Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/01/2026
0 Views
Episode No 06
Woh_Ik_Guman_Sa Huma Qureshi Episode No 06 ’’ایک بات پوچھوں؟‘‘وہ زیان کو گود میں آٹھائے ساتھ ہی چل رہا تھا۔ ’’جی پوچھیں!‘‘دستانے میں چھپے ہاتھوں میں ایک انجانے سے احساس سے نمی سی آگئی تھی۔ناجانے کیوں ٹائیگر کی یاد شدت سے آئی تھی۔ ’’آپ یہاں اکیلی ہوتی ہیں؟میں نے کبھی آپ کے شوہر کو نہیں دیکھا۔‘‘آقصیٰ کے بڑھتے قدموں میں بریک سی لگی تھی۔وہ چند لمحےاپنی جگہ سے ہل ہی نہیں سکی ۔ ’’کیا ہوا ؟آپ رُک کیوں گئیں ہیں۔‘‘وہ چونک کر ٹھر گیا ۔اس کے کندھے پر سر رکھے زیان اپنی ماں کو ٹھرتا دیکھ سر آٹھا کر دیکھنے لگا ۔ ’’ماما!زیان کی آواز پر ہوش میں آتی وہ اپنے تاثرات پر ضبط کرتی اس کے قریب آئی ۔جبکہ وہ ناسمجھی سے کبھی آقصیٰ کو دیکھتا تو کبھی زیان کو جو فل رونے کی تیاری پکڑ چکا تھا۔ ’’ آپ جانتے ہیں ۔میں آقصی جمشید ہوں۔مشہور زمانہ گینگسٹر کی بیوی جیسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔اس کے باوجود یہ سوال؟‘‘آقصیٰ کے لہجے میں طنز تھا۔ ’’جانتا ہوں مگر زیان۔۔‘‘اس کی حیرانگی بجا تھی۔آقصیٰ نے ایک نظر نیند کے باعث جھومتے زیان کو دیکھا اور پھر ایک گہرا سانس بھر کر رہ گئی۔ ’’یہ میرا بیٹا ہے۔‘‘آقصیٰ کا لہجا سپاٹ ہوا تھا۔ ’’مگر۔۔‘‘وہ الجھ گیا ۔آخر وہ کہنا کیا چاہتی تھی۔ ’’میں نے کہا یہ میرا بیٹا ہے۔‘‘اس کی نگاہوں کا مفہوم وہ بخوبی سمجھ رہی تھی۔لفظ چبا چبا کر جتا نے والے انداز میں ادا کیے ۔مقابل کو آْقصیٰ کی تیز نظریں بخوبی محسوس ہورہی تھیں۔ ’’لائیں زیان کو مجھے دیں۔بہت دیر ہورہی ہے۔اب ہمیں گھر واپس جانا چاہئیے۔‘‘سپاٹ آنداز میں زیان کو چھینے کے آنداز میں جھپٹتی وہ اچانک سے اجنبی سی محسوس ہوئی تھی۔آقصیٰ کی انگلی تھامے زیان چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا آقصیٰ کی سنگت میں اس سے مسافت پر دور ہوتے چلے جارہے تھے۔آنکھوں میں خالی پن لیے وہ تنہاخاموش رہ گیا ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آہ۔۔‘‘رات کی تاریک اور وحشت بھری فضا میں اس محل نما گھر کے ایک کمرے سے چیخ سنائی دی تھی۔اور پھر ان چیخوں کا دورانیہ وقفے وقفے سے جاری رہا تھا،کوئی تھا جو بہت ازیت میں تکلیف میں تھا۔چیخیں سسکیوں میں اور سسکیاں آہوں میں تبدیل ہوچکی تھی۔مگر قسمت اور وقت کو شاید ابھی رحم نہیں آیا تھا۔وہ رو رہی تھی ۔چلا رہی تھی،کبھی خود کو مار رہی تھی ازیت کی انتہاؤں کو چھوتی وہ بس خود کو ختم کر دینا چاہتی تھی،کہ جبھی فجر کی اذان کے بعد آندھیرہ چھٹ سا گیا تھا۔تاریکی پر روشنی اپنا ڈیرہ جمانے لگی تھی۔وحشت بھری رات نے چپکے سے رخصت لی تھی۔ایک دم منظر بدل سا گیا تھا۔جہاں سے چیخیں سنائی دے رہی تھیں اب وہیں سے کسی کی منتوں بھری نرم صدائیں سماعتوں میں رس گھول رہی تھیں ۔جیسے کوئی روٹھے محبوب کو ماننے کے جتن سے کر رہا ہو۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لندن شہر پر ایک مزید روشن مگر ابر الود سی صبح طلوع ہوچکی تھی۔وہ ڈبل ڈیک سے صبح سویرے ہی کیفے پہنچ گئی تھی۔جینی نے اپنے بیٹی کی باعث ٹائمنگ چینج کرلیں تھیں۔اب وہ اکیلے ہی سفر کرتی تھی۔ہانیہ کی پہلی نظر وہیں گئی تھی۔سامنےمخصوص ٹیبل خالی دیکھ سُکھ بھرا سانس فضا کے سپرد کرتی وہ ہلکی پھلکی ہوگئی تھی۔مطلب کل کی عزت افزائی کارگر ثابت ہوئی تھی۔۔شکر تھا وہ جھکی شخص آج کیفے نہیں آیا تھا۔وہ اپنا مخصوص ویٹریس اپرن پہنتی کافی مشین کےعین سامنے کھڑی مصروف سے آنداز میں کسٹمر زکےآڑدر تیار کرنے میں مصروف تھی۔کتنے دنوں بعد اس نے خود کو کسی کی نظروں کے حصار سے آزاد محسوس کیا تھا جو واقعی خوش کن تھا۔ ’’ہیلو !‘‘وہ کافی میں ملک(دودھ) آیڈ کرتی ابھی پلٹی ہی تھی جب کاؤنٹر کے دوسری پار کھڑے شخص اور آواز سن کر خوف سے اُوچھلی جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔ ’’سوئیٹی مجھے دیکھ کر اتنی حواس باختہ کیوں ہو جاتی ہو۔اتننا ہینڈسم تو ہوں میں۔‘‘چہرے پر دلکش مسکراہٹ لیے وہ شرارت سے مسکرایا ۔کل والےحادثہ کے کوئی اثرات ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے تھے۔مطلب یہ شخص نہایت ہی ڈھیٹ تھا۔ ’’آپ۔۔۔۔!‘‘کتنی ہی دیر تو وہ ہونق بنی اسے گھورتی رہی پھر یکایک غصہٰ عود آجانے کے باعث کوئی سخت الفاظ سنانے ہی لگی تھی کہ اچانک ارد گرد کا ماحول دیکھ خیال آیا کہ وہ اپنی جاب پر ہے۔ ’’سر آرڈر پلیز!‘‘خود پر ضبط کرتی وہ پروفیشنل آنداز میں گویا ہوئی۔مقابل کے چہرے پر مسلسل شرارتی سی مسکراہت رقصاں تھی۔ ’’ون کپیچینو پلیز!‘‘ہانیہ کا فق چہرہ ایسے مزہ دے رہا تھا۔ ’’وہ آج بیٹھا نہیں تھا بلکہ اس کے سر پر ہی سوار کھڑا تھا۔ہانیہ نے گھبرائے سے آنداز میں اس کا آرڈر مکمل کر جلدی سے ایسے تھمایا۔جو ابھی بھی وہیں جم کر کھڑا ہوا تھا۔ ’’آج شام جاب کے بعد۔۔اس نےدانستاں لفظ ادھورے چھوڑے ہانیہ نے ناسمجھی سے ایسےدیکھا۔۔ ’’تم میرے ساتھ ڈیٹ پر چل رہی ہو۔۔‘‘ہانیہ کی رنگت سپید پڑ گئی ۔اسے ایکدم گھبراہٹ سی ہونے لگی ۔ ’’سر!آپ میرا وقت برباد کر رہے ہیں۔‘‘اس نے سپاٹ سے آنداز میں احساس دلایا تو وہ مصنوعی چونک کر شرمندہ سا تاثر دے کر کاؤنٹر سے پیچھے ہٹا۔ ’’ہنی میں شام کو انتظار کرونگا تمہارا۔۔‘‘وہ ایک آنکھ بلنک کرتا کافی لبو ں سے لگاتا کیفے سے باہر نکل گیا تھا،پیچھے کھڑی ہانیہ اپنی بے بسی پر خود کو کوستی ہی رہ گئی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پرسنل سیل روم کے سنگل بیڈ پر نیم دراز وہ شخص بڑی توجیہی سے کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھا ۔جب وہاں کا کوئی پُرانا قیدی اجازت لیتا اس کے سیل میں داخل ہوا ۔ ’’کیا کر رہے ہو۔‘‘وہ شائستہ سی انگریزی میں مخاطب ہوتا ساتھ ہی بیٹھ گیا۔وہ ناروے نیشن تھا۔جو ڈرگز اسمگلنگ کیس میں جیل میں آیا تھا۔ ’’کچھ نہیں !تم بتاؤ کھانا بنا لیا۔‘‘وہ کتاب سائیڈ پر رکھ کر آٹھ کر بیٹھ گیا ۔مقابل زرا رنجیدہ دکھائی دے رہا تھا۔ناروے کی جیل میں قیدیوں کو ہر طرح کی آزادی مہیا کی جاتی ہے۔ ’’بنا بھی لیا۔اور کھا بھی لیا۔۔بس یہی زندگی ہے اب تو۔‘‘وہ اداسی سے بولا۔وہ پچھلے آٹھارہ سالوں سے قید میں سزا کاٹ رہاتھا۔تین سال عمر قید کے ابھی باقی تھے۔ناروے میں سزائے موت ختم کیے زمانے بیت چلے تھے۔ ’’اداس کیوں ہو۔‘‘وہ مدعے پر آیا۔ ’’آج مجھے اپنی بیوی کی بہت شدت سے یاد آرہی ہے۔ہماری نئی نئی شادی ہوئی تھی۔جب میں جیل آیا تھا۔اب جانے وہ کیسی دکھتی ہوگی۔‘‘وہ پشیمانی سے بولا ۔ ’’فکر نہیں کرو وہ ٹھیک ہی ہوگی۔تم پریشان نا ہو۔زندگی ہے۔چلتی رہتی ہے۔‘‘وہ دلاسہ دے کر عصر کی نماز پڑھنے کی غرض سے وضو کرنے کے واسطے آٹھ کر سیل کے واشروم کی جانب بڑھ گیا۔پیچھے وہ ناروے کا جانا مانا اسمگلر خاموش رہ گیا تھا۔زندگی وقت اور حالات کے ساتھ سب بدل کر رکھ دیتی ہے۔حتیٰ کے انسان کو بھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’سیف فکر نہیں کرو زیان بالکل ٹھیک ہے ۔اور میں بھی۔‘‘آْقصیٰ موبائل کان سے لگائے پاکستان بات کرنے میں مصروف تھی۔وہ کل ہی سیف کے دوست کے ہاؤس میں شفٹ ہوئی تھی۔جنہوں نے خوش دلی سے اس کا استقبال کیا تھا۔گھر کے مکینوں میں دونوں میاں بیوی اور ان کا بیٹا ہی تھا۔جو کل کی فلائٹ سے اپنے بابا کے ساتھ جاپان جا رہا تھا۔ ’’ارے نہیں نہیں!! تم فضول میں پریشان ہو رہے ہو میں زیان اور خود کو آچھے سے سنبھال سکتی ہوں۔۔لندن آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘وہ ایک ہاتھ سے سر دباتی کچن میں آئی تھی۔گھر کے سب ہی مکین اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔ ’’ویسے اگر تمہارا خود کا نرمین کے
