Bheegi Si Hawa Ho Tum/ Qurban Online Reading — Last Part
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 12/01/2026
26 Views
Last Part
Bheegi Si Hawa Ho Tum By Huma Qureshi Last Part ’’آپی مجھے نا اتنا رونا آرہا ہےمیرے پیارے بکرے مجھے چھوڑ کر جا رہے ہیں۔۔‘‘معصومہ کو اپنے پیارے جانوروں کی قربانی دیکھ دکھ ہوا تھا۔مگر درحقیقت یہی تو قربانی تھی۔جب آپ اپنی دل سے پیاری چیز اللہ کی راہ میں قربان کردو۔ ’’معصومہ گڑیا دل چھوٹا نہیں کرتے۔۔تمہیں ان سے محبت ،انسیت ہوگئی تھی۔اور در حقیقت اپنی عزیز ترین شے کی قربانی دینا ہی تو اصل قربانی ہے۔آپ نے قربانی کے جانور کی خدمت کی،اتنے دن خیال رکھا بے شک اللہ پاک آپ کو اس کا آخرت میں بہت اجر عطا کرے گا۔‘‘دل نشین ایسے دل برداشتہ ہوتا دیکھ سمجھانے والے آنداز میں بولی جو دور سے دیکھنے کے باوجود آنکھوں میں آنسو بھر لائی تھی۔ ’’ہاں!مگر مجھے انہیں اور اپنے پاس رکھنا تھا۔‘‘دکھ سے آواز رندھ گئی تھی۔ ’’جانتی ہو حضرت ابراہیؑم تو اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے لخت جگر حضرت اسماعیلؑ کو قربان کرنے چلے تھے۔مگر اللہ کی شان دیکھو کہ آپ کا یہ آنداز اللہ کو اتنا پسند آیا کہ آج ہر مسلمان سنت ابراہیمی کی پیروی کرتا ہے۔اور محض چند سکینڈوں کا کھیل تھا کہ جبرئیلُ علیہ السلم نے اپکی چھری کے نیچے اسماعیل ؑکی جگہ ایک مینڈھے کو لا رکھا تھا۔ورنہ سوچواگر ایسا نا ہوا ہوتا تو آج شاید سب اپنا اسماعیلؑ قربان کر رہے ہوتے۔۔مگر اللہ پاک تو سب سوچے بیٹھا تھا یہ کائنات بھی تو بسانی تھی ناں۔۔دل چھوٹا نا کرو۔تمہاری یہ نیکی آخرت میں تمہارے ساتھ ساتھ ہوگی۔‘‘دل نشین کے سمجھانے پر وہ آنسو خشک کرتی ہلکا سا مسکائی۔ ’’چلو تمہیں قصہٰ ابراہیم سُناتی ہوں۔کیسے حضرت ابراھیم علیہ السلام اللہ کی جانب سے دی گئی آزمائش میں پورا اتر تھے۔اور بے شک اللہ کے نیک بندے آزمائش میں ہیں۔‘‘معصومہ کا رویہ اور موقع کی مناسبت دیکھ دل نشین نے معصومہ کو قصہٰ سنانے کا ارادہ کیا۔جو بڑی توجہ سے ہم تن گوش تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔(حضرت ابراہیم علیہ السّلام کا نکاح حضرت سارہؑ سے ہوا لیکن اللّه پاک نے ایک طویل مدت تک حضرت ابراھيم علیہ السلام کو اولاد کی نعمت سے محروم رکھا۔چنانچہ ایک دن حضرت سارہ نے حضرت ابراھیم سے کہا کہ آپؑ حضرت ہاجرہؑ سے نکاح کر لیں۔شاید اللہ تعالیٰ ہاجرہ کے بطن سے اولاد عطا فرما دے۔‘‘یوں آپؑ نے حضرت ہاجرہؑ کو اپنی زوجیت میں لے لیا اور پھر شادی کے ایک سال بعد ہی اُنھوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جنم دیا۔ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی عمر مبارکہ 86سال تھی۔ جب حضرت ہاجرہؑ اُمید سے تھیں، تو فرشتے نے آپؑ کو لڑکا ہونے کی نوید سُنائی اور اسماعیل نام رکھنے کو کہا۔ حضرت ابراہیمؑ دعائوں، آرزوئوں اور تمنّائوں کے بعد پہلے فرزند کی پیدائش پر خوشیوں کا بھرپور اظہار بھی نہ کر پائے تھے کہ آپ علیہ السلام کو اللّه پاک کی جانب سے عطا کی گئی ایک اور آزمائش سے گزرنا پڑا۔ وہ حکمِ الہٰی کے عین مطابق نومولود لختِ جگر اور فرماں بردار بیوی کو مُلکِ شام سے ہزاروں میل دور ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے کہ جہاں میلوں تک پانی تھا،نا آدم زاد ۔۔ کالے پہاڑوں کے درمیان، تپتے صحرا میں اللہ کی ایک نیک بندی اپنے نومولود معصوم بیٹے کے ساتھ کئی روز سے قیام پزیر ہیں۔ کھانے پینے کا سارا سامان ختم ہو چکاہے۔ ماں، بیٹا بھوک، پیاس سے بے حال ہیں۔ ماں اپنی تو فکر نہیں، لیکن بھوکے، پیاسے بچّے کی بے چینی پر ممتا کی تڑپ فطری ہے، لیکن اس صحرا میں پانی کہاں تھا۔جوں جوں لخت جگر کی شدّتِ پیاس میں اضافہ ہو رہا تھا، ممتا کی ماری ماں کی بے قراری بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی حالتِ اضطراب میں قریب واقع پہاڑی،’’صفا‘‘پر چڑھیں کہ شاید کسی انسان یا پانی کا کوئی نشان مل جائے، لیکن بے سود۔ تڑپتے دِل کے ساتھ بھاگتے ہوئے ذرا دُور، دوسری پہاڑی’’مروہ‘‘پر چڑھیں، لیکن بے فائدہ۔اس طرح، دونوں پہاڑیوں کے درمیان پانی کی تلاش میں سات چکر مکمل کر لیے۔ اللّه پاک کو حضرت ہاجرہ علیہ السلام کا یہ عمل پسند آیا۔اور شیر خوار اسماعیل کی صحرا پر رگڑتی ایڑیوں سے ابِ زم زم کا چشمہ پھوٹ پڑا۔جو رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے شفا بھی ہے اور دوا بھی۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیرا سال گزر گئے تھے۔ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السّلام تشریف لائے اور فرمایا’’اے بیٹا!مَیں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمھیں ذبح کر رہا ہوں۔انہوں نے ایک لمحہ توقف کیے بغیر سارا ماجرا اپنے بیٹے اسماعیل کو سنایا لیکن انہیں حکم نہیں دیا بلکہ ان سے رائے پوچھی۔ قربان جائیں اس پیغمبر زادے کی ایمانی عظمتوں پر بھی جنہوں نے باپ کے خواب کو اللہ کا حکم سمجھتے ہوئے سر تسلیم خم کر کے تاریخ انسانیت میں ذبیح اللہ کا منفرد اعزاز حاصل کیا۔ باپ بیٹے سے پوچھتا ہے بیٹا! بتا تیری کیا رائے ہے؟ اطاعت گزار بیٹا جواب دیتا ہے اباجان! آپ اپنے رب کے حکم کی تعمیل کیجئے آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔(سورۃ الصٰفٰت 102:37) حضرت اسماعیل علیہ السّلام کا یہ سعادت مندانہ جواب دنیا بھر کے بیٹوں کے لیے آدابِ فرزندی کی ایک شان دار مثال ہے۔ اطاعت و فرماں برداری اور تسلیم و رضا کی اس کیفیت کو علّامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا۔ یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی… سِکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی۔ حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے بیٹے کا جواب سُنا، تو اُنہیں سینے سے لگایا اور حضرت ہاجرہؑ کے پاس لے آئے۔ فرمایا’’ "اے ہاجرہؑ!آج ہمارے نورِ نظر کو آپ اپنے ہاتھوں سے تیار کر دیجیے۔‘‘حضرت ہاجرہ نے حکم کی تكمیل کی اور حضرت اسماعیل کو تیار کر کے آپ کے ساتھ روانہ کردیا۔آپ منٰی کی جانب چل دے۔شیطان نے باپ، بیٹے کے درمیان ہونے والی گفتگو سُن لی تھی۔ جب اُس نے صبر و استقامت اور اطاعتِ خداوندی کا یہ رُوح پرور منظر دیکھا، تو مضطرب ہو گیا اور اُس نے باپ، بیٹے کو اس قربانی سے باز رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ چناں چہ’’ جمرہ عقبیٰ‘‘ کے مقام پر راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ساتھ موجود فرشتے نے کہا’’ یہ شیطان ہے، اسے کنکریاں ماریں۔‘‘حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر اُسے سات کنکریاں ماریں، جس سے وہ زمین میں دھنس گیا۔ ابھی آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ زمین نے اُسے چھوڑ دیا اور وہ’’ جمرہ وسطیٰ‘‘ کے مقام پر پھر وَرغلانے کے لیے آ موجود ہوا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے دوبارہ کنکریاں ماریں، وہ پھر زمین میں دھنسا، لیکن آپؑ کچھ ہی آگے بڑھے تھے کہ وہ’’ جمرہ اولیٰ‘‘ کے مقام پر پھر موجود تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے تیسری بار’’اللہ اکبر‘‘کہہ کر کنکریاں ماریں، تو وہ زمین میں دھنس گیا۔اللہ تبارک وتعالیٰ کو ابراہیم خلیل اللہؑ کا شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل اس قدر پسند آیا کہ اسے رہتی دنیا تک کے لیے حج کے واجبات میں شامل فرما دیا۔ تین بار کوشش کرلینے کے باوجود جب وہ ابراہیم علیہ السلام کو گمراہ کرنے سے ناکام رہا تو بھاگا بھاگا عورت کا بھیس بدل کر حضرت ہاجرہ کے پاس آیا۔اور بولا۔ "اے اسماعیلؑ کی ماں! تمہیں علم ہے کہ ابراہیمؑ تمہارے لختِ جگر کو کہاں لے گئے ہیں؟‘‘ حضرت ہاجرہؑ نے فرمایا’’ ہاں،وہ باہر گئے ہیں، شاید کسی دوست سے ملنے گئے ہوں۔‘‘ شیطان نے اپنے سَر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ’’وہ تیرے بیٹے کو ذبح کرنے وادیٔ منیٰ میں لے
