Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Last Part
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 12/01/2026
26 Views
Last Part
بیٹھے مسکین اور معصومہ بے ساختہ ہی بولے تھے۔انہیں لگا تھا اب اگلی باری ان کی تھی مگر یہاں تو الٹی گنگا بہ رہی تھی۔ ’’بیٹا جی آپ دونوں کالج اور یونیورسٹی جانے کی تیاری پکڑیں جب آپ کا وقت آئیگا ۔۔جب کی تب دیکھی جائے گی۔‘‘شہروز اور فیاض صاحب تنبیہ لہجے میں بول کر کھڑے ہوتے اسسٹدی کی جانب بڑھے تھے۔انہیں کچھ اگے کے معاملات طے کرنے تھے۔ ’’دادو یہ کیا بات ہوئی؟‘‘مسکین فوراً اپنی عرضی دادی بیگم کے پاس لے کر پہنچا۔ ’’بس جو تمہارے باپ نے کہ دیا وہی بات ہوئی۔چلو شاباش جاؤ دونوں یہاں سے۔‘‘انہوں نے انہیں فوری چلتا کیا تو وہ دونوں ہی منہ باسور کر مختلف سمتوں میں چل دیے۔فی الحال ان کی راہیں جدا جدا ہی تھیں۔۔ ’’دل نشین ضامن بیٹا آپ دونوں جلد از جلد آپنی تیاری پکڑیں ۔۔بس جیسے ہی ٹکٹ کنفرم ہوگی آپ دونوں نکل جانا۔‘‘دادی جانی کے حکم پر دونوں نے ہی سر تسلیم کیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضامن دل نشین کو اپنے پیچھے اسپورٹس بائیک پر بیٹھائے فل ریس میں تھا۔جبکہ وہ اس کی جیکٹ کو سختی سے تھامے مسلسل تسبیحات کا ورد کر رہی تھی۔۔ "ضامن ۔۔۔"تیز ہوا کو چیرتی آواز نے ہیلمٹ پہن کر بیٹھے ضامن کو چونک کر متوجہ ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ "جی۔۔"وہ بھی اسی کے انداز میں چیخنے کے انداز میں بولا۔۔ "اسپیڈ سلو کرو پلیز!!مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔"اس کی پشت پر چہرہ چھپائے وہ اسے دونوں ہاتھوں سے سینے سے جکڑ کر بیٹھی تھی۔۔ "یار!!جب میں ساتھ ہوں تو ڈرنے کی کیا بات ہے۔۔"وہ لمبی سیدھی سن سان پڑی سڑک پر ریس دیتا بجلی کی تیزی سے ہواوں کو کاٹتا ہوا گزر رہا تھا۔ "ضامن پلیز!!بائیک روکو!ورنہ میں تمہاری شکآیت دادی سے کردونگی۔۔"وہ روہانسو لہجے میں دھمکی اميز لہجے میں گویا ہوئی۔ "ہاہاہاہا!!شوہر ہوں آپ کا کوئی چھوٹا سا کزن نہیں ہوں عمر دراز بیوی جو ہر وقت دھمکیاں دیتی رہتی ہیں۔"وہ بلند قہقہہ لگا کر زور سے بولا۔جبکہ اسپیڈ بالکل سلو کر چکا تھا۔۔ "ضامن تم بائیک روک رہے ہو یا نہیں؟؟روکو ورنہ میں آیندہ کبھی تمہارے ساتھ نہیں آونگی۔۔"اس بار لہجے میں غصّہ بھی شامل تھا وہ مسرور سا مسكرآتا ہوا بائیک سائیڈ پر روک چکا تھا۔۔۔ "کیا ہوا کیوں ڈر لگ رہا ہے۔۔"دل نشین کے بائیک سے اترتے ہی وہ بھی ہیلمٹ اتارتا ساتھ ہی اترا تھا۔جو سینے پر بازو لپیٹے خشمگین نگاہوں سے گھور رہی تھی۔۔ "ضامن بہت بد تمیز ہو تم۔مجھے کہا کہ بس ایک راؤنڈ لگا کر آتے ہیں۔۔اور اپنی باتوں باتوں میں اتنی دور لے آئے۔۔"ہوا کے دباؤ کے باعث آنکھوں سے انسو انے لگے تھے۔اس کے نروٹھے پن سے بولنے پر بائیک سے ٹیک لگائے کھڑا وہ دلکشی سے مسکرایا۔۔ "اچھا ناں سوری!!معاف کردیں۔۔اپنے نکمے شاگرد کو استانی صاحبہ۔۔وہ شرارتً کان پکڑتا آنکھوں میں معنی خیز سی چمک لئے مسکرا کر بولا۔۔ "بہت بد تمیز ہو تم اب تو میں تمہاری شکایت سیدھا ہیڈ کواٹر یعنی چاچا جان کو لگاؤنگی کہ شادی شادہ ہو جانے کے باوجود بچوں سے زیادہ بدتر حرکتیں ہیں آپ کے بیٹے کی۔۔"اس کے سینے پر ایک دهموکا جڑتی وہ تاسفی انداز میں بولی جس نے دھمکی کو اپنے ازآلی بے نیازی سے قبول کرتے سر کو خم کئے قبول کیا تھا۔۔ "ضامن بخاری۔۔"وہ زچ ہوئی۔۔۔۔ "مسز دل نشین ضامن بخاری۔۔"وہ بھی آنکھیں گھماتا اسی کے انداز میں بولا تو دونوں کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔اس نے پر سکون انداز میں مسکراکر اس کے گرد اپنا حصار قائم کیا۔جو تیز ہواؤں کے سنگ آنکھیں موند مطمئن سی کھڑی تھی۔۔ "ہئیے ضامن!!واٹس آپ برو!!"وہ دونوں بائیک سے ٹیک لگائے ہی کھڑے تھے جبھی کسی کی شوخ سی آواز ُابھری تھی۔ضامن شناسہ سی آواز پر چونک کر پلٹا۔۔دل بھی حیرت سے پیچھے ہوئی۔۔ "اوہ روکی!!"دل نے متعجب انداز میں ضامن کو دیکھا جو اگے بڑھتا بغل گیر ہوتا ہائی فائیو کر رہا تھا۔۔ "مسز ضامن رائٹ؟"وہ تصدیقی انداز میں بولا تو اس نے بھی سر ہلا کر مہر لگائی۔ "کونگریچولیشنز برو!!ویسے میرا ارادہ تمھیں دیکھ کر ساتھ ریس لگانے کا تھا۔مگر بھابھی ہیں تو بخش دیا۔۔"اس کے انداز پر وہ زور سے مسکرایا تھا۔ "اپنی شرط بھول گئے کیا۔ٹریک چمپئن کے ساتھ تم ایک سال تک کے لئے ریس نہیں لگا سکتے۔۔"دل انہیں باتیں کرتا دیکھ رخ پھیر گئی۔۔ "ہاہا مگر باس ابھی ہم ٹریک پر موجود نہیں ہیں۔سی یو سون بابائے۔۔۔"وہ دل کی وجہ سے تیزی سے بولتا اپنی بائیک بھگا لے گیا تھا جبکہ وہ مسکرا کر خفا خفا سی کھڑی دل نشین کی جانب پلٹا تھا۔۔ "کون تھا یہ؟"وہ تفشیشی انداز میں گو یا ہوئی۔ "دوست تھا میرا۔۔"وہ مسکرایا۔۔ "یہ وہی دوست تھا نا جن کے ساتھ تم ریس لگاتے پھرتے ہو۔خبردار ضامن اب اگر تم نے اپنا یہ فضول سا شوق پورا کیا تو۔۔"وہ انگشت شہادت اٹھا کر تیز لہجے میں بولی۔۔ "اچھا!!نہیں تو کیا کریں گی جناب!!"وہ انگلی تھام کر ناک مس کرتا آئی برو اٹھا کر بولا۔۔ "تم گھر چلو تمہاری بینڈ تو میں چچا جان سے بجوانگی۔۔"وہ خجالت سے گھبرا کر پیچھے ہوتی اپنے سابقہ ٹیون میں بولی تو بائیک اسٹارٹ کرتا ضامن قہقہہ لگا اٹھا تھا۔۔ "چلیں اب گھر ہی چلتے ہیں۔۔"وہ بڑبڑاتی ہوئی ساتھ اچھل کر پیچھے بیٹھی تھی۔جبکہ وہ مسکرا کر ایک نئے سفر کی جانب گامزن ہو گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "افف!!نكمے مسکین اگر تم شادی سے انکار نا کرتے تو شاید آج ہم بھی ضامن بھائی اور آپی کی طرح کہیں گھومنے جا رہے ہوتے۔۔"کل شام کو ان دونوں کی سعودیہ کی فلائٹ تھی عمرے کی ادائیگی کے بعد ضامن دل نشین کو ورلڈ ٹور پر لے جانے والا تھا۔۔ "چپ کرو یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔اگر تم پہلے نکاح کے آسٹیج پر انکار نا کرتیں تو آج میں بھی لندن،آمریکا،پیرس گھوم رہا ہوتا۔۔۔"مسکین نے کسی منجھے ہوئے سیاست دان کی مانند بیان بدلا تھا۔۔ "کیا؟میں نے انکار کیا تھا؟وہ برہم ہوئی۔۔ "تو اور کس نے۔"اس کا انداز الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے جیسا تھا۔۔ "تمھیں تو میں ابھی بتاتی ہوں مسكین شکل تمہاری وجہ سے میں سوشل میڈیا پر وائرل بھی ناہو سکی۔۔نا میرا ولوگ شوٹ ہوا۔اپر سے اب کالج میں آیڈ میشن بھی لینا پڑرہا ہے۔۔"اس کو تو یکا یکا سارے ہی غم یاد آگئے تھے۔ "اؤئے میری کوئی غلطی نہیں ہے۔تمہاری وجہ سے مجھے اسلام آباد کی یونیورسٹی میں ایڈمیشن دلایا جا رہا ہے۔تاکہ میں گھر سے دور رہو۔چار سال ہاسٹل کی زندہی گزارنی پڑے گی مجھے۔یو آیڈیٹ۔۔۔"مسکین پھاڑ کھاتے لہجے میں تیز لہجے میں بولا۔۔ "میری وجہ سے۔تمہاری تو میں۔۔"وہ دانت کچکچا کر اٹھتی اس کے بال مٹھیوں میں جکڑ چکی تھی۔جو چلا چلا کر سب کو اپنے غم میں اکھٹا کرنا چاہتا تھا۔مگر سب ہی مہمان نوازی نبهاکر اپنے اپنے کمروں میں بند تھے۔۔ "کیا ہو رہا ہےیہاں ؟"وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہونے کے غم میں غصّہ سے ایک دوسرے کی شکل بگاڑ چکے تھے۔جبھی وہاں سنجیدہ سے دل نشین اور ضامن کی آمد پر وہ چونک کر ٹھرے۔۔ "دل آپی۔۔"وہ روتی ہوئی دل کے سینے سے لگی۔۔ "مسکین یہ کیا بدتمیزی ہے۔کیوں رلایا نہیں تم نے معصومہ کو۔۔"ضامن سخت لہجے میں بولا۔کیونکہ اب وہ دل کے گلے سے لگی ہچکیوں سے رو رہی تھی۔جبکہ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔۔ "پہلے اس نے بکواس شروع کی تھی۔"اس کا تنفس پھول رہا تھا۔ضامن اس کے انداز کی سرد مہری پر سختی سے اگے بڑھا۔۔ "ضامن! "دل نے نظروں سے اسے باز رکھا تھا۔جبکہ مسکین نے سپاٹ نظروں سے روتی ہوئی معصومہ
