Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/10/2025
18 Views
Episode No 05
کے گال پر بوسہ دیتا اس کے آنسو پونچھ چکا تھا۔۔جیسے اب نجانے کیوں اس جگہ کے ساتھ ساتھ بہزاد سے بھی خوف آرہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سورج مکمل طور پر مغرب میں ڈوب چکا تھا۔۔جبکہ وہ دونوں ابھی تک جھیل کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔شکر تھا کہ وہ لانگ بوٹ پہن کر آئی تھی۔ورنہ اب تک تو شاید کسی گھاس پھوس میں ہی پیر اٹک کر زخمی جوچکا ہوتا۔۔ رات گہری ہوگئی تھی۔جنگل میں ہوکا عالم سا چھا گیا تھا۔اب ان کے ہاتھوں میں سرچ لائٹ موجود تھی۔۔جس کی مدد سے وہ جگہ کا تعین کرنے میں کامیاب رہے تھے۔جنگل میں گونجتی وحشرات کی خوفناک آواز مزید خوفزدہ کر رہی تھی۔۔ جسمین تو دن کے اُجالے میں ہی خوفزدہ ہوگئی تھی ،مگر جھیل میں چلتی بوٹ اور وہاں ہوتی انسانوں کی آمد ورفت دیکھ اس کی جان میں جان آئی تھی۔شکر تھا کہ وہ وہاں اکیلے نہیں تھے۔۔مگر جو بھی تھا یہ جگہ خطرناک تھی۔۔بہزاد بھی جلد از جلد اس کی ہمراہی میں ہٹ میں پہنچنا چاہتا تھا۔۔کیونکہ رات کا وقت تھا کوئی بھی جنگلی جانوار حملہ آور ہوسکتا تھا۔دن کے اُجالے میں ہی جسمین پیڑوں سے لٹکتے جنگلی بندروں اور عجیب و غریب قسم کی پانی کی بلیوں کو دیکھ اچھی خاصی خوفزدہ ہوگئی تھی۔۔۔۔ ’’بہزاد مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔وہ خوفزدہ سی لب چبا کر رہ گئی تھی۔جبکہ وہ اس کا ہاتھ تھامے تیز قدموں سے فاصلہ طے کر رہا تھا۔۔جو پیدل چلتی بُری طرح تھک چکی تھی۔جھیل میں اب بوٹ اور کوئی انسان دور دور تک بھی نہ نظر آرہا تھا۔۔البتہ چمکتی جھیل میں اسے بس ہر جگہ مگر مچھ کی کنچے جیسی آنکھیں سانس خشک کئے دے رہی تھیں۔ ’’ڈرو نہیں ۔۔میں ہوں۔۔اور اب ہم منزل کے بہت نزدیک ہیں۔۔سو ٹیک اٹ ایزی۔‘‘وہ اس کا ہاتھ سہلاتا بڑے ہی چوکس آنداز میں قدم اُٹھا رہا تھا۔۔ارد گرد ناریل کے قدامت درخت اورساتھ چلتا جھیل کا پانی۔۔۔دن میں یہ منظر جس قدر دلفریب تھا۔۔اب اتنا ہی وحشت ناک لگ رہا تھا۔وہ تیزی سے چل رہے تھے۔۔جبھی جسمین کی ہولناک آواز بلند ہوئی تھی۔۔ ’’کیا ہوا؟‘‘وہ سختی سے اس کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔۔مگر وہ مسلسل اپنی پیٹھ کھجا رہی تھی، ’’پلیز جلدی کچھ کرو۔۔۔مجھے لگتا ہے مجھ پر کوئی کیڑا رینگ رہا ہے۔‘‘ وہ کھجا کھجا کر باؤلی ہوئی جارہی تھی۔۔بہزاد نے تیزی سے اس کی پشت اپنی جانب موڑی تھئ۔۔اور کندھے سے شرٹ ہٹائی۔ ’’اوہ مائی گاڈ!یہ کیا چیز ہے۔۔‘‘وہ بہت ہی عجیب قسم کا کیڑا تھا۔