Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/10/2025
162 Views
Episode No 04
جو حسن کا جال تم مجھ پر ڈال چکی ہو اس سے پیچھا چھوڑوانا ذرا مشکل ہے۔‘‘وہ دھیرے سے اُس کے نین نقش چھوتا ٹرانس میں بولا۔۔ جسمین نے نظر بھر کر اس شہزادے کو دیکھا تھا ۔۔جو بلیک ٹیکسیڈو میں ملبوس ہلکے گھنگھریالے بالوں کو سیٹ کئے سبز آنکھوں میں ڈھیروں محبت لئے اسے اپنا اسیر کرگیا تھا۔۔ ’’چلیں!‘‘وہ جادوئی سحر چھناک سے ٹوٹ گیا تھا۔۔وہ چونک کر ہوش میں آئی۔۔ ’’ہمم!پینسل ہیل میں مقید پاؤں کو سہج سہج کر اُٹھاتی وہ بہزاد کے کندھوں تک ہی آسکی تھی۔ ’’اوہ ہو سویٹ ہارٹ!تمہیں ابھی یہ نہیں پہننے چاہئے تھے۔‘‘وہ اس کی چال کی لڑکھڑاہٹ پر تاسفی لہجے میں بولا تھا۔ ’’وہ میں۔۔‘‘اس سے قبل وہ اپنا جملہ مکمل کرتی بہزاد اسے اپنے حصار میں اُٹھا چکا تھا۔۔میشن میں نیم آندھیرہ پھیلا ہوا تھا۔۔اور اب وہ دونوں ایک دوسرے کی ہمراہی میں ایک نئی زندگی کا آغاز کرنے جارہے تھے۔۔ ’’کیا تم ممجھ سے بہت محبت کرتے ہو؟۔یا صرف کچھ دن ڈیٹ کرنے کے بعد مجھے چھوڑ جاؤ گے۔‘‘وہ دل میں پنپتے خوف کو زبان پر لے آئی تھی۔۔بہزاد کے ہونٹوں پر ایک کمینگی بھری مسکراہٹ کھل گئی تھی۔ ’’بے بی جنہیں ڈیٹ کیا جائے ان سے میرج نہیں کی جاتی۔‘‘ وہ اُس کی آنکھوں میں رقم سوال دیکھ گردن ترچھی کر ذومعنیت سے بولا تھا۔۔جبکہ اب وہ دونوں مینشن کے بیرونی حصےٰ میں پہنچ چکے تھے۔۔ ’’میرے ڈیڈ نے بھی کچھ دن میری مما کو میرج کر کے ڈیٹ کیا تھا۔۔اور پھر چھوڑ کر اپنی کنٹری واپس چلے گئے تھے۔۔نانو کہتی ہیں آیشین مرد بالکل بھی اچھے اور لوئل نہیں ہوتے۔۔تم بھی تو آیشیا کی لینڈ لارڈ فیملی سے ہو۔۔تو کیا تم بھی مجھ سے ریلشن بنانے کے بعد مجھے چھوڑ جاؤ گے۔‘‘ اُس کے گلے میں بانہوں کا حصار ڈالے وہ جس آنداز میں سوالیہ گویا ہوئی تھی۔بہزاد کے چہرے پر ایک فریبی مسکراہٹ سی کھل گئی تھی۔ ’’جانم میں نے بہت سے نشے آزما رکھے ہیں مگر جو نشہ اور سرور تمہاری قربت اور ان سمندری آنکھوں میں ہے۔وہ دنیا کا نایاب نشہ ہے۔۔تمہارا مستقل نشہ میرے حواسوں پر کس قدر سوار ہوگا یہ سوچ یہ مجھے مسرور کر ڈالتی ہے۔۔۔تو اس نشے سے جان چھوڑانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔اور ویسے بھی میرے گرینڈ فادر کہا کرتے ہیں کہ حسین عورت کی قربت کا نشہ دنیا کے مہنگے ترین نشہ پر بھاری اور دماغ پر دیر پا سوار رہنے والا نشہ ہے۔۔۔ ‘‘جسمین کو گاڑی کے کا دروازہ کھول کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھاتا وہ خاصہ بے باک لہجے میں بولا تھا۔۔جسمین کے سرخ گال تمتما اُٹھے تھے۔ ’’میں شاکڈ ہوں کہ تم نے میری نانو کو اس میرج کے لئے کیسے ایگری کیا۔۔‘‘بہزاد اب ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا۔جبھی وہ متعجب لہجے میں گویا ہوئی۔ ’’آگر میں تم سے کہوں کہ میں تمہیں کچھ دنوں کے لئے میرج کے بغیر ڈیٹ کرنا چاہتا ہوں۔۔تو کیا تم ایگری کروگی۔‘‘وہ اپنا سوال بھول کر اب ٹیسلا کی لیٹسٹ ماڈل کار کو دیکھ رہی تھی۔۔جو لندن جیسے شہر میں رہ کر افورڈ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ ’’سویٹی یہ بعد میں دیکھ لینا تمہاری ہی ہے۔‘‘وہ کار کو آٹو پر کر اس کو اپنی جانب کھینچتا آئی برو اُٹھا کر بولا۔ ’’کیا تم مجھ سے ڈیٹ کرنے کے لئے ایگری کروگی؟‘‘وہ آئی برو اٹھائے گویا ہوا۔ ’’ہاں!کیونکہ میں نانی کے پاس واپس نہیں جانا چاہتی۔‘‘وہ پہلے سوچ میں پڑ گئی تھی۔۔اور پھر سب بھول کر بہت کنفیڈنس کے ساتھ اس کے گلے میں اپنی بانہوں کا حصار ڈال گئی تھی۔ ’’اوکے فائن تو پھر ہم میرج بعد میں کریں گے۔۔مگر پہلے ایک دوسرے کو ڈیٹ کریں گے تاکہ تم بھی اپنا زہن پریپر کرلو۔‘‘وہ یکایک اپنا فیصلہ تبدیل کرگیا تھا۔۔ ’’ایگری!‘‘اس نے برو اُٹھائے۔ ’’اوکے يس۔۔آئی ایگری!وہ مسکرا کر اس کا گال چومتی آج کچھ زیادہ ہی خوش دکھائی دے رہی تھی۔ ’’تو بتاؤہم اپنی ڈیٹ کے لئے سب سے پہلے کس جگہ کو چوز کریں؟‘‘وہ اس فیصلہ کا بوجھ اس پر ڈال گیا تھا۔ ’’اممم!کیا ہم کسی پہاڑی جگہ پر جاسکتے ہیں۔۔جہاں کوئی بھی نہ ہو۔۔۔بس پہاڑ ہوں،سبزہ،ہوایک ٹھنڈے پانی کا آبشار ہواور وہاں بس میں اور تم ہوں۔۔دنیا کی کوئی تلخی نہ ہو۔۔میری نانو نہ ہوں۔۔اور نہ ہی ماما کی کوئی رسٹرکشنز ہوں۔جو ہر وقت میں میرے دماغ میں گھومتی رہتی ہیں۔میں اس قید سے آزاد ہونا چاہتی ہوں۔۔میں صرف خود کے لئے جینا چاہتی ہوں۔۔تمہارے ساتھ۔۔‘‘وہ سیٹ پر سر پھینکتی آنکھیں موندےتصوراتی دنیا میں کھوئی اپنی خواہش کا اظہار کر گئی تھی۔ ’’ضرور مائی لو۔۔آگر یہی تمہاری خواہش ہے تو بالکل ایسا ہی ہوگا۔۔میں تمہیں ضرور خوش کرونگا۔مگر اس کے لئے تمہیں پہلے مجھے خوش کرنا ہوگا۔‘‘وہ آنکھوں میں معنی خیز چمک لئے منہ میں زبان گھماتا لب دبا گیا۔۔جبکہ وہ تو جیسے بہری ہوئی اپنی خیالی دنیا میں کھو کر رہ گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لندن کی سرد ترین شام تھی۔آتش دان کے عین سامنے ریولونگ چئیر پر بیٹھی ایمرے سالوں پہلے ماضی کا سفر طے کرتیں چونک کر ہوش میں آئی تھیں۔۔کل رات کے بعد سےجسمین کی نم نگاہیں ان کی نگاہوں سے اُوجھل ہی نہ ہوسکی تھیں۔وہ مسلسل اسے ہی سوچ رہی تھیں۔ جواِن کی اکلوتی لاڈلی بیٹی کی آخری نشانی تھی۔۔سماعتوں میں کچھ لفظ باز گشت کر رہے تھے۔۔جو ندامت میں ڈال گئےتھے۔مگر اپنی بیٹی کی سرکش محبت کا انتقام لینے میں وہ اتنی آندھی ہوگئی تھیں کہ بیٹی سے کیا آخری وعدہ بھی نہ وفا کر سکیں تھیں۔۔۔۔ ’’مام میری جسمین کا خیال رکھیئے گا۔۔آگر اس کاباپ کبھی واپس آئے تو جسمین کو اس کے حوالے کر دیجیے گا۔یہ ایک مسلمان باپ کی بیٹی ہے اور میں اس کا نکاح اپنی ایک مسلمان دوست کے بیٹے سے پڑھوا چکی ہوں۔۔اس چائلڈ میرج کا کسی کو نہیں معلوم۔آپ بھی جسمین کے اٹھارہ سال ہونے کے بعد ہی کسی سے ذکر کیجیے گا۔۔مگر آپ اس کے باپ کو لازمی ڈھونڈئیے گا۔۔میں نے اپنی بچی کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔۔آپ اس کا خیال رکھیےگا۔۔یہ میری محبت کی آخری نشانی ہے میرے پاس۔۔۔اس کا بہت خیال رکھئے گا۔‘‘اس کی بیٹی جاتے جاتے بھی اس مسلمان شخص کی اولاد کے لئے انہیں پابند کر گئی تھی۔وہ مسلم کلچر کے بارے میں اچھا خاصہ جانتی تھیں کہ یہ کس قدر ٹریڈیشنل ہوتے ہیں ۔۔اور یہیں سے انتقام کا آغاز ہوا تھا۔۔۔۔ بہت مشکلوں سے وہ نمبر نکالا تھا۔۔۔جس نمبر سے آج سے چودہ سال قبل اس شخص نے رابطہ کیا تھا۔۔ واٹس ایپ آن کیا۔۔اور ایک پیغام بھیجا۔۔وہ اس نمبر پر پہلے بھی ایک چیکنگ پیغام بھیج چکی تھیں۔۔دوسری جانب سے رسپانس موصول ہوا تھا۔۔مطلب وہ نمبر آج بھی اس شخص کے زیر استعمال تھا۔ اور پھر وہ قریبً چار وائس نوٹس سینڈ کر چکی تھیں۔اور پھر سکون سے آنکھیں موند لیں۔۔آج ان کا انتقام پورا ہوگیا تھا۔۔آتش دان کے الاؤ میں دہکتی آگ ان کے دل پر ٹھنڈی پھوار کی مانند محسوس ہوئی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آج دل سے مسکرا رہے تھے۔۔بظاہر اعصابی تھکن چہرے سے واضح تھی۔مگر اس کے باو جود خوشی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔۔وہ معمول کے مطابق صنوبر کی پکار لگاتے روم میں داخل ہوئے۔جو انہیں ریسیو کرنے ہمیشہ دروازے پر آجایا کرتی تھیں مگر آج کل ناراضگی چل رہی تھی۔۔۔وہ روم میں انٹر ہوتے ہی کوٹ اور بریف کيس ایک جانب پٹختے متلاشی نگاہوں سے ارد گرد کا جائزہ لے رہے تھے۔۔۔ ’’صنوبر کہاں ہیں آپ؟‘‘وہ آج حد سے زیادہ خوش تھے۔۔نجانے
