Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 16
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/03/2026
0 Views
Episode No 16
ہی لے لیتی ہوں۔کیا پتہ اس کے خلاف استعمال کرنے کے لئے، کوئی کام کی چیز مل جائے۔"وہ خود ساختہ بڑبڑا کر رہ گئی تھی۔۔ اقصیٰ دو لكڑی کی سیڑھیاں عبور کرتی۔راہداری سے گزر کر ٹائیگر کے کمرے کے عین سامنے آئی۔ایک گہری سانس فضا کے سپرد کر جیسے ہی دروازہ کھولا تو ایک عجیب سی وحشت نے اسے جُھرجُھری لینے پر مجبور کردیا۔وہ بہت ہمّت جٹا کر اس کے کمرے کی تلاشی لینے آئی تھی۔جبکہ کہیں نا کہیں ٹائیگر کے واپس آ جانے کا ڈر دل میں ہچکولے لے رہا تھا۔۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے میں داخل ہوئی تو نظر سیدھی کھڑکی سے آتی سورج کی مدھم کرنوں پر پڑی تھی۔جو غروب آفتاب کا وقت ہونے کے باعث اپنے پنکھ سمیٹنے لگی تھیں۔۔پورا کمرہ بکھرا ہوا تھا۔وہاں کی بے ترتیبی دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ یہ کسی لڑکے کا کمرہ ہے۔کمرہ میں ایک بیڈ ،اور ایک کرسی اور ٹيبل کے علاوہ کوئی فرنیچر موجود نہیں تھا۔کرسی کی سائیڈ پر رکھا ٹيبل لميپ اور ٹيبل پر ایک پین اور ساتھ ہی ایک ڈائری رکھی ہوئی تھی۔۔کیا یہ مولی پڑھنا لکھنا بھی جانتا ہے۔۔سب سے پہلا خیال اقصیٰ کے دماغ میں یہی آیا تھا۔۔ اقصیٰ نے متجسس ہو کر قدم اٹھاۓ تھے۔ٹيبل کے پاس آکر اِرد گرِد کا جائزہ لیا۔بیڈ کے نیچے سے ایک سوٹ کیس جھانک رہا تھا۔سوٹ کیس کپڑوں کی الٹیاں کر رہاتھا۔۔اقصیٰ وہ بعد میں دیکھنے کے ارادے سے ڈائری کی جانب متوجہ ہوئی۔جس پر بُک مارک لگا ہوا تھا۔لال کوور والی بہت سادی سی ڈائری تھی۔ظاہر ہے کسی لڑکی کی ڈائری تھوڑی تھی۔جو گلابی رنگ کی ہوتی۔وہ تو ایک لڑکے بلکہ نہیں ایک غنڈے کی ڈائری تھی۔ وہ منہ ناک بسورے،سر جھٹک کر ڈائری اٹھاکر ابھی پنے پلٹنے شروع ہی کرنے لگی تھی کہ پیچھے سے نمودار ہونے والی سخت گیر آواز پر چونک کر اُچھل پڑی۔۔۔ "یہاں کیا کر رہی ہو تم رپورٹر۔۔"ٹائیگر برق رفتاری سے ایک ہی جست میں اُس کے مقابل آیا تھا۔جس نے اچانک گڑبڑاکر رُخ اس کی جانب موڑا تھا۔۔ "ک۔ کچھ نہیں۔۔"اقصیٰ گھبراہٹ میں ہکلا کر گویا ہوئی۔۔ "ایسے کیسے کچھ نہیں۔تمہاری ہمّت کیسے ہوئی۔میری ڈائری کو ہاتھ لگانے کی۔"ٹائیگر اسے بوکھلاہٹ میں ڈائری پشت پر چھپاتا دیکھ،طیش میں دهاڑا۔ "میں ۔۔میں کچھ نہیں کر رہی تھی۔۔"اقصیٰ کو گھبراہٹ میں چوری پکڑے جانے پر سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔کہ آخر کیا جواز پیش کرے۔ "کیا کچھ نہیں ہاں!!اور یہ تم میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو ؟بہت شوق ہو رہا ہے میرے کمرے کی تلاشی لینا کا تو مجھے بتاؤ۔میں تمہارا شوق ابھی پورا کردیتے ہوں۔۔"ٹائیگر اچانک غصّہ سے بے قابوں ہوتا اس کے چہرے پر سرد سی سرگوشی میں پُھنکارا۔۔ "پیچھے ہٹوں۔۔۔مجھے کوئی شوق نہیں ہے۔تمہارے اس کباڑ خانے کو دیکھنے کا۔اور نا ہی میں تمہاری اِن کُھوکُھلی دھمکیوں سے ڈرتی ہوں۔۔"وہ اچانک ہی چیخ کر اسے پیچھے ہی جانب دھکیلتی نفرت سے غرائی۔۔ "اچھا تو پھر میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو۔۔"وہ ضبط سے اس سے بھی تیز آواز میں چیخا۔ "اور یہ ڈائری۔۔اُدھر دو ایسے۔"پُشت پر لگے ہاتھ سے دو قدم آگے بڑھ کر جهپٹنے کے سے انداز میں چھینی تھی۔۔ "ہاں لو۔۔میں کوئی مری نہیں جا رہی۔تمہاری ڈائری پڑھنے کے لئے۔جو جاہلوں کی طرح چیخ چلا رہے ہو۔بلکہ میں بھی کیا بول رہی ہوں۔تم تو ہو ہی جاہل،بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہو۔تمھیں کیا معلوم تمیز ، تہذیب کس چڑیا کا نام ہے۔۔"وہ نفرت امیز لہجے غصّیلے انداز میں کہتی،خود ساختہ ہی اپنی تردید کر گئی تھی۔جبکہ ٹائیگر نے داد دیتی نظروں سے اس کا نخرہ دیکھا تھا۔مطلب رسّی جل کر اب تو ختم بھی ہوگئی تھی۔مگر جلیبی جیسے بلوں کے تو کیا ہی کہنے۔۔۔ "ٹیڑھی کھیر۔۔"فی الحال اس کے مزآج کی بلندیاں دیکھ،ایک یہی الفاظ تھا جو ٹائیگر کے دماغ میں گونجا تھا۔۔ "اچھی بات ہے۔چالاک لومڑی دور رہو۔میری چیزوں سے۔"اس کی گوہرافشائیاں سن کر ٹائیگر کا سخت گیر لہجہ یکایک تبدیل ہوا تھا۔جبکہ اب وہ پوری آنکھیں کُھولے اس کے بدلے انداز ملاختہ کر رہی تھی۔۔ "چالاک لومڑی۔۔"اقصیٰ نے چند لمحوں کے بیت جانے کے بعد اس کے خطاب پر غور کیا۔جبکہ اس تمام عرصے میں وہ کمینگی سے مسکراتا اس کے بالکل عین مقابل اگیا تھا۔۔ "نیا نام اچھا ہےنا،رپورٹر کا۔"ٹائیگر نے اس کے راستے میں حائل ہوکر کان کے پاس سرگوشی کی تھی۔ اقصیٰ کی آنکھیں ایک دم حیرت کی ذیادتی سے پھیل گئیں تھیں۔وہ بدک کر پیچھے ہوئی۔ "یہ کیا بدتمیزی ہے۔"وہ گڑبڑا کر اپنی خفت چھپانے کے لئے اُلٹا ایسی پر چڑدوڑی۔۔ "کیا؟"ٹائیگر نے اُس کی جانب قدم اٹھا کر آئی برو اٹھاۓ۔ "جاہل ،موالی غنڈے ہٹو میرے راستے سے۔"وہ پیچھے کو قدم اٹھاتی۔بوکھلائی سی تھی۔ "میں راستے سے ہٹوں۔