Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 14/10/2025
88 Views
Episode No 03
میں پروان چڑھ رہی تھی۔۔اور وقت گزرتا گزرتا مزید چودہ سال آگے لے آیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہروز جب آنڈیا واپس آیا تو اس کی ماں ہسپتال میں تھی۔۔ وہ سب کچھ بھلائے بس ماں کی دل جوئی اور خدمت گزاری میں ہی جُت گیا تھا۔۔۔ابھی اسے آئے چند دن ہی گزرے تھے کہ اس نےایوا کے بے حد اسرار پر اپنے ماں باپ سے ایوااور اپنے رشتے کا ذکر کر ڈالا تھا۔۔اس کے بابا جان اس کی حماقت کا سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گئے تھے اور شہروز کے چہرے پر ایک طماچہ رسید کر گئے۔ ’’بے غیرت ،بے شرم،تمہیں شرم نہ آئی ہماری نسل خراب کرتے۔خبردار جو تم نے اس بے ہودہ عورت کے پاس جانے کی ضد کی تو۔۔‘‘‘وہ غصہٰ سے چنگھاڑے ۔ ’’بابا جان وہ میری بیوی ہے۔۔میں ضرور واپس جاؤنگا۔‘‘وہ تڑپ اُٹھا تھا۔ ’’خاموش۔۔۔آگر اب تم نے بے جا ضد لگائی تو میں تمہیں معاف نہیں کرونگا۔بلکہ اپنی جائیداد میں سے بھی عاق کردونگا۔‘‘وہ غصےٰ کی شدت سے کپکپا اُٹھے تھے۔اس کی ماں پیچھے سے سینکڑوں آوازیں دیتی رہ گئی تھیں۔۔۔مگر اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔وہ آندھا دُھند ڈرائیو کرتا جارہا تھا۔۔جبھی وہ ایک خطرناک کار حادثے کا شکار ہوگیا تھا۔ اور جب وہ سات سال بعد کومہ سے باہر آیا تو سب بدل گیا تھا۔۔یاداشت کی واپسی اور طبیعت کے سنبھلتے ہی اس نے سب سے پہلے ایوا کا نمبر ڈائل کیا تھا۔۔مگر دوسری جانب سے ملنے والی قیامت خیز خبر نے اس کا وجود خاک کردیا تھا۔۔وہ کال ایوا کی ماں نے ریسیو کی تھی۔ جس کے مطابق ایوا اسکی بے وفائی کا غم دل سے لگائے دنیا سے جا چکی تھی۔۔اور اس کی اولاد کو وہ ایک یتیم خانے میں چھوڑ آئی تھیں۔۔۔اور شاید وہ سفاک عورت ایسا ہی کرتی آگر ایوا جاتے جاتے اپنی ماں سے اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھنے کا وعدہ نہ لیتی۔۔ وہ رات قیامت کی رات تھی شہروز اپنی محبت اور اولاد کی جدائی کے غم میں تڑپ تڑپ کر رویا تھا۔۔وہ بہت مشکل سے سنبھلا تھا۔۔وہ لندن جانا چاہتا تھا اپنی بیٹی کو ڈھونڈنا چاہتا تھا۔۔مگر ڈاکٹرزنےاس کی حالت کے پیش نظر اسے سفر کرنے سے منع کردیا تھا۔ تین ماہ کا عرصہ گزر گیا تھا۔۔وہ اب بہت سنبھل گیا تھا۔۔مگر ایوا کی موت کے غم میں وہ اپنی اولاد کو بھی بھول گیا تھا۔۔اور پھر ماں کی قسم و عدوں کے آگے گھٹنے ٹیک دئے تھے۔جب اس کی زندگی میں صنوبر آئی تھیں۔۔ جنہونے اپنی پیار و محبت سے شہروز کو ہر غم بھلا دیا تھا۔۔اور پھر رومیلہ گویا اس کی پیدائش کے بعد تو اس نے دوبارہ سے جینا سیکھ لیا تھا۔۔وہ خوش رہنے لگا تھا۔۔وہ ایوا اور اپنی اولاد کو اپنا نصیب اور تلخ ماضی سمجھ کر بھول گیا تھا۔۔مگر ایوا کی محبت ہر لمحہ اس کے دل میں رہی تھی۔۔مگر چند روز قبل اپنی چھوٹی بہن کے منہ سے صنوبر کے سامنے اپنی پہلی شادی کا انکشاف سن اس سب یاد آگیا تھا۔۔اور صنوبر بھی اس سے روٹھ گئی تھی۔۔ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ایک بار پھر دنیا اس سے روٹھ سی گئی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔ آئندہ قسط کا انتظار کس کس کو ہے؟
