Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 03/02/2026
1 Views
Episode No 09
میں ڈاکٹر کے پاس چلیں گے۔۔ٹھیک ہے۔وہ بمشکل اسے بہلانے میں کامیاب ہوئی تھی،جو اب اسکی گود میں سر رکھے پُر سکون نیند سُو رہا تھا۔جبکہ اس کی پر سوچ نگاہیں اس مجمسے پر ٹھہر سی گئیں تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "جی جی دادا ابو یہاں سب ٹھیک ہے۔ بس آج شادی ہے اور پھر ایک دن کے وقفے سے ولیمہ، ہم جلد واپس آجائیں گے۔"وہ اس وقت اپنے روم میں موجود جہانگیر صاحب سے باتوں میں مصروف تھا۔۔ "جی دادا ابو میں بہت اچھے سے خیال رکھ رہا ہوں۔آپ کی پوتی کا!"شارق بیزاری سے بولا تھا۔ "مجھے بھائی کے ارادے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ وہ کب واپس آئیں گے۔یا ان کا ایسا کوئی ارادہ ہے بھی نہیں۔"وہ شدید کو فت کا شکار تھا۔شمعون کی ضد سمجھ سے بالاتر تھی۔جو اپنا کئیریر داؤ پر لگا کر باہر جا بیٹھا تھا۔ "اوکے اللہ حافظ!وہ ابھی رابطہ منقطع کرتا تیار ہو نے کی غرض سے واشروم جانے کا ارادہ رکھتا تھا کہ جبھی اپنا بھاری بھرکم لہنگا سنبھالتی ثانیہ روم میں چلی آئی تھی۔جو آج سچ میں بجلیاں گرا رہی تھی۔ " شارق تم ابھی تک ریڈی نہیں ہوئے،بارات انے والی ہے۔۔پلیز جلدی سے ریڈی ہوجاؤ پھر ہم دونوں ساتھ میں انٹری دیں گے۔"ثانیہ کا رنگ روپ،سولہ سنگھار ،قاتل ادائیں،نزاکت سے قدم اُٹھاتی وہ اپسرا ،شارق ایک لمحے کے لئے مبہوت رہ گئی تھی۔۔ "کیا ہوگیا کہاں گم ہو۔؟"اسکی براؤن آنکھوں میں اُترےخمُار سے اور اپنے دو آتشہ حسن سے لاپرواہ وہ اپنی جون میں تھی۔ ٗ"ہاں !میں بس جا ہی رہا تھا تیار ہونے۔۔"وہ گڑبڑا کر ہوش میں آیا تھا۔ "ویسے بہت پیاری لگ رہی ہو تم!"وہ نظریں چراتا تیزی سے بول گیا تھا،اپنے لب چباتی ثانیہ ایک لمحے کو ٹھر گئی تھی۔ "رئیلی!ویسے تعریف کرنی ہے تو ذرا اچھے سے کرو،یوں شرما کیوں ر ہے ہو۔جبکہ یہ کام میرا ہے۔"اسکا شرارتی موڈ ایکٹو ہوگیا تھا۔ "میں شاور لینے جارہا ہوں۔تم ویٹ کرو میرا دو منٹ!"وہ گھوری سے نوازتا واشروم مین بند ہوگیا تھا۔ "میں باہر جارہی ہوں۔تم ریڈی ہوجاؤ تو مجھے کال کرلینا۔"وہ اونچی سی ہانک لگاتی اپنا لہنگا سنبھال کر این یکس سی نکلتی چلی گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لندن شہر کا موسم انتہائی سرد تھا،وہ معمول کے مطابق سیدھی کافی شاپ پر پہنچی تھی۔جہاں اُسکا سامنا آج پھر اُس جھکی شخص سے ہوا تھا۔وہ قاتلانہ مسکراہٹ پاس کرتا مسلسل مسکرا رہا تھا۔ "آپ کوئی کام دھندا نہیں کرتے کیا؟ یا پھر پیدائشی لینڈ لارڈ ہیں۔اوہ ہاں آپ جیسے لوگ تو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتے ہیں۔"وہ اس بار خود ٹیبل پر آتی سینے پر بازو لپیٹے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے بولی تھی۔ "فی الحال تو میرا ایک ہی کام ہے اور وہ ہے،آپ کو شادی کے لئے راضی کرنا!آپ کی بیوٹی پر ،بُری طرح مر جو مٹا ہوں۔۔"ہانیہ نے ایک خاموش نگاہ سے نوازہ ۔جس کے چہرے پر کل شام کی ملاقات کی تلخی کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔ " مسٹر شمعون جہانگیر آپ ایک کام کیوں نہیں کرتے،وقت نکال کر مر کیوں نہیں جاتے۔"وہ دانت کچکچا کر بولی تھی،شمعون کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ "ہم تو پہلے ہی مر گئے ہیں آپ پر جانِ جاناں،،اب کیا سچ میں جان لے کر ہی مانو گی؟" اس کی آنکھوں کی شرارت واضح تھی۔ "آپ یہاں شوق سے بیٹھیں،بلکہ ساری زندگی یہیں بیٹھے رہیں۔فوت ہوجائیں،لیکن میں آپ کی فضول سی شرط ہر گز نہیں مانوگی۔"وہ کرخت لہجے میں ناگواری سے بولتی پلٹ گئی تھی،معاً ہانیہ کے لہجے کی سنگینی پر وہ خاموش رہ گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔
