Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 03/02/2026
1 Views
Episode No 09
آپ کی پاکستان واپس لوٹنے میں مدد کر سکتا ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔‘‘وہ باہم ہاتھوں کو آپس میں ملائے جانچنے کے انداز میں بولا۔ ’’کیسی شرط؟‘‘ ’’میں آپ سے شادی کرناچاہتا ہوں۔بکاز آئی لو یو۔۔‘‘اس نے بغیر کسی لگی لپٹی کے اظہار کر دیا تھا۔ہانیہ ہنوزبے تاثر نگاہوں سے بیٹھی تھی۔شمعون کو اسکی زہنی حالت پر شبہ ہوا۔ ’’ہانیہ! ار یو اوکے؟‘‘وہ پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ ’’آپ مجھے غلط نہیں سمجھیں۔میں آپ سے شادی کا خواہش مند ہوں مگر سیدھے سے آپ میری بات ہی نہیں سُن رہی تھیں۔تو مجھے مجبوری میں یہ راستہ اپنا پڑا۔‘‘اُسےکھٹکا ہوا تھا،جبھی اپنی صفائی دینے بیٹھ گیا تھا۔ ’’تو آپ نے سوچا کیوں ناں ایک مجبور لڑکی کی مجبوری سے اپنے انداز میں فائدہ اُٹھایا جائے۔‘‘وہ استہزایہ مسکرائی ۔ ’’اب آپ غلط ہیں۔میں پہلی ملاقات سے مسلسل آپ کا اپنی زات سے متعلق اس طرح کے تبصرے برداشت کر رہا ہوں۔‘‘وہ جیسے زچ ہوا تھا۔اس کا فائددہ اُٹھانے کے اور بھی بہت سے طریقے تھے۔ ’’تو نہ کریں برداشت !آپ ہی میرے راستے میں باربار آرہے ہیں۔جبکہ میں باراہ آپ کو کہ چکی کہ میرے راستے میں آپ نہ آئیں پلیز۔‘‘وہ تیز لہجے میں شدت پسندی سے بولی تھی۔ ’’ہانیہ!میں صرف آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ایک شرعی رشتہ اَسطوار کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کوئی غلط بات تو نہیں کی۔‘‘اس کا لہجا اب سخت ہوا تھا۔ہیزل آنکھوں کا رنگ یکایک تبدیل ہوا تھا۔۔ ’’مگر میں آپ کا احسان لینے میں دلچسپی نہیں رکھتی بہتر ہے۔آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔‘‘وہ درشت لہجے میں بولتی جھٹکے سے کھڑی ہوتی کافی شاپ سے باہر نکل گئی جبکہ وہ نظریں جھکائے بیٹھا کسی سوچ میں گم تھا۔ سخت سردی میں انگھیٹی کے جلتے شعلے اِس کے آندر بھی ایک آگ سی بھڑکا رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "داؤد کیا آپ کی نظر میں میری اتنی بھی اہمیت نہیں کہ میں آپ سے اپنی کوئی بات منوا سکوں؟"اس کے لہجے میں کرب واضح تھا۔سگار کا ایک گہرا کش لگاتے داؤد کی سپاٹ نظروں کا رنگ یکدم تبدیل ہوا تھا۔ "تمہاری اہمیت یہ ہے کہ تم اس وقت، داؤد پیلس میں ،داؤد ہاشمی کے کمرے میں موجود ہے۔اس سے زیادہ مزید کی توقع نہ رکھنا مجھ سے۔''سنگل سیٹر صوفے پر بیٹھا وہ گہری سوچ میں گم بولا تھا۔جو استہزائیہ مسکرائی تھی۔ ''اس کمرے کی سب سے بے وقعت چیز،جس کی اوقات کسی شو پیس سے زیادہ نہیں۔''میرم کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ کھل گئی تھی۔ ''تم اپنی زبان بند کرو گی یا نہیں؟''آواز دھیمی ضرور تھی،مگر ہر تاثر سے عاری تھی۔ ''آخر میں نے ایسا بھی کیا غلط کہہ دیا ،داؤد میں صرف ایک بار اپنے گھر والوں سے ملنا چاہتی ہوں۔''وہ ہمیشہ کی طرح گھٹنوں پر ہاتھ رکھتی اُسکے پاؤں میں آبیٹھی تھی۔ ''کیا چاہتی ہو تم؟کہ میں آج کی ساری رات تمہارے لئے ازیت ناک بنا دوں،تاکہ تم غلطی سے بھی اپنے گھر والوں کا نام نہ لو؟"اگلے ہی لمحے میرم کے بال اس کی سخت گرفت میں تھے۔اسے فوری اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا۔ "داؤد پلیز!میری محبت کو میرے لئے سزا نہ بنائیں؟"وہ سسک سسک کر روتی اسکے سامنے ہاتھ جوڑ گئی تھی۔جیسے انسان سے حیوان بننے میں صرف ایک لمحہ لگتا تھا۔ ''اوہ مائی ڈارلنگ!یہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ تم بھی میری محبت کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھاؤ۔ورنہ انجام کی زمہ دار تم خود ہوگی۔" میرم کے بال اس کی سخت گرفت میں قید تھے۔اور وہ یونہی اُٹھاتا اس کا حسین چہرہ اپنے مقابل لایا تھا۔