Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 03/02/2026
1 Views
Episode No 09
#وہ_اک_گماں_سا #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_09 ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہانیہ ڈبل ڈیکر بس سے سیدھی کافی شاپ پر پہنچی تھی جبکہ شمعون آج روز کی طرح اپنی مخصوص جگہ پر نشست سنبھالے اِسی کا منتظر تھا۔ ’’ہیلو ڈارلنگ!‘‘ایپرن باندھ کر کاؤنٹر پر آتی ہانیہ نے آنکھیں میچ کر خود پر ضبط کیا تھا۔ ’’آپ کی کافی ۔۔‘‘چند ثانیوں بعد اس نے خود ہی اس کی مطلوبہ کافی کا کپ اس کے آگے بڑھا یا تھا۔جبکہ وہ زِیر لب مسکراتا امپریس دکھائی دے رہا تھا۔ ’’ہانیہ بات سُنیں!‘‘وہ گھونٹ بھر کر اشارہ کرتا ایک ٹیبل کی جانب بڑھ گیا۔جبکہ وہ عجیب سی کشمکش میں گہری سُوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ’’واٹ ہیپنڈ ہنی؟‘‘سانُولی جو ایک انڈین لڑکی تھی اُسےپریشان دیکھ قریب آئی۔شمعون کا اشارہ کرنا وہ دیکھ چکی تھی۔ ’’نتھنگ!وہ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔ ’’آر یور شیور؟‘‘اس نے استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔ ’’ہاں!میں زرا اُس کسٹمر سے آرڈر لے کر آتی ہوں۔‘‘وہ رسمی سا مسکراتی لب کاٹتی آگے بڑھ گئی جبکہ وہ کندھےُ اچکا کر رہ گئی۔ ’’بڑی دِیر لگا دی مہربان آتے آتے۔‘‘وہ طنزیہ لہجے میں گویا ہوا تھا۔ ’’کام بتائیں؟وہ سپاٹ آنداز میں بولی۔ ’’بیٹھو!اس کی پیشکش پر ماتھے پر بل نمودار ہوئیے تھے۔ ’’میں یہاں بیٹھنے ہر گز نہیں آئی ہوں۔‘‘تاثرات سرد سپاٹ تھے۔ ’’بیٹھ جائیں ہانیہ مجھے بات کرنی ہے۔‘‘وہ ایک گہری سانس بھر کر رہ گئی۔ ’’میں یہاں جاب پر ہوں ۔جو بھی کام ہے جلدی بولیں آپ میرا وقت خراب کر رہے ہیں۔‘‘وہ ناگواری سے بولی تو شمعوں نے خشمگیں نگاہوں سے گھورا تھا۔ ’’ٹھیک ہے پھر جاؤ! شام کو اسٹور کے باہر میں تمہارا نتظار کروں گا۔غائب ہونے کی ضرورت نہیں ورنہ میں تمہارے ٹائینی ہاؤس تشریف لے آؤنگا۔‘‘وہ زرا طنزیہ لہجے میں بولتا کافی شاپ سے باہر نکل گیا۔ ’’ہونہہ!حکم تو ایسے دے رہا ہے جیسے میں اِس کی غلام ہوں۔‘‘ہانیہ نے بڑ بڑا کر منہ بگاڑتے سر جھٹکا۔پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو!‘‘آقصیٰ چہل قدمی کے لیے زیان کی اِنگلی تھامے گھر کے آگے ہی ٹہل رہی تھی جب جیبوں ہاتھ پھنسائے کوئی شخص اس کے ساتھ قدم ملانے لگا تھا۔ ’’اب یہ نا کہیئے گا آپ مجھے بھول گئی ہیں۔‘‘وہ زرا نارض دکھائی دے رہا تھا۔ ’’اور اگر میں کہوں ہاں۔‘‘اب وہ تینوں چلتے چلتے ایک پارک کے آئیریا میں داخل ہوگئے تھے آج لندن کا موسم خاصہ خوشگوار تھا۔مگر جگہ جگہ ابھی بھی برف کے پہاڑ بنے ہوئے تھے۔ ’’تو پھر میں روز ایک کپ کافی کے ساتھ آپ کو یاد دلانے آجایا کروں گا۔‘‘وہ شرارت سے مسکرایا تھا۔آقصیٰ کی پیشانی پر بل نمایا ہوئے تھے۔ ’’خیر !نیکسٹ ٹائم میں آپ کے لیے ہر گز بھی دروازہ نہیں کھولوں گی۔آپ تو سر ہی ہوگئے ہیں۔‘‘وہ ایک بینچ پر بیٹھتی سارے لحاظ بالائے طاق رکھ کر گویا ہوئی۔ ’’ہاہاہاہا!!میں نے صرف سُن رکھا تھا کہ آپ خاصی کھڑوس ہیں مگر آج دیکھ بھی لیا۔‘‘عنابی لبوں پر مسکراہٹ در آئی تھی۔ ’’ویل !آپ بتائیں لندن میں کیا کرتے ہیں؟بیچلر ہیں یا آپ کی فیملی بھی ہے۔‘‘اب کے آقصیٰ اس کا انٹرویو لینے کا ارادہ رکھتی تھی۔ ’’فیملی کے ساتھ ہوتا ہوں۔ایک حسین سی بیوی بچےّ،اور ایک ناکام عاشق دوست بھی میرے ساتھ ہی ہوتا ہے۔‘‘ ایک خوبصورت سراپا چھم سے نگاہوں کے سامنے گھوم گیا تھا۔ ’’اچھا کبھی دیکھا تو نہیں آپ کی فیملی کو۔‘‘وہ اچھنبے سے بولی تھی۔ ’’ہاں !وہ آن ویزیبل ہیں ناں اس لیے۔وہ کم خوبصورت لوگوں کو نظر نہیں آتے۔‘‘اُسکے لطیف سے طنز پر آقصیٰ نے آئی برو اٹھائے گھورا۔۔ ’’اچھا سوری سوری،ایکچوئیلی میری بیوی خاصی ڈائن قسم کی ہے،ہر دوسرے دن لڑ کر میکے چلی جاتی ہے۔ساتھ مجھے دھمکی بھی دیتی ہے کہ اگر میں نے اس سے اپنا بچے لینے کی کوشش کی تو وہ مجھے اپنے کرسٹن بھائیوں سے کہ کر مجھ پر جھوٹے الزام لگا کر ،میری جائیداد کا آدھا حصہٰ ہڑپ کر مجھے پاکستان ڈی پورٹ کرادے گی۔ اور میرے بچے بھی اپنے پاس ہی رکھ لے گی۔اب آپ ہی بتائیں رپورٹر صاحبہ ایک معصوم مظلوم سا شوہر اتنی خونخوار بیوی کے ہوتے ہوئے آخر جائے تو کہاں جائے۔‘‘اُس نے ممکنا حد تک اپنا لہجا غمگین بنانے کی کوشش کی تھی۔ ’’اوہ! سو سیڈ۔مگر اگر معصوم شوہر آپ جیسا پکاؤ ہو تو وہ اس طرح کا ہی جاہرانہ رویہ ہی ڈیزرو کرتا ہے۔‘‘رپورٹر آقصیٰ کو بیوقوف بنانا کوئی آسان بات تھی۔ ’’دیکھا آپ بھی ایک ظالم عورت ہیں۔عورت کا ہی ساتھ دیں گی۔ُآپ کو مجھ سے کیوں ہمدردی ہوگی۔‘‘اس نے نادیدہ آنسو پونچھ کر دکھڑا رویا۔اُسے اس شخص کی ڈرامے بازیاں ایک آنکھ نہیں بھائی تھیں۔ ’’آپ ایک کام کیو ں نہیں کرتے پاکستانی آنداز میں دھرنا ڈال دیں۔مرنا ہوگا جینا ہوگا اگر انصاف نا ملا تو ٹاور آف لندن کے عین بیچ و بیچ دھرنا ہوگا۔‘‘آقصیٰ نے اپنے نادر مشورے سے نوازنا ضروری سمجھا تھا۔ ’’اتنے اچھے آئیڈیاز آپ خواتین کے پاس آتے کہاں سے ہیں۔‘‘وہ جیسے ناراض ہوا تھا۔ ’’ویسے ہی جیسے آپ جیسے مظلوم شوہر بیوی کو ڈائن شو کرتے ہیں۔‘‘اس نے بھی خشمگیں نگاہوں سے گھور کر حساب برار کیا۔ ’’چل بیٹا زین! تیرا اس دنیا میں کوئی نہیں۔‘‘وہ خود کو ہی دلاسہ دے بیٹھا تھا۔ ’’آپ یہاں بیٹھ کر اپنی سیڈ لائف کا ماتم کریں۔میں گھر کے لیے نکلتی ہوں۔‘‘وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولتی زیان کی انگلی تھام کر وہاں سے نکل آئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہانیہ اپنے وقت پر چھٹی کرتی ابھی اسٹور سے نکلی ہی تھی۔۔ لانگ کوٹ کے ساتھ ہاتھوں میں موٹے موٹے دستانے پہن رکھے تھے۔جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ بس اسٹیشن کی جانب قدم اُٹھا رہی تھی۔ ’’ویسے نہایت ہی بے مروت ہیں آپ ہانیہ صاحبہ ۔میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔اور تم ہو کے آؤ دیکھا ناتاؤ اور چل پڑیں میڈم۔‘‘بھاگنے کے باعث اُس کا سانس تک چڑھ گیا تھا۔ہانیہ نے ٹھہر کر ایک نظر اُس شخص دیکھا ،جس کی گھور سیاہ آنکھوں میں اِلتجا تھی،مگر وہ شدید بے رُخی سے نظر آنداز کرتی ،پھر واپس چلنے لگی تھی۔جبکہ ہانیہ کے منہ سے ٹھنڈ کے باعث بھانپ نکلنے لگی تھی۔ ''اچھا سُنو! مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی تھی۔‘‘وہ خود ہی بات شروع کر چکا تھا۔ ’’تم پاکستان جانے کا کہ رہی تھیں ناں۔اگر تم چاہوتو میں پاکستان واپس جانے میں تمہاری ہیلپ کر سکتا ہوں۔‘‘اب ہانیہ زرا چونک کر ٹھہری تھی۔ ’’دیکھا اپنے فائدہ کی بات پر کیسے مزہ سے رُک گئی ہو۔ورنہ اتنی دِیر سے دوڑائے جا رہی تھیں۔‘‘وہ آنکھیں چھوٹی کر گھور کر بولا۔ ’’ہانیہ تاسف بھرا سانس خارج کرتی روڈ پر پھر چلنا شروع ہوگئی تھی۔ ’’اچھا سُنو تو۔۔آؤ گاڑی میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔‘‘اب اس نے رسانیت سے کہا تھا۔ ’’کسی کافی شاپ پر چلتے ہیں۔‘‘جب وہ خاموش ہی قدم بڑھا تی رہی تو شمعون نے ایک بار پھر کہا۔ ’’چلیں!‘‘اب کے اس نے بات سننے کا ارادہ بنایا تھا۔ رات کافی ہوگئی تھی۔تقریب ً کیفے خالی ہی تھا مگر وہ پر بھی اُسےلیے ایک خالی سے حصہٰ میں لے آیا تھا۔ہانیہ خاموشی سے اس کی تقلید میں آرہی تھی۔ ’’دو کافی پلیز۔‘‘آرڈر دیتا اب وہ باقاعدہ طور پر اِس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔ ’’کہیے کیا کہنا ہے آپ کو،پھر مجھے گھر بھی جانا ہے۔‘‘وہ پچھلی ملاقاتوں کی مانند زیادہ ہی کھینچی کھینچی سی تھی۔ ’’آپ پاکستان واپس جانا چایتی ہیں۔اگر آپ مائیڈ نہ کریں، تو میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ یہاں اَکیلی کیا کر رہی ہیں۔‘‘اس کے سوال پر ہانیہ نے گہری سانس کھینچی تھی۔ ’’آپ کام کی بات کرسکتے ہیں۔‘‘ ’’اوکے!میں
