Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Last Part
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 12/01/2026
26 Views
Last Part
سمجھدار ہیں۔‘‘وہ زرا سا جھک کر اس کی سمندری آنکھوں میں جھانک کر بولا تھا۔جہاں آج کوئی بُرا تاثر آباد نہیں تھا۔ ’’تمہیں کوئی شک ہے کیا۔‘‘ضامن کی ناک پکڑتی وہ کھلکھلا کر ہنسی تھی،ضامن کو خوشگوار حیرت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ’’کیا بات ہے!آج تو میرے مرشد کے آنداز بڑے ہی بدلے بدلے سے ہیں۔‘‘آنکھوں میں معنی خیزسی شرارت لیئے وہ نگاہیں چلا کر بولا۔تو دل نے محض گھورنے پر اتفاق کیا ۔ ’’ویسے ایک بات تو بتاؤ۔یہ غصہٰ بھی تم اپنی مرضی سے ہوئے تھے اور اب مان بھی اپنی مرضی سے گئے۔۔آخر بات کیا ہے۔‘‘دل نے گلے میں بازو ڈال کر تفشیشی آنداز میں نظریں گھمائیں۔ ’’ہاہاہاہاہا!!وہ کیا ہے نا آپ ضامن بخاری کےقلب کا سکون ہیں۔اور قلب ِسکون کے لیے ضامن بخاری کی ایسی ہزار ناراضگیاں قربان۔۔‘‘اپنی ناک کو اس کی ناک سے مس کرتا ایک جذب سے بولا تھا۔دل نشین کو اس کی سنگت میں اپنا آپ خاص متعبر محسوس ہوا تھا۔ ’’ضامن مجھے تم سے کچھ کہنا تھا۔۔‘‘دل نشین کا آنداز گہری سنجیدگی میں لپٹا ہوا تھا۔ ’’کیا؟‘‘ضامن دل نشین کو اس قدر سنجیدہ دیکھ پیچھے ہوا۔مگر اس کا ماتھا ٹھنک چکا تھا۔ ’’تم شاید یہ تسلا لینے آئے تھے۔پلیز جلدی سے کلیجی لے آؤ میرا روزہ ہے اور پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔‘‘دل نشین نے شرارت سے دو قدم پیچھے لیتے مسکراہٹ دبائی ۔۔اس خوشگوار ماحول میں ایسی ناخوشگوار قیاس آرائی پر ضامن نے خفگی سے گھور کر جھپٹنے کےآنداز میں تسلا لے کر قدم باہر کی جانب بڑھائے۔۔۔جبکہ کچن سے آتی دل نشین کی کھنک دار قہقہہ کی آواز پر وہ مسکراہٹ ضبط کر کے رہ گیا۔عید قرباں پر اگر اپنی انا،ناراضگی اور دل کی کدورتیں قربان نا کیں تو پھر عید کیسی۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اف وائٹ، سلور نگ موتیوں سے مزئین کامدار بھاری شرارہ اورشورٹ شرٹ میں ملبوس میچنگ کی جیولری پہنے وہ سر پر بھاری دوپٹہ ٹکائے ضامن کے رنگ میں رنگی خوش نظر آرہی تھی۔شادی کا جوڑا ضامن پہلے ہی اس کے لیے پسندکر چکا تھا۔دل نشین کے جوڑے کی میچنگ کے ساتھ اف وائٹ رنگ کی شیروانی اور سیدھا پجاما پہنے گردن کو مغرورانہ آنداز میں آٹھا کر بیٹھا ضامن کسی ریاست کا مغرور شہزادہ سا لگ رہا تھا۔ان دونوں کی جوڑی چاند سورج کی جوڑی لگ رہی تھی۔دل نشین کی سمندری آنکھیں جب بھی ضامن بخاری کی کالی جزبات جھلکاتیں نظروں سے ٹکراتیں وہ فطری جھجھک کے باعث نگاہیں جھکا لیتی ۔۔جس کی تشنہ نگاہیں آج دل نشین پر سے ہٹنے سے انکاری ہوگئی تھیں۔برسو کی محبت پہلو آباد کیے بیٹھی دل کی دنیا میں تہلکا مچا رہی تھی۔محفل میں موجود رنگا رنگ لوگوں میں کوئی ایسا نہیں تھا جس نے اس جوڑی کو سراہایا نا ہو۔سب ہی خوش اور مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔قمروش تو اپنے جان سے عزیز پوتی پوتے کو ایک ساتھ دیکھ صدقے واری جارہی تھیں۔ الٹے ہاتھ کی جانب سجے اسٹیج پر نظر ڈالیں تو وہاں بلیک شرارہ میں ملبوس معصومہ، جیٹ بلیک شیروانی میں ملبوس مسکین وہ دونوں بھی اپنی بھرپور خوبصورتی کے ساتھ پوری محفل پر چھائے ہوئے تھے۔دونوں جوڑوں کی شادی میں اس انوکھے رنگ کے انتخابات پر سب ہی حیران تھے۔مگر وہ دونوں جوڑیاں اس منفرد رنگ میں لگ ہی اتنی خوبصورت رہیں تھیں کہ سب کے لبو سے بے ساختہ ہی ماشاءاللہ ادا ہوا تھا۔دادی بیگم تو کتنے ہی صدقے کے بکرے ان پر سے وار چکی تھیں جبکہ محفل کی جان وہ دونوں جوڑیاں سب کی توجہ کا مرکز تھیں۔ کچھ لمحوں پہلے ہی مسکین اور معصومہ کا نکاح ہوا تھا اور اب دونوں عادتً طوطا مینا کی طرح چونچے لڑارہے تھے۔آگ اور پانی کا ملاپ زرا مشکل ضرور تھا مگر نا ممکن نہیں۔ ’’ضامن بھائی تھوڑا ساِ ادھر ہوئے۔میں نے آپکے اور آپی کے ساتھ سیلفی لینی ہے۔‘‘اپنا بلیک کلر کا غرارہ اور اس کا بھاری بھرکم سا دوپٹہ سنبھالتی معصومہ ان کے ساتھ ہی براجمان ہوگئی تھی۔جبکہ صوفے پر جگہ کم ہونے کے باعث دل نشین جھجھک کر مزید ضامن کے قریب ہوئی تھی۔ ’’یار بیٹھ بھی جاؤ ۔۔کتنی موٹی ہوگئی ہو۔‘‘ضامن بیچارہ جو پہلے ہی دب گیا تھا زرا چڑ کر بولا تو اس نے جلدی سے سب کو ’’چی‘‘ کرنے کو بولا اور ایک یاد گار سیلفی اپنے موبائل کیمرہ میں قید کر لی تھی۔ ’’ویسے ایسی انوکھی دلہن صرف بخاری ہاؤس میں ہی پائی جاسکتی ہے۔جو اپنے نکاح کے فنکشن پر سیلفی اسٹک تھامے مزہ سے ولوگ شوٹ کرتی پھر رہی ہے۔‘‘اسٹیج کے اسٹیپ چڑھ کر ُاپر آتا مسکین معصومہ کو مزید تصویریں لیتا دیکھ طنزیہ بولا۔ ’’اوہ پلیز!تم نا آج چپ ہی رہو تو بہتر ہے دادی نے کہا ہے آج ہمارا نکاح ہوا ہے تو میں صرف آج کے دن تمہیں عزت سے نواز رہی ہوں البتہ کسی خوش فہمی میں مبتلہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے۔ ‘‘معصومہ صدیقی نے بڑے ہی معصومانہ آنداز میں حساب بے باک کیا تھا۔مسکین بیچارہ پہلے صرف مسکین تھا اب تو مسکین شوہر کے مرتبہ پر فائز ہو چکا تھا۔تو بس ایک گہری ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا تھا۔ ’’ماشااللہ!دادی صدقے شہروز دیکھو تو زرا میرے بچے کتنے پیارے لگ رہے ہیں۔برسو پرانی خواہش رنگ لے آئی ہے۔‘‘دادی بیگم تو انہیں دیکھ خوشی سے پھولے ہی نہیں سما پا رہی تھیں۔ ’’جی اماں جان!اللہ پاک نظر بد سے بچائے۔‘‘سب نے بے ساختہ آمین بولا تھا۔ ’’لٹل سسٹر آپ بس اکیلے اکیلے ہی ولوگ شوٹ کیے جا رہی ہیں زرا ہم معصوموں کو بھی تو اس ولوگ شلوگ کا حصہٰ بننے کا شرف بخشیں۔‘‘کاشف اور شہروز ساتھ میں اسٹیج پر چڑھتے مگن سی معصومہ سے بولے۔ ’’ضرور بھائی کیوں نہیں۔۔ایک کام کرتے ہیں ساتھ ہی ایک فیملی پکچر بھی لے لیتے ہیں۔۔چلیں سب اپنی اپنی پوزیشن سیٹ کر لیں۔‘‘معصومہ چٹکی بجاتی جھٹ سے کھڑی ہوتی ضامن اور دل نشین کے صوفوں کے پیچھے جا کر کھڑی ہوگئی تھی۔جبکہ کوئی پیروں میں بیٹھ گیا تھا تو کوئی کہیں سے جھانک کر اس تصویر کا حصہٰ بن رہا تھا۔ہنستے مسکراتے چہروں کے ساتھ بخاری ہاؤس کی یہ شادی کی آخری تصویر بھی کیمرہ میں قید ہو گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’خیر سے کل رات ولیمہ کی بھی سنت ادا ہوگئی ہے ۔اب تم دونوں کا کیا ارادہ ہے۔‘‘ضامن اور دل نشین کا ولیمہ عید سے ایک ہفتہ بعد رکھا گیا تھاتاکہ جلد بازی میں جو رشتہ دار رخصتی کی تقریب میں شامل نہیں ہوسکے تھے وہ آرام سے ولیمہ میں شرکت کر سکیں۔ ’’میرا تو کوئی پلین نہیں ہے آپ دل نشین سے پوچھیں یہ جہاں جانا چاہے گی وہی چلے جائیں گے۔‘‘ضامن نے اپنی ہمراہی میں نکھری نکھری سی بیٹھی دل نشین کو دیکھ مسکرا کر کہا۔ ’’دل نشین بیٹی بتاؤ کہاں جانا ہے تم نے۔ٹکٹ میری طرف سے ہونگے تم دونوں کی شادی کا تحفہ۔‘‘فیاض صاحب نے خاموش بیٹھی دل نشین کو دیکھ پوچھا تو وہ زرا سوچ میں پڑ گئی۔پھر زرا توقف کے بعد گویا ہوئی ’’میں اور ضامن عمرہ پر جائیں۔۔‘‘دل نشین نے سب کی جانب دیکھ رائے چاہی تو سب ہی خوش گوار یت کے احساس سے دوچار ہوگئے تھے۔ ’’ضرور جاؤ میرا بچہ یہ تو بہت اچھا فیصلہ ہے۔ایک ساتھ اللہ کا گھر دیکھ لو گے اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی۔‘‘قمروش بیگم نے تو بے ساختہ اٹھ کر دونوں کا ماتھا چوما تھا۔ضامن صاحب تو مسلسل مسکرا رہے تھے۔جبکہ دل نشین نے مسسکرا کر پلکوں کی چلمن گرا لیا تھا۔ ’’اور ہم!‘‘جب سے خاموش
