Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/10/2025
15 Views
Episode No 06
ہو رہی تھی۔۔ ’’پریوں جیسے حُسن سے آراستہ اُس مغربی دوشیزہ کا عشق مذہب کی آڑ میں ڈالی گئی بیڑیوں کی نذر کر بُری طرح روند دیا گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کہاں لے جارہے ہو مجھے؟‘‘وہ منہ بناتی لانگ بوٹ میں مقید پاؤں بامشکل اٹھا رہی تھی۔۔ہر طرف جنگل کا ایک وسیع حصہٰ پھیلا ہوا تھا۔۔وہ سب ٹورسٹ کی ہمراہی میں سیف روٹ کا انتخاب کرتے پھونک پھونک کر قدم رکھ رکھے تھے۔۔اب تو جیسے ہر سو حشرات الارض کی رینگنے اور پھنکارنے کی آوازیں سماعتوں سے ٹکرراتی مزید خوفزدہ کئے دے رہی تھیں۔۔یہ شخص واقعی سنکی تھا۔۔ ڈیٹ کے نام پرا س نے کیا کچھ نہ سوچ رکھا تھا۔۔مگر وہ۔۔۔۔ ’’کیا سوچ رہی ہو بے بی!‘‘وہ اسے گم سا دیکھ اسے کمر سے تھامتا اس کی پشت ایک پیڑ سے لگاتا اپنی سیاہ آنکھیں اس کی روشن نیلی آنکھوں میں ڈالتا سوالیہ بولا۔ ’’سوچ رہی ہوں۔۔بھلا ایسی بھی کوئی ڈیٹ ہوتی ہے۔جہاں میرا دل خوف سے باہر آنے کو ہے۔‘‘وہ منہ ناک چڑھاتی زرا لب چبا کر بولی۔۔جبکہ وہ جھکا تھا اور تیزی سے شرارت کرتا اسے بوکھلا گیا۔ ’’رومانس جھاڑنے کے لئے کیا تمہیں یہ جھاڑ ہی نظر آتے ہیں بس۔‘‘وہ رات کو اس کا الگ میٹرس پر سونا ابھی تک بھولی نہیں تھی۔ ’’بے بی میں نیچر لور بندہ ہوں۔۔اس دنیا کی ہر خوبصورت اور دلکش تخلیق پر میرا دل آجاتا ہے۔۔اور اللہ کی خوبصورت ترین تخلیق میں سے ایک تخلیق یہ جنگل اور دوسری تم ہو۔۔تو میں کیوں اپنی من پسند جگہ پر اپنا من نہ بہلاؤں۔‘‘وہ بے باک لہجے میں قیاس کرتا اس کے تنے ہوئے نقوش میں کھونے لگا تھا۔۔ ’’اسٹے اوئے فارم می!تم انتہا کے ان رومینٹک انسان ہو۔۔میری اسکول فرینڈ تھی لیرا۔۔اس کا بوئی فرینڈ اتنا رومینٹک تھا ناں افف!بالکل لو اسٹوریز جیسا۔۔۔کسی فینٹسی ورلڈ کے ہیرو جیسا۔۔جو صرف اپنی شہزادی کا تھا۔۔اور اس کی اتنی کئیر کرتا ہے کہ افف!‘‘وہ تصورات میں کھوئی نجانے اور بھی کیا کچھ کہنے لگی تھی کہ وہ اس کے لبوں سے لفظ چھین گیا تھا۔۔ ’’تھوڑا سا صبر کرو بے بی۔۔تم تو مجھ سے بھی زیادہ شدت پسند ہو۔۔‘‘ وہ اس کا چہرہ ہولے سے تھپتھپاتا ہوا فاصلے پر گیا تھا۔۔جو اسے گھور کر رہ گئی تھی۔۔ ’’شٹ اپ!‘‘اس کے گھورنے پر وہ تیزی سے نزدیک آتا ایک پیار بھری شرارت کرتا اسے تلملانے پر مجبور کر گیا۔۔۔جو اس کے بال جکڑنا چاہ رہی تھی۔۔ "بہزاد۔۔۔وہ اسے قابوں کرتا اس کی ہر کوشش سرے سے ہی نكام بنا گیا۔جو اب خفا خفا سی ایک جگہ منجمد ہوئی کھڑی تھی۔۔۔ لیٹس گو!‘‘اس کا ہاتھ سختی سے تھامتا اب وہ اپنی منزل کی جانب بڑھے تھے۔۔جو موقع ملتے ہی تیزی سے اپنا بدلہ اس کاگال اپنے تیز دانتوں کی مدد سے سرخ کر کے لے چکی تھی۔جس نے محض گھورنے پر اکتفا کیا تھا۔مگر وہ جلد اس حرکت کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیری زلفیں ہیں کہ شب کی سیاہی جاناں تو جو لٹ سنوار لے تو میں دل ہار جاؤں وہ دونوں اس وقت بوٹ میں موجود ایمازون کے جنگل میں سے نکلتی جھیل کو کراس کر رہے تھے۔۔ہر سو پھيلے قدرت کے دلکش نظارے آنکھوں کو سحر آنگیز کر رہے تھے۔۔ گنجان جنگل اور پہاڑوں کے دامن سے بہتی جھیل سینکڑوں اونچے ہیبت ناک پیڑوں کا گھنا سایہ چیرتی ایک الگ ہی حسین جگہ پر نکل آئی تھی۔۔وہ دونوں اس بوٹ میں اکیلے تھے۔ بہزاد لیٹنے کے سے آنداز میں بیٹھا تھا جبکہ وہ منظر میں کھوئی کھوئی سی بس اِرد گرد کو تکتی ہر خوف کو بھلا گئی تھی۔۔درحقیقت یہ منظر جس قدر دلفریب تھا ۔اتنا ہی خوفناک بھی تھا۔۔۔سوا نیزے پر چڑھا سورج ڈھل گیا تھا۔۔اب ہر سو اَبر اَبر سا تھا۔۔جنگلی جانواروں کی آوازیں،پیڑوں پر لٹکتے جنگلی بندر،اور زمین پر رینگتے کیڑے مکوڑے جسمین نے یکدم گڑبڑا کر جھر جھرُی سی لی تھی۔۔ ’’بہزاد شام ہونے والی ہے ہم گھر کب جائیں گے؟‘‘وہ لب چباتی اس کی جانب متوجہ ہوئی۔جو چہرے پر شرارتی مسکان سجائے اُسے ہی گھور رہا تھا۔ ’’آئی تھنک بے بی آپ بھول گئیں ہیں۔۔ہم یہاں گھومنے آئے ہیں۔سو آج کی رات تو اس جنگل کے نام۔‘‘ وہ چپو کی مدد سے کشتی کا رُخ کنارے کی جانب موڑتا اِسے ٹینشن میں ڈال چکا تھا۔جبکہ آبی حیات کو دیکھ جیسمین کا دم پہلے ہی خشک تھا۔ ’’کیا!آر یو سیریس۔۔ہم آج رات اس جنگل میں گزاریں گے۔۔‘‘وہ کشتی کو کنارے سے لگاتا اُس کا ہاتھ تھام کر سنبھل کر زمین پر آئے تھے۔ ’’یس بے بئ!‘‘اس کا گال ہولے سے تھپتھاتا وہ قدم آگئے بڑھا گیا تھا۔۔ ’’بہزاد پلیز واپس چلتے ہیں۔۔۔مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے کچھ غلط ہونے والا ہے۔۔گرینڈ مام پریشان ہونگی۔‘‘وہ یکدم گھبرا گئی تھی۔۔وہ جو لاپرواہ قدم آگے بڑھا رہا تھا۔۔یکدم ٹھرا تھا۔ ’’وہاٹ ڈویو مین بائی ڈیٹ!کیا میں تمہیں اتنا بیوقوف لگتا ہوں۔۔جو اتنا وقت اور پیسہ لگا کر یہاں آیا ہوں۔۔اور اب تمہاری سو کالڈگرینڈ مام کی فکر میں تمہیں واپس لے جاؤں گا۔‘‘وہ سیکنڈز میں خفا ہوتا تیز لہجے میں بولا تھا۔جسمین کا حلق تک خشک ہوگیا تھا۔۔جو سہم گئی تھی۔ ’’میرا مطلب تھا کہ مجھے یہاں ڈر لگ رہا ہے۔‘‘وہ اس کی ہمراہی میں قدم بڑھاتی سہمے سے لہجے میں بولی تھی۔ ’’جسٹ شٹ اپ!میں نے تم سے رائے نہیں مانگی ہے کہ تمہیں کیسا فیل ہورہا ہے۔‘‘وہ لمحوں میں اجنبی ہوگیا تھا۔۔جسمین کی آنکھوں میں پانی جما ہونے لگا تھا۔۔ ’’سوری!‘‘وہ لب چباتی دھیمی سی آواز میں بولی تھی۔۔دل میں بدگمانیاں پنجے گاڑنے لگی تھیں۔وہ یکدم دلبرداشت سی خاموشی سے قدم اُٹھانے لگی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
