Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 14/10/2025
88 Views
Episode No 03
Rebellious Love By Huma Qureshi Episode No 03 ’’بہزاد یہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں؟‘‘ وہ نروس سی اپنے لب چبا کر رہ گئی تھی۔رات کا نجانے کونسا پہر چل رہا تھا۔وہ شاید زندگی میں پہلی بار اتنی رات تک گھر سے باہر تھی۔۔۔ ’’ہنی!یہ میرا مینشن ہے اور اب سے تمہارا بھی۔‘‘ وہ اسے اپنے مضبوط حصار میں لئے حیرت زدہ کر گیا۔ ’’یہ۔۔یہ آپ کیا کہ رہے ہیں۔۔مجھے اپنے گھر جانا ہے۔۔اپنی نانو کے پاس۔‘‘وہ بیدردی سے لب چبا کر گویا ہوئی۔ ’’ڈانٹ وری سویٹ ہارٹ!ہم کل نکاح کے بعد چلے جائیں گے۔‘‘وہ جس آنداز میں بولا تھا جسمین پر ساتوں آسمان ٹوٹ پڑے تھے۔۔ ’’وہاٹ!بٹ میں کسی سے کوئی ایسا ریلیشن نہیں بنا سکتی۔۔کیونکہ۔۔۔‘‘وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہوئی تھی۔ ’’کیونکہ!‘‘بہزاد کا لہجا یکا یک تبدیل ہوا تھا۔۔وہ سردگی سے اسے بازؤں سے تھام کرسختی سے بولا تھا۔ ’’کیونکہ نانی۔۔۔ایسا نہیں چاہتی ہیں۔۔‘‘بہزاد کی سُرخ رنگ آنکھیں دیکھ وہ خوفزدہ ہوگئی تھی۔وہ تو بچپن سے خاصی ڈرپوک رہی تھی۔ ’’ہاہاہاہاہا!اوہ مائی گاڈ سویٹ ہارٹ!تم کتنی معصوم ہو۔۔‘‘وہ بظاہر شریں مگر استہزائیہ لہجے میں قہقہہ لگا گیا۔۔ ’’مسٹر بہزاد رضوی!اف یو فارگٹ !ہو ائیم آئے۔۔دین لیٹ می ریمائینڈ یو۔۔۔۔‘‘اس میں نجانے کہاں سے ہمت آئی تھی۔۔کہ وہ مدِمقابل آئی ٹھوس لہجے میں پھنکاری۔۔ ’’بہزاد نے ذرا سی گردن ترچھی کراسے مسکراتی نگاہوں سے دیکھا تھا۔ ’’’اوہ مائی بے بی!کل ہمارا نکاح ہے۔اور وہاں تمہاری ڈئیریسٹ نانی بھی موجود ہونگی۔۔آگر تم چاہو تو مسلم ہو سکتی ہو۔۔۔ادر وائز مجھے تمہارے کرسچن ہونے سے کوئی ایشو نہیں ہے۔‘‘وہ لاپرواہی کا مظاہرہ کر گیا تھا۔ ’’مگر تم مجھ سے کیوں میرج کرنا چاہتے ہو۔۔جبکہ میں کہیں سے بھی تمہارے قابل نہیں۔‘‘وہ اپنی اور اس کی حثیت کا فرق جانتی تھی۔ ’’آؤ میں تمہیں مینشن دکھاتا ہوں۔‘‘وہ مزید بات کو طول دئے بغیر اسے زبردستی اپنے ساتھ لیتا مینشن کے آندرونی حصےٰ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ماما!‘‘رومیلہ اپنے ماں ،باپ کے درمیان قائم کشیدگی دیکھ تھک چکی تھی۔ ’’جی بیٹا!‘‘وہ کچن میں کھڑی مصروف سی بولی تھیں۔ ’’آپ باباسے دوبارہ سے فرینڈ شپ کرلیں ناں۔‘‘چہرہ ہاتھوں پر گرایئے وہ افسردہ دکھائی سے رہی تھی۔ ’’بیٹا!ہم فرینڈز ہیں۔۔آپ کیوں ٹینشن لے رہی ہیں؟‘‘وہ ٹھٹھک گئیں تھیں۔آخر ان کی اولاد کا معاملہ تھا۔ ’’رئیلی!بٹ آپ اور بابا پہلے کی طرح کوئی بات ہی نہیں کرتے۔۔نہ ہی اس بار و یکشنز پہ ہم کہیں گھومنے گئے۔‘‘وہ افسردہ دکھائی دے رہی تھی۔ ’’کہاں جانا چاہتی ہیں میری گڑیا!مجھے بتائیں میں لے چلتا ہوں۔‘‘نجانے کب شہروز صاحب وہاں آتے اپنی بیٹی کو پیچھے سے سر پر پیار کرتے محبت سے بولے۔ ’’بابا!آپ کب آئے۔۔۔آپ تو کل آنے والے تھے ناں۔‘‘اس کے چہرے پر دنیا جہاں کی خوشی سمٹ آئی تھی۔ ’’میری بیٹی مجھے یاد کرے اور میں واپس نہ آؤں بھلا ایسا ہوسکتا ہے۔‘‘ وہ اس کے برابر میں ہائی چئیر سنبھال کر بیٹھ گئے تھے۔صنوبر بیگم نے مسکرا کر یہ منظر دیکھا تھا۔ ’’میں نہیں!ماما بہت یاد کر رہی تھیں آپ کو۔۔۔کل بھی بول رہی تھیں رومیلہ تمہارے بابا کب واپس آئیں گے۔‘‘رومیلہ کی شرارت پر وہ گڑبڑائیں جبکہ شہروز صاحب کا چھت پھاڑ قہقہہ ُبلند ہوا تھا۔۔۔ ’’بیٹاآپ کی ماما تو آپ کے بابا سے ناراض ہیں۔۔میں کیسے یقین کرلوں کہ وہ مجھے یاد کر رہی تھیں۔۔‘‘اُن کے رُخ پلٹ کر کام میں مصروف ہوجانے پر وہ شریر لہجے میں اِنہیں چھیڑنے کی غرض سے بولے تھے۔ ’’نہیں بابا!ماما مسڈ یو الوٹ!‘‘وہ یقین دلانے والے آنداز میں بولی تھی۔۔جبکہ صنوبر نے جھٹکے سے رُخ پلٹ کر گھورا تھا۔۔تو وہ شرارت سے آنکھ کا کونا دباتے اُنہیں تپا گئے تھے۔ ’’اوکے گڑیا!آپ جاؤ ریسٹ کروں۔رات بہت ہوگئی ہے۔ہم آپ سے بعد میں بات کرتے ہیں۔‘‘وہ اس کا ماتھا چوم کر اپنی بیگم کی جانب بڑھے تھے۔۔جو خفا خفا سی رُخ پھیر کر کھڑی تھیں۔ ’’رومیلہ ہمارے درمیان کی ناراضگی محسوس کرنے لگی ہے۔‘‘ وہ دھیرے سے قدم اٹھا کر نزدیک آئے تھے۔ ’’تو یہ آپ کو پہلے سوچنا چاہئے تھا۔‘‘وہ تلخ ہوئیں تھیں۔ ’’اتنی بار تو معافی مانگ چکا ہوں آپ سے۔‘‘وہ بے چارگی سے بولے ۔ ’’کیا آپ کے معافی مانگ لینے سے سب سہی ہوجائےگا۔۔کیا میرا آپ پر کیا بھروسہ دوبارہ سے قائم ہوجائیے گا۔۔کیا میرے دل میں آپ کی جگہ پہلے جیسی ہوجائے گی۔‘‘وہ نمکین پانیوں سے لبریز آنکھیں اُٹھاتی شکوہ کناں لہجے میں بولی تھی۔ ’’میں وقت کو نہیں پلٹ سکتا۔‘‘وہ سر جھکائے نادم ہوئے تھے۔ ’’اور آپ کی محبت!آپ کی پہلی بیوی۔۔اس کا کیا۔۔‘‘یہ لفظ کسی تلوار کی مانند دل پر گھاؤ ڈال گئے تھے۔ ’’میں انڈیا واپس آنے کے بعد پھر کبھی واپس نہیں گیا۔۔میں نہیں جانتا وہ کیسی ہے کس حال میں ہے۔زندہ بھی ہے یا۔۔۔میں اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا۔۔۔ بابا جان اور مما جان نے پھر مجھے کبھی واپس جانے ہی نہیں دیا۔‘‘وہ ماضی میں کھوئے تلخی سے بولے تھے۔وہ اس دنیا میں نہیں رہی اس بات کا تو انہیں کبھی یقین ہی نہیں آیا تھا۔۔۔ ’’اس کا مطلب ہے کہ آپ کے دل میں آج بھی وہ عورت ہے۔۔اور میری سالوں کی محبت ریاضت سب بیکار گئی۔‘‘وہ دُکھ سے استہزائیہ مسکائی تھیں۔ ’’نہیں صنوبر ایسا بالکل نہیں ہے۔۔تم میرے دل میں بستی ہو۔۔مانتا ہوں وہ میری جوانی کی محبت یا پھر ایک نادانی تھی۔۔مگر میری بیوی،میری عزت،غیرت اور میری بیٹی کی ماں تم ہی ہو۔۔اور یہ جگہ تم سے کوئی بھی نہیں لے سکتا۔۔‘‘وہ تیزی سے اُن کا آنسوؤں سے نم چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھامتے محبت سے چور لہجے میں بولے تھے۔ ’’بیٹی کی ماں۔۔۔بس ایک یہی وجہ ہے جو میں اب تک یہاں موجود ہوں۔۔ورنہ اب تک تو آپ نے اپنے اماں بابا کی بات کو رد کر اپنی محبت کے پاس چلے جانا تھا۔۔‘‘وہ ان کا ہاتھ جھٹکتیں درشتگی سے گویا ہوئیں تھیں۔ ’’کیاآپ کو مجھ پر اعتبار نہیں رہا۔۔مجھ پر میری محبت پر۔‘‘ان کے لہجے میں آس تھی۔ ’’نہیں۔۔اب نہ مجھے آپ پر اعتبار ہے اور نہ ہی آپ کی کھوکھلی محبت پر۔۔۔ مجھے تو اب تک یقین نہیں آرہا کہ میرے حصےٰ میں ایک بنٹا ہوا آدمی آیا تھا۔جس کی خاطر میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر آئی،ہر رشتے کو قربان کردیا وہ کبھی میرا تھا ہی نہیں۔۔یہ سب محض ایک فریب تھا۔۔۔‘‘ان کے لہجے میں کرب واضح تھا۔ ’’ایسا نہیں ہے صنوبر۔۔۔میں تم سے اتنی ہی محبت۔۔۔۔‘‘انہوں نے صفائی پیش کرنی چاہی۔۔ ’’بس کردیں شہروز۔۔اب بس بھی کردیں پلیز۔اور کتنا جھوٹ بولیں گے۔۔مجھ سے خود سے۔‘‘وہ تاسفی آنداز میں بولیں۔ ’’میں ایسا کیا کروں کہ تم مجھ سے اپنی ناراضگی ختم کرلو۔۔میرا نہیں تو کم از کم ہماری بیٹی کے بارے میں ہی سوچ لو۔‘‘وہ شکستہ خور لہجے میں بولے تھے۔ ’’صرف اپنی بیٹی کا سوچتی ہوں تو ہرسوچ دم توڑ جاتی ہے۔۔ورنہ اس گھر کو چھوڑنے میں ایک لمحہ نہ لگاتی۔۔۔‘‘وہ کس قدر سفاکی سے بول گئیں تھیں۔شہروز صاحب محض دیکھ کر رہ گئے۔ ’’بس اتنی ہی محبت تھی آپ کو۔‘‘وہ جس آنداز میں بولے تھے صنوبر نے ٹھٹھک کر اپنے شریک حیات کو دیکھا تھا جن کی آنکھیں نم تھیں۔ ’’مرضی ہے آپ کی۔۔ہماری طرف سے آپ آزاد ہیں۔۔نہ ہم نے پہلے کبھی کسی کو خود سے باندہ کر رکھا تھا۔۔نہ اب کسی کو قید کرنا چاہتے ہیں۔۔‘‘لہجے میں آپ ہی اجنبیت سمٹ آئی تھی۔صنوبر نے بے یقینی سے انہیں دیکھا تھا۔۔اور اپنے آنسوؤں پر جب مزید ضبط نہ کرسکیں تو بھاگتی ہوئی وہاں سے نکل آئی تھیں۔جبکہ وہ اپنا سرتھامتے کرسی پر ڈھے سے گئے تھے۔۔ ’’چلی جائیں آپ بھی صنوبر، جیسے
