Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 17/10/2025
15 Views
Episode No 06
Rebellious Love By Huma Qureshi Episode No 06 وہ سُست روی سے شہروز صاحب کا سامان پیک کر رہی تھیں۔ جن کی آج شام کی لندن کی فلائٹ تھی۔رومیلہ افسردہ سی اپنے باپ کے سینے سے لگی بیٹھی تھی۔۔وہ ان دونوں کو بھی ساتھ لے جانا چاہتے تھے مگر صنوبر بے رخی سے انکار کر چکی تھیں۔ ’’بابا آپ کب واپس آئیں گے۔‘‘وہ ناراض لہجے میں پوچھتی افسردہ دکھائی دے رہی تھی۔ ’’بس جلدی ہی۔۔۔میں وہاں آپ کی سسٹر کو لینے جارہا ہوں میرا بچہ۔‘‘وہ اس کا ماتھا چوم گئے۔۔صنوبر بیگم نے زخمی نگاہوں سے ان کی جانب دیکھا تھا جو نظریں چُرا گئے تھے۔۔۔۔ ’’مگر مجھے کوئی سسٹر نہیں چاہئے۔۔‘‘وہ اب اتنی بھی بچی نہ تھی کہ ان کے بہلانے پر سنبھل جاتی۔ ’’ایسے نہیں کہتے میرا بچہ۔۔دعا کرو کہ میں کامیاب ہوکر لیٹوں۔۔ورنہ تمہارا باپ مر جائے گا میری بچی۔۔‘‘وہ دکھ سے بولتے دونوں ہستیوں کے دل پر چھریاں چلا گئے تھے۔۔ ’’ایسے نہ بولیں بابا۔۔ورنہ میں آپ کو کہیں نہیں جانے دونگی۔‘‘وہ باقاعدہ رونے لگی تھئ۔ ’’رہنے دو رومیلا۔۔تمہارے باپ کو بس اپنی پہلی بیوی اور بیٹی سے محبت ہے۔ان کی زندگی میں ہماری کوئی جگہ نہیں ہے۔۔ فضول میں آنسو نہ بہاؤ۔‘‘وہ اسے زبردستی ان کے سینے سے الگ کرتیں ناگواری سے بولی تھیں۔ ’’میں سمجھتا تھا کہ میرے دلی جذبات کو کوئی سمجھےیا نہ سمجھے۔۔مگر آپ مجھے مجھ سے زیادہ جانتی ہیں۔۔مگر میں غلط تھا۔‘‘وہ اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔انہیں ائیر پورٹ کے لئے نکلنا تھا۔۔ ’’گڑیا آپ باہر جاؤ۔۔ہم آتے ہیں۔‘‘وہ رومیلہ کو پیار کرتے اب باقاعددہ طور پر ان کی جانب متوجہ ہوئئے۔ ’’جانتا ہوں۔۔کہ میں نے تمہاری حق تلفی کی ہے۔۔دل دکھایا ہے تمہارا۔۔ہوسکے تھے تو مجھے معاف کردینا۔۔اب نجانے زندگی یہ موقع دے نہ دے۔۔میری بیٹی کا اور اپنا بہت خیال رکھئیے گا۔۔‘‘وہ اُن کی پیشانی پر پیار کرتے انہیں سنبھلنے کا موقع دئے بغیر روتا بلکتا چھوڑ اپنا سوٹ کیس اُٹھا کر روم سے باہر نکل گئے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں اس وقت روم میں موجود تھے۔۔جسمین بیڈ پر جبکہ بہزاد اپنا بستر لكڑی کی زمین پر ڈالتا آرام سے لیٹ گیا تھا۔۔جبکہ جسمین نے ہونقوں کی مانند اُس کا آندازہ دیکھا تھا جو اتنا بڑا بیڈ چھوڑ کر الگ لیٹا ہوا تھا۔۔ ’’تم یہاں لیٹ سکتے ہو۔‘‘اُس کے لئے یہ سب عجیب تھا۔ ’’ہمم!تم سو جاؤ۔میں یہاں کمفرٹیبل ہوں۔‘‘وہ آنکھیں موندتا مزید بات کرنے کا ارادہ ترک کر گیا۔۔جبکہ وہ لب چباتی آنکھیں موند گئی۔۔ وہ بظاہر آنکھیں بند کئے لیٹا ہوا تھا۔۔جبھی نگاہوں کے سامنے چھم سے وہ نظر گھوم گیا ۔جب وہ پہلی بار جسمین کی نانی سے ملا تھا۔۔اور پہلی ہی ملاقات میں اسے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ ایک انتہائی سفاک خاتون تھیں۔۔جن کے آگے بہزاد آگر ایک اچھا مثبت انسان بن کر جاتا تو وہ شاید کبھی جسمین کو اسے نہ سونپتی۔۔جبکہ بہزاد جیسے پلے بوئی لڑکے کے ساتھ جسمین کو ایک اچھی ہینڈ سم اماؤنٹ کے عوض سونپ چکی تھی۔۔ان کا مقصد پیسہ نہیں بس انتقام تھا۔۔جو وہ اس مسلمان کی اولاد کو ایک پلے بوئی بگڑے ہوئے لڑکے کے حوالے کر چکی تھیں۔۔جو پہلے سے ہی کسی اور کے نکاح میں تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا روشن سویرہ ہر سو پھیل کر اپنی روشن کرنیں بکھیر کر چکا تھا۔وہ لكڑی کے تختوں کی بنی بالکونی سے اس حسین منظر کو آنکھوں میں سموتی خود میں تازگی سی اُترتی محسوس کر رہی تھیں۔۔جبھی پیچھے سے آتے بہزاد نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔۔ ’’کیا دیکھ رہی ہو سویٹ ہارٹ!وہاں اور بھی ٹورسٹ موجود تھے۔ وہ مسکراتی ہوئی اس کی جانب گھومی۔ ’’یہ بہت پیاری جگہ ہے۔۔۔کیا تم سچ میں مجھ سے شادی کرو گے۔۔فادر اور گاڈ کے سامنے۔‘‘وہ مسکرا کر استفساریہ بولی۔۔۔اسے یہ سب کسی فیری ٹیل جیسا لگ رہا تھا۔۔جیسے ابھی آنکھ کھولے گی اور سب ختم ہوجائے گا۔ ’’کیا تم اُس بوٹ میں سفر کرنا چاہتی ہو۔‘‘وہ اس کی توجہ بھٹکا گیا۔ ’’ہاں مگر وہ بہت خطرناک ہے۔‘‘ پانی کی گہرائی یاد آتے ہی وہ کسی بلی کی مانند خوفزدہ ہوئی تھی۔ ’’میں ہوں ناں تمہارے ساتھ۔۔تو پھر کیسی فکر۔‘‘ وہ اس کی ناک دباتا محبت سے بولا۔تو وہ منہ لٹکا گئی۔ ’’آؤ بریک فاسٹ کرتے ہیں۔۔‘‘وہ اس کا ہاتھ تھامتا بریک فاسٹ ٹیبل تک آیا تھا۔جبکہ وہ خاموشی سے ایک چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کل رات کو لندن پہنچ گئے تھے۔۔شدید برف باری کے باعث ہر سو سفید چادر سی بچھی دکھائی دے رہی تھی۔۔ماحول انتہا کا دلفریب اور سحر انگیز تھا۔۔پاکٹ سے لائیٹر نکال کر سگار سلگایا تو زہن جیسے کسی پرانی بھولی بسری یاد میں کھو گیا تھا۔۔جب ایوا اور ان کی شادی کو محض دو ہی دن ہوئے تھے۔ ’’شہروز!وہ اس وقت وسٹرن ڈریس میں ہی ملبوس تھی۔۔مگر ڈریس مکمل تھا جو اس کے جسم کا کوئی بھی حصہٰ نمایا نہیں کر رہا تھا۔ ’’یس مائی لو!‘‘وہ اپنی محبت کو اپنے حصار میں لئے بے حد خوش تھے۔جوان کی خطر اپنی ماں سے بغاوت پر اُتر آئی تھی۔۔مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ ان دونوں کی اس بغاوت کا خمیزہ ان کی اولاد کو بھگتنا پڑے گا۔ ’’مام مجھ سے ناراض ہو گئیں ہیں۔۔وہ کہتی ہیں کہ تم مجھے چھوڑ دو گے۔تمہاری مسلم فیملی مجھے کبھی ایکسیپٹ نہیں کرے گی۔۔‘‘وہ زرا نروٹھے پن سے بولی تھی تو وہ ٹھر گئے تھے۔۔لندن کی سڑکوں پر محبت آپ رقص کر رہی تھی۔۔۔ ’’ایسا نہیں ہے یار!میں اپنے ماما بابا کا لاڈلا ہوں۔۔تم سے آگر شادی کی ہے تو نبھا کر بھی دکھاؤں گا۔‘‘وہ بے باکی سے اس کا گال چومتے اسے کھلکھلانے پر مجبور کر گئے۔ ’’ویسے میں نے سُنا ہے مشرق میں بہت حسن ہے۔‘‘وہ زرآنکھیں چندھیا کر بولی تھی۔۔اس کی نیلی آنکھوں میں محبت کا ایک جہاں آباد تھا۔ ’’سوچ لو ڈارلنگ!تم مجھے خود اُکسا رہی ہو کہ میں ایسٹ اور ویسٹ دونوں کو ضرور ٹیسٹ کروں۔‘‘اسے کمر سے تھامتا اپنے مقابل لایا تھا۔۔جو ایک پول کی آڑ میں دیوار سے ٹیک لگائیے کھڑی ہوگئی تھی۔ ’’ایسا ہوا تو پھر تم سوچ لینا میں وچ بننے میں زرا دیر نہیں لگاؤنگی۔‘‘وہ آنکھیں بڑی کئے گھور کر بولی۔ ’’وہ تو آپ الریڈی ہیں۔۔اس میں نیا کیا ہے۔‘‘اس کے گال سے اپنا گال مس کرتا وہ اپنی گرفت مضبوط کر گئے تھے۔ ’’اچھا بتائیں آپ کو میرے فیس میں سب سے زیادہ کونسا پارٹ پسند ہے ۔‘‘وہ اشتیاق آمیز لہجے میں گویا ہوئی تھئ۔ ’’اہمم!یار تمہارے یہ چکس!‘‘وہ شرارت سے اس کے گال پر بائٹ کرتا انہیں سُرخ کرگیا۔ ’’اوہ مین!ہر وقت وائلڈ مین کیوں بنے رہتے ہو۔۔‘‘وہ شدید سردی میں سرد سانسیں خارج کرتی ناراض ہوئی تھی۔ ’’کیونکہ تم اتنی سویٹ سی جو ہو۔۔دل کرتا ہے کچا چبا جاؤں۔۔‘‘وہ معنی خیزی سے آنکھ کا کونا دباتا دونوں ہاتھ دیوار پر دھرے اسے قید کرگیا۔۔جو اس کی محبت محسوس کرتی خود کو دنیا کی حسین لڑکی تصورکررہی تھی۔۔ ’’آہ۔۔۔۔"وہ ماضی میں کھوئے ہاتھ جلنے پر یکدم چونک اُٹھے تھے۔۔انگلیوں میں دبا سگار ختم ہوگیا تھا۔۔اور راکھ ہوا میں تحلیل ہو کر کہیں گم ہوگئی تھی۔۔جیسے خوبصورت ماضی ایک تلخ یاد بن کر رہ گیا تھا۔۔ ’’کاش کہ میں تمہیں اپنے ساتھ ہی لے گیا ہوتا۔۔‘‘اُن کا چہرہ ایک بار پھر آنسوؤں سے بھیگ گیا تھا۔۔جو صوفے پر ڈھنے کے آنداز میں گرے تھے۔۔۔نظروں کے سامنے ایوا کا حسین مکھڑا گھوم گیا تھا۔ُ انہوں نےجب سے لندن کی سر زمین پر قدم رکھا تھا ہر سو بس اپنی محبت کی خوشبو سی محسوس
