹ سے سے ایک نوٹ نکال کر ان کی جانب بڑھایا تو دونوں نے ایسےُبری طرح گھور ا۔ ’’ضامن مت بھول!ہمارے پاس وہ ویڈیو سیو ہے۔جس میں بھابھی تیری رج کر بے عزتی کر رہی تھیں۔‘‘اب کی بار دونوں کو بلیک میل کرنے کے لیے اسکی دکھتی رگ مل گئی تھی۔ ’’شٹ اپ!تم خبثوں نے ابھی تک وہ ویڈیو ڈلیٹ نہیں کی ہے۔‘‘ضامن نے دانت کچکچا کر پوچھا۔تو دونوں ہی کمینگی مسکراہٹ سے مسکرائے۔ ’’نہیں اور جب تک نہیں کریں گے۔جب تک تو ہمیں ٹریٹ نہیں دے گا۔‘‘وہ دونوں بھی باضد ہوئے۔ ’’سارے بھکاری اور بلیک میلر ضامن بخاری کے ہی نصیب میں آنے تھے۔ چلو منہوسوں۔ ‘‘اپنی اسپورٹس بائیک اسٹارٹ کرتا وہ ریس دیتا زناٹے سے غائب ہو ا تھا۔جنکہ وہ دونوں بھی اپنی اپنی بائیک اور کار پر اس کے پیچھے ہی روانہ ہوئے تھے۔ ’’مگر یہ کیا۔۔۔ضامن کسی رسٹورنٹ کی سائیڈ جانے کے بجائے منٹوں میں نظروں سے اوجھل ہوتا انہیں چکما دے کر بھاگ چکا تھا۔ ’’یار کہاں گیا یہ؟‘‘ کال ملا!‘‘شہریار کی رائے پر کاشف نے اس کا نمبر ڈائل کیا۔مگر دوسری جانب سے شوخ سی آواز سن کر دونوں ہی بیچ و تاب کھاتے رہ گئے۔ ’’اچھا خاصہ آنڈے والا برگر کھانے کے لیے پیسے دے رہا تھا مگر نہیں۔۔۔عادت ہے ہر وقت بھکاریوں کی طرح مزید اور کر کے مانگنے والی۔۔۔‘‘دوسری جانب وہ ایک خوشگوار سا قہقہہ لگاتا کال بند کر چکا تھا۔جبکہ وہ دونوں ایسے دل میں ہی صلاوات سنانیں کہ سوا اور کچھ نہیں کرسکے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت رات کا ایک بج رہا تھا۔بخاری ہاؤس کے سبھی مکین بستروں میں دبکے خواب و خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف تھے۔جبکہ مسکین بارہویں جماعت کا سیکنڈ لاسٹ پرچہ ہونے کے باعث اب تک جاگ رہا تھا۔آہستہ سے قدم آٹھتا وہ دلنشین کے کمرے کے سامنے آیا۔اور بہت آہستہ سے دروازے پر دستک دی تھی۔کیونکہ وہ رات دیر تک بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر کوڈ کرنے کی عادی تھی۔ ’’مسکین!خیریت کچھ پوچھنا تھا کیا؟‘‘وہ دروازہ میں استاذہ مسکین کو دیکھ حیرانی کا شکار ہوئی۔ ’’جی وہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی۔‘‘مسکین مسلسل ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔ ’’ہاں!پہلے آندر تو آجاؤ!‘‘وہ دروازہ کھول کر ایسے کمرے میں آنے کا راستہ دیتی اب خود بیڈ پر چڑ کر بیٹھ گئی تھی۔جبکہ وہ ابھی تک کشمکش کا شکار ہی کھڑا تھا۔ ’’مسکین بچہ کیا ہوگیا ہے!پیپر یاد نہیں ہے کیا؟‘‘دل نشین کی پیشانی پر بل واضح ہوئے۔وہ پڑھائی کے معاملے میں بہت سخت تھی۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ‘‘ ’’تو پھر ماہ سے شادی کو لے کر پریشان ہو؟‘‘اب دلنشین نے مسکراہٹ چھپائی۔ ’’ہاں ناں!‘‘وہ دل کی بات سن کر ڈھیلا ہوا۔اور آہستہ روی سے قدم چلتا بیڈ کے کنارے پر ٹک گیا۔جبکہ وہ کوڈ ٹائیپ کرنے میں مصروف ہوگئی تھی۔ ’’دلنشین آپی بات سنیں پلیز میری!‘‘وہ ایسے بہت سنجیدگی سے کی بورڈ پر انگلیاں پھیرتا دیکھ منہ باسور کر بولا۔ ’’بولو بچہ!کانوں سے سن رہی ہوں۔‘‘اس کی سماعتیں اس کی منتظر تھیں۔ ’’میں ماہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ ’’تو یہ بات جا کر چاچو کو بتاؤ۔‘‘اس نے مسئلہ کا حل پیش کیا۔ ’’مگر میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔اور میری یہ بات کوئی مان ہی نہیں رہا۔‘‘اس بار مسکین بھرپور طریقے سے زچ ہوگیا تھا۔جبکہ مقابل کے چلتے ہاتھ تھم سے گئے تھے۔ ’’واٹ!!!!‘‘وہ جو بڑے انہماک سے اپنے کام میں مصروف تھی ۔اس اچانک انکشاف پر پورے وجود سے ُاچھل پڑی۔ ’’دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا؟ابھی کیا بکواس کی ہے تم نے؟‘‘دل نشین کڑے تیوروں سے جگہ چھوڑتی اس کے نزدیک آئی۔ ’’وہ وہ دل نشین!مسکین کی زبان غلط موقع پر پھسلی تھی۔ ’’شٹ اپ!کال می آپی۔۔‘‘دل نشین کا دماغ ہی تو گھوم کر رہ گیا تھا۔ ’’بتاؤ کس نے یہ فطور تمہارے دماغ میں ڈالا ہے ہاں ؟‘‘ ’’کسی نے نہیں!میں تو آپ کو نکاح کی پیشکش کر رہا تھا۔۔دادی جان کہتی ہیں جس سے محبت ہو جائے اس سے نکاح کر لینا چاہئے۔‘‘مسکین کو دادی کے سالوں سے پڑھائے گئےاسباق میں سے بس ایک یہی واحد سبق حفظ ہوا تھا۔ ’’چٹاخ!نکلو میرے کمرے سے ابھی اور اسی وقت!‘‘دل نشین کا ہاتھ آٹھا تھا اور مسکین کے چودہ طبق روشن کر گیا۔جو آدھی رات کو اپنی پہلی محبت کے ہاتھوں زبردست قسم کا تھپڑ کھا کر ہونق بنا کھڑا تھا۔ ’’دفعہ ہوجاؤ یہاں سے !اور زرا صبح ہوجانے دو تمہارا دماغ تو میں چاچو سے ٹھیک کرواتی ہوں۔اس گھر کے دونوں مردوں کو اپنے سے بڑی عمر کی لڑکیوں سے شادی کرنی ہے۔‘‘غصہٰ کے باعث پھولے تنفس سے پھنکار کر بولتی ایسے کمرے سے باہرنکال کمرے میں مارچ کرتی اپنا غصہٰ کنٹرول کرنا چاہ رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا دوسرا پہر چل رہا تھا۔مگر کراچی کی سڑکوں کی رونق عروج پر تھی۔رات کا سماں ایسا تھا کہ دن کا گماں سا ہوتا تھا۔ساری رات دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرتا وہ اب گھر واپس لوٹا تھا۔مگر ہمیشہ ہی کی طرح آندر سے لاک ہوا گیٹ اس کا منہ چڑا رہا تھا۔ بخاری ہاؤس کا رواج تھا جو برسو سے چلا آرہا تھا۔۔آندھی آئے یا طوفان گھر کا صدر دروازہ رات کے ٹھیک بارہ بجے بند ہوجاتا تھا۔جبکہ ہمارے بخاری ہاؤس کے لاڈلے سپوت راتوں کو دیر تک باہر مٹر گشتی کرنے کے عادی تھے۔ ’’افف!چل بیٹا ضامن چڑ جا اپرُ۔۔‘‘ خود ساختہ سر گوشی کرتا وہ گھر کے کونے پر دیوار سے لگے پائپ کی مدد سے زرا ُاپر کو آکر لان میں دھم کی آواز کے ساتھ کودا تھا۔مگر گھر میں رہائشی ہر ہر فرد کے ساتھ ساتھ چوکیداری پر معمور شکاری کتوں کو بھی اس بات کا علم تھا۔کہ سڑکوں کی خاک چھاننے کے بعد اس وقت ایک ہی مخلوق گھر میں داخل ہوتی تھی۔جس کا نام ضامن شہروز بخاری تھا۔ ’’سیٹی کی دھن پر بائیک کی چابی انگلی میں گھماتا وہ ایک اسٹیپ چھوڑ کر ُاپر آیا تھا مگرُ اپر کے لاؤنج میں ُگھپ آندھیرے میں کسی بھوت کا سا گماں گزرا تھا۔مگر بھوت کے زرا قریب جانے پر معلوم ہوا کہ یہ تو ظالم زمانے کے ستائے عاشق مسکین صاحب تھے۔جن کا صبح پیپر تھا۔مگر بے فکری وللہ۔۔الٹا محبت کا روگ لگ گیا تھا۔ ’’اؤئے!ایسے کیوں بیٹھا ہے؟‘‘ضامن ااس کا کندھا ہلاتا دھپ سے صوفے پر گرا تھا۔ ’’ضامن بھائی!میری محبت نے مجھے تھپڑ مارا۔‘‘مسکین ابھی تک گہرے صدمے سے دوچار تھا۔ ’’چل بیٹا آٹھ!جاکر پوگو دیکھ۔۔‘‘ضامن کو چڑ ہوئی۔مطلب آنڈے سے نکلے نہیں اور محبت بھی ہوگئی۔مگر اگر اس وقت وہ جان جاتا کہ وہ کس ہستی کا زکر چھیڑے بیٹھا ہے تو یقیناً آج بھائی بھائی میں قتل ہوجانا تھا۔ ’’ضامن بھائی!آپ ایک بے حس انسان ہیں۔آپ کہاں سمجھیں گے محبت کو۔آپ نے کبھی کسی صنف نازک سے دل لگایا ہو تو آپ کو میرے دکھ کا آندازہ بھی ہو۔۔‘‘مسکین خشک چہرہ رگڑتا تاسف زدہ آنداز میں ب لہجے میں دنیا جہاں کا کرب سمائے بولا جبکہ ضامن نے اپنی ہنسی ضبط کی۔ مسکین تو محبت کے غم سے چور وہاں سے واک آوٹ کر گیا تھا۔جبکہ صوفے کی پشت سے گردن ٹیکا کر بیٹھے ضامن کی پیاسی نظریں دل نشین کے کمرے کے
