Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/01/2026
0 Views
Episode No 06
ہمراہ لندن آنے کا دل کر رہا ہے تو پھر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘وہ کافی پھینٹتی شرارت سے بولی۔لبوں پر ایک دلفریب مسکراہٹ نے اپنی چھاپ دکھائی۔ ’’آچھا اااا!مجھے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔موسٹ ویلکم ۔۔‘‘دوسری جانب سے سیف نے بھی شرارت بھرے آنداز میں کوئی شگوفہ چھوڑ اتو وہ بے نیازی سے کندھے اچکاتی اجازت دے چکی تھی۔ ’’چلو ٹھیک ہے ۔تم فکر نہیں کرو ،میں ان شااللہ جلد پاک لوٹوں گی۔اکیڈمی کی زمہ داری اب تمہاری ہے۔جب تک میں وہاں نہیں ہوں تم نے اور نرمین نے ہی سنبھالنا ہے سب۔‘‘اس نے مصروف سے آنداز میں تنبیہ کرنا ضروری سمجھی تھی۔ ’’ہاں بس تم یہاں مت آنا پلیز۔تم اگر یہاں اگے تو پاک میں سب کون سنبھالے گا۔زیان تو بچہ ہے۔وہ یوں بھی آج کل بہٹ ضدی ہوگیا ہے۔۔‘‘کڑک سی گرما گرما کافی کا گھونٹ بھرتے ہی دماغ تازہ دم ہوگیا تھا۔موڈ میں بحالی سی آئی ۔۔ ’’اوکے! میری دونوں شہزادیوں کو پیار کرنا۔۔۔۔ اللہ حافظ! ‘‘وہ اب رابطہ منقطع کرتی صوفے پر بیٹھ کر اپنی ای میلز چیک کرنے لگی تھی۔جبکہ زیان دبیزکالین پر بیٹھا شیشے کی میز پر رکھی کلرنگ بک میں کلر بھرنے میں مصروف تھا۔۔ ’’کیا کر رہا ہے ماما کا بیٹا؟‘‘وہ زیان کو مگن دیکھ موبائل ایک جانب رکھتی اس کی جانب متوجہ ہوئی۔ ’’ماما پلیز ڈانٹ ڈسٹرب می۔زیان ا ز کلرنگ ان دا ُبک ۔‘‘وہ چھوٹے سے ماتھے پر بل ڈال کر مگن آنداز میں بولا ۔آقصیٰ کے چہرے پر ایک شرارتی سی مسکراہٹ بکھر گئی ۔یہ چھوٹا سا بھالو تو اس کے جینے کی وجہ تھا۔ ’’اوہ!میرا کام والا شیر بیٹا۔۔‘‘آقصیٰ نے شدت سے جھک کر اس کے گال چوم لیے تھے۔جانتی تھی وہ اس کے جارحانہ پیار سے کس قدر خائف ہوتا تھا۔جبھی ایک بار پھر غلط وقت پر ڈور بیل بجی تھی۔آقصیٰ کو کوفت سی ہوئی ۔ کیا وہ پرچی والا اب اس کے تعاقب میں یہاں بھی آن پہنچا تھا۔جس کی ہر پرچی ایک عجیب سے لفظ پر مشتمل ہوتی تھی۔ پہلی سوچ کے تحت وہ بیٹھی رہی کے دفعہ کرو رسپانس نا ملنے پر خود ہی غائب ہوجائے گا،مگر ہائے رے تجسس۔زیان کو مصروف دیکھ کے بیزار سی دروازے تک آئی ۔دروازہ کھولا تو توقع کے عین مطابق وہی باکس اس کا منتظرتھا۔آقصیٰ نے آج زرا باہر نکل کر ارد گرد نگاہ ڈالی مگر دور دور تک کوئی نہیں تھا۔کندھے اچکا کر باکس لیا اور دروازہ بند کر کے قدم اندر کی جانب بڑھانا چاہے۔