Rebellious Love (Episodic Novel) — Rebellious Love by Huma Qureshi Episde No 02
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/10/2025
39 Views
Rebellious Love by Huma Qureshi Episde No 02
Rebellious Love By Huma Qureshi Episode No 02 وہ آج عجیب قسم کی پریشانی سے دوچار تھی۔۔کل رات جب وہ سو رہی تھی تو ایسے محسوس ہوا،جیسے کوئی تھا،جو اسکے بے انتہا قریب تھا۔۔رات ہوتے ہی کوئی اسے اپنی بانہوں میں جکڑلیتا ایسا تو کئی بار محسوس ہوچکا تھا،مگر وہ ہمیشہ اپنا وہم سمجھ کر ذہن جھٹک جاتی تھی۔ ویسے بھی ایک سیاہ رات کہ اس ُ پر سکون لمحے کو چاہ کر بھی نہیں ضائع کرنا چاہتی تھی۔۔جب اُسے محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی ہے،جو اُس کے بے انتہا قریب اُس سے محبت جتا رہا ہو۔ وہ اکثر اِس خوب کے زیرِ اثر مسکراتی تھی،اُس کی محبت کو دل سے محسو س کرتی تھی، اس کا مدہوش لمس ہمشہ ایک عجیب سے سرور سے آشنا کرواتا تھا۔۔وہ خوابوں کی دنیا میں زندگی کی تلخی کو بھول کر اس میں زندگی تلاس کرنے والی لڑکی تھی۔ ۔۔مگر کل رات کے بعد سے وہ اپنا ذہن جھٹک نہیں پارہی تھی۔گردن پرسرسراتی انگلیاں، اور آنکھوں کی نرماہٹ محسوس کرتے لب ،سب کچھ ایک خواب ہر گز نہیں تھا۔۔وہ بھاگتی ہوئی دیوار گیر چھوٹے سے آئینے کے عین سامنے آکر ٹھری تھی۔ ’’شیشے میں نظر آتا اپنا بے داغ حُسن دیکھ وہ کچھ لمحے مبہوت سی یک ٹک خود کو دیکھے گئی تھی۔کوئی بھولی بھٹکی سی آواز تھی جو سماعتوں میں گونج اٹھی تھی۔۔۔ ’’تم بہت خوبصورت ہو سویٹ ہارٹ!‘‘وہ اپنے نقوش دھیرے سے چھوتی مسکرائی۔ایک انوکھا سا احساس تھا جو رگ و پےمیں سرائیت کر گیا تھا۔۔۔ ’’جینی!وہ کتنے ہی لمحے ان آوازوں میں کھوئی رہی تھی،جبھی کسی کی چنگھاڑتی ہوئی آواز اس کے کان کے پردے ہلا گئی تھی۔وہ تیزی سے ُاپر کی جانب بھاگی تھی۔ ’’جی گرینڈ مام!‘‘وہ ہمیشہ کی طرح کسی تابعدار بچی کی مانند سرجھکائے مودبانہ آنداز میں کھڑی تھی۔۔۔ ’’تمہاری صبح روز با روز خاصی دیر سے نہیں ہونے لگی ہے؟‘‘وہ مشکوک ہوئیں ،جسمین گڑبڑائی۔۔ ’’سوری مام!ایکچوئیلی وہ میں ساری رات ٹھنڈ کی وجہ سے سو نہیں سکی تھی۔‘‘وہ شرمندہ ہوئی۔ ’’ہمم!میں نے ایک نیو بلینکٹ آرڈر کیا ہے تمہارے لئے،آج سے وہ تمہارا ہے۔‘‘جسمین نے اچھنبے سے سر اُٹھا کر اُن کی جانب دیکھا تھا۔ ’’میرے لئے؟‘‘وہ انگلی سے اپنی جانب اشارہ کرتی مخمصے کا شکار تھی۔ ’’ہمم!‘‘اُن کے گھورنے پہ اُس کی حیرت ہوا تھی،بھلا وہ کہاں عادی تھی ایسی مہربانیوں کی۔۔۔۔ ’’شکریہ گرینڈ مام!‘‘نجانے کیوں مگر آواز خود ہی رندہ سی گئی تھی۔ ’’اور سنو!یہ تمہارا ڈریس ہے۔۔رات کو اچھے سے تیار ہوجانا۔‘‘ انہوں نے ایک پیکٹ اس کی جانب بڑھاتے ایک نیا حکم جاری کیا تھا۔ جسمین حیرت سے دیکھتی خاموشی سے پیکٹ تھام چکی تھی۔ ’’آج سے تمہیں کوئی جاب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘آج وہ اسے پے در پے شاک پر شاک درہی تھیں۔ ’’سُن لیا!تمھیں مجھے شارپ 8:30 پر تیار ملنا ہے۔۔‘‘نانی کی ٹائمنگ پر اس کے دماغ میں کسی کے لفظ گونجنے لگے تھے۔ ’’اوکےگرینڈمام!‘‘وہ مریل سی آواز میں لب چباتی پیکٹ ہاتھ میں تھامے واپس پلٹ گئی تھی۔دماغ میں کسی کی تنبیہ آواز بھی باز گشت کرنے لگی تھی۔۔مگر فی الحال وہ خاموش تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مینشن میں موجودبہزاد اس وقت ُنک سُک سے تیار جسمین کے ساتھ ڈیٹ پہ جانے کے لئے بالکل ریڈی تھا۔بلیک پینٹ کے ساتھ سیاہ ہم رنگ کوٹ اور وائٹ شرٹ پہنے سلیقے سے بال بنائے خوشبوؤں میں بسا وجود لئے وہ ہمیشہ کی طرح دلکش اور حسین لگ رہا تھا۔سبز آنکھوں کی چمک ہی نرِالی تھی۔وہ آج اس دِلُربا کو ہر قیمت پہ اپنا بنانے کا ارادہ رکھتا تھا، جو پہلی ہی نظر میں اُس کے دل کے تار چھیڑ چکی تھی۔۔۔ کوٹ جھٹک کر کھڑا ہوتا مینشن کی ساری بتیاں بُجھاتا وہ کسی کو کال پر کچھ ضروری ہدایات کرتا لیٹیسٹ ماڈل ٹو سییٹر کار کی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتا اپنے راستے کی جانب گامزن تھا۔۔۔لندن کی خوبصورت برف سے ڈھکی شاہراہیں آج لائٹوں سے جگمگ کرتی مزید حسین لگ رہی تھی۔ اپنی منزل پر پہنچتاوہ کار، پارک کرتاگھر کےآندرونی حصہٰ کی جانب بڑھا تھا۔۔اور مقابل کے ایکسپریشن سوچ چہرے پر مبہم سی مسکراہٹ کھل گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلڈ ریڈ کلر کا گاؤن شانوں پر ڈالتی وہ آئینے کے سامنے کھڑی خود کو تک رہی تھی۔وہ بلا کی حسین،بالکل اپنی ماں جیسی تھی۔خوبصورت، دلکش،سحر انگیز،جبھی تو اس کی ماں اس کے باپ کو پہلی نظر میں اپنا دیوانہ کر چکی تھی۔مگر گہری نیلی سمندری آنکھوں میں اُمید کی شمع بجُھی بجھُی سی تھی۔جاب زندگی کی واحد خوبصورت لمحات میں سے تھی۔جیسے نانی بیدردی سے چھین چکی تھیں۔۔اپنے سنہری بالوں میں کیچر لگاتی وہ اپنے حواس گُمُ ہوتے محسوس کر رہی تھی۔۔۔ دِل کسی انہونی کے خدشے سے تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔ جبھی جویریہ کی آواز پر وہ چونک کر ہوش میں آئی تھی۔تہ خانے کی سیڑھیوں پر کھڑی وہ اُسے ہی ُپکار رہی تھی۔ ’’کیا تم تیار ہو؟‘‘وہ ٹرانس میں ہولے سے اثبات میں سر ہلا گئی۔ ’’آجاؤ!میڈم تمہیں اُپر بلا رہی ہیں۔‘‘وہ اسے ایک نظر دیکھتی اُپر چلی گئی تھی۔۔وہ بھی بوجھل دل سے ُاپر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’وئیر از شی؟ وی آر گیٹنگ لیٹ لیڈی!‘‘ بہزاد کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھتازرا بیزاری سے گویا ہوا تھا۔وہ گڑبڑا کر اٹھی تھی۔۔اتنے میں نظر سامنے سے آتی جسمین سے ٹکرائی تھی۔جو سوچوں میں گُم زمین کو دیکھتی چلی آرہی تھی۔۔وہ اسے دیکھ ٹھر سی گئی تھیں۔۔حلق سےگلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی تھی۔۔بہزاد کی پیاسی نگاہیں تو اس کے حسین چہرے پر پڑتے ہی پلٹ کر واپس آنا بھول گئی تھیں۔وہ اپنی دھن میں قدم اُٹھاتا اس کے نزدیک چلا آیا تھا۔۔۔ وہ جو صدمے کی سی کیفیت سے دوچار تھی،سہم کر ٹھر گئی تھی۔۔بوٹوں پہ سے ہوتی نگاہ مُقابل کے لبوں سے ہوتی نگاہوں سے جا ملی تھی۔۔۔۔ ’’وہ مقابل کھڑے شخص کو دیکھ سہم سی گئی تھی۔۔بے یقین سی نگاہیں نانی کی نظرں سے جاملی تھیں۔۔جو گڑ بڑا کر نگاہیں چرُاگئی تھیں۔۔ جبکہ وہ ٹرانس میں اپنی تشنہ نگاہوں کی پیاس بجھُانے میں مصروف بے خودی سے نہارنے میں مصروف تھا۔۔ ’’ بہزاد ڈئیر جسمین آچکی ہے۔۔۔آئی تھنک آپ لوگوں کو لیٹ ہورہا ہوگا۔‘‘ وہ قریب آتیں شریں لہجے میں بولی تھیں۔جسمین کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسل گیا تھا۔ ’’گرینڈ مام!‘‘لبوں نے بے آواز سر گوشی کی تھی۔ ’’چلیں ہنی!شاید تم بھول رہی ہو۔۔۔آج ہمیں ڈیٹ پہ جانا تھا۔‘‘وہ اس کی کمر کے گرد حصار قائم کرتا ایک جھٹکے سے اپنی قید میں لے گیا۔۔وہ حواس باختہ ہوئی۔ ’’نانو!میں نہیں جانا چاہتی۔۔۔‘‘وہ بل آخر آنسوؤں سے رو پڑی تھی۔ ’’شش ہنی! رونا نہیں ہے میری جان۔۔۔اب سے تم نے صرف مسکرانا ہے۔اوکے!‘‘وہ دھیرے سے مسکرایا تھا۔ اور جھک کر اُس کے آنسو لبوں سے چنُتا وہ ان فسوں خیز لمحات کو انمول بنا گیا تھا۔۔۔جو حیرت سے پوری آنکھیں کھولے اس کی بےباکی دیکھ کر رہ گئی تھی۔ ’’تھینکیو لیڈی!! وہ گرینڈ مام سے اس قدر فرینک آنداز میں بات کر رہا تھا۔۔۔جسمین کا دل ڈر کے مارے سُکڑ کر رہ گیا۔۔جو کسی پتھر کے مجسمے کی مانند اس کے ساتھ کھینچی چلی جارہی تھی۔ وہ گھر سے باہر آگئے تھے۔۔ایمرے اور جویریہ کو ایک الوداعی نظر سے نوازتا وہ مجسمہ بنی جسمین کو ایک جھٹکے سے اپنے حصار میں اُٹھا چکا تھا۔۔وہ چونک کر ہوش میں آئی،جو اپنی کار کی جانب بڑھتا سبز کنچے جیسی نگاہیں اس کے دلکش چہرے پر جمائے کھڑا تھا۔۔۔ وہ اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتاخود بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔ ’’مجھے اپنے گھر جانا ہے۔۔میں
