Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Last Part
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 12/01/2026
26 Views
Last Part
کو دیکھا اس کی کیفیت بھی مختلف نہیں تھی۔ہنسی ہنسی میں وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے دور ہو جانے پر خفا تھے۔۔ "حرکتیں نہیں دیکھ رہیں ہیں آپ اس کی۔بچی کا کیا حال کیا ہے اس نے۔۔"وہ غصّہ میں دکھائی دے رہا تھا۔جبکہ معصومہ اس پر ایک خفا سی نظر ڈالتی گھر کے اندر چلی گئی۔ان دونوں کی روانگی کی وجہ سے وہ بخاری ہاؤس میں ہی ٹھری ہوئی تھی۔ "جاؤ مناو جاکر ایسے۔مذاق کرتی ہے وہ صرف تم سے۔اور تم جنگلی بن جاتے ہو۔۔"مسکین خاموشی سے اندر چلا گیا تھا۔جبکہ وہ تاسف سے نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔۔ ضامن چھوڑ دو انہیں دونوں بیوقوف ایک دوسرے سے الگ ہوجانے کے باعث ایسی حرکتیں کر رہے ہیں۔تم کیوں غصّہ ہو رہے ہو۔۔"دل نے ہاتھ پکڑ کر اس کا رخ اپنی جانب کرتے گھور کر دیکھا جو اس کے انداز پر سر جھٹک کر مسکرایا۔ "آج کا موسم کتنا اچھا ہے نا۔۔"وہ دونوں اب ساتھ لان کی ٹھنڈی ٹھنڈی گھاس پر ننگے پیر چلتے خوش اور مطمئن نظر آرہے تھے۔۔ "جانتی ہو دل نشین میری زندگی کی سب سے بڑی خؤاہش تھی۔کہ میں اور تم ہوں، ہاتھوں میں ہاتھ ہو،ایک دوسرے کا دائمی ساتھ ہو۔ اور راستہ اتنا طویل ہو اور ہم منزل کی کھوج میں ایک دوسرے کی ہمراہی میں تاحیات ساتھ ہوں۔"وہ اس کے ماتھے کو چھو کر دلکشی سے مسکرایا تھا۔دل نے ٹھر کر طمانیت سے آنکھیں میچ کر سر اس کے بازوں سے ٹکا لیا تھا۔اب بس وہ دونوں خاموش تھے۔ان کے بیچ حائل معنی خیز خاموشی تھی جولان میں چلتی تیز ٹھنڈی ہواؤں کے سنگ سرگوشیانہ باتیں کر رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خانہ کعبہ کے صحن میں اپنے محرم کی ہمراہی میں موجود ہاتھ پھیلا کر بیٹھے ضامن اور دل نشین کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔محرم کی ہمراہی میں اللہ کا گھر دیکھ لینے کی خواہش تو کسی کسی کی ہی رنگ لاتی ہے۔اور بے شک وہ دونوں خوش نصیب تھے۔دل نشین اس مبارک جگہ پر سجدہ ریز ہو کر اللہ کا جتنا شکر اداکرتی کم تھا۔اگر اللہ پاک نے اس سے ماں باپ جیسی عظیم نعمت چھین لی تھی تو اس کے بدلے کتنے ہی خوبصورت رشتوں سے نوازا تھا۔ جبکہ ضامن اپنی آئندہ زندگی کے لیے دعائیں کرتا اللہ کا شکر گزار تھا کہ اس نے بغیر کسی آزمائش کے اس کی جائز خواہش کو کس خوبصورت طریقے سے مکمل کر دیا تھا۔سعودیہ عرب کی سر زمین پر پہنچ کر کوئی ایسا لمحہ نہیں گزرا تھا جس میں انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا نہ کی ہو۔اپنی گزشتہ گناہوں سے بھری زندگی کی معافی اور آئندہ زندگی کے لیےدعائیں کرتے وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ خوش اور مکمل تھے۔۔۔۔بے شک ہر رشتہ قربانی مانگتا ہے اپنی ضد انا اور خود سری کو قربان کر انہوں نے ایک دوسرے کا دائمی ساتھ پالیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔
