Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Political Crime Fiction
Published: 02/06/2025
22 Views
Episode No 02
#وہ_اک_گماں_سا #ازہما_قریشی #قسط_نمبر_02 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہانگیر ہاؤس میں اس وقت صبح کا سماں تھا۔کچن میں ملازموں کو جلد از جلد ناشتہ بنانے کی ہدایت کرتیں جہانگیر صاحب کی دونوں بہوئیں ذرا بوکھلائی سی تھیں۔ "السلام علیکم بابا جان!!"ایک ایک کر سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے مگر ایک شخصیت تھی جو اب تک غائب تھی۔۔ "وعلیکم السلام!!صاحبزادے کہاں ہیں آپ کے؟"بابا جان نے کڑے تیورں سے پوچھا تھا۔جبکہ انہوں نے ناسمجھی سے دیکھا تھا۔ "بابا جان آپ جانتے تو ہیں۔۔کہ وہ کہاں ہے۔"وہ نظر چرا کر رہ گئے تھے۔جبکہ بارعب سے جہانگیر صاحب سب پر ایک کٹیلی نگاہ ڈال کر فریش جوس کا گلاس اٹھا کر لبو سے لگا چکے تھے۔مطلب صاف تھا کہ اب وہ لوگ باقاعدگی سے ناشتہ شروع کر سکتے ہیں۔گھر کی خواتین بھی نظروں ہی نظروں میں سوالیہ انداز اپناتی خاموشی سے اپنی اپنی چیئرز گھسیٹ کر بیٹھ گئیں تھیں۔۔ ٹیبل پر موجود شارق اور براق نے نظروں ہی نظروں میں خاموشی سے جوس پیتی ثانیہ کی جانب دیکھ نظروں کا تبادلہ کیا تھا۔یقیناً دادا جان کا غصّہ بے وجہ ہر گز نہیں تھا۔۔ "شارق!!"" "جی دادا صاحب!!"وہ جھٹ متوجہ ہوا تھا۔ "اپنے بھائی کو بتادینا کے ایک مہینے کے اندز اندر یا تو اس گھر میں واپس آکر ثانیہ سے نکاح کرے۔یا پھر ہماری بہو کے گھر لے کر آئے۔ "وہ جس اندز میں بولے تھے جہانگیر ہاؤس کے سبھی مکینوں نے انہیں چونک کر دیکھا تھا۔گویا بہوئیں کیا راہ چلتے ملنے لگی تھیں۔۔۔ "مگر بابا جان!!"سب سے پہلے ہوش فیضان جہانگیر کو ہی آیا تھا۔ "بس۔"وہ ہاتھ کے اشارے سے انہیں باز رہنے کی تنبیہ کر گئے تھے۔ "بابا جان!آپ کا جو بھی فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہے۔مگر میں ثانیہ کی خوشیوں پر کسی قسم کا کوئی كمپرومائز ہر گز نہیں کرونگا۔ "وہ صاف اور اٹل انداز میں بولے۔جبکہ سارا بیگم اور عائلہ بیگم نے ایک دوسرے کی جانب دیکھ سر جھٹکا تھا۔۔ "براق شام کو افس سے انے کے بعد آپ میری اسٹڈی میں آئیے گا۔ابھی آپ ہمارے ساتھ افس چلیں۔"وہ نپکن سے منہ تهپ تهپا کر ہر بات کو نظر انداز کئے اپنے پوتے سے مخاطب ہوئے تھے۔جو ناشتہ ادھورا چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ "جی دادا ابو!چلیں۔۔"جہانگیر صاحب ایک سخت گھوری ڈال کر پہلے اپنے کمرے کی جانب بڑھے تھے۔جبکہ وہ براق کو مخصوص اشارہ کرتا کار پورچ کی جانب بھاگا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہانیہ بلیو جینز ،گھوٹنوں تک آتی شرٹ پہنے جینی کی ہمراہی میں لندن کی ڈبل ڈیکر بس میں سفر کرتی کافی شاپ پہنچی تھی۔ان دونوں کو کیفے پہنچتے پہنچتے ساڑھے سات بج چکے تھے۔۔ ’’یار ہانیہ آج میں زرا جلدی نکلوں گی۔تمہیں کوئی مسٔلہ تو نہیں ہے ناں۔‘‘جینی جلدی سے اپنا اور ہانیہ کا بلیک ایپرن کمر پر باندھتی مصروف سے آنداز میں بولی تھی۔ ’’نہیں!!خیریت۔۔‘‘وہ دونوں باتیں کرتی کاؤنٹر تک آئیں تھی۔ ’’ہاں سب ٹھیک ہے۔بس آج مجھے اپنے ایک دوست سے ملاقات کرنی ہے۔‘‘وہ مصروف سی بولی تھی۔ ’’چلوں!!تم جاؤ اور جلدی سے اس ہینڈسم سے آرڈر لے کر آؤ۔۔گارنٹی سے کہ سکتی ہوں۔وہ شخص صرف تمہیں پٹانے کے لیے روز صبح یہاں آتا ہے۔‘‘اس کی آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔ ’’تم تو جب بولنا فضول ہی بولنا۔۔‘‘وہ نظر آنداز کرتی اس کسٹمر کی جانب بڑھی۔جو پہلی دو ویٹریس کو آرڈر لکھوانے سے منع کر چکا تھا۔ ’’اکسکیوزمی سر!!آرڈر پلیز!‘‘بلیک پینٹ شرٹ پر بلیک ہی آور کوٹ پہنے وہ شخص دکھنے میں الگ ہی ایشین نظر آتا تھا،اس کی نظروں کا ارتکاز ہی تھاکہ ہانیہ آرڈر لیتے میں شدید جھنجھلاہت کا شکار تھی۔ ’’اففف!!اب یہ شخص یہاں بیٹھے بیٹھے فوت ہوجائیے ،یاکیفے سے باہر کی ٹھنڈ میں فریزہوجائے مگر میں اس جھکی ٹھرکی کا آرڈر ہر گز نہیں لونگی۔‘‘وہ کاؤنٹر پر آکر کافی مشین کے اگے کھڑی ہوتی اردو میں بڑ بڑائی تھی۔ساتھ کھڑی لیزا نے چونک کر کان اس کی جانب لگائے۔ ’’کیا بڑبڑا رہی ہو۔‘‘ایسے خاک کچھ پلے نہیں پڑا تھا۔ ’’نتھنگ!!‘‘وہ سر جھٹک کر اس کا آرڈر ٹرے میں لگاتی ایک بار پھر اس کسٹمر کی جانب بڑھی۔جس کی ایکسرے کرتی نگاہیں اسی پر مرکوز تھیں۔ ’’وہ آرڈر رکھ کر اب دوسری ٹیبلز کی جانب بڑھی تھی ۔وہ مسلسل خود کو مصروف رکھ کر زہن ہٹا نا چاہا رہی تھی۔مگرمقابل کی نظروں کی تپش ہی تھی۔جو ایسے بوکھلائے دے رہی تھی۔۔ اس شخص نے گھڑی دیکھی جہاں نو سے اُپر کا وقت ہو رہا تھا۔وہ جلدی سے ہڑبڑا کر آٹھ کھڑا ہوتا۔اس پر ایک آخری نگاہ ڈالتا کیفے سے باہر نکل گیا۔ہانیہ نے سُکھ کا سانس لیا۔پچھلے کئی ماہ سے یہ روز کا معمول بن گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناروے کی دارلحکومت اوسلو کے ساحل سے ۷۵ کلو میٹر کی دوری پر ایک جزیرہ واقع ہے۔جو بیسٹوے کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس جزیرہ پر ۱۱۵ قیدی اپنی سزا کاٹ رہے ہیں ۔جن میں سے ایک قیدی نمبر 24607 آنکھوں میں اداسی لیے ہاتھوں کی لکیریں دیکھنے مگن اپنے ہی خیالوں میں کھویا ہوا تھا۔ ایسے اس قید میں جانے کتنا عرصہ بیت گیا تھا۔دنوں کا حساب لگانا تو جیسے اس نے ترک ہی کردیا تھا۔۔ناجانے اس کی غیر موجودگی میں اس کےپیچھے میں کیا کچھ تبدیل ہو چکا تھا۔اور کیا کچھ تبدیل ہونا والا تھا۔اس لگژری سے جیل میں ایسے ہر طرح کی سہولت میسر تھی۔جو کسی فائیو اسٹار ہوٹل سے کم ہر گز نہیں تھا۔مگر پنجرا چاہے سونے کا کیوں نا ہو۔۔رہتا وہ پنجرہ ہی ہے۔ وہ بھی اُداس تھا۔زندگی کی ایک چھوٹی سی غلطی ایسے دیارِ غیر کے جیل میں لے آئی تھی۔جہاں سے آزادی سزا کی مدت مکمل ہونے کے بعد ہی ملنی تھی۔۔۔مگر کون جانتا تھا کہ وقت ایک بار پھر اپنی چال چل کر پلٹا کھا چکا تھا۔اب تو نتائج اور سزا کی کٹھن گھڑی آن پہنچی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سال کا شروع مہینہ جنوری لندن کا سب سے زیادہ برف باری والا مہینہ ہوتا ہے۔جس میں اوسطاً 4.5 انچیز تک برف باری ہوجاتی ہے۔آج صبح سے وقفے وقفے سے تیز برف باری جاری تھی۔ہر شے کو برف کو موٹی چادر نے ڈھک رکھا تھا۔روڈوں پر برف کے پہاڑ سے بن گئے تھے۔جبکہ سڑ کیں آسمان پیڑ پودے حد نگاہ تک نظر انے والے تمام مناظر سفید برف کی لپیٹ میں تھے۔اقصیٰ نے اپنی زندگی میں اتنی برف پہلی بار ہی دیکھی تھی۔اب تو اس برف کو دیکھ دیکھ کر وحشت سی ہونے لگی تھی۔آج صبح جب آنکھ کھلی تو علم ہوا کہ لندن کا موسم شدید ٹھنڈ کی لپیٹ میں ہے۔جبکہ دھوند کا عنصر شدید تھا۔زيان کی طبیعت ابھی مکمل ٹھیک نہیں تھی۔مگر پھر بھی زيان کی ضد پر وہ برف باری میں ذرا ٹھراؤ انے پر کچھ دیر کے لئے باہر لے گئی تھی۔مناہل جاب پر تھی۔جبکہ آج اقصیٰ کو اپنا آپ بہت اکیلا سا فیل ہو رہا تھا۔۔ زیان کا سر آقصیٰ کی گود میں رکھا ہوا تھا۔ آقصیٰ کے ہاتھ زیان کے بالوں میں گھوم رہا تھے۔جو آنکھیں بند کئے شاید سو گیا تھا یا پھر ماں کے لمس پر پرسکون سا آنکھیں موند گیا تھا۔جبکہ وہ خود سوچوں کے محور میں گم ماضی کی کسی یاد کے زیر اثر عجیب ٹرانس میں تھی۔ایک بھولی بسری یاد کی بدولت خشک پڑے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے اپنی چھپا دکھائی تھی۔۔ جبھی ڈور بیل کی آواز پر وہ چونک کر ہوش میں آئی۔ ’’اس وقت کون آگیا۔‘‘گھڑی میں وقت دیکھا،مناہل لوگوں کی واپسی میں ابھی خاصہ وقت تھا۔وہ متعجب سی زيان کا سر تکیے پر رکھتی اپنے کمرے سے باہر آئی تھی۔ وہ دروازے تک آئی
