Wabasta Tere Name Say — Last Episode
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/02/2026
38 Views
Last Episode
رہا تھا۔ ’’یا میرے اللہ کیوں؟ اپنے بھائی کو اتنی بری طرح کون مارتا ہے؟‘‘وہ خفا ہوئیں۔ ’’میں مارتا ہوں بی جان۔۔اِس سے پوچھیں ذرا یہ کس کی اجازت سے ہم سے دور رہ رہا ہے۔۔اس سے کہہ دیں،آج کے بعد یہ ہمارے ساتھ رہے گا۔اب تو اس کی والدہ بھی دنیا میں نہیں رہیں تو یہ اکیلے رہ کر کیا کرے گا؟‘‘وہ ناراض لہجے میں بول رہا تھا۔۔جبکہ وہ خاموش ہی رہا تھا۔ ’’ہاں۔۔ہاں حنان بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے بلال۔۔‘‘ بی جان کے تو دلی مراد بر آئی تھی۔۔ ’’بی جان میں اس گھر میں نہیں رہ سکتا۔۔یہ میرا گھر نہیں ہے۔‘‘وہ سپاٹ لہجے میں بولا تو حنان قدم چلتا نزدیک آیا تھا۔۔ ’’میں نے آج تک تمھیں جو کچھ کہا،جو بھی کیا اس کےلئے مجھے معاف کردو بھائی۔۔‘‘وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ گیا تھا۔بلال کتنی ہی دیر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا تھا۔جبکہ سب گھر والے حیرت و بے یقینی سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ ’’بڑے بھائی ہاتھ نہیں جوڑتے سینے سے لگاتے ہیں۔۔‘‘بلال کے بولنے کی دیر تھی کہ حنان نے آگے بڑھ کر اُسے سینے سے لگایا تھا، ’’سوری یار۔۔‘‘وہ اسکے ماتھے پر لب رکھتا نادم لہجے میں گویا ہوا تھا۔رابیل کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ’’اللہ تیرا شکر ہے۔کہ تو نے میری زندگی میں ہی مجھے یہ دن دکھایا ہے۔۔کہ میرے دونوں پوتوں میں صلاح ہوگئی۔۔‘‘بی جان دونوں کے صدقہ واری جارہی تھیں۔ ’’بس بی جان اب اس جوان لڑکے کی شادی کرؤائیں گے۔‘‘وہ خوش دلی سے بولا تو سب ہی مسکرا دئے تھے۔۔بلال نے ایک نظر اٹھا کر بھی رابیل کو نہیں دیکھا تھا۔۔اس نے ہمیشہ اسے احترام کی نظر سے ہی دیکھا تھا،کیونکہ وہ اسکے بھائی کی مانگ تھی۔اور اب اسکی بھابھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا اندھیرا ہر سو پھیل چکا تھا۔۔حنان کی روٹین بہت ٹف ہوگئی تھی۔ پچھلے ایک ماہ سے دونوں کے درمیان وہی اجنبیت کی دیوار حائل تھی۔حنان اس کی طرف سے مستقل گریزہ تھا،اس نے رابیل کو مخاطب کرنا بھی چھوڑ دیا تھا۔دل میں لگی پھانس اتنی آسانی سے تو نہیں نکل سکتی تھی۔۔مگر رابیل اس کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتی تھی کہ اس نے اس کمرے کی بات کو بڑوں میں لیجانے کے بجائے خود ہی اس مسلے کا حل نکال لیا تھا۔۔لیکن اب بس اسے اس رشتہ کو بچانا تھا۔ وہ مہرون رنگ کی ساڑھی زِیب تن کئے ،اچھے سے تیار ہونے کے بعد حنان کا انتظار کر رہی تھی۔۔جو ڈنر کے بعد کہیں جانے کے لئے نکل گیا تھا۔۔انتظار طویل ہوتا جا رہا تھا۔۔رات کے بارہ بجنے کو آئے تھے،ا ب وہ افسردہ سی صوفے پر جاکر بیٹھ گئی تھی۔۔وہ چوڑیاں اُتارنے ہی لگی تھی کہ کھٹکے کی آواز کےساتھ ہی وہ رُوم میں داخل ہوا تھا۔۔رابیل کی سانسیں تھم سی گئی تھیں۔نگاہیں اس دشمنِ جاں سے ٹکرائی تھیں،جو اسکی عدم موجودگی محسوس کر فوراً سے بیشتر رخ موڑ کر صوفے کی جانب دیکھتا ٹھہر گیا تھا۔۔آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوئی تھیں۔دل کی رفتار مدھم پڑی تھی۔جبکہ اسکی بے باک نگاہیں اپنے سراپے پر مرکوز دیکھ رابیل کو دل کانوں میں بجنے لگا تھا۔ وہ ایک گہری سانس بھرتا اسکی جانب سے نگاہیں پھیرتا دروازہ اچھے سے لاکڈ کر کہ بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔سائیڈ ٹیبل پر کار کی چابی اور گھڑی اُتار کر ایک طرف کو رکھتا اب وہ ڈریسنگ مرر کے سامنے جا کر کھڑا ہوتا،شرٹ کے بٹن کھول رہا تھا۔۔جبھی رابیل لب دانتوں تلے دبائے ہمت مجتمع کرتی سہج سہج کر قدم اٹھاتی اسکے نزدیک آئی تھی۔۔ ’’آج کافی دیر ہوگئی آپ کو حنان۔۔‘‘وہ بالکل اس کے پاس آ کھڑی ہوئی تھی،عقب سے نظر آتا اسکا حسن حنان کو مسلسل اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر اُکسا رہا تھا۔۔ ’’ہمم۔۔۔‘‘وہ اتنا بول کر ڈریسنگ روم میں جاکر بندھ ہوگیا تھا۔جبکہ وہ اسکے رئیکشن پر اپنا سا منہ لے کر رہ گئی تھی۔۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آیا تو ایک لمحے کے لئے اسے بیڈ پر بیٹھا دیکھ ٹھٹھک گیا تھا۔۔پھر اپنی سائیڈ پر آکر آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر لیٹ گیا تھا۔۔جبھی بیڈ پر بیٹھی رابیل اس کے نزدیک آئی تھی۔۔ ’’حنان کیا آپ مجھے معاف نہیں کر سکتے۔۔‘‘وہ اس کے پاس ہی دوزانوں بیٹھی تھی۔ حنان نے ہاتھ اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ ’’تم نے معافی مانگی کب ہے؟‘‘رابیل اب سٹپٹائی تھی۔ ’’اب مانگ رہی ہوں۔۔سوری،،وہ سب میری غلطی تھی۔بلکہ میرا جذباتی پن تھا۔جس کی وجہ سے ہمارے رشتے کو بھی سفر کرنا پڑا۔۔‘‘اب وہ گویا اپنا گناہ قبول کر رہی تھی۔ ’’ہم تو پھر؟‘‘ اس نے مزید بولنے کے لئے اکسایا تھا۔ ’’میں چاہتی ہوں کہ اب ہمارے درمیان سب ٹھیک ہوجائے۔‘‘ وہ بہت آس سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ’’اور وہ کیسے ٹھیک ہوگا؟‘‘ ’’ جب آپ مجھے سے اپنی ناراضی ختم کردیں گے۔‘‘ ’’میں تو تم سے ناراض ہوں ہی نہیں۔‘‘رابیل نے ا اچھنبے سے اسکی طرف دیکھا تھا۔ ’’اس رشتے کی خوبصورتی تمھاری وجہ سے خراب ہوئی ہے۔اور پھر بھی تم نے پہل کرنے میں پورا مہینہ لگا دیا۔اتنی بڑی انا ہے تمھاری؟‘‘اب وہ سخت لہجے میں بول رہا تھا۔رابیل کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے۔ ’’ایسی بات نہیں ہے حنان۔۔مجھے لگا تھا آپ کو اس رشتے کو سمجھنے کے لئے تھوڑا وقت چاہیے۔میں صرف آپ کو اسپیس۔۔‘‘وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ حنان نے ہاتھ پکڑ کر اُسے نزدیک کھینچا تھا۔توازن بگڑنے پر وہ اس کے حصار میں قید ہوئی تھی۔۔ رخسار اسکی نزدیکی پر گلابی ہوئے تھے۔۔ ’’میں اس رشتے کے لئے اسی وقت تیار تھا جب میں نے تمھیں اپنے نکاح میں لیا تھا۔تو تمھیں ایسا کیوں لگا مجھے اسپیس چاہئے؟‘‘اب وہ آئی برو اٹھا کر سوالیہ بولا تو اس کی آنکھوں میں نرم تاثر دیکھ اسکی پلکیں لرز گئیں تھیں۔۔ ’’اوکےسوری۔۔میری غلطی تھی۔۔اب اپنی نارضی ختم کرلیں پلیز۔۔‘‘وہ جلدی سے بولی تھی۔۔حنان اس کی جلد بازی پر کھل کر مسکرایا تھا۔۔ ’’ویسے شادی والے دن سے زیادہ پیاری لگ رہی ہو آج۔۔‘‘اب وہ اسے اپنے حصار میں لیتا قریب کر چکا تھا۔جبکہ وہ اس کے سینے پر سر رکھے، آنکھیں موند گئی تھی۔ ’’تم جانتی ہو،،بچپن سے تمھارا نام اپنے نام کے ساتھ سنا تھا۔تمھیں بغیر دیکھے ہی تم سے محبت ہوگئی تھی،اور پھر ناچاہ کر بھی تم پر نظر رکھنے لگا تھا کہ تم میری ملکیت ہو صرف۔۔ بڑوں کے جھگڑے بھی میرے دل سے تمھاری محبت نہیں نکال سکے تھے۔‘‘اس انکشاف پر رابیل حیرت سے سر اٹھائے اسے دیکھ رہی تھی۔ ’’مگر شادی کی رات تم نے جو انکشاف کیا تھا مگر دل کر رہا تھا،کہ میں تمھارا قتل کردوں یا اس شخص کا جس نے تمھیں اپنے نکاح میں لے کر چھوڑ دیا۔۔‘‘اب اسکی آنکھیں سرخ پڑ گئی تھیں۔ ’’مگر پھر میں نے خود پر ضبط کیا،کیونکہ اگر میں اس بات کا ذکر غلطی سے بھی گھر میں کسی سے کر دیتا تو تو تم ساری زندگی کسی سے نظر نہیں ملا سکتیں ۔۔۔مگر میں نے سوچ لیا تھا۔۔کہ تم بلال سے طلاق لے بھی لو تو میں تمھیں دوبارہ اپنے نکاح میں نہیں لونگا،بلکہ برادری والوں کو کہہ دونگا کہ تمھیں میں نے خود طلاق دی ہے۔۔۔اور پھر بلال۔۔۔۔۔۔۔مجھے لگا کہ یہ سب میرے کئے کی سزا تھی جو ملی۔کیونکہ بلال جانتا تھا کہ تم میری مانگ ہو۔۔اس نے جان کر مجھے اس ذہنی ازیت میں مبتلہ کیا تھا۔۔مگر مہرہ تم بن گئیں۔۔اگرچہ ایک لڑکے سے چھپ کر نکاح کرنے میں تمھاری بھی برابر کی غلطی تھی،مگر آگر تم حنان عالمگیر کی