جس کی کالی آنکھوں میں خوف تیر رہا تھا۔ ''داؤد پلیز!''اسکی سخت گرفت پر ہاتھ جماتی وہ ماتم کناں تھی۔جس نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔ ''دیکھو ڈارلنگ اس وقت میر ا موڈ بہت اچھا ہے۔۔اور میں تمہاری فضول بکواس سن کر اسے برباد نہیں کرنا چاہتا۔۔ویسے بھی اگلے کچھ روز میرے بہت مصروف گزرنے والے ہیں۔تو اب میں مزید کوئی بکواس نہیں سنوگا۔کیونکہ آج میں شراب کے نشے میں نہیں تمہاری قربت کے نشے میں ڈوبنے چاہتا ہوں۔"وہ معنی خیز لہجے میں کہتا اُسے شرم سے پانی پانی کر گیا۔ ''میں کبھی معاف نہیں کرونگی آپ کو!''وہ اسکی آواز بند کرتا ہمیشہ کی طرح بے بس کرگیا تھا۔وہ اس سونے کے پنجرے میں اس بے بس چڑیا کی مانند تھی ،جیسے پھڑپھڑانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "آقصیٰ آپ کو یہاں کوئی پر یشانی تو نہیں ہوئی؟"مسز ابراہیم اپنی جاب کی وجہ سے زیادہ تر مصروف ہی رہتی تھیں،اور آج پورے ہفتے بعد انہیں بات چیت کا موقع ملا تھا۔ "نہیں نہیں !میں اور زیان یہاں بہت آرام سےہیں۔۔بہت شکریہ آپ کا۔مگر اب میں سوچ رہی ہوں کہ اپنے لئے کوئی اپارٹمنٹ رینٹ پر لے لوں۔۔کیونکہ اب میرا ارادہ کچھ ماہ یہیں ٹھہرنے کا ہے۔زیان کی میڈیکل کنڈیشن اور کچھ ضروری کام ہیں۔جنہیں میں اب نمٹا کر ہی لوٹوں گی۔"وہ تفصیلی لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ "آپ جب تک چاہیں رہ سکتیں ہیں۔میرے ہزبینڈ اور بیٹا بزنس اور پڑھائی کے سلسلے میں زیادہ تر آوٹ آف اسٹیشن ہی ہوتے ہیں۔اور میں بھی جاب پر ہوتی ہوں۔"وہ خوش دلی سے بولیں تھیں۔آقصیٰ ان کے خلوص کی ممنوع ہوئی۔ "محبت ہے آپ کی،مگر مجھے اتنا زیادہ رہنا اچھا نہیں لگ رہا۔۔تو بس اسی لئے۔"آقصیٰ کے بے حد اثرار پر وہ ہولے سے سر ہلاتیں اب مزید باتوں میں مصروف ہوگئیں تھیں۔آج سنڈے تھا مسز ابراہیم کا ارادہ گھر کے لئے کچھ گروسری کرنے کا تھا۔جبھی وہ اپنا کوٹ اور کار کی چابیاں اُٹھاتیں گھر سے نکل آئیں تھیں۔آقصیٰ بھی گہری سانس بھرتی زیان کے روم میں جانے کے ارادے سے بڑھی تھی۔جبھی ڈور بیل کی آواز پر وہ متعجب سی روم سے باہر آئی تھی۔ دروازہ کھول کر دیکھا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی وہاں کوئی زی روح موجود نہیں تھی۔البتہ ایک چھوٹے سائز کا باکس ضرور رکھا تھا۔وہ ارد گرد میں نظر ڈالتی باکس اٹھا کر ،واپس گھر میں آگئی تھی۔ روم میں واپس آئی تو زیان ویڈیو گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔۔وہ متجسس سی جلدی سے گفٹ ریپ اُوپن کرتی ایک لمحے کو ٹھہر گئی تھی۔ گلاس بول میں قید دو پریمی مجسمے تھے۔ایک افسردہ سا رُخ پھیرے کھڑا تھا۔جبکہ دوسرا اُسے منانے کے جتن کر رہا تھا۔ ۔ آقصیٰ کی نگاہوں میں ایک تاریک سایہ سا لہرایا تھا۔سماعتوں مین کسی کی معنی خیز آواز کی گونج ہوئی تھی۔ گلاس بول کے پار نظر آتے اپنے اور شاہ زین کے عکس کو دیکھ وہ چند لمحوں کے لئے ساکت رہ گئی تھی۔نظروں کے سامنے ایک منظر چھم سے لہرایا تھا۔جب ایک رات عجیب بے چینی کی سی کیفیت سے دوچار ،وہ روٹھی ہوئی آقصیٰ کو منا رہا تھا۔مگر وہ بے رُخی سے رُخ موڑ گئی تھی۔کب چہرہ آنسوؤں سے تر ہوگیا تھا۔۔اسے کوئی خبر ہی نہ ہو سکی تھی۔۔ "مما!ماما!زیان کی جھنجھلائی ہوئی آواز پر وہ چونک کر ہوش میں آئی تھی۔ "جی جی بیٹا کیا ہوا؟"وہ جلدی سے آنسو رگڑتی بیڈ پر بیٹھے زیان کے نزدیک گئی تھی۔ ''مما زیان کو پین ہو رہا ہے۔"وہ یکدم اپنے کڈنی والی سائیڈ پر ہاتھ رکھتا روہانسو سی صورت بنا کر بولا تھا۔ ''پین ہو رہا ہے۔۔چندا آپ نے آج صبح سے نہ پانی پیا ہے اور نہ میڈیسن لی ہے۔۔میں کہہ رہی تھی کہ زیان زیادہ پانی پیا کرو۔"وہ پریشان سی جلدی سے اس کی میڈیسن کھلانے لگی تھی۔ "مما مجھ سے یہ میڈیسن نہیں کھائی جاتی۔وہ مسلسل رو رہا تھا۔ "بیٹا جی جلدی سے کھائیں پھر ہم شام