جبھی کیسی نےایک بار پھر ڈور بیل بجا کراس کی یہ کوشش ناکام کردی۔وہ حیرت سے پلٹی تھی۔شاید باکس ولا بندہ ہو۔جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ ’’آپ اور یہاںِخیریت ہے؟‘‘آقصیٰ سامنے موجود شخص کو دیکھ لمحوں کے لیےجھٹکوں کی زد مین آگئی ۔کیا باکس ولا شخص یہی تھا؟زہن میں کوندنے والا پہلا خیال یہی تھا۔ دروازہ مین استاذہ شخص اس کی حالت سے خوب حظ آٹھا رہا تھا۔ ’’جی! اکچوئیلی مجھ لگا اس روز میری باتوں کی وجہ سے آپ کافی ہرٹ ہوگئی تھیں،اسی لیے ڈھونڈتا ہوا یہاں چلا آیا۔۔‘‘مقابل نے آنکھوں میں شوخی سموئے اس کا حیران تاثر دیکھ جلدی سے وضاحت پیش کی۔ ’’اوہ!اچھا۔۔۔‘‘وہ یونہی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر منتظر کھڑا تھاکہ اب وہ شاید ایسے آندر آنے کی دعوت دے۔مگر آْقصیٰ اپنی سوچوں میں گہری سمجھنے سے قاصر تھی۔کہ یہ سب چل کیا رہا تھا۔آخر کون تھا جو اس کے تعاقب میں تھا۔ ’’ آپ کے یہاں کیامہمان کو دروازہ سے ہی رخصت کرنے کا رواج ہے؟‘‘وہ معنی خیز سا طنز کرتا ایسے بوکھلانے پر مجبور کرگیا۔آقصیٰ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔اب مرتے کیا نا کرتے کے مصدق چار و نچار راستہ دینا پڑا۔اب گھر آئے مہمان کو بھاگیا تو جا نہیں سکتا تھا۔ ’’نہیں نہیں!آپ آئیے ناں پلیز۔۔‘‘وہ زرا سٹپٹا سی گئی تھی۔حواس باختگی مین جلدی سے راستہ چھوڑا تو وہ مسکرا کر آندر داخل ہوا ۔ ’’ویسےآپ کا گھر تو کافی مختلف اور خوبصورت بھی ہے۔‘‘آقصیٰ اس کی ہمراہی میں دو قدم کی دوری پر ہی تھی۔جبھی جیبوں میں ہاتھ پھنسا ئے ارد گرد کا جائزہ لیتی نظروں میں ستائش لیئے اس نے تجزیہ ایسا کیا تھا گویا لندن کے گھر ہی پہلی بار دیکھیں ہوں۔ ’’تھینکیو!ویسے یہ میرا زاتی گھر نہیں ہے۔میں یہاں مہمان ہوں۔آپ بیٹھیں پلیز!آقصیٰ نے آنکھیں گھما کر حق میزبانی نبھائی۔ ’’جی جی وہ تو پتہ ہے مجھے۔‘‘وہ مسکرا کر کہتا زیان کی جانب بڑھا۔پیچھے اس نے کینا طور نظروں سے گھورا ۔ ’’اوہ چیمپ! کیسے ہو چیتے۔۔‘‘مسٹر اسٹرینجر نے میز پر کلرنگ بک میں رنگ بھرتے زیان کو اگے بڑھ کر گود میں آٹھا لیا تھا۔محبت سے وہ بے ساختہ ہی اس کے گال چوم چکا تھا۔زیان نے غصہٰ سے ایسے گھورا ۔ ’’اس کا نام زیان شاہ زین ہے۔پلیز آئیندہ میرے بیٹے کو کسی بھی فضول القابات سے پکارنے سے گریز کیجئے گا۔‘‘آقصیٰ کا آنداز سرد تھا۔ ’’جی !‘‘وہ زیان کو پیار کرتا ناسمجھی سے پلٹا ۔جب کے وہ ناگواری سے ایسے دیکھ رہی تھی۔ ’’میں نے کہا اس کا نام زیان شاہ زین ہے۔اور آئندہ ایسے اس کے نام سے ہی پکارئیے گا۔‘‘جانے کیوں اس کا چیتا کہنا ایسے اچھا نہیں لگا تھا۔یا پھر زین کی یاد ایک بار پھر تازہ ہوگئی تھی۔ ’’اوہ سوری!‘‘وہ جیسے اس کا مطلب سمجھ کر شرمندہ ہوا ۔ ’’خیر آپ بیٹھیں!میں آپ کے لیے کافی لاتی ہوں۔ورنہ پھر آپ نے کہنا ہے کہ آپ کے یہاں مہمان کو کھلانے پیلانے کا رواج نہیں ہے کیا؟‘‘اس کے طنزیہ سپاٹ لہجے پر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔کتنی منہ پھٹ تھی یہ رپورٹر۔۔۔ ’’جی ضرور میں کافی کا کہنا ہی والا تھا۔ویسے بھی سردی کے موسم میں کافی پینےکا اپنا ہی مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔‘‘آْقصیٰ نے جاتے جاتے طنزیہ آئی برو آٹھائے،پھر گھری سانس بھرتی وہاں سے نکل آئی۔سر جھٹک کر وہ زیان کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہوگیا جو چڑ چڑا ساہورہا تھا۔مطلب اس بندے کی آمد دنوں ماں بیٹا کو ناگوار ہی گزری تھی۔ ’’آپ کی کافی!‘‘چند لمحوں میں ہی وہ ہاتھ میں د وکافی کے مگ تھامے بوتل کے جن کی مانند حاضر ہوئی تھی ۔وہ بھلا اس کے چھوٹے پیکٹ کو کڈنیپ کرنے آیا تھا کیا۔۔۔ہنہ ’’ویسے آپ واقعی میں میڈیا سے ہیں؟‘‘کافی کا گھونٹ بھرتے اس نے استفہامیہ نگاہوں سے دیکھ سوال کیا ۔زیان اپنی جان خلاصی ہونے پر واپس آپنے سابقہ مشغلے مین مصروف ہوگیا ۔ ’’آپ کو نہیں معلوم۔‘‘اس کے اطمینان میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا تھا۔ ’’نہیں مطلب وہ تو معلوم ہے۔مگر سچ بتاؤں تو میں نے آج تک میڈیا کا ایسا کوئی نمائندہ ہر گز نہیں دیکھا جو بغیر نام پوچھے ہی ایک اجنبی کے ساتھ لندن کی سیر کو جائے،مہمان سے گپ بھی لگائے۔کافی بھی پلائے ،سونے پر سہاگا آپ نے گھر کے ڈرائنگ روم میں بھی بیٹھائے۔۔‘‘اس کے لمبے چوڑے تبصرہ پر آقصیٰ کے منہ سے کافی نکلتے نکلتے رہ گئی تھی۔ ’’ارے ارے آرام سے،میں نے تو سن رکھا تھا آپ سوالوں کی بوچھاڑ سے لوگوں کو حواس باختہ کر دیتی ہیں یہاں تو آپ کے اپنے اوسان خطا ہوئےجارہے ہیں۔‘‘وہ مسکرا کر خاصہ گہرا طنز کر گیا تھا۔آْقصیٰ نے غصہٰ سے دانت کچکچائے بس نہیں چلا ہاتھ پکڑ کر اس شخص کو یہاں سے چلتا کرتی۔جو بیٹھا بھی اسی کے گھر میں تھا ۔کافی بھی اس کی پی رہا تھا۔اور طنز بھی اسی پر کر رہا تھا۔مطلب اب کیا یہی وقت دیکھنا رہ گیا تھا۔ ’’آپ کا نام کیا ہے؟‘‘وہ اپنے تاثرات پر قابوں کر
