Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 07
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
14 Views
Episode No 07
کوئی جگہ تھی۔۔وہاں کے کئی مقامی انسان بھی اسے جنگلی ہی نظر آتے تھے۔جبھی وہ ہر وقت خوفزدہ سی بس بہزاد سے چپکی رہتی تھی۔ ’’اب ہم کہاں جارہے ہیں؟‘‘بہزاد سکون سے بیٹھا تھا۔۔پائلیٹ سموتھلی کوپٹر اڑا رہا تھا۔۔سب کچھ اچھا تھا۔پر سکون مگر پھر بھی اس کا دل بے چین تھا۔ ’’تمہارے سُسرال۔‘‘وہ شرارتً بولا تھا۔جبکہ اردو اس کے سر سے گزر گئی تھی۔ ’’کیا تم مجھ سے ابھی بھی شادی کا ارادہ رکھتے ہو؟‘‘اسے لگا تھا اب وہ بولے گا نہیں۔بھلا ساری زندگی کی کمٹمنٹ کرنا کوئی آسان بات تھی۔۔۔۔ ’’تم اتنی بے یقین کیوں ہو بےبی؟‘‘ وہ اسے خود پر گراتا اُس کی زلفوں کے جال میں اپنا چہرہ اُلجھا چکا تھا۔۔۔ ’’کیونکہ المیرا کے بوائی فرینڈ نے اسے ڈیٹ کرنے کے بعد چھوڑ دیا تھا۔‘‘وہ نارمل آنداز میں بولی تھی۔۔۔۔۔ ’’مگر میں بہزاد رضوی ہوں۔۔اپنی زبان کا پکاّ۔۔سو ٹیک آٹ ایزی ڈارلنگ!اب ہم لینڈنگ کرتے ہی سب سے پہلے یہ نیک کام سر انجام دیں گے۔‘‘وہ اُس کی لٹوں کو اپنی انگلی پر گھماتا مزے سے بولا تھا۔ ’’رئیلی!‘‘وہ ایکسائیٹد ہوئی تھی۔ ’’یس!‘‘وہ اُس کے مشرقی ٹچ والے مغربی نقوش میں کھویا ہوا تھا۔۔۔جبکہ وہ سرشار سی خود کو ہواؤں میں محسوس کر رہی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں لندن آئےچار روز گزر چکے تھے مگر انہیں جسمین کا کوئی سوراغ نہ پتہ چل سکا تھا۔آج وہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے کافی شاپ پر پہنچے تھے۔۔جہاں جسمین جاب کرتی تھی۔ ’’کیا آپ اس لڑکی کو جانتی ہیں؟‘‘وہ کاؤنٹر پرجسمین کی تصویر دیکھاتے بڑی آس سے بولے تھے۔ ’’اوہ جسمین!کیا اس لڑکی پر تمہارا بھی دل آگیا ہے اولڈ مین۔‘‘ مائیکل جو وہیں موجود تھا،کاؤنٹر گرل کے جواب دینے سے قبل ہی روشن اسکرین پر نظر آتا جسمین کا چہرہ دیکھ معنی خیزی سے بولا۔ ’’شٹ اپ!شی از مائی ڈاٹر!‘‘شہروز صاحب باآواز دھاڑے تھے۔مائیکل ایک سیکنڈ میں سیدھا ہوا تھا۔ ’’ویٹ آمنٹ!ہو آر یو؟جسمین اپنی گرینڈ مام کے ساتھ رہتی تھی۔‘‘وہ سوالیہ لہجے میں بولا۔۔شہروزصاحب اپنی بیٹی کا زکر اس شخص سے سُن اچھے خاصے متذبذب ہوگئے تھے۔ ’’تم کیسے جانتے ہو اس کے بارے میں؟‘‘وہ مشکوک ہوئے۔ ’’ہو۔۔۔ڈانٹ وری مین۔۔یہ میرے بیسٹ بڈی کی گرل فرینڈ ہے۔۔میں تو دیکھتا تک نہیں۔‘‘وہ کمینگی سے مسکرایا تھا۔ان کا خون کھول گیا۔مگر ضبط ضروری تھا۔ ’’یہ میری بیٹی ہے۔۔میں اس کی تلاش میں ہوں۔کیا تم مجھے بتا سکتے ہو یہ اس وقت کہاں ہے؟‘‘ وہ خود پر جبر کئے متوازن لہجے میں گویا ہوئے تھے۔ ’’امم!یہ میرے دوست بہزاد کے ساتھ ڈیٹ پر ہے۔۔