Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Last Part
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 12/01/2026
26 Views
Last Part
گئے ہیں۔‘‘حضرت ہاجرہؑ نے حیرت اور تعجّب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا’’یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شفیق اور مہربان باپ اپنے چہیتے اور اکلوتے بیٹے کو ذبح کردے؟‘‘اس موقعے پر بے ساختہ شیطان کے منہ سے نکلا’’وہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم پر کر رہے ہیں۔‘‘یہ سُن کر صبر و شُکر اور اطاعت و فرماں برداری کی پیکر، اللہ کی فرمابردار بندی نے فرمایا’’ اگر یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، تو ایک اسماعیلؑ کیا، اس کے حکم پر 100اسماعیلؑ قربان ہیں۔‘‘ روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو لیٹنے کی ہدایت دی، تو حضرت اسماعیل علیہ السّلام نے فرمایا’’ ابّا جان! مَیں پیشانی کے بَل لیٹتا ہوں تاکہ آپؑ کا چہرہ مجھے نظر نہ آئے اور آپؑ بھی اپنی آنکھوں پر پٹّی باندھ لیں تاکہ جب آپؑ مجھے ذبح کر رہے ہوں، تو شفقتِ پدری کے امرِ الٰہی پر غالب آنے کا امکان نہ رہے۔‘‘صبر و استقامت کے کوہِ گراں والد نے گوشۂ جگر کے مشورے پر عمل کیا اور جب اسماعیل علیہ السّلام لیٹ گئے، تو تکمیلِ احکامِ خداوندی میں تیز دھار چُھری کو پوری قوّت کے ساتھ لختِ جگر کی گردن پر پھیر دیا۔ باپ، بیٹے کی اس عظیم قربانی پر قدرتِ خداوندی جوش میں آئی اور اللہ جل شانہ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ السّلام جنّت کے باغات میں پلے سفید رنگ کے خُوب صورت مینڈھے کو لے کر حاضر ہوئے۔ابراہیم خلیل اللہ ؑ نے ذبح سے فار غ ہو کر آنکھوں سے پٹّی ہٹائی، تو حیرت زدہ رہ گئے۔ بیٹے کی جگہ ایک حَسین مینڈھا ذبح ہوا پڑا تھا، جب کہ اسماعیل علیہ السّلام قریب کھڑے مُسکرا رہے تھے۔ اسی اثنا میں غیب سے آواز آئی’ ’اے ابراہیمؑ! تم نے اپنا خواب سچّا کر دِکھایا۔ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔(سورۃ الصٰفٰت 105:37) حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے اس بے مثال جذبۂ ایثار، اطاعت و فرماں برداری، جرأت و استقامت، تسلیم و رضا اور صبر و شُکر پر مُہرِ تصدیق ثبت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا.. ’’اور ہم نے (اسماعیلؑ)کی عظیم قربانی پر اُن کا فدیہ دے دیا۔‘‘اللہ ربّ العزّت کو اپنے دونوں برگزیدہ اور جلیل القدر بندوں کی یہ ادا اس قدر پسند آئی کہ اسے اطاعت، عبادت اور قربتِ الہٰی کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے قیامت تک کے لیے جاری فرما دیا۔۔) ۔۔۔۔۔۔۔۔بمع ترمیم نقل شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اب سمجھیں میڈم کہ مسلمان قربانی کیوں کرتے ہیں۔‘‘دل نشین کی زبانی قصہٰ بڑے غور سے سنتی معصومہ چند لمحووں کے لیے ایک ٹرانس کی سی کیفیت میں مبتلہ ہوگئی تھی۔ ’’واقعی آپی سن کر ایمان تازہ ہوگیا۔۔ویسے کتنی عجیب بات ہے نا آپی کہ ہم مسلمان کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہم رسولﷺ کے امتی ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے ماننے والے ہیں۔کہ اللہ نے ہمارے پیغمبروں کو کن بڑی بڑی مشکلات سے گزرا تھا۔۔مگر وہ کسی بھی دہرائے پر آکر ناامید نہیں ہوئے۔اللہ پر کامل یقین رکھا اور بے شک جس کا واحد سہارا جس کی واحد امید اللہ سے وابستہ ہو وہ شخص دنیا اور آخرت میں کبھی رسوا نہیں ہوتا۔مگرآج کا انسان زرا زرا سی تکلیف ، پریشانیوں پر اللہ سے نا امید ہو کر توکل کرنا چھوڑ دیتا ہے۔اور ناامیدی جیسا کفر کر کے شرک کا مرتکب ہو جاتا ہے۔‘‘ معصومہ جذبات میں کچھ سوچ کر بولی تھی۔ ’’درحقیقت ہم انسانوں نے اپنی ایک خیالی دنیا قائم کر لی ہے اور خود کو اس خول میں سمیٹ لیا ہے۔جب ہمارے گرد کھنچا وہ خول ٹوٹتا ہے اور وہ ہمیں ایک حقیقی دنیا میں لا پٹختا ہے تو ہماری چیخیں نکل جاتی ہیں کیوں کہ وہ منظر ہمارے چشم تصور سے بہت مختلف اور منفرد ہوتا ہے اور بس پھر ہم انسان اللہ سے نا امید ہوکر ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔کیوں کہ ہم میں ابراہیم اور اسماعیل جیسا جذبہ نہیں رہا ۔ہم نا قربان کرنے کی سکت رکھتے ہیں نا ہی قربان ہونے کی اور اللہ کی خوشنودی تو اسی میں ہے کہ بندہ اپنا کمفرٹ زون قربان کر کے صرف اللہ کی جانب راغب ہوجائے مگر ایسا کرنا آج کے انسان کے بس کی بات نہیں رہی۔جب ہم میں قربانی کا جذبہ ہی ناپید ہوگیا تو ایسسا کیسے ممکن ہے کہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہوجائیں۔جو آزمائش سے دوچار ہیں وہ یاد کرلے بے شک وہ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں۔اور جیسے دنیاوی ہر شے سے نوازز دیا گیا ہے وہ یہ تکبر نا کرے کہ وہ خوش قسمت ہے ۔کیونکہ تمہارا زیادہ مال ۔ دولت،علم و دانائی یہ سب تمہاری آزمائش کا حصہٰ ہیں۔اور جن کو کم سے کم نوازہ گیا وہ نا امید نا ہوں کیوں کہ یہ بھی تمہاری آزمائش کا حصہٰ ہے۔اپنی ضروریات زندگی کی قربانی دے کر صبر و اسستقامت سے کام لینا بھی کسی عبادت سے کم نہیں۔۔ ہر انسان کا کوئی نا کوئی اسماعیلؑ ضرور ہوتا ہے اور جب تک انسان اپنے اسماعیل کی قربانی نہیں دیتا وہ ابراہیؑم جیسی فضیلت کا تمغہ پالینے کامرتکب نہیں ہوسکتا۔ (اسماعیل سے مراد آپ کی عزیزترین چیز ہے۔)...... ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں باتوں میں اس قدر محو تھیں کہ ضامن کی آمد کی خبر ہی نہیں ہوئی۔جو شاید انہیں ہی ُپکارتا ہوااس جانب آرہا تھا۔وہ دونوں ہی چونک کر متوجہ ہوئیں۔ ’’دل نشین گوشت نکلانے کے لیےکوئی تسلا وغیرہ دے دو۔‘‘کلف لگے سوٹ میں سلوٹوں کا مزید اضافہ ہوگیا تھا ،کہنیوں تک آستین فولڈ کیے وہ زرا عجلت میں دکھائی دے رہا تھا۔ ’’اوہ ہاں روکو تم!‘‘دل نشین گڑبڑا کر جلدی سے آٹھتی کچن کی جانب بڑھی۔ضامن بھی اس کے پیچھے پیچھے ہی آگیا تھا۔ ’’یہ لو!‘‘وہ جیسے ہی پلٹی تھی تو اپنے عقب میں ضامن کو بے انتہا نزدیک پشت پر کھڑا پایا۔دل نشین چونک انکھوں میں حیرت سموئے دو قدم پیچھے ہوئی۔ ’’اچھی لگ رہی ہو۔‘‘ا س کے ہاتھ سے تسلا لے کر سلیپ پر رکھتا وہ دو قددم نزدیک آیا تھا۔جو اسٹائلش سی لانگ میکسی کے ساتھ ہم رنگ ٹائٹس پہنے گلے میں دوپٹہ ڈالے ہونقوں کی طرح اس کے آندا ملاحظہ کر رہی تھی۔۔چہرے پر بکھرے بال مسلسل اس کے ساتھ اٹکھلیاں کر رہے تھے۔ ’’ویسے مسز ضامن!بہت ہی بے مروت ہیں آپ !سب سے عید مل ملی مگر۔۔ وہ جس کے دیکھے سے ہوجاتی ہے ہماری عید وہ مرشد ہم سے فاصلہ بنائے کھڑا ہے۔۔‘‘ ضامن کےلہجے کا بھاری پن ایسے نظریں جھکانے پر مجبور کر گیا تھا۔ گلابی چہرہ پر جھولتے بال سنوار کر بولتا ضامن محویت سے اس کی پلکوں کے اٹھنے اور گرنے کا خوبصورت منظر بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔۔ضامن کی جذبات چھلکاتی نگاہوں میں محبت کا جہاں آباد دیکھ وہ شرما کر نظریں جھکا گئی تھیں۔ ’’ویسے ماننا پڑے گا۔۔۔نکاح سے پہلے بھی اور اب نکاح کے بعد بھی آپ کو ہمیشہ سے میں ہی مناتا آیا ہوں۔مجال ہے جو آپ نے کبھی میری ناراضگی کو خاطر میں لاتے ہوئے ۔۔مجھے منانے کے لیے کوئی جتن کیے ہوں۔‘‘ اس کے گرد حصار قائم کرتا شکوہ کناں آنداز میں گویا ہوا۔ ’’کیوں کہ یہ کام میرے نکمے شاگرد پر زیادہ جچتا ہے۔تو جس کا کام اسی کو سانجھے۔‘‘دل نشین کے لہجے میں چھپے اس مان بھرے آنداز پر وہ روح تک سر شار ہوگیا تھا۔جو اس کے کالر کی نادیدہ دھول جھاڑتی زرا ترا کر بولی تھی۔ ’’اوہ!مطلب آپ مانتی ہیں کہ آپ جناب ابھی بھی مجھ سے زیادہ
