Wabasta Tere Name Say — Last Episode
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 02/02/2026
38 Views
Last Episode
وابستہ تیرے نام سے ازہماقریشی آخری قسط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان دونوں کی صبح آنکھ چہرے پر پڑنے والی شعاوں سے کھلی تھی۔رابیل نے کسمسا کر آنکھیں کھول لی تھیں،جبکہ حنان بھی فوراً سے سیدھا ہوا تھا۔۔ ’’چلو اٹھو گھر چلیں۔۔یہاں سے اب کوئی مل ہی جائے گا جو ہمیں صحیح راستہ بتا دے۔۔‘‘وہ چلتے چلتے مین روڈ پر آگئے تھے۔جبھی حنان لفٹ کے لئے گاڑی کو ہاتھ دیاتھا۔۔ وہ گاڑی ٹھہر بھی گئی تھی۔۔ ’’سر کیا آپ۔۔۔۔‘‘ونڈو کا شیشہ نیچے ہوتے ہی بولنے لگے تھے کہ مقابل کا چہرہ دیکھ حنان سکت میں آگیا تھا۔۔ ’’تم؟ ’’آپ؟‘‘ ’’کیا تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو۔۔‘‘حنان پہلے سے بیشتر ہوش میں آیا تھا۔ ’’جی میرا یونیورسٹی فیلو۔بلال۔۔۔بلال ہے یہ۔جس نے مجھ سے۔‘‘وہ لڑکھڑاتے لہجے میں گویا ہوئی تھی،جبکہ حنان کا چہرہ ضبط کی زیادتی سے سرخ پڑ گیا تھا۔۔ ’’یو بلڈی۔۔‘‘بلال جو سپاٹ نگاہوں سے رابیل کو دیکھ رہا تھا،حنان کے مکا اپنے جبڑے پر کھا کر اس کے حواس جھنجھنا اُٹھے تھے۔۔ ’’آہ۔۔۔۔‘‘رابیل چیخ بے ساختہ تھی۔جبکہ اب حنان اسے گاڑی سے نکالتا ،اسے مسلسل مار رہا تھا۔۔جنون تھا کہ حد سے زیادہ سوار تھا۔اور وہ خاموشی سے مار کھا رہا تھا۔ ’’حنان پلیز۔۔۔‘‘وہ اسے لہو لہان کر چکا تھا،جبکہ وہ بہت خاموشی سےا س سے مار کھا رہا تھا۔۔ ’’ یہ بے غیرت۔۔۔یہ غیرت ہے وہ جس نے تم سے نکاح کیا اور پھر کہیں دفعہ ہوگیا۔۔‘‘اپنے سوتیلے بھائی کو دیکھ ،اسکا دماغ بری طرح سے گرم ہوا تھا۔۔۔ ’’حنان پلیز چھوڑ دیں اس کو۔۔‘‘وہ کپکپاتے ہاتھوں اس کے بازؤں پر رکھتی، سسکتے لہجے مین گویا ہوئی۔ ’’چھوڑ دونگا۔۔۔تو پہلے طلاق دے رابیل کو۔۔پتہ بھی ہے کس ازیت میں رہی ہے یہ لڑکی۔۔‘‘وہ اسکا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑ چکا تھا۔ ’’طلاق دے انھیں۔۔‘‘اب اسکے پیٹ میں لات ماری تھی۔۔ ’’یہ میرے نکاح میں نہیں ہے۔۔‘‘وہ نیم مردہ حالت میں آگیا تھا۔رابیل اور حنان ایک لمحے کو ٹھہر گئے تھے۔ ’’کیا کہا؟‘‘وہ غرایا۔۔ ’’یہ لڑکی میرے نکاح میں نہیں ہے۔۔۔‘‘وہ نڈھال سا بول رہا تھا۔ ’’جھوٹ پھر جھوٹ۔۔۔طلاق دے انھیں۔۔تاکہ میں ان سے نکاح کر سکوں۔۔جان بوجھ کر کیا ہے نا تو نے یہ سب۔۔۔صرف مجھے نیچا دکھانے کے لئے۔۔‘‘حنان کو رہ رہ کر طیش آ رہا تھا۔۔جبکہ رابیل کچھ نہ سمجھتی ہچکیوں اور سسکیوں سے رو رہی تھی۔۔وہ اس سے نکاح کی بات کیوں کر رہا تھا۔جب کچھ دیر قبل وہ انکاری تھا۔ ’’رابیل میری بیوی نہیں ہے۔۔وہ نکاح جعلی تھا۔۔بلکہ نکاح میں درست نام تک نہیں بولے گئے تھے۔۔نہ لفاظی ہوئی تھی۔۔نکاح نامہ کے پیپرز بھی جعلی تھے۔۔میں نے یہ سب صرف تم سے بدلہ لینے کے لئے کیا تھا۔کیونکہ میں بچپن سے جانتا تھا کہ یہ تمھاری منگ ہے۔۔‘‘اس بار وہ زخمی لہجے میں غرایا تھا۔۔رابیل سہم گئی تھی۔۔ ’’یہ تمھارے نکاح میں ہے۔۔اس کا نکاح تمھارے ساتھ ہوا ہے،آگر تم دونوں نے صحیح طریقے سے ایجاب و قبول کیا تھا تو،کیونکہ اسکا مجھ سے نکاح نہیں ہوا۔۔‘‘بلال اتنا بولتا رابیل کے دل سے بوجھ اتار گیا تھا۔شکر تھا کہ اس نے باآواز نکاح کا اقرار کیا تھا۔۔اسکا دل بے ساختہ ہی سجدے میں گرنے کو کیا تھا۔۔۔ ’’تم۔۔۔۔کیوں کیا تم نے میرےسا تھ ایسا؟ حنان سے دشمنی میں مجھ سے کیوں بدلہ لیا؟‘‘اس بار وہ اس کے دستِ گریبان ہوئی تھی۔۔جبکہ حنان بس اتنا سنتے ہی اسے چھوڑ چکا تھا۔۔۔اللہ کا لاکھ شکر تھا کہ ان کا نکاح ہوا تھا۔ورنہ اتنے دن کمرے میں ایک نا محرم لڑکی کے ساتھ گزارنے پر آندر ہی آندر اسے گلٹ کھائے جا رہا تھا۔۔شکر تھا کہ رابیل اسکی محرم تھی،، ’’کیونکہ تمھارا شوہر بدقسمتی سے میرا سوتیلا بھائی ہے۔اس کو بہت شوق ہے دوسرے کی عزتیں اچھالنے کا۔۔ بہت شوق ہے اسے اپنے لفظوں سے دوسروں کو ذہنی ازیت میں مبتلہ کرنے کا۔۔آج اپنی عزت پر بات آئی۔۔خود زہنی ازیت سے دوچار ہوا تھا کیسے ز خمی شیر کی طرح تڑپ رہا ہے۔۔‘‘وہ رابیل کو پیچھے دھکیلتا غصےٰ سے چلایا۔۔جبکہ حنان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ لڑ کھڑاتی رابیل کو سنبھال پائے۔۔ ’’ اس کے خاندانی باپ نے میری ماں سے شادی کی تھی۔۔میری ماں کوٹھے پر پیدا ہونے والی عورت تھی۔مگر وہ بالکل پاک باز تھی۔مگر اس کے باوجود یہ اونچے شملہ کے لوگ کبھی میری ماں کو نہیں اپنایا، اور میرا بزدل باپ بھی، اپنی زندگی کے آخری ایام میں میری ماں کو طلاق دے کر دنیا میں تنہا کر گیا۔۔اکیلے پالا ہے میری ماں نے مجھے ۔۔کبھی اس خاندان کا کوئی احسان نہیں لیا۔۔مگر بی جان۔۔وہ اپنے شوہر کی وجہ سے،کبھی پوتے کی وجہ سے ہمیشہ مجبور رہیں۔ا نھونے مجھے ہمیشہ اپنا خون سمجھا۔میں کبھی کبھار ان کے کہنے پر آگر ان سے ملنے چلا جاتا تو یہ شخص مجھے ہمیشہ اپنے لفظوں کی مار دیتا۔ذہنی ازیت سے دو چار کرتا۔۔کیا بھائی ایسے ہوتے ہیں۔۔‘‘وہ دکھ سے چلایا تھا۔۔حنان کا چہرہ ایسا تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ ’’میرا کیا قصور تھا آگر میری ماں کوٹھے کی پیداور ہے۔۔یا اسکے باپ نے اسکی ماں سے بے وفائی کی تھی۔۔‘‘اب وہ چیخ کر بو لتا زمین پر بیٹھ گیا تھا۔۔ ’’تم بھائی نہیں ہو۔۔تم قصائی ہو۔۔تم قاتل ہو میری خوشیوں کے۔۔اور تمھاری بیوی کو میں نے نکاح کے لئے فورس نہیں کیا تھا۔۔بلکہ اس نے مجھے پرپوز کیا تھا۔۔شکر کرو کہ میں نے پھر بھی تمھاری عزت رکھی۔۔۔جاؤ تمھیں اس ازیت سے آزاد کرتا ہوں کہ یہ لڑکی میری نہیں بلکہ تمھاری بیوی ہے۔۔‘‘وہ اتنا بول کر لڑکھڑاتے قدموں سے گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔۔اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی تھی۔۔حنان اب ہوش میں آیا تھا۔ ’’ باہر نکلو۔۔‘‘وہ چونکا۔ ’’باہر نکلو،تمھیں ہسپتال لے کر جانا ہے۔ ڈرائیو میں کرونگا۔۔‘‘ رابیل اب خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔۔جبھی وہ خاموشی سے باہر آگیا تھا،اس سے انکار،اور احتجاج کرنے کی سکت بالکل نہیں تھی۔۔ ’’حنان نے اب پہلے ہاتھ پکڑ کر رابیل کو پیچھے بیٹھایا تھا، بلال پسنجر سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔جبکہ حنان خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انھیں کشمیر سے واپس آئے یہ دوسرا دن تھا۔بلال کی مرہم پٹی کے بعد وہ اگلے دن واپس کراچی آگئے تھے۔۔ان دونوں کے درمیان بات چیت بالکل بند تھی۔جبکہ رابیل نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ حنان کو سمجھا سکے۔۔وہ بیڈ پر خاموش بیٹھا تھا۔اور رابیل صوفے پر بیٹھی بس اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ ’’کیا تم بلال سے محبت کرتی ہو؟‘‘وہ اس قدر اچانک بولا کہ وہ ایک لمحے کو سٹپٹا سی گئی تھی۔ ’’نہ۔۔نہیں تو۔۔‘‘وہ ہکلائی۔ ’’آگر کرتی ہو تو بتاؤ،میں تمھیں ابھی طلاق دے دونگا اور بلال سے تمھاری خود شادی کرؤانگا۔۔‘‘وہ یہ لفظ کس مشکل سے بول پایا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا۔۔ ’’ایسے مت بولیں پلیز۔۔میں بلال سے وقتی جذبات کے تحت جڑ گئی تھی۔ مگر میں اُس سے محبت ہر گز نہیں کرتی۔۔‘‘وہ نادم لہجے میں گویا ہوئی تو بلال تمسخر سے مسکرایا تھا۔۔ ’’سچ بول رہی ہو؟‘‘اس نے آئی برو اُٹھائے۔۔ ’’جی ۔۔جی بالکل سچ بول رہی ہوں۔۔‘‘زبان آپ ہی لڑکھڑا گئی تھی۔ وہ کتنی ہی دیر رابیل کے چہرے کو دیکھتا رہا تھا،اور پھر وہاں سے اٹھ کر نکلتا چلا گیا تھا۔۔پیچھے وہ خاموش بیٹھی رہ گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلال نیچے بی جان کے پاس بیٹھا تھا۔جب حنان بھی نیچے آیا تھا۔۔ ’’حنان دیکھو نا یہ چوٹ کیسے لگ گئی ہے اس کو۔۔تم پوچھو مجھے تو بتا ہی نہیں رہا۔۔‘‘ وہ کرب ناک لہجے میں بول رہی تھی۔ ’’میں نے مارا تھا اس کو۔‘‘وہ مطمئن لہجے میں بولا،بلال نے اسکی طرف نہیں دیکھا تھا،وہ فرش گھور
