Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 07
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
14 Views
Episode No 07
Rebellious Love By Huma Qureshi Episode No 07 آتش دان میں جلتی آگ خوب دہک رہی تھی۔۔ایمرے کے عین سامنے اپنا سر تھامے بیٹھے شہروز شدید رنج میں مبتلہ تھا۔۔جبکہ وہ بے حسی کی عملی تفسیر بنی رخ پھیرے بیٹھی ہر شے سے بے نیاز نظر آرہی تھی۔۔ ’’کیا آپ کو ایک بار بھی زرا خیال نہیں آیا ۔میری معصوم سی بچی کا۔‘‘ان کا چہرہ آنسو ؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ ’’دیکھو میں تمہیں بتا چکی ہوں۔۔ جسمین تمہاری نہیں ایوا کے بوائی فرینڈ کی اولاد ہے۔۔تمہارے جانے کے بعد اس کی ایک نئے لڑکے سے دوستی ہوگئی تھی۔۔ہاں میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا۔۔‘‘وہ جس آنداز میں بولی تھیں شہروز کے دل پر چھریاں چل گئیں تھیں۔ ’’ڈانٹ سئے آ سنگل ورڈ اگینسٹ مائی وائف اینڈ ڈاٹر لیڈی!اور فوراً حقیقت بتا دیں۔۔ورنہ میں اتنے سال تک چائلڈ ابیوز اور ہراسمنٹ کا کیس کرونگا آپ پر۔‘‘شہروز تو پہلے ہی حیرت کی انتہاؤں کو چھو رہے تھے کہ آگر یہ اتنی ظالم تھیں تو ان کی بیٹی نے کبھی ان کی روپورٹ کیوں درج نہ کروائی تھی۔۔اور وہ تھیں کہ ذرا پشمانی نہیں تھی۔۔ ’’اور رئیلی مسٹر شہروز!کیا ثبوت ہے آپ کے پاس کہ وہ آپ کی بیٹی ہے؟‘‘وہ طنزیہ لہجے میں بولیں تھیں۔شہروز کو اپنا دماغ گھومتا محسوس ہوا تھا۔۔ ’’دیکھیں پلیز ایوا آپ سے بہت محبت کرتی تھی۔اور میں ایوا سے۔ میں جانتا ہوں آپ کبھی ایوا کی اولاد کو تکلیف نہیں دے سکتیں۔آپ بس مجھے ازیت میں مبتلہ کرنے کے لئے جھوٹ کا سہارا لے رہی ہیں۔۔بس اب مجھے میری بیٹی کے بارے میں بتا دیں۔‘‘وہ تھک گئے تھے۔ ’’نو نیور!میں نے بھی تمہاری بیٹی کو تم سے اتنا ہی دور کردیا ہے۔جتنا تم نے مجھے میری بیٹی سے کیا تھا۔‘‘بلآخر ایک ماں کی ممتا بول ُاٹھی تھی۔ ’’آئیم رئیلی سوری!آئی اپولجائز!‘‘وہ نادم سے سر جھکا گئے۔ ’’جب جسمین پیدا ہوئی تو ایوا نے تمہیں بہت پکارا تھا۔۔میری بچی بہت اذیت میں تھی۔تمہاری خاطر اس نے اپنا مذہب تک تبدیل کرلیا تھا۔مگر تم نہیں آئے۔"وہ تاسفی انداز میں بولتیں برہم ہوئیں۔ ’’میں چاہ کربھی جیسمین کو تکلیف نہ پہنچا سکی۔مگر اب وہ جہاں کہیں بھی ہے یہ تمہارا مسلہ نہیں ہے۔‘‘وہ سفاکی سے بولیں تھیں۔ ’’وہاٹ!کیا کہ رہی ہیں آپ۔میری بیٹی میرا مسلہ نہیں ہے۔‘‘وہ جیسے حیران ہوئے تھے۔۔ ’’مرتے وقت ایوا نے مجھ سے جسمین کی پرورش کا وعدہ لیا تھا۔۔ورنہ میں تمہاری بیٹی تمہارے حوالے ضرور کرتی۔‘‘وہ زہر خند لہجے میں بولیں تھیں۔ ’’تو اب کردیں۔‘‘وہ ناراض ہوئے۔ ’’تمہیں یاد ہوگا۔۔ایوا کی ایک دوست تھی جو تمہاری طرح مسلمان ہی تھی۔‘‘انہونے طنز کیا تھا۔ ’’جی تھی تو!‘‘وہ سمجھے نہیں۔ ’’میری بیٹی کے دماغ میں اسی نے خرافات ڈالیں تھیں۔کہ تمہارے مشرق میں چائلڈ میرج بہت کومن ہے۔اور لیگل میرج ایج کے بعد وہ ساتھ رہ سکتے ہیں سو ایوا نے جسمین کو تمہاری اسی مسلم دوست کے بیٹے سے نکاح میں باندھ دیا تھا۔‘‘وہ ایسے بولیں تھیں۔جیسے بڑی ہی کوئی انوکھی بات تھی۔۔جبکہ لندن ،امریکا ہر جگہ ہی اٹھارہ سال کی عمر سے قبل شادی ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ ’’تو پھر آپ نے میری بچی کو کن ہاتھوں میں سونپ دیا ہے۔‘‘سوچ سوچ کر ان کا دل ہولا جارہا تھا۔ ’’تمہاری بیٹی اپنی مرضی سے اپنے بوائی فرینڈ کے ساتھ گئی ہے۔اور فکر نہیں کرو۔۔وہ لڑکا مسلم ہی ہے۔‘‘شہروز صاحب نے سر تھام لیا تھا۔۔وہ بات کی گہرائی سمجھنے سے قاصر تھیں۔ ’’کیا آپ مجھے اس لڑکے کا نمبر دے سکتی ہیں؟‘‘ وہ لہجے میں بے حد آس سمو کر بولے تھے۔ ’’ضرور مگر وہ لندن چھوڑ کر جاچکا ہے، تو میرا نہیں خیال کہ یہ تمہاری کچھ مدد کر سکے گا۔‘‘ادائے بے نیازی عروج پر تھی۔ ’’کاش کہ میں کسی بھی طرح اپنی بیٹی کو اپنے پاس لا سکتا۔‘‘وہ غم سے چور لہجے میں بڑبڑائے تھے۔ ’’تم اچھا خاصہ میرا وقت برباد کر چکے ہے۔ تمہاری بیٹی اپنی مرضی سے اپنے بوائی فرینڈ کے ساتھ گئی ہے۔اور یہ بات اس کے سب فرینڈز جانتے ہیں۔تمہارا کیس کمزور ہے ۔‘‘وہ جیسے اس کی شکست پر مسکرائیں تھیں۔جبکہ وہ مزید کوئی بات کئے بغیر وہاں سے نکل آئے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہاڑوں سے بہتے جھرنے،شفاف پانی ہریالی سے بھرپور میدان،تازہ جنگلی پھلوں سے لدے اونچے قد آور درخت اور گھنے جنگل کے باعث سورج کی ٹھنڈی نرم کرنیں ،وہ دونوں اس وقت پہاڑ سے بہتے جھرنے کے پاس پڑے بڑے پتھروں پہ بیٹھے اس شام سے لطف آندوز ہورہے تھے۔جبھی بہزاد کو شرارت سُوجھی تھی اور اپنا بدلہ بھی یاد آیا تھا۔ ’’ ڈارلنگ یہاں دیکھنا!‘‘‘وہ اس کا چہرہ پکڑتا اس کا گال سُرخ کرگیا،جبکہ وہ جو خوفزدہ سی بیٹھی تھی اس کی بے باک حرکت پر وہ مزید خوفزدہ ہوگئی تھی۔ ’’یہ کیا حرکت تھی۔‘‘وہ سہمے لہجے میں بولی تھی۔ آٹس کالڈ ریوینج بے بی!‘‘ وہ ایک بار پھر اپنا سابقہ عمل دُہراتا اسے بوکھلا گیا۔ ’’چلو واپس چلتے ہیں۔کل ہم یہاں سے آگے جائیں گے۔‘‘جب وہ منظر مزید بیزار کرنے لگا تو وہ اُسے گود میں اُٹھاتا اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ’’میں خود چل سکتی ہوں۔‘‘ناکام سی مزاحمت۔ ’’ بے بی تم جتنی دیر چلنے میں لگاؤگی رات ہوجائے گی۔۔اور میں آج رات کا پلین اور موڈ ان جھاڑ جھنکار کی وجہ سے اسپائل نہیں کرنا چاہتا۔‘‘وہ ذو معنی آنداز میں بولا تھا۔جبکہ جسمین ہمت مجتمع کئے اس کا گال چومتی کھلکھلائی تھی۔شام ڈھل رہی تھی۔۔وہ اسی بورڈ میں بیٹھے واپسی کے راستے کی جانب گامزن تھے۔ ’’اوہ بہزاد دیکھو ڈولفن!‘‘وہ یونہی خاموش بیٹھے تھے جبھی پانی سے سر باہر نکالتی شے کو دیکھ وہ خوشی سے چیخ اُٹھی تھی۔ ’’وہ بھی پنک ڈولفن کو دیکھ زرا دیکھنے کے لئے نزدیک جھکا تھا۔۔جو انتہا کی خوبصورت تھی۔یہ گلابی ڈولفن ایمازون کے دریاؤں میں فریش پانی میں ہی پائی جاتی ہے۔۔یہ دنیا کی نایاب ترین نسل ہے۔ ’’یہ کتنی پیاری ہے۔‘‘وہ اس کی سوفٹ سی جسامت دیکھ لمحوں میں فدا ہوئی تھی۔ ’’ہے ناں!بالکل ان کی طرح!‘‘وہ اسے اپنی جانب کھینچتا اُس کے چہرے کا گلابی پن ،سُرخیوں میں تبدیل کرتا اب دور ہوکر بیٹھ گیا تھا۔۔جو ایک خفا نگاہ ڈالتی ڈولفن کو دیکھنے میں محو تھئ۔۔جبکہ بہزاد کا دماغ تو کہیں اور ہی پہنچا ہوا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تھکے قدموں اپنے ہوٹل واپس لوٹ آئے تھے۔ زہن پر ایک بوجھ سا تھا۔بیوی اور پھر بیٹی کی جدائی نے انہیں صدیوں کا بیمار کر دیا تھا۔ ’’کہاں ہو تم میری بچی!‘‘وہ خود ساختہ قیاس کر گئے تھے۔جبھی ان کا موبائل بج اُٹھا تھا۔ ’’ہیلو!‘‘آواز میں زمانوں کی تھکن تھی۔ ’’لوٹ آئیں شہروزصاحب!ماضی میں کچھ نہیں رکھا۔۔وقت کئی سالوں آگے پہنچ چکا ہے۔۔ آپ وقت کو نہیں پلٹ سکتے۔لوٹ آئیں کہ اس سے قبل آپ ہم دونوں کو بھی کھو دیں۔‘‘کال تو نہیں البتہ وائس نوٹ سُن کر انہیں فضا بوجھل ہوتی محسوس ہوئی تھی۔وہ ایکدم سے کھڑے ہوتے فریش ہوا میں سانس لینے کے لئے روم بالکنی میں آگئے تھے۔ ’’وہ اپنی تمام ریسورسز لگا چکے تھے۔مگر پرانے لوگ وقت کے ساتھ آگے بڑھ گئے تھے۔۔شہروز اور ایوا کی محبت اب صرف قصے کہانیوں تک محدود رہ گئی تھی۔وہ ایک بار اپنی اولاد کو اپنی نظر کے سامنے دیکھنا چاہتے تھے۔۔مگر شاید قسمت سالوں پہلے کی طرح ایک بار پھر ان سے روٹھ گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایمازون کے جنگل میں تین روزہ قیام کے بعد اپنے پرائیویٹ کوپٹر کے زریعہ اب اپنی اگلی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔۔جسمین نے اس جنگل کو خیر آباد کہتے سکون کا سانس خارج کیا تھا۔بھلا وہ بھی