مت بھولو رپورٹر تم میرے راستے میں دیوار بن کر آکھڑی ہوئی ہو۔"وہ اسے پیچھے دیوار سے لگتا دیکھ،سرد لہجے میں بولا۔ "ہاں تو گرا دو اس دیوار کو۔اور آزاد کردو مجھے بزدل انسان۔"عجیب کشمکش کی سی کفیت میں بھی وہ ٹائیگر کے سامنے تن کر کھڑی خود کو نڈر ثابت کر رہی تھی۔ "اچھا!!!!!!!!"ٹائیگر نے اس کی دیدہ دلیریوں پر اچھا کو کھینچ کر داد دیتی نگاہوں سے دیکھا۔ "اور اگر ساری زندگی بھی نا کروں تو کیا کروں گی رپورٹر۔۔""وہ ہاتھ دیوار پر ٹکاتا اس کی سہمی سی آنکھوں میں دیکھ کر عجیب سے لہجے میں گویا ہوا۔۔ "سوچ ہے تمہاری۔میں تمھیں آزاد ہو کر دکھاؤں گی۔"اس کے لہجے کی نفرت ایک بار پھر لوٹ آئی تھی۔۔ "یہ تو وقت بتائے گا۔کون کس کے شکنجے میں قید ہوگا۔اور کون آزاد۔۔۔۔"وہ اس کے چہرے کے بالکل قریب چہرہ لے جا کر سرد پن سے مسکرایا۔اقصیٰ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی تھی۔ ٹائیگر کے آج تیور ہی نرالے تھے۔جبکہ اب وہ بہت خاموش سے اقصیٰ کے چہرے کے معصوم نقوش میں کھویا ہوا تھا۔ہاں۔۔ایسا ہی تو تھا وہ چہرہ بھی معصوم،بھولا بھالا دنیا جہاں کی معصومیت سمیٹے ہوۓ مگر چہرہ کا دوسرا رخ کس قدر مکروہ اور بھیانک تھا۔وہ جو اقصیٰ کے چہرہ سے ہاتھ بھر کی مسافت پر کھڑا اس کی آنکھوں میں ہچکولے لیتا ڈر اور خوف کو دیکھ رہا تھا کہ نظروں کے سامنے کوئی اور ہی منظر لہرا گیا تھا۔۔ "دفعہ ہو یہاں سے۔۔میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو تم۔۔"وہ بے ساختہ ہی قدم پیچھے کی جانب اٹھاتا،غصّہ میں جبڑے بھینچ کر اس کا نازک سا بازوں اپنے سخت ہاتھوں کی گرفت میں لیتا طیش میں کھینچ کر ایک جانب پٹخ چُکا تھا۔۔ اقصیٰ جو دل میں سہمی،نڈر سی اس کی سُرخ پڑتی نگاہوں کو قریب سے دیکھ خوفزدہ تھی۔یکا یک اس کے لہجے کی تبدیلی پر چیخ اُٹھی تھی۔۔۔ "دفعہ ہوجاؤ یہاں سے۔اور آیندہ میری غیر موجودگی میں یہاں قدم بھی نا رکھنا۔سمجھیں۔۔"وہ اپنا بازو پکڑ کر سسکتی اقصیٰ کو ہاتھ سے پکڑ کر کمرے سے باہر کی جانب دھکا دے چکا تھا۔جو خود کو سنبھالتی لكڑی کے فرش پر جاگری تھی۔۔ کمرے کا دروازہ بند کر کے اس نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اپنے غصّہ پر قابوں کیا۔جس کے باعث دماغ پھٹا جا رہا تھا۔ "کیوں۔۔۔۔"شدّت سے چیخ کر ساتھ پڑی کرسی اٹھا کر دیوار پر ماری تھی۔جبکہ خود ہاتھوں میں سر گرا کر بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ ________ جاری ہے۔۔
