Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/10/2025
18 Views
Episode No 05
Rebellious Love By Huma Qureshi Episode No 05 ’’میرے ہزبینڈ کیسے ہیں ڈاکٹر!‘‘شام سے لے کر اب تک صنوبر کی آنکھیں رو رو کر لال انگاری ہورہی تھیں۔ ’’ہی از فائن!مائینر ہارٹ آٹیک تھا۔۔ ہم انہیں کچھ دیر میں وارڈ میں شفٹ کر دیں گے۔۔پھر آپ ملاقات کرسکتے ہیں۔‘‘وہ پیشہ وارنہ آنداز میں بولتی چلی گئی تھی جبکہ صنوبر نے بامشکل اپنے آنسو خشک کئے تھے۔وہ ان سے جتنا بھی خفا ہوجائیں مگر وہ اور چھوٹی سی رومیلہ ان کا مقصد حیات تھے۔جو اپنے دادا ابو کے گھر تھی۔۔ وہ آنسو پونچھتی نماز گاہ کی جانب بڑھی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت شہروز صاحب کا گھر اپنے تمام کنبے کی موجودگی کے باعث بھرا ہوا تھا۔۔جو ناساز طبیعت اور ہارٹ اٹیک کا سُن ڈورے ڈورے بھائی کی عیادت کو آئے تھے۔۔کمرے میں اس وقت شہروز صاحب اور ان کے والد محترم موجود تھے۔۔والدہ محترمہ بیٹے کی طبیعت دیکھ اپنی طبیعت خراب کر بیٹھی تھیں۔جنہیں اب دوسرے روم میں شفٹ کردیا گیا تھا ۔۔۔ ’’تو اب کیا چاہتے ہو تم؟‘‘داؤد صاحب اپنے بیٹے کو اس عمر میں بستر مرض پر دیکھ رنجیدگی سے بولے تھے۔ ’’میں لندن جانا چاہتا ہوں۔۔اپنی اولاد کو ڈھونڈنا چاہتا ہوں۔اسے سہی غلط کا فرق بتانا چاہتا ہوں۔۔اسے بتانا چاہتا ہوں کہ وہ میری اولاد ہے ،میرا خون ہے۔۔‘‘وہ دکھ سے بولتے رو پڑے تھے۔۔۔رومیلہ کو انہوں نے کبھی گر م ہوا بھی نہیں لگنے دی تھی۔۔اور ان کی دوسسری بیٹی زمانے کے سرد گرم جھیل رہی تھی۔ ’’اور کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کہ وہ تمہاری ہی اولاد ہے۔‘‘دادا صاحب نے وہی پُرانہ حربہ آزمایا تھا۔۔۔ ’’بس بابا صاحب۔۔میری اولاد ہے وہ۔۔۔اور اس بات کا ثبوت اس عورت کی چہکتی ہوئی آواز ہے۔۔جس نے انتقام کی خاطر میری بچی کو نجانے کس درندے کے ہاتھوں میں سونپ دیا ہے۔میری تو سوچ سوچ کر روح ہی کانپے جارہی ہےکہ اب وہ اپنے باپ کو پہنچانے گی بھی یا نہیں۔۔پتہ نہیں وہ مجھے اپنا بابا سمجھتی بھی ہے یا نہیں۔۔‘‘وہ ہتھے سے اکھڑتا ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولا تھا۔ ’’اپنی بیوی اور بیٹی کے بارے میں سوچا ہے تم نے ۔اُن پر کیا گزرے گی۔‘‘وہ دروزاے کی اوٹ میں کھڑی صنوبر کے عکس پر ایک نگاہ ڈالتے تاسفی آنداز میں بولے تھے۔ ’’ کچھ نہیں سوچے گی۔۔اور ویسے بھی اُسے جس عورت سے انسیکیورٹی تھی وہ سالوں پہلے اس دنیا سے جا چکی ہے۔۔میں یہاں اپنی اولاد کی بات کر رہا ہوں۔۔جیسے میری رومیلہ ہے ویسے ہی وہ بھی میرا ہی خون ہے۔۔‘‘وہ قدر تلخ لہجے میں گویا ہوئے۔۔صنوبر نے آنسو ضبط کئے تھے۔ ’’مرضی ہے تمہاری!مگر ہم تو یہی کہیں گے۔۔ماضی تھا بھول جاؤ۔۔اور اب تک تو وہ لڑکی بھی پتہ نہیں۔۔۔۔۔‘‘وہ مزید کوئی گوہر افشائی کرتےکہ وہ تڑپ اُٹھا تھا۔ ’’بس کردیں بابا جان۔۔رحم کھائیں مجھ پر ۔۔کیوں ایک باپ کی انا پر بار بار اس قدر گہرا وار کر رہے ہیں۔۔‘‘اُس کا گلا رندھ گیا تھا۔۔۔ ’’میاں ہمارا کام تھا سمجھانا۔۔اب تمہاری مرضی۔۔تم جانو اور تمہارا کام جانے۔‘‘وہ ہاتھ جھاڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔جبکہ شہروز ایک ہی دن میں صدیوں کے بیمار لگ رہے تھے۔۔دُکھ ہی ایسا تھا جو بار بار اپنی جوانی کی نادانی پر کچوے لگا رہا تھا۔۔نجانے وہ کیسی دکھتی تھی۔۔کسی بُری عادت کا حصہٰ تو نہیں تھی۔۔اور پھر وہ انجان شخص۔۔‘‘اس سوچ کے آتے ہی وہ خود کو بے انتہا بے بس محسوس کر رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا اُجالا ہرسو پھیلتا اپنی کرنیں بکھیرتا چلا جارہا تھا۔جیسمین وکٹوریہ اور بہزاد رضوی کل رات ایک بھرپور دن ساتھ میں گزارنے کے بعد بلآخر اب اپنی ڈیٹ کا ٹائیم پيریڈ آنجوائے کرنے کے لئے نکل پڑے تھے۔۔جیسمین اکسائیٹڈ کے ساتھ ساتھ تھوڑی خوفزدہ بھی تھی۔۔جبکہ جیبوں میں ہاتھ پھنسائے ساتھ کھڑا بہزاد بالکل چل موڈ میں تھا۔۔۔ اس وقت وہ دونوں ہی بہزاد کے پرائیوٹ جیٹ میں موجود تھے۔۔ جیسے پائلیٹ اُڑانے والا تھا۔۔جسمین ایکسائیٹڈ سی بس جیٹ کے پرواز بھرنے کی منتظر تھی۔بہزاد اسے ایک نظر مسکراتا دکھ جمپ لگا کر کھڑا ہوتا واپس زمین پر اُتر گیا تھا۔وہ گھبرا گئی۔۔۔ ’’بہزاد!وہ بھاگ کر دروازے تک آئی تھی۔۔۔اس نے ملتجئ آنداز میں پکارا تھا۔ ’’یس سویٹ ہارٹ!‘‘وہ زمین پر موجود آئی برو اُٹھا کر بولا۔۔اُس نے بھی بوکھلا کر سیڑھیوں سے اُترنے کے لئے قدم بڑھائے تھے۔۔مگر وہ اشارے سے منع کر گیا۔۔۔ ’’کہ۔۔کہاں جارہے ہو۔۔مجھے چھوڑ کر۔‘‘وہ لب چبا کر بے چارگی سے بولی۔۔ ’’ویٹ آ منٹ سویٹ ہارٹ!میں بس آیا۔۔‘‘پائلیٹ اپنی تیاری میں مشغول تھا جبکہ بہزاد رن وے پر بھگاتا ہوا کچھ فاصلہ پر گیا تھا۔۔جہاں کوئی لڑکا کھڑا نظر آرہا تھا۔۔ اس نے بغور اس شخص کو دیکھا تھا جو قد کاٹھ میں بہزاد جیسا ہی تھا۔۔اور زہن پر زور ڈالنے کے بعد اسے یاد آیا کہ وہ تو اس کا دوست مائیکل تھا۔۔جو اس روز کافی شاپ میں بھی موجود تھا۔وہ سنجیدگی سے گفتگو میں مصروف تھے جبکہ اب وہ مسکراتا ہوا تیزی سے بھاگ کر جیٹ کی جانب آرہا تھا۔وہ تيزی سے چھ سیڑھیاں عبور کرتا جیٹ کے دونوں سائیڈ ہینڈل تھامتا آندر آگیا تھا۔۔۔ ’’کیا ہوا اتنی گھبرا کیوں رہی ہو سویٹی؟‘‘اُس نے معنی خیزی پوچھا تھا۔۔اور پائلیٹ کو کمانڈ کرتا اب وہ باقاعدہ طور اس کی جانب پلٹا تھا۔۔جو زرا خشمگین نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ ’’یہ تمہارا دوست مائیکل تھا ناں؟‘‘وہ آنکھیں چھوٹی کئے گھور کر استفساریہ بولی۔ ’’ہاں تو۔‘‘بہزاد نے اسکو کمر سے تھام کر نزدیک کیا تھا۔ ’’تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ہم کہاں جارہے ہیں۔‘‘وہ جیٹ کے ڈور کلوز ہونے کے ساتھ ہئ اسٹارٹ ہونے پر تھوڑی خوفزدہ سی مزید بہزاد کے نزدیک ہوئی تھی۔پلین رن وے پر ڈورتا سیکنڈز میں ہواؤں میں تھا۔وہ خوفزدہ سی اپنے ہائیٹ فوبیے کے بابت بتا ہی نہ سکی تھی۔۔وہ کشادہ سیٹ پر لیٹنے کے سے انداز میں بیٹھا تھا۔جبکہ وہ اس سے چپک کر مزید نزدیک ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔ ’’جہاں تم کہوگی وہاں۔‘‘وہ اس کی نیلی آنکھوں میں جھانکتا اسے گڑبڑانے پر مجبور کرگیا۔ ’’اوہ مطلب ہم ڈیٹ پر جارہے ہیں۔‘‘اب وہ لوگ زمین سے اچھی خاصی بلندی پر آگئے تھے۔۔۔۔جسمین خوفزدہ سی اس سے چپک گئی تھی۔جو صوفہ سیٹ پر پیر پھیلا کر لیٹنے کے آنداز میں بیٹھا تھا۔جیٹ اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔۔ ’’یس سویٹ ہارٹ!راستہ بہت طویل ہے۔۔ اور ہم جلد اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔۔تو اب بس تم میرے قریب رہو۔۔اور اس سفر کو نہ صرف خوبصورت بلکہ یادگار بننے میں بھی میری مدد کرو۔‘‘وہ دھیرے سے اسکا گال چھوتا اسے شرمانے پر مجبور کر گیا۔ ’’ہمارے یہاں مشہور ہے کہ مشرقی حسن اور اس جیسی شرم و حیا والی لڑکی پوری دنیا میں نایاب ہے۔۔مگر تمہیں دیکھ کر میرا دل ہمیشہ بے ایمان ہوجاتا ہے۔۔اور یہ گوری حسینہ جب شرماتی ہے تو قسم لو دل کے تار چھیڑ دیتی ہو۔‘‘وہ شرارت بھرے لہجے میں سرگوشی کرتا اس پر اپنا پیار نچھاور کرنے لگا تھا۔ ’’آگر تم بھول رہے ہو تو میں تمہیں یاد دلادوں۔میرے بابا بھی مشرق سے تھے۔اور میری مما نے بابا کے عشق میں خود کو بالکل بدل لیا تھا۔۔اب جینز کا کچھ تو اثر ہوتا ہے ناں۔‘‘وہ زرا نروٹھے پن سے منہ بنا کر بولی تھی۔جبکہ وہ قہقہہ لگاتا اسے خود میں بھینچ چکا تھا۔۔۔ ’’اچھا بتاؤناں۔۔ہم کہاں جارہے ہیں؟‘‘و ہ ایک بار پھر سے گردن اُٹھا کر اشتیاق آمیز لہجے میں بولی تھی۔۔۔۔ ’’ایمازون کے جنگل میں۔جہاں بس قد آور درخت ہونگے۔۔ہیبت ناک جنگلی جانوار میں اور تم۔۔سرد رات ،جن بھوتوں کی آوازیں۔۔دور ددور تک آدم نہ آدم کی