‘‘وہ جسمین کے فادر کا سُن اچھا خاصہ شاکڈ میں آیا تھا۔ ’’ویسے یہ بات آپ اُس کی گرینڈ مام سے کیوں نہہیں پوچھتے۔‘‘مائیکل نے آئی بروز اُٹھائے۔ ’’کیا تم مجھے اپنے اس دوست کا نمبر دے سکتے ہو؟‘‘ وہ اپنے دلی کیفیت پر قابوں کرتے بڑی دکت سے بولے تھے۔ ’’اہمم نہیں!کیونکہ میں اس عمر میں مرنا نہیں چاہتا۔‘‘شہروز نے جبڑے بھینچےاور جیب میں ہاتھ ڈالا اور جتنے پاؤنڈزvہاتھ میں آئے۔وہ سب نکال کر اس کے سامنے رکھےجو کمینگی سے مسکرایا۔ ’’رشوت!آپ لوگوں کا پرانا حربہ۔۔گڈ ون،مگر پھر بھی نہیں۔‘‘وہ مسکرایا۔۔اسے پتہ تھا ابھی مزیدکی گنجائش ہے۔ ’’یہ بھی نہیں!اس بار شہروز نے چند بڑے نوٹ پیش کئے تھے۔اب وہ نرمی سے مسکراتا نوٹ تھام گیا۔ ’’اب بتاؤ۔یہ لڑکا کہاں ہے۔اور میری بیٹی کتنے دن سے اس کے پاس ہے۔‘‘وہ خود پر انتہائی جبرکئے بولے تھے۔ ’’یہ اس کا نمبر ہے،اور آج کل وہ اپنی سویٹی اوہ آئی مین آپ کی بیٹی کے ساتھ ڈیٹ پر ہے۔‘‘وہ چند نوٹ اُٹھاتا وہاں سے نکلا تھا۔۔شہروز نے بھی تیزی سے اس کی ہمراہی میں باہر کی جانب قدم اُٹھائے تھے۔۔ وہ دونوں ہی آگے پیچھے باہر آئے تھے۔۔لندن میں رات ہوتے ہی زندگی کی رفتار تیز ہوگئی تھی۔ایسے میں بار کے عین سامنے دو گورے نو عمر لڑکے کسی وجہ سے بحث و مباحثہ میں مصروف تھے۔مائیکل تو پول سے ٹیک لگاتا منظر انجوائے کرنے لگا تھا۔جو اب ہاتھ پائی پر اُتر آئے تھے۔ساتھ ہی منی اسکٹ میں موجود دو گوری لڑکیاں بھی زبانی کلامی بدفعالیں کرنے میں مشغول تھیں،جبکہ شہروز نے تاسفی آنداز میں دیکھ قدم آگے بڑھائے تھے۔لندن کی رنگین شاموں میں حسن کے پیچھے اس طرح کے جھگڑے عام بات تھی۔ ’’سر آپ کو معلوم ہے یہ بلیک ڈریس والی لڑکی کون ہے؟‘‘عقب سے اُبھرتی مائک کی آواز پر وہ چونک کرٹھرے۔ ’’نہیں!‘‘وہ ناسمجھی سے بولے تھے۔ ’’بہزاد کی ایکس گرل فرینڈ ہے۔جس کو بی نے جسمین وکٹوریہ کی وجہ سے چُھوڑ ا ہے۔اور بھی بہت سی لڑکیاں ہیں،جو بہزاد کی منظورِ نظر رہ چکی ہیں۔وہ اپنی بہت سی گرل فرینڈز کے ساتھ کافی عرصہ ریلیشن میں رہا ہے۔۔اور آج کل آپ کی بیٹی کے ساتھ ہے اولڈ مین۔‘‘وہ معنی خیزی سے آنکھیں گھوماتا شہروز کا ضبط آزمانے پر تُلا تھا۔ ’’میرا اور تمہارا ہم دونوں کا کام ہوگیا ہے ینگ مین۔۔۔اب بہتر ہے تم اپنا راستہ لو۔‘‘ وہ سختی سے بولتے لمحوں میں اسٹیشن سے بس پکڑتے لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہوگئے تھے۔۔سیٹی کی دھن پر گنگناتا مائیکل گھوما تو نظر انہی دونوں لڑکوں پر گئی تھی۔۔جو ایک دوسرے کی اچھی خاصی مرامت کرنے کے بعد اپنی اپنی گرل فرینڈز کو کندھے پر اُٹھاتے وہاں سے نکل گئے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔
