Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/10/2025
162 Views
Episode No 04
کیوں آج سالوں بعد وہ دل سے خود کو خوش محسوس کر رہے تھے،۔جبھی تیز آواز میں پکارتے اپنی عزیزِ جان بیوی کے سامنے آئے تھے۔جو ڈریسنگ روم سے باہر آگئی تھیں۔ ’’کیا ہوا ہے۔آج آپ بہت خوش ہیں؟‘‘دونوں کے درمیان ناراضگی ابھی بھی قائم تھی۔مگر وہ پھر بھی نرم مسکراہٹ سنگ سوالیہ گویا ہوئیں۔ ’’ہاں آج میں واقعی بہت خوش ہوں۔۔پتہ نہیں کیوں صنوبر آج میں دل سے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔۔ایسا لگ رہا ہے۔۔دل پر کوئی بوجھ سا تھا جو سرک گیا ہے۔۔‘‘وہ بیڈ پر نیم دراز ہوتے اپنی شریک حیات کو بھی ساتھ ہی بیٹھا چکے تھے۔۔انہوں نے دل سے اس مسکراہٹ کے قائم رہنے کی دعا کی تھی۔مگر شاید دعا کا یہ وقت قبولیت کا نہ تھا۔۔ ’’چلیں پھر آپ جلدی سے چینج کرلیں۔آپ کی لاڈلی بھی اپنی فرینڈ کے گھر سے آتی ہونگی۔۔پھرشام کی چائے ساتھ ہی پیئیے گئے۔‘‘وہ اپنی جگہ چھوڑنے ہی لگی تھیں، کہ وہ ہاتھ کھینچ کر انہیں اپنے سینے پر گرا چکے تھے۔ ’’کیا ہوگیا ہے آپ کو شہروز کچھ تو شرم کریں۔‘‘وہ خود کو بامشکل سنبھالتی زرا گھور کر بولیں۔۔جو بھرپور مسکراہٹ سے مسکرائے۔ ’’شرم کیسی زوجہ محترمہ۔۔اتنے دن بعد تو آپ مسکرائی ہیں۔۔مسکراتی رہا کریں۔اچھی لگتی ہیں۔میری دنیا تو بس آپ دونوں ہیں۔۔اور جب آپ دونوں اُداس ہوتی ہیں تو مجھے اپنی عمر گھٹتی محسوس ہوتی ہے۔‘‘وہ اُن کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے محبت سے چور لہجے میں بولے تھے۔۔۔۔ ’’ہمم!‘‘وہ اٹھنے لگی تھیں۔ ’’بس ہمم!یار مسکرا ہی دیں تھوڑا!‘‘وہ گھور کر بولتے خفا ہوئے تو ناچاہتے ہوئے بھی دھیرے سے مسکرائیں۔۔اور شہروز انہیں سینے سے لگاتے آنکھیں موند گئے تھے۔۔ جبھی فرنٹ پاکٹ میں موجود موبائل وائبریٹ ہوا تھا۔۔وہ چونکے۔صنوبر بھی چونک کر ہوش میں آئیں۔ ’’افف!شہروز بیڈ روم میں اپنا موبائل سائیلنٹ پر رکھا کریں پلیز!ہر وقت بس کام اور کام کے لوگوں کی کالز۔۔‘‘وہ خفگی سے بولتی اُٹھ گئی تھیں۔جو مسکراتے ہوئے پاپ اپ ناٹیفیکشنز سے موصول ہونے والا پیغام کھول کر پڑھنے لگے تھے۔جو کسی انٹر نیشنل انجان نمبر سے تھا۔ایک دو مرتبه پہلے بھی اس نمبر سے پیغام موصول ہوچکا تھا۔۔۔وہ چند وائس نوٹس تھے۔اور ایک تصویر جو لوڈنگ پر تھی۔۔وہ بیڈ پر نیم دراز مسکراتے ہوئے وائس نوٹس سننے لگے تھے۔۔اور وہ جیسے جیسے سنتے جارہے تھے۔۔ان کے حواس کام کرناچھوڑ گئے۔۔پیروں تلے زمین کھینچ گئی تھی۔سر پر ساتوں آسمان ٹوٹ پڑے تھے۔۔وہ گھبرا کر اُٹھ بیٹھے تھے۔ ’’شہروز کیا ہوا۔سب خیریت!‘‘اپنے شوہر کو تکتیں ان کے چہرے کے تاثرات دیکھ وہ تفشیش میں مبتلہ ہوئیں۔ ’’صنوبر!صنوبر اتنا بڑا سچ۔۔میرا سانس رُک جائے گا۔۔‘‘وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتے لڑکھڑائی آواز میں بولے تھے۔صنوبر بھاگ کر ان کی جانب آئیں۔ ’’کیا ہوا شہروز۔۔کون ہے۔۔کس کا میسج تھا۔۔‘‘وہ جلدی سے انہیں سنبھالتی موبائل پر پیغام سننے لگی تھیں۔۔ پہلا ایمرے کا تعارفی پیغام تھا۔۔ دوسرے پیغام میں ان کی بیٹی کی اطلاع تھی۔جو کسی یتیم خانے میں نہیں بلکہ انہی کے گھر میں نوکروں کی طرح پرورش پارہی تھی۔سالوں پہلے جب انہونے اس حقیقت سے پردہ اُٹھایا تھا۔انہیں لگا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہیں۔مگر آج تصویر میں اپنی بیٹی کو دیکھ ان کا سانس رُک گیا تھا۔جو ہوبہو آیوا جیسی حسین تھی۔۔کچھ نقش اُن کے چُرائے ہوئے تھا۔۔۔۔۔آہ ہ۔۔۔۔وہ سالوں سے اپنی اولاد سے غافل تھے۔دل میں درد سا اُٹھا تھا۔۔ ’’تیسرے پیغام میں ایوا کی دیتھ اور جسمین نے نکاح کے بابت بھی آگاہی دی تھی۔۔۔۔۔انہیں اس انکشاف پر حیرت انگيز جھٹکا لگا تھا۔۔۔ ’’چوتھا اور آخری پیغام جو اِن کی ڈھڑکنیں روک گیا تھا۔۔وہ بدلہ لینے کے چکر میں اُن کی بیٹی کے بدلے کسی سے اچھی خاصی قیمت کا معاوضہ لے چکی تھیں۔اور پھرایک لڑکی کی غیر مرد کے ساتھ رات گزارنا۔۔‘‘یہ سوچتے ہی ان کی غیرت نے انہیں زمین میں غائب ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔۔ ’’یہ ۔۔یہ سب کیا ہے شہروز۔۔۔آپ کی کوئی بیٹی بھی ہے۔۔‘‘آنسوؤں سے روتی صنوبر بکھر گئیں تھیں۔ ’’صنوبر پلیز۔۔۔۔میری بیٹی۔آپ میری بچی کا توسو چیں۔۔کس قدر بد نصیب باپ ہوں میں۔۔جسے اپنی اولاد کے بارے میں ہی کوئی علم نہیں تھا۔۔۔‘‘وہ پنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑتے آنسوؤں سے رو پڑے۔ ’’شہروز کیوں بار بار خود کو اور مجھے اس کنُد چھری سے ازیت کی مار دے رہے ہیں۔۔ایک ہی بار تیز دھار چھری سے میرا سر تن سے جُدا کیوں نہیں کرتے۔۔ ‘‘وہ ان کا کالر مٹھیوں میں جکڑتی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھیں۔۔ ’’مجھے معاف کردیں صنوبر۔۔مجھے معاف کردیں۔۔نہ میں ایک اچھا بیٹا بن سکا،نہ اچھا شوہر اور نہ ہی ایک اچھا باپ۔۔جیسے اپنی بیٹی کا ہی علم نہیں۔۔۔مجھے معاف کردیں صنوبر۔۔‘‘ وہ خود کو ازیت کی بلندیوں پر محسوس کرتے ہچکیوں سے رو پڑے تھے۔ ’’شہروز۔۔۔۔یہ کیا کہ رہے ہیں آپ۔۔‘‘وہ انہیں اونچے لمبے مرد کو آنسوؤں سے روتا دیکھ حواس باختہ سی قریب آئی تھیں۔۔جو اپنا دل تھامتے زمین بوس ہوگئے تھے۔۔اور اس گھر میں صنوبر کی دلخراش چیخیں بلند ہوگئی تھیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔
