Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/10/2025
18 Views
Episode No 05
ذات۔۔سوچوں تمہارا کیا ہوگا۔۔‘‘وہ اس کے گال پر پیار سے بائٹ کرتا اسے خوفزدہ کر گیا۔ ’’مگر میں نے تو جنگل میں جانے کی بات نہیں کی تھی۔‘‘وہ پل میں روہانسو ہوگئی تھی۔ ’’مگر مجھے تو اسی طرح کی رومینٹک پلیس پر ڈیٹ پر جانا پسند ہے۔‘‘وہ مزید شدت پسندی سے گویا ہوا تھا۔۔جیسمین گھبرا کر فاصلے پر ہوتی اُٹھ کھڑی ہوئی تھئ۔۔جبھی آسمان میں شاید آئیر گیپ آیا تھا۔پلین ہوا میں لہرایا ساتھ ہی جسمین کے قدم بھی ڈگمگائے تھے۔۔اور وہ بیلنس آوٹ ہونے پر واپس دھم سے اس پر گڑ پڑی تھی۔۔ ’’بی کئیر فل۔۔‘‘بہزاد جسمین کو بامشکل سنبھالتا تنبیہ لہجے میں بولا۔ ’’کیا ہم مر جائیں گے بہزاد۔‘‘وہ اسے کالر سے تھامتی مزید روہانسو ہوئی تھی۔یہ اس کی زندگی کا پہلا ہوائی سفر تھا۔۔اور اسے تو ویسے ہی ہائٹ فوبیا تھا۔۔ڈر کر مارے تو اس نے ونڈو سے باہر تک دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی۔ ’’فکر نہیں کرو۔۔میں تمہیں مرنے نہیں دونگا۔۔"وه کمر سے تھامتا اسے اپنے حصار میں قید کرچکا تھا۔۔ مگر ہم جا کہاں رہے ہیں۔‘‘انہیں ہوا میں پرواز کرتے خاصہ وقت ہوچکا تھا۔ ’’ابھی بتایا تو ہے ایمازون کے جنگل میں۔بے بی وہاں کے جنگلی جانوروں سے میری بہت پُرانی دوستی ہے۔۔آئیم شور تم بہت انجوئے کروگی۔‘‘وہ اسے ایک طرف کرتا اب ُاٹھ بیٹھا تھا۔ ’’کیا ہم کہیں اور اسٹے نہیں کرسکتے۔‘‘اُسے اس سنکی آدمی کو دیکھ خوف آیا تھا۔ ’’نہیں!میں تو صرف تمہاری وشز پوری کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔تاکہ تمہیں زندگی سے کوئی ملال نہ رہے۔‘‘وہ پاس رکھا کاک کا کین منہ سے لگاتا مزے سے بولا تھا۔ ’’مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘وہ اس سے چپس کا پیکٹ لیتی کترنے لگی تھی۔ ’’ڈر کے آگے جیت ہے بے بی۔‘‘ وہ معنی خیزی سے مسکراتا اب پائیلیٹ کے کیبن کی جانب جاتا اسے کچھ کہ رہا تھا۔۔جسمین نے لب چبائے تھے۔دو راتوں میں زندگی کا دھارا تبدیل ہوگیا تھا۔۔۔اور وہ کہاں سے کہاں آگئی تھی۔خوف سے ونڈو کے پار زرا نیچے دیکھا تو وہ شاید کسی سمندر پر سے گزر رہے تھے۔۔حد نگاہ تک صرف جما ہوا سمندر تھا۔۔وہ جھٹ پیچھے ہوتی دل پر ہاتھ رکھتی آنکھیں موند گئی۔بہزاد شاید پائلیٹ کے ساتھ جاکر ہی بیٹھ گیا تھا۔۔وہ خود میں سمٹتی خوفزدہ سی بیٹھی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ گیارہ گھنٹوں کا طویل سفرطے کرنے کے بعد کہیں اسٹے کرنے کے لئے ٹھرے تھے۔۔اور پھر وہاں سے انہوں نے باقی کا سفر ہیلی کوپٹر کے زریعے طے کیا تھا۔۔وہ نہیں جانتی تھی کہ بہزاد نے ایسا کیوں کیا مگر وہ پھر بھی اشتیاق بھرے آنداز میں اب سفر مکمل ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔۔ انہیں سفر کرتے اچھا خاصہ وقت بیت گیا تھا۔۔۔جسمین کی آنکھ لگ گئی تھی۔جبکہ بہزاد کو اب کپکپی سی محسوس ہو رہی تھی۔۔کانپ تو جسمین بھی رہی تھی۔ مگر وہ شاید نیند میں تھی۔۔اور لندن کی سردی کے پیش نظر وہ گھر سے ہی گرم کپڑوں میں ملبوس تھی۔مگراب سردی بہزاد کی برداشت سے باہر ہوگئی تھی۔ پاس رکھے بیگ میں ہاتھ ڈالا تو اس میں بئیر کے کین اور وہسکی کی بوتلیں موجود تھیں۔۔جو وہ اکثر سفر میں اپنے ساتھ رکھتا تھا۔۔ وہ ابھی بوتل کا ڈھکن کھول کر دو تین گھونٹ ہی مادہ خود میں اُنڈیل سکا تھا۔۔کہ جسمین کپکپا کر اُٹھ بیٹھی تھی۔ ’’کیا ہوا سویٹ ہارٹ!‘‘وہ مزید ایک دو گھونٹ لیتا اب بوتل کا کیپ لگا چکا تھا۔ ’’وہ مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے۔‘‘وہ کھسک کر اُس میں گھستی خود کو چھپانا چاہ رہی تھی۔ ’’افف!کیا کر رہی ہو لڑکی۔۔کیا میں آئرن مین نظر آرہا ہوں تمہیں۔۔‘‘وہ اس کی جیکٹ میں اپنے گلوز میں قید ہاتھوں کو ڈالتی خود کو گرمائش پہنچا رہی تھی۔ ’’نہیں مگر یہ تم الکوہل کیوں پی رہے تھے۔۔مسٹر ایڈیکٹڈ!‘‘وہ اس کے ہاتھ میں شیشے کی چھوٹی بوتل دیکھ ناک چڑھا کر بولی تھی۔جو اب آرام سے بیٹھا ہوا تھا جیسے سردی کا احساس ہی کہیں بھاگ گیا ہو۔ ’’یہ لو تم بھی دو تین گھونٹ پی لو۔سردی نہیں لگے گی پھر۔‘‘ وہ شیشی اُس کے ہاتھ میں تھماتا مزے سے بولتا اپنا سرگرا گیا۔۔سردی کا احساس تو بھاگ گیا تھا۔۔مگر اب نشہ سا سوار ہونے لگا تھا۔۔۔ ’’جسمین نے ایک نظر اسے۔۔اور پھر نیلی رنگ بوتل کو دیکھا تھا۔۔۔اور بغیر سوچے سمجھے وہ دو چار گھونٹ پی چکی تھی۔۔وہ دونوں صبح سویرے کے نکلے ہوئے تھے اور اب شام ہونے کو آئی تھی۔۔الکوہل نے باڈی میں جاتے ہی گرمائش پیدا کر دی تھی۔اب وہ دونوں ہی آنکھیں موند گئے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نارتھرن ساؤتھ امریکا کا ایک درمیانے درجہ کا ملک پیرو تھا۔۔جہاں ایمازون کے گھنے برساتی جنگلات کا کئی اکڑ پر مشتمل گھنا جنگل آباد ہے۔وہ دونوں اپنے پرائیوٹ جیٹ اور ہیلی کوپٹر کی بدولت اپنی من پسند جگہ پر موجود تھے۔گیارہ گھنٹے کا طویل سفر جیٹ کے زریع اور باقی کے دو سے ڈھائی گھنٹوں کا سفر ہیلی کوپٹر سے طے کیا تھا۔ ۔یہ ایمازون کے جنگل کی سندول جھیل تھی۔۔جو ہزاروں ٹورسٹ کی توجہ کا مرکز رہتی ہے۔۔ بہزاد نے اپنے مطلوبہ لاجز سے کافی مسافت پر لینڈ کیا تھا۔یہ ایمازون کے گھنے جنگل کے ایک حصے کا کچھ رقبہ تھا۔جسمین تو کسی بچے کی طرح ٹکر ٹکر حد ِنگاہ تک نظر آتے سبزے میں ہی کھوئی ہوئی تھی۔۔اور درمیان سے بہتا جھیل کا پانی۔۔۔یہ منظر اس قدر دلفریب اور سحر آنگیز تھا کہ کئی لمحہ اس جگہ کے حسن میں کھوئی رہی تھی۔ آگر چہ ایمازون کا جنگل اس قدر بڑا اور وسیع ہے کہ آج تک انسان اسے مکمل اکسپلور نہ کر سکا مگر اس کے باوجود اس گھنے جنگل میں بہت سی ایسی جگاہیں ہیں جو انسان کی توجہ کا مرکز ہیں۔۔۔ایمازون کا لفظ ہی خود میں ایک مکمل الفاظ ہے۔۔مطلب،قدرت کے شاہکار،جنگلی جانوار،پیڑ پودے،اونچے ہیبت ناک صدیوں پُرانے درخت،جھیلیں،دریا، پہاڑ،چرند پرند،جنگلی جانواروں کی ایک سے ایک نایاب مخلوق،مقامی انسان آگرچہ اس جنگل کا ایک ایک کونا اللہ کی خدائی بیان کر تا ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔۔ ’’بہزاد کیا یہ واقعی ایمازون کا جنگل ہے۔۔‘‘وہ مغرب میں ڈوبتے سورج کی چند رخصت ہوتی کرنوں کو اشتیاق سے دیکھتی محو سی سوالیہ بولی۔۔جو کوپٹر سے جمپ لگا کر ُاترتا ساتھ اسے بھی احتیاط سے ُاترنے میں مدد دے رہا تھا۔ ’’یو ہیو ااینی ڈاؤٹ!‘‘وہ آئی برو اٹھا کر سوالیہ بولا تھا۔ ’’تو کیا ہم رات یہیں گزاریں گے۔‘‘‘ وہ زرا کچے کے آئیریا میں کھلے آسمان تلے اُترے تھے،جبکہ آسمان سے کسی ایسی کشدہ جگہ کو آڈریس کرنا بہت مشکل تھا۔۔مگر چونکہ بہزاد پہلے بھی کئی بار ان مقامات کا وزٹ کر چکا تھا تو اس کے لئے کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئی تھی۔۔ ’’یس سویٹی!‘‘وہ اِسے لئے کوپٹرسے دوری پر قدم بڑھا رہا تھا۔۔وہ کافی دور آگئے تھے۔۔جبھی جسمین کوپٹر اسٹارٹ ہونے کی تیز آواز اور ماحول میں بڑھتے ہوا کے دباؤ پر چونک کر پلٹی تھی۔ ’’بہزاد یہ ہمیں اس جنگل میں چھوڑ کر کہاں جارہے ہیں؟‘‘وہ خوفزدہ سی ہوا میں گُم ہوتے کوپٹر کو دیکھ تیز آواز میں بولتی اس کا شانہ جھنجھوڑ چکی تھی۔وہ قہقہہ لگا اُٹھا۔ ’’ہاہاہا!بے بی اب سوچوں تمہارا کیا ہوگا۔۔میں تم اوراس جنگل کی تنہائی۔‘‘وہ معنی خیزی سے آنکھ کا کونا دباتا اسے ساتھ لئے آگئے بڑھ گیا تھا۔ ’’یہ کیا کرنا چاہ رہے ہو تم۔‘‘ وہ آنکھوں میں آنسو بھر لائی تھی۔۔جو اب بیگ سے چپس کے پیکٹ نکال کر کترنے لگا تھا۔۔۔۔ ’’جسٹ ویٹ اینڈ واچ!مت بھولو کہ تم اس وقت میرے ساتھ ڈیٹ پر ہو۔۔تو نو ٹئیرز بے بی۔‘‘وہ اس
