Rebellious Love (Episodic Novel) — Rebellious Love by Huma Qureshi Episde No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/10/2025
39 Views
Rebellious Love by Huma Qureshi Episde No 02
بُری لڑکی ہر گز نہیں ہوں۔‘‘آگرچہ وہ لندن میں رہتی تھی یا پھراس کی ماں ایک کرسچن تھی۔مگر وہ دوستی کے نام پہ کبھی بھی کسی مرد کے قریب نہیں جانا چاہتی تھی۔۔گرل فرینڈ رکھنابہت معمولی بات تھی۔۔گرینڈ مام نے بھلے اس سے حقیقت چھپائی ہو مگر وہ جانتی تھی کہ،وہ ایک مسلمان کی اولاد ہے۔۔اور مسلم کیمیونٹی میں یہ سب حرام تھا۔۔ ’’آئی نو ڈارلنگ!تم پریشان نہ ہو۔۔ہم صرف ڈیٹ پر جار ہے ہیں۔۔یو نو یہ ہماری پہلی آفیشل ڈیٹ ہے۔‘‘وہ معنی خیزی سے آنکھ کا کونا دباتا اُس کا ہاتھ تھام کر لبوں سےلگا چکا تھا۔۔ ’’مگر میں نہیں جانا چاہتی۔۔۔مجھے نہیں معلوم تم نے میری گرینڈ مام سے کیاکہا۔۔مگرمیں ایسا ویسا کچھ نہیں کرونگی۔‘‘وہ انگشت شہادت اُٹھاتی درشگی سے بولی تھی۔تو وہ سر پیچھےکو پھینکتا ہولے سے مسکرایا تھا۔۔۔گاڑی ایک جھٹکے سےبرج پر رُک گئی تھی۔ وہ گڑبرا کر ہوش میں آئی تھی۔۔ ’’جانتی ہو یہ لندن لینڈ مارک برج ہے۔۔ جو آٹھاروی صدی کے آخر میں دریا تھیمز کو پار کرنے کے لئے بنایا گیا تھا۔۔۔اور میں چاہتا ہوں کہ ہماری لازوال محبت کو آغاز دنیا کہ چند شاہکاروں میں سے ایک اس برج پر ہو۔۔جہاں صرف محبت رقص کرتی ہو۔۔۔وہ اُس کے زرا قریب ہوتا اس کا گال چھوتا فرنٹ ڈور کھولتاکارسےباہر نکل گیا تھا۔۔۔جبکہ وہ ٹرانس میں بس اِرد گرد میں ہی دیکھے گئی تھی۔۔۔۔ ’’کم آن لیڈی!‘‘اس کا نازک مومی ہاتھ اپنی سخت گرفت میں لیتا اسے باہر نکلنے میں مدد دینے لگا تھا۔۔جو اپنا گاؤن سنبھالتی باہر آگئی تھی۔۔۔ ’’میں بہزاد رضوی لندن شہر کی ان خوش کُن ہواؤں اور اِرد گرد رقص کرتی محبت کو گواہ بنا کر ،تم سےاپنی محبت کااظہارکرتاہوں۔انسر می۔۔ول یو میری می لیڈی!‘‘وہ ٹرانس میں کسی حسین خواب کے زِیر اثر بس اس لمحے میں کھو گئی تھی۔۔کیا زندگی کسی فیری ٹیل کی مانند بھی ہوسکتی ہے۔کیا شہزادوں جیسا شخص گھٹنوں کے بل بیٹھا محبت کا اظہار بھی کر سکتا ہے۔۔۔وہ روتے روتے مسکراُ اٹھی تھی۔۔ ’’افف!مائے لوو میں بیٹھے بیٹھےتھک گیا ہوں۔۔۔سے یس ناں۔‘‘ وہ دلکشی سے مسکرایا تھا۔۔ وہ چونکی اور پھر ٹھری۔۔۔مسکراہٹ لمحے میں غائب ہوئی تھی۔۔۔ ’’کیا ہوا ہنی!‘‘وہ پتھر کی ہوئی بس گھورے جارہی تھی۔۔وہ پریشانی سے ُاٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔ ’’تم!جھوٹ بول رہے ہو ناں۔۔دھوکا دے رہے ہو ناں مجھے۔‘‘وہ آنسوؤں سےرو پڑی تھی۔۔۔ ’’تمہیں ایسا کیوں لگ رہا ہےکہ میں تمہیں چیٹ کرونگا۔‘‘بہزاد کی آنکھوں میں سردگی اُتر آئی تھی۔۔لڑکیاں اس کی ایک جھلک کو ترستی تھیں، اور وہ اسے ٹھکرا رہی تھی۔ برج سے گزرتے لوگ ایک خوش کُن مسکراہٹ پاس کرتے آگے بڑھ گئے تھے۔۔۔ ’’کیونکہ سب ایساہی کرتے ہیں۔۔میرے بابا نے بھی ایساہی کیا تھا میری مام کے ساتھ۔‘‘‘وہ تلخ ہوئی تھی،بہزاد نے ٹھرٹھرا دینے والے تاثرات پہ قابوں کر آنکھیں موند لی تھیں۔۔چہرہ اس کے چہرے لگائے وہ سرد سانسیں خارج کرتا اُس کی ڈھڑکنوں کی رفتار بڑھا گیا تھا۔۔۔۔ ’’جسمین!‘‘اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھامتا وہ سرگوشیانہ بولا تھا۔۔۔ I love you more than anything in this world.you are my everthing… اُس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالےمیں لئے جذبوں سے چور گھمبیر آواز میں اظہار محبت کرتا وہ اس کی ڈھڑکنیں منتشر کر گیا۔۔۔وہ آنکھیں موندے کھڑی اپنی شور مچاتی ڈھڑکنوں سے خائف ساکت و جامد کھڑی تھی۔۔وہ خوفزدہ سی تھی کہ کہیں ہمیشہ کی طرح یہ حسین خواب ٹوٹ نہ جائے اور لمحوں کے ہزارویں حصےٰ میں وہ زرا قریب ہوتا اس کا چہرہ تھام کر ذرا قریب جھکا تھا،اور اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کرتا اسے حیران و پریشان چھوڑ گیا۔۔۔۔۔اس نے دھیرے سے آنکھیں وا کی تھیں۔یہ سب خواب نہیں بلکہ حقیقت تھا۔۔۔ ’’میں اپنی آخری سانس تک تمہارے اظہار کا منتظر رہونگالیڈی۔۔‘‘وہ دھیرے سے قریب ہوتا کان میں سرگوشی کرتا اپنی محبت کا حصار باندھ گیا تھا۔۔۔جس کی آنکھوں سے تواتر سے بہتے آنسو ایسے شرمندگی کی گہرائیوں میں دھکیل گئے تھے۔۔۔جنہیں وہ انگلیوں کے پوروں پر چنتا وہ اِرد گرد سے بیگانہ اسے اپنے ہونے کا احساس دلانے لگا تھا۔۔جو پتھر کی ہوئی اس کے سینے سے لگی خاموش آنسو بہا رہی تھی۔۔لندن لینڈ مارک پہ آج بہت سی محبتوں میں سے ایک اور محبت نے جنم لیا تھا۔لندن کی روشن رات اُن کی محبت کی گواہ بن گئی تھی۔۔۔ہر سو جگمگاتی محسوس ہوئی تھی،گویاوہ بھی اس دائمی ملن پر خوش ہو۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