جو اس نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔جسمین کی چیخوں سے ماحول تھرا اُٹھا تھا۔۔ ’’شش!شور نہ کرو۔۔ورنہ جنگلی جانوار بھی ہم پر حملہ آور ہوسکتے ہیں۔۔‘‘وہ بامشکل اسے سختی سے تھامتا کیڑے کو ہٹانے کی جدوجہد میں تھا۔۔جو شاید اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھا۔ ’’پلیز جلدی کرو۔۔میں مر جاؤنگی۔‘‘وہ آنسوؤں سے زارو زار رو رہی تھی۔۔بہزاد کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔۔بامشکل جیب سے لائیٹر نکال کر اسے سختی سے جکڑتا وہ آگ جسم سے لگا چکا تھا۔۔پھر کیڑا تو چند لمحوں میں اس کا جسم چھوڑ چکا تھا مگرجسمین وکٹوریہ کی چیخوں نے ایمازون کے جنگل میں دور دور تک کی مخلوق کو اپنی آمد کا سگنل فراہم کر دیا تھا۔ ’’خاموش ہوجاؤ!اب کچھ نہیں ہے۔‘‘وہ اسے مسلسل چیختا دیکھ درشت لہجے میں بولا تھا۔ ’’مجھے گھر جانا ہے یہ کوئی جگہ ہے ڈیٹ پر آنے کے لئے۔‘‘وہ اس وحشی انسان کو شکوہ کناں نظروں سے گھورتی تیز لہجے میں بولی تھی۔جو اس کی مزید ایک بھی سنے بغیر کمر پر اُٹھاتا بڑے بڑے قدم لیتا سامنے نظر آتے لکڑی کے بنے ہٹ کی جانب بڑھا تھا۔ جہاں زیادہ تر ٹورسٹ دو سے تین روزہ قیام کرتے تھے۔۔۔ ’’مجھے نیچے اتارو بے ہودہ آدمی۔۔تم اس سچوشن کا ایڈوانٹج نہیں لے سکتے۔‘‘جسمین اس کی پیٹھ پرمکے برساتی مسلسل مچل رہی تھی۔ ’’’’بے بی تمہارا ایڈوانٹج لینے کا سب سے اچھا موقع میرے مینشن میں تھا۔۔جہاں تم خود اپنی مرضی سے میرے بیڈ روم میں موجود تھیں۔۔مگر تم اس بد نامے زمانہ پلے بوئی کی شرافت دیکھو کہ اب تک تمہیں تمہاری مرضی کے بغیر ہاتھ تک نہیں لگا یا ہے۔‘‘وہ کوٹیج کے بے حد نزدیک آتا شرارت سے بولا۔۔جس نے زرا سی گردن اُٹھا کر اس کے گلے میں بانہیں ڈالتے گھورا۔ ’’اوہ رئیلی!تو پھر وہ کیا تھا،جب تم نے مجھے لندن لینڈمارک پر پرپوز کے ساتھ کس کیا تھا؟‘‘وہ خشگمیں نظروں سے گھورتی جتانے والے آنداز میں بولی تھی۔ ’’ہاہاہا!بے بی میرے ہر محبت جتاتے لمحے میں تمہاری مرضی شامل تھی۔۔ورنہ تم مجھے پش بیک بھی تو کر سکتی تھیں ناں۔‘‘وہ شرارت سے بولتا لکڑی کی سیڑھیاں چڑھتا اسے تختوں سے بنے فرش پر اُتار چکا تھا۔ ’’یہ کہاں لے آئے ہو مجھے؟‘‘وہ آنسو صاف کرتی اب ارد گرد میں دیکھ رہی تھی۔ ’’فائنل ڈسٹی نشن۔۔مینز ہمارا ڈیٹنگ پائینٹ!‘‘ایک آنکھ کا کونا بلنک کرتا اسے مخمصے میں ڈال گیا۔۔۔وہ بس رو دینے کو تھی۔جبکہ وہ ہاتھ تھامتا وہاں کے مینجر کو سر سے اشارہ کرتا اس کی ہمراہی میں روم کی جانب بڑھا تھا۔۔جو اس لاج کا سب سے لگژری روم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔
