Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 14/10/2025
88 Views
Episode No 03
وہ چلی گئی میری زندگی سے۔۔۔آپ بھی چھوڑ جائیں مجھے۔۔جیسے سب مجھے چھوڑ دیتے ہیں۔۔میری محبت کی کوئی ویلیو نہیں ہے کسی کی نظر میں۔۔‘‘وہ رنجیدگی سے خود ساختہ بڑ بڑاتے ماضی میں کھونے لگے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان دو اجنبیوں کی پہلی ملاقات لندن آئی پر ہوئی تھی۔اور یہیں سے جنم لیا تھا امر پریم کہانی نے۔۔وہ نازک دوشیزہ پریوں سا حسن رکھتی تھی۔کسی جنت کی حور کی مانند،وہ غیر مذہب،آزاد ملک کی باسی بالکل صاف و شفاف تھی نازک اندام ،کسی آبگینہ کی مانند۔۔ ’’اوچ!‘‘ قدرت کا حسین اتفاق تھا کہ یہ اُن کا دوسرا ٹکراؤ تھا۔۔ ’’آر یو اوکے!‘‘وہ اسے کمر سے تھامتا اس کی خوبصورتی میں کھونے لگا تھا۔۔جس کی گہری نیلی آنکھوں کی مقناطیسی کشش اُسے بری طرح اَپیل کر رہی تھی۔۔۔ ’’یس آئی ایم!آپ یہاں۔۔‘‘وہ ایک نظر میں ہی پہچان گئی تھی کہ یہ وہی لڑکا تھا جو کل لندن آئی پرٹکرایا تھا۔وہ دیکھنے میں ہی آیشین لگتا تھا۔۔۔ ’’جی وہ کورس ریلیٹڈ بک سرچ کر رہا تھا۔۔‘‘وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا نروس دکھائی دے رہا تھا۔۔ایوا نے شرارتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔ ’’واٹ این امیزنگ کوانسیڈینس!میں بھی بُک سرچ کر رہی تھی۔‘‘وہ دونوں لائبریری میں بُک ریک کے عین سامنے کھڑے تھے۔۔جبھی لائبررین کی گھورتی نگاہوں پر وہ دونوں سیدھے ہوئے تھے۔۔ ’’آپ کونسی بک ڈھونڈ رہیں ہیں۔‘‘پہلے تو وہ زرا ہچکچائی مگر شہروز کا آنداز اسے خاصہ لبھارہا تھا۔۔ ’’آئیم۔۔۔میں۔۔‘‘وہ گڑبڑا گیا۔۔اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کس موضوع پر کتاب سرچ کر رہا تھا۔۔ ’’ویسے میں ایکشن لو اسٹوریز کی بُک ڈھونڈ رہی ہوں۔‘‘ وہ شرارتی لہجے میں سرگوشیانہ بولی تھی۔۔شہروز نے یکدم چونک کر دیکھا تھا جو سائنس سیکشن کے پاس کھڑی لواسٹوری ناول ڈھونڈ رہی تھی۔۔ ’’کیا ہم کسی کافی شاپ میں بیٹھ کر بات کریں۔‘‘اس کی آفر پر شہروز انکار نہیں کر سکا تھا۔۔ ’’شیور!وہ دونوں لائیبرین کے غصہٰ ہونے سے قبل ہی وہاں سے نکل آئے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اوہ تو آپ آنڈیا سے ہیں۔‘‘پچھلے آدھے گھنٹے میں ان دونوں کی خاصی گپ شپ ہوگئی تھی۔ ’’تو یہاں کیا جاب کرتے ہیں آپ۔‘‘وہ اپنے سنہری بالوں میں ہاتھ پھیرتی آئی برو اٹھا کر بولی۔ ’’جی !اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے آیا ہوں۔‘‘شہروز نے اس کے ڈیپ گلے کو دیکھ خفت سے نگاہیں چُرائی تھیں۔ ’’اوہ!فرام وچ یونیورسٹی!‘‘وہ اشتیاق آمیز لہجے میں بولی تھی۔جبکہ وہ اس کے سحر میں جکڑا اُس کے حسن کا مزید دیوانہ ہوتا چلا جارہا تھا۔۔ اور پھر وقت مزید سرک گیا۔۔ان دونوں کی خاصی گہری دوستی پروان چڑھتی عشق کی منزلیں طے کر رہی تھی۔وہ دونوں باہمی رضامندی کے تحت نکاح کر چکے تھے۔۔ایوا کو شہروز کی محبت میں اپنا مذہب تبدیل کرنے میں کوئی مسلہ نہیں تھا۔۔یہی وجہ تھی ایمرے اس کے اس فیصلے کی وجہ سے سخت نالا تھیں۔جو محبّت میں اتنی اندھی ہوگئی تھی، کہ اپنی ماں سے بغاوت پر اُتر آئی تھی۔ شہروز کا لاسٹ سمسٹر بھی ختم ہوگیا تھا۔اب اسے مسلسل پر گھر بلوایا جارہا تھا۔اور پھر رزلٹ بھی آگیا تھا۔۔اب مزید لندن میں ٹھرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا تھا۔۔۔۔وہ اپنی ماں کی طبیعت کی ناسازی کا سُن کر آنڈیا جانے کا پروگرام ترتیب دے چکا تھا۔مگر ایوا اُس سے جدائی کا سن کر ہی تڑپ اُٹھی تھی۔۔۔۔ ’’شہروز میں تمہارے بغیر کیسے رہونگی۔‘‘وہ اس کے سینے سے لگی مسلسل آنسو بہا رہی تھی۔ ’’ایوا مائی لو۔۔میں تمہیں ہمیشہ کے لئے تھوڑی چھوڑ کر جارہا ہوں۔۔بس کچھ دنوں کی بات ہے پھر میں واپس آجاؤنگا۔‘‘اس کے سر پر پیار کرتا وہ مسلسل بہلا رہا تھا۔۔ ’’جھوٹ!ماما کہتی ہیں۔۔جو واپس چلا جائے پھر وہ لوٹ کر نہیں آتا۔‘‘وہ لب چباتی شکوہ کناں آنداز میں بولی تھی۔ ’’کیا تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے؟‘‘وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا محبت سے چور لہجے میں بولا تھا۔ ’’ہے مگر تم بہت دور جانے کی بات کر رہے ہو۔‘‘وہ جیسے ہار گئی تھی۔ ’’میں بھی ساتھ چلونگی۔‘‘وہ باضد ہوئی تھی۔ ’’جاناں تم نے ایک دن میرے ساتھ ہی واپس جانا ہے۔۔مگر تھوڑا سا صبر۔۔میں اپنے گھر والوں کو منا لوں پھر تمہیں بھی ساتھ لے جاؤنگا۔۔۔پلیز مجھ پر یقین رکھو۔‘‘وہ اس رات ایوا کو بہت مشکل سے بہلا پھسلا کر جلد واپس آنے کا وعدہ کرتا رات کی فلائٹ سے آنڈیا واپس آگیا تھا۔۔کبھی واپس نہ جانے کے لئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج شہروز کو گئے ایک ماہ ہونے کو آیا تھا۔۔مگر وہ روز جلد آونگا کا بہانہ بنا کر اسے ٹال جاتا تھا۔۔اور پچھلے ایک ہفتے سے تو اس سے کوئی رابطہ ہی نہیں ممکن ہو سکا تھا۔۔اس کے پاس محض موبائل نمبر کے سوا اور کچھ بھی نہ تھا۔وہ مسلسل روتے ہوئے پکار رہی تھی۔۔جبھی اسے جسمین کے دنیا میں آنے کی خبر بھی ملی تھی۔اب تو وہ تڑپ تڑپ کر شہروز کو پکار رہی تھی۔۔جس سے کوئی رابطہ ہی نہیں ممکن ہوسک رہا تھا۔۔ اور پھر وقت پانی کے بلبلے کی مانند نظروں کے سے سامنے سے گزرتا چلا گیا تھا۔۔جسمین دنیا میں آچکی تھی۔شہروز کے بعد ایوا نے خود سے محبت کرنا ہی ترک کردیا تھا۔وہ صرف شہروز کی واپسی کی اُمید لگائے بیٹھی تھی،جسمین نے اپنی نانی کے ہاتھوں میں ہی آنکھ کھولی تھی۔اب وہ دو سال کی ہونے کو آئی تھی۔وقت کے ساتھ ساتھ وہ مزید بیمار رہنے لگی تھی۔۔شہروز کی بے وفائی کا غم اسے کسی صورت بھی برداشت نہ تھا۔۔ایمرے نے جیسمین کو بےبی سٹر کے حوالے کردیا تھا۔۔۔۔ایوا تو اس کے باپ کی طرح ہی اس کے وجود سے بالکل غافل ہوچکی تھی۔۔اور وقت گزرتا گیا۔۔ایوا اسکول جانا شروع کر چکی تھی۔۔اب وہ ہر وقت بس ایک ہی سوال کیا کرتی تھی کہ اس کا باپ کہاں ہے۔۔مگر اس سوال کا جواب تو ایوا کے پاس تھا نہ وہ اسے کبھی بتا سکی۔۔۔ جسمین وکٹوریہ جو اپنے فرینڈز میں جینی کے نام سے جانی جاتی تھی اس کا مذہب اسلام تھا۔۔وہ ایک آشین مسلمان باپ کی بیٹی تھی۔۔جو آنڈیا میں تھا۔۔مگر کہاں رہتا تھا یہ اس کی ماں بھی نہیں جانتی تھی۔۔ ایوا کو جب اپنی بیماری کا علم ہوا تو وہ بہت روئی تھی۔۔۔اس کے پاس زندگی کے بہت کم دنوں کی مہلت تھی۔۔ اور زندگی کہ سات ماہ ایوا نے محض اپنی لاڈلی کو سینے سے لگاکرگزار دئے تھے۔جو اس کے عشق کی آخری نشانی تھی۔۔۔اسلام کے بارے میں تو وہ خود بھی زیادہ نہیں جانتی تھی۔۔۔مگر وہ چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی اپنے باپ کے مذہب کےمطابق زندگی گزارے۔۔اسے یاد تھا کہ شہروز اس کے نیم برہنہ جسم کو دیکھ کس قدر خفا ہوتا تھا اور تو اس کی محبت میں پور پور ڈوبی خود کو مکمل طور پر تبدیل کر چکی تھی۔ان سات ماہ میں وہ اپنی آٹھ سالہ جسمین کو اس کے باپ کے بارے میں جو بتا سکتی تھی وہ بتا چکی تھی۔۔اور انہی دنوں میں سے ایک دن تھا جب ایوا اپنی ماں کا بیٹی کے ساتھ ناروا سلوک دیکھ ایک فیصلہ لینے پر مجبور ہوگئی تھی۔۔جس کا علم صرف ایوا اور جسمین کو تھا۔۔مگر اس کا یہ فیصلہ مستقبل میں جسمین کے لئے کس قدر مشکلات پپدا کرنے والا تھا ۔۔اس کا فیصلہ تو وقت نے ہی کرنا تھا۔۔۔۔ اور پھر وہ جسمین شہروز کو بھری دنیا میں ایمرے جیسی سفاک نانی کے ہاتھوں مین سونپتی اس دنیا سے جاچکی تھی۔۔اپنی ماں کو کھونے کے بعد جسمین کی شخصیت میں واضح تبدیلیاں رونما ہوئیں تھی۔۔۔جس کی ایک بٖڑی وجہ ایمرے کا سخت رویہ تھا۔۔وہ ایک ڈری سہمی سی بچی کے روپ
