Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 04
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/10/2025
162 Views
Episode No 04
Rebellious Love By Huma Qureshi Episode No 04 ’’گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ!‘‘کھڑکیوں پر سے کرٹنز اٹھاتا وہ محبّت سے بولا تھا۔جیسمین جو زندگی میں پہلی بار اس قدر نرم بستر میں محو استراحت تھی بوکھلا کر جاگی تھی۔۔۔ "گڈمارننگ سویٹ ہارٹ!"وہ چہرہ نزدیک لاتا اس کی حسن کو خراج بخشتا قریب ہی بیٹھ گیا تھا۔۔ وہ اُس کے روم میں موجود تھا۔۔اور وہ خود کہاں تھی۔۔۔جسمین خوفزدہ رہ گئی۔کل رات نجانے کب۔۔۔وہ روم میں کیسے آئی تھی۔اسے کچھ یاد نہ تھا۔ ’’میں۔۔میں۔۔رات کو۔۔‘‘اُس نے اِرد گرد دیکھا تو وہ ایک آرام دہ بستر موجود تھی۔جبکہ وہ اس کے بے حد نزدیک چہرے پر جھکا اس کا ایک ایک نقوش بہت محبت و چاہت سے دیکھ رہا تھا۔۔ ’’رات کو میں تمہیں مینشن میں لایا تھا ڈرالنگ۔۔آگر تم بھول رہی ہو تو ہم دونوں کل ڈیٹ پر گئے تھے۔اور تم نے مجھے اپنا بوئی فرینڈ بھی قبول کرلیا ہے۔‘‘بہزاد کے چہرے پر شرارتی مسکان رقص کر رہی تھی آنکھوں میں آنوکھی سی چمک تھی۔اس وقت مینشن میں صرف وہ دونوں ہی موجود تھے۔ ’’مگر تم نے کہا تھا کہ میری نانو نے تمہیں صرف ڈیٹ پر لے جانے کو کہا تھا۔گھر لانے کو نہیں۔۔‘‘وہ خوفزدہ ہوگئی تھی۔بہزاد کی آنکھوں سے ٹپکتی محبت دیکھ کتنی ہی بار دل چاہا تھا کہ وہ اس کی بات پر ایمان لے آئے۔۔مگر یہ کم بخت وہم۔۔ ’’اپنی نانی کو بھول جاؤ سویٹ ہارٹ۔۔اور بس یہ یاد رکھو کہ آج ہم دونوں کی ویڈنگ سیرمنی ہے۔‘‘وہ معنی خیزی سے بولتا اس کا گال چوم گیا۔۔جو سُن سی بیٹھی تھی۔ ’’چلو جلدی سے اُٹھ جاؤ۔۔پھر ریڈی بھی ہونا ہے تم نے۔‘‘وہ محبت سے اس کا گال تھپتھپاتا ہوا روم سے نکل آیا تھا۔جسمین نے مینشن کے علیشان کمرے کو دیکھ لب چبائے تھے۔اور تیزی سے اُٹھ کر واشروم کی جانب بڑھ گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج اتوار کا دن تھا۔۔ شہروز صاحب اپنے تینوں بھائی بہنوں اور ان کے بچوں سمیت اپنے بابا کے گھر میں موجود تھے۔جہاں الگ ہی رنگ چھڑا ہوا تھا۔۔مگر وہ دونوں میاں بیوی اجنبیوں کی مانند دور دور بیٹھے تھے۔ ’’اہمم!آ پ سب یہاں موجود ہیں۔۔تو ہم نے اور تمہاری والدہ نے مل کر ایک فیصلہ کیا ہے۔‘‘شہروز صاحب کے والد کی آواز پر وہ سب لوگ متوجہ ہوئے تھے۔ ’’کیسا فیصلہ بابا!‘‘بڑی آپا نے سوالیہ لہجے میں پوچھا۔ ’’ہم نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ رومیلہ ہمارے خاندان کی واحد بچی ہے۔۔جو ابھی تک کسی رشتہ میں منسوب نہیں ہے۔۔۔اور چونکہ یہ ہم سب کی لاڈلی ہے تو ہم ایسےاپنےبڑے پوتے کے لئے آپ سے مانگنا چاہتے ہیں۔۔آگر آپ کوکئی اعتراض نہ ہو تو۔‘‘ بابا صاحب کے کہنے پر شہروز صاحب نے ذرا پریشانی سے جبکہ صنوبر نے غصہٰ نے شہروز کو دیکھا تھا۔ ’’بابا میری گڑیا تو ابھی بہت چھوٹی ہے۔‘‘انہوں نے دور بیٹھی رومیلہ کو آنکھ بھر کر دیکھا تھا جو ابھی محض چودہ سال کی تھی۔ ’’ہم کونسا ابھی شادی کا بول رہے ہیں۔۔شادی اٹھارہ کے بعد ہی کریں گے۔۔پھر یہ شادی کے بعد ہی اپنی تعلیم بھی مکمل کرلیں گی۔‘‘انہونے بات سمیٹ دی تھی۔شہروز کو صنوبر کے بگڑے تاثرات واضح محسوس ہوئے تھے۔ ’’معاف کیجئے گا بابا جان۔۔مگر میں اپنی چودہ سال کی بچی آپ کے پچیس سال کے پوتے کے لئے نہیں دے سکتی وہ بھی اُس صورت میں جبکہ آپ کے لاڈلے کی نیک نامی کے قصےٰ پوری دنیا جانتی ہے۔‘‘وہ مزید ضبط نہ کر سکی تھیں اور تلخی سے بولیں۔جانتی تھیں کہ ماں ،باپ کے آگے تو اس کا شوہر کبھی کچھ نہیں بولے گا۔۔اور وہ اپنی بچی کو اس بگڑے لاڈلے کے سامنے تر نوالا بنا کر نہیں پیش کرنا چاہتی تھیں۔ ’’صنوبر یہ کیا طریقہ ہے۔۔میں بات کر رہا ہوں نابابا جان سے۔‘‘شہروز نے زرا غصےٰ سے ٹوکا تھا۔ ’’آپ بس بات ہی کرتے رہیں۔۔مگر میری طرف سے نہ ہے۔‘‘وہ کہ کر مزید نہیں ٹھرئیں تھیں۔۔بلکہ رومیلہ کو زبردستی اُٹھا کر گھر لیجانے لگی تھیں۔ ’’گستاخی کی معافی بابا صاحب مگر صنوبر بالکل ٹھیک کہ رہی ہے۔میری طرف سے بھی آپ نہ ہی سمجھیں۔۔میں نکلتا ہوں کہیں اکیلے ہی نہ نکل جائے۔‘‘وہ تیزی سے بولتے اپنی بیوی اور بیٹی کی جانب بھاگے تھے۔۔جو ان کا کل جہاں تھیں۔ ’’جورو کا غلام۔‘‘ضمیر صاحب نے اُس کا حواس باختہ آنداز دیکھ سر جھٹکا۔۔انہیں بہو کا یوں اپنے پوتے کی شان میں گستاخی کرنا ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔۔اس کے مطابق تو ساری بُری عادتوں سے مالا مال پوتے کی شخصیت کا حصہٰ تھا۔۔وہ اس خاندان کا پہلا چشمو چراغ تھا۔۔مگر بات چراغ تلے آندھیرا والی ہی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یار کیا ہوجاتا ہے آپ کو۔۔بھلا بڑوں سے کوئی بدتیزی کرتا ہے۔۔‘‘‘اُسے رہ رہ کر صنوبر کے لہجے پر افسوس ہورہا تھا۔۔۔ ’’بہتر ہے آپ مجھ بات نہ کیا کریں پلیز۔۔۔‘‘وہ تلخی سے بولیں۔۔رومیلہ سارے قصے سے انجان خاموش بیٹھی دونوں ماں باپ کو پیچھے سے دیکھ رہی تھی۔ آوکے!بٹ آئندہ بابا صاحب سے بات کرتے وقت اپنا لہجہ درست رکھئے گا ۔۔ورنہ میں پھر سختی سے پیش آؤنگا۔‘‘انہونے سخت لہجے میں تنبیہ کی تو وہ طنزیہ مسکائیں۔ ’’آپ اور کر ہی کیا سکتے ہیں شہروز صاحب۔۔بے بس،مجبورار بیچارہ آدمی۔سامنے دیکھ کر گاڑی چلائیں پلیز۔۔۔۔۔۔‘‘ان کو تاسفی انداز میں خود کو دیکھتا پاکر وہ ٹوکنا نہیں بھولیں تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آئینے کے سامنے تیار ہوئی کھڑی شیشے کو گھور رہی تھی۔۔ ذہن میں کچھ تھا جو بار بار اس رشتے کی نفی کررہا تھا۔۔مگر پہلی بار کسی مہربان کا لمس پاکر وہ مدہوش ہوگئی تھی۔ اپنے باقی سب فرینڈز کی طرح اس کا بھی دل چاہتا تھا کہ اس کا بھی کوئی پیارا سا بوئی فرینڈ ہو۔۔جو اسے نئے کپڑے دلوائے ،گفٹس دے،اور پھر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی لڑکی کی بہت سی خواہشیں ہوتی ہیں۔۔جو بہزاد رضوی پوری کر رہا تھا۔۔ نیلی آنکھوں میں نئے سپنے سج گئے تھے۔۔وہ محویت سے خود کو تکتی کھونے لگی تھی۔چہرہ کے نقوش کو دھیرے سے چھو اتو مسکراہٹ آپ ہی لبوں پر سج سی گئی تھی۔ ’’کیا سوچ رہی ہو ہنی!‘‘وہ عقب سے اسے اپنے حصار میں جکڑتا کندھے پر تھوڑی ٹکاتا آئی برو اُٹھا کر گویا ہوا۔ ’’وہ میں۔۔۔ایکچوئیلی مجھے تم کچھ بتانا تھا۔‘‘وہ یونہی اس کے حصار میں پلٹ گئی تھی۔ ’’ہمم بولو!‘‘اس کے تاثرات سرد ہوئے تھے۔ ’’کیا گرینڈ مام نے تمہیں بتایا تھا کہ میرے فادر مسلم تھے۔‘‘وہ تذبذب کا شکار ہوئی تھی۔ ’’ہمم!معلوم ہے مجھے۔‘‘بہزاد کے تاثرات میں سردگی تھی۔ ’’کیا تم اب کورٹ میریج کے لئے تیار ہو؟‘‘ وہ اِس کی لٹوں سے کھیل رہا تھا۔۔جو وائٹ باربی فروک میں خوب جچ رہی تھی۔ ’’ہم!بٹ میری ایک میرج پہلے بھی ہوچکی ہے۔۔جب میری مام زندہ تھیں۔بٹ وہ چائلڈ میرج تھی۔لندن لاء کے اگینسٹ تھی۔اور میں اسے ایکسیپٹ بھی نہیں کرتی۔۔۔‘‘وہ کچھ یاد آنے پر تیزی سے بولی تھی۔۔ ’’وہ سب بھول جاؤ۔۔بس اب سے تم نے مجھے یاد رکھنا ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔اوکے!‘‘وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر چہرہ نزدیک کرتا مخمور لہجے میں بولا تھا۔۔جس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔ ’’مگر میں تم سے لو نہیں کرتی۔۔جیسے جویریا اپنے بوئی فرینڈ سے کرتی ہے۔۔‘‘وہ اس کی سانسوں کی حدت پر آنکھیں میچتی تیزی سے بولی تھی۔۔بہزاد قہقہہ لگا اُٹھا۔۔ ’’اوہ مائی سویٹ ہارٹ!تم لو نہیں کرتیں تو کیا ہوا۔۔بٹ میں تو تم سے عشق کرتا ہوں۔۔تمہارے ان سنہری بالوں کی آبشار کو دیکھ میرا دل ڈھڑکنا بھول جاتا ہے۔۔یہ اوشن بلیو آئیز،یہ نیکھی سی ناک۔یہ پنكھڑی سے گلابی لب،بہزاد رضوی نے اس مختصر زندگی میں بہت سی بیوٹیز دیکھیں ہیں۔۔مگر
