Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Political Crime Fiction
Published: 02/06/2025
22 Views
Episode No 02
اس سے پہلے ہی مناہل ڈپلیکیٹ کی سے دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی تھی۔گرم کوٹ اتار کر ہاتھ پر ڈالے وہ مسکرا کر اس کی جانب قدم اٹھارہی تھی۔جبکہ ہاتھوں میں موٹے گلفس ہونے کے باوجود ہاتھوں کو مسل پر گرمائش پیدا کرنے کی ناکام سی کوشش کی گئی تھی۔ ’’خیریت یار!آج آفس سے جلدی آگئیں۔‘‘آقصیٰ نے مناہل کو وقت سے پہلے دیکھ اچنبھےسے پوچھا۔ ’’ہاں یار بس! آج کا دن بہت زیادہ تھکا دینے والا تھا۔میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی،تو بس جلدی نکل آئی۔‘‘وہ تھکن سے چور بدن سے بولتی صوفے پر ہی بیٹھ گئی تھی۔ ’’تھینک یو!‘‘آقصیٰ نے گلاس میں پانی ڈال کر اس کی جانب بڑھایا۔اُس نے مسکرا کر تھامتے تشکر بھری نگاہوں کا تبدلہ کیا۔آقصیٰ مسکرا کر قریب ہی صوفے پر ساتھ ہی نشست سنبھال گئی۔ ’’تم بتاؤ!زیان کی طبیعت کیسی ہے۔‘‘خالی گلاس کانچ کی ٹیبل پر رکھ کر سوالیہ انداز میں پوچھا۔جو اس کے مقابل ڈبل سیٹر صوفے پر بیٹھ چکی تھی۔ ’’اللہ کا شکر ہے۔اب تو ٹھیک ہے۔۔‘‘ ’’چلو!آچھی بات ہے۔دھیان رکھا کرو۔۔‘‘وہ سر ہلا گئی۔ خیر تم بتاؤ!پاکستان کب واپسی ہے۔‘‘آقصیٰ نے ایک گہری ٹھنڈی سانس فضا کے سپرد کی۔ ’’ویسے تو تین دن بعد ہی تھی۔مگر اب پروگرام تبدیل ہو گیا ہے۔۔زیان کا جب تک علاج چل رہا ہے۔میں یہیں ہوں۔میں نے ایک گھر رینٹ پرلینے کی بات کی ہے۔دیکھو کیا بنتا ہے۔‘‘آقصیٰ صاف لفظوں میں باور کرواگئی تھی۔ ’’یار!اجنبیوں والی باتیں کیوں کر رہی ہو تمہارا اپنا گھر ہے۔جب تک چاہے رہو۔اور لندن میں گھر رینٹ پر لینا تمہاری رینج میں نہیں آئیگا۔‘‘اس نے گڑبڑا کر کہتے احساس بھی کروایا تھا۔ ’’ہاں!بٹ مجھے شاید کچھ ماہ مزید رُکنا پڑے۔اور اب مین مہمان نہیں مستقل رہائش کرنے والی ہوں،تو رحمت زحمت نہیں بننا چاہئے۔‘‘آقصیٰ نے مسکرا کر بات کو مزہ کا رنگ دیا۔تو وہ بھی کندھے اچکاتی مسکرائی۔ "اور گھر کی فکر نا کرو میں نے سیف سے بات کی ہے ۔وہ جلد کوئی حل بھی نکال لیں گے۔کوئی ون بیڈ روم آپارٹمنٹ بھی مل گیا تو بھی بہت ہے۔"اس نے مسکرا کر تسلی کروائی تھی۔جبکہ سیف اس کی رہائش کا پہلے ہی بندوبست کر چکا تھا مگر وہ خود ہی اکیلے رہنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھی۔۔ ’’خیر!تمہاری مرضی۔ویسے میں اور ذیشان کچھ دنوں کے لیے پاکستان جا رہے ہیں۔ہماری غیر موجودگی میں تم جب تک رہنا چاہوں رہ سکتی ہو۔‘‘مناہل نے مروتً مہمان نوازی نبھائی۔ ’’نہیں یار!!میں پہلے ہی یہاں کافی دن قیام کر چکی ہوں۔تم دوست ہو میری جانتی ہوں تم نے پاک جانا ہے مگر ۔۔اب میری یہاں مزید موجودگی تمہاری پرائیوسی ڈسٹرب کرئے گی۔‘‘آقصیٰ نے مسکرا کر کہا۔تو وہ بھی سمجھ کر سر ہلا گئی۔ایسے آقصیٰ کی موجودگی سے کوئی مسلہ نہیں تھا۔مگر ایسے ہر پل اپنے شوہر کی جانب سے خدشہ لاحق رہتا تھا۔جو زرا عاشق مزاج تھا۔وہ تو صد شکر تھا کہ جب سے آقصیٰ یہاں آئی تھی۔ذیشان شہر سے باہر تھا۔ چلو!تم بیٹھو میں زرا فریش ہوجاؤ۔‘‘وہ مسکرا کر کہتی وہاں سے چل دی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’السلام علیکم!بابا صاحب۔‘‘رضوان صاحب نے اسٹڈی میں کتاب کے مطلع میں مشغول جہانگیر صاحب کو دیکھ سلام پیش کیا۔ ’’وعلیکم السلام!خیریت آج کیسے یاد آگئی اس بُڑھے کی۔‘‘وہ نظر کی عینک ایک جانب رکھ کر سیدھے ہوکر بیٹھے تھے۔ ’’کیسی باتیں کر رہے ہیں بابا صاحب ۔۔‘‘وہ جزبز ہوکر رہ گئے تھے۔ ’’ہاں کیونکہ میرے پوتی پوتوں کے علاوہ تو میری اولاد کم ہی اس طرف کا رخ کرتی ہے۔‘‘وہ ناچاہتے ہوئے بھی طنز کر گئے تھے۔سُپاری سوٹ میں ملبوس وہ اس عمر میں خاصے چاکو چوبند تھے۔ ’’اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔آپ کو تو ہم بھائیوں سے بلاوجہ کا اختلاف رہتا ہے۔‘‘وہ برا مان گئے تھے۔ ’’مدعے پر آؤ میاں۔۔۔کہنا کیا چاہتے ہو۔‘‘وہ کرخت آنداز میں سوالیہ لہجے میں گویا ہوئے۔ ’’میں ثانیہ اور شمعون کے رشتے کے حوالے سے بات کر نا چاہ رہا تھا۔‘‘وہ بھی سنجیدگی سے گویا ہوئے۔ ’’کیا بات کرنی ہے؟مجھے جہاں تک یاد ہے۔میں صبح ساری باتیں ختم کر چکا ہوں۔‘‘وہ آئی برو آٹھا کر بولتے آٹھ کر بک شیلف کی جانب بڑھے تھے۔جہاں ریک پورشن میں ایک لائن سے کتابیں چنی ہوئی تھیں۔ ’’مگر بابا جان!میں اب ثانیہ کی شادی شمعون سے کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔‘‘وہ بہت سوچ بچار کر اس نتیجے پر پہنچے تھے۔کہ جہانگیر صاحب کا فیصلہ فی الحال درست نہیں۔ ’’میاں تمہارے چاہنے یا نا چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ہوگا تووہی جو میں چاہتا ہوں۔‘‘وہ گرد میں آٹی ایک تاریخی کتاب آٹھا کر مٹی صاف کر کے اٹل لہجے میں گویا ہوئے۔ ’’بابا جان دیکھ لیں آپ پلیز۔۔ثانیہ کی ماں بہت پریشان ہے۔‘‘وہ بلآخر اب اصل بات بول ہی گئے۔آج صبح سے وہ کشمکش کا شکار تھے۔ ’’میں اپنی پوتی ثانیہ سے تم دونوں ماں باپ سے زیادہ پیار کرتا ہوں۔تو بہتر ہے تم دونوں میاں بیوی اس کے مستقبل کی جانب سے بے فکر ہوکر فضول پریشانیاں پالنا چھوڑ دو۔پہلے ہی چار دن کی زندگی میں دس بیمارياں جان سے لگا بیٹھے ہو۔مزید پریشنانياں پالو گے تو وقت سے پہلے بڑھآپا آجائے گا اور باپ کے بھی باپ لگنے لگو گے۔‘‘وہ ناک پر رکھی عینک درست کرتے طنز کرنا ہر گز نہیں بھولے تھے۔ایک نظر خاموش کھڑے رضوان صاحب پر ڈال وہ اپنی مخصوص چیئر واپس سنبھال گئے تھے۔جبکہ وہ کچھ دیر خاموشی سے انہیں دیکھتے رہے۔جو اپنے سابقہ مشغلے میں مصروف ہوگئے تھے۔مطلب صاف تھا کہ وہ اب کوئی بات نہیں کرنا چاہتے تو بہتر یہی ہے وہ یہاں سے تشریف لے جائیں۔وہ ماتھے پر بل ڈالے ایک گہری سانس فضا کے سپرد کرتے اسٹڈی سے باہر نکل گئے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔
