Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 16
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/03/2026
0 Views
Episode No 16
#محبت_بازیِ_آخر #ہما_قریشی قسط نمبر16 ______ "یار زہرہ۔۔کہاں غائب تھیں تم۔۔"شائنہ زہرہ کو آج ہفتہ بھر کی چھٹّی کے بعد یونیورسٹی آتا دیکھ۔شوخی سے بولی۔ "بس یار امی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔تو اِسی میں مصروف تھی۔"زہرا سنجیدگی سے گویا ہوئی۔ "اؤه!!!تو لڑکی۔۔اپنا موبائل نمبر ہی دے دو۔تاکہ بندہ رابطہ میں رہے۔"وہ عادت کے مطابق پٹر پٹر کرنے لگی تھی۔ "یار موبائل خراب ہوگیا تھا میرا۔نیا لونگی تو سب سے پہلے تمھیں ہی نمبر دونگی۔"اس کے لہجے میں بے زاری عیاں تھی۔ "اچھا!!اچھا۔۔منہ پر بارہ کیوں بج رہے ہیں تمہارے۔"شائنہ نے اس کے بگڑے تیور دیکھ استفسار کیا۔ "کچھ نہیں ہوا!کلاس میں چلو۔۔دیر ہو رہی ہے۔۔" وہ زبردستی اس کا ہاتھ تھامتی لفٹ کی جانب بڑھی۔جس کے باہر سٹوڈنٹس کی لائن لگی تھی۔ "یہ دونوں تو ابھی فُل ہیں۔سیڑھیوں سے چلتے ہیں۔"شائنہ اس کا ہاتھ پکڑ کر برابر سے اُپر جاتی سیڑھیوں کی جانب آئی۔اُن کا ڈیپارٹمنٹ تیسرے فلور پر تھا۔۔ "ہیلو!!بیوٹیفلز۔۔"دوسرے فلور پر اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا شاہ زین اچانک اُن کے سامنے نمو دار ہوا تھا۔وہ دونوں ٹھٹھک کر ٹھر گئیں۔۔ "اوہ ہاۓ!!!کیسے ہو شاہ زین۔"شائنہ نے خوش اخلاقی سے پوچھا۔اس روز کے بعد سے شائنہ کی ان لوگوں سے خاصی اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ "میں ہمیشہ کی طرح مزے میں۔معصوم تیز گام کے کیا حال ہیں۔بڑے دنوں بعد دیدار کا شرف بخشا ہے میڈم نے۔"زین نے عادت کے مطابق شوخی سے ،سنجیدہ تاثر لئے کھڑی زہرہ کو دیکھ چھیڑا۔۔ "شائنہ مجھے کلاس سے دیر ہو رہی ہے۔تم اپنے دوست سے بات کر کے سیدھی کلاس میں آجانا۔"وہ سرد سپاٹ سے انداز میں بولتی،وہاں سے نکلنے لگی۔ "معصوم تیز گام آج میں تمھیں، نام بتاۓ بغیر کلاس میں نہیں جانے دونگا۔"وہ اچانک اس کی راہ میں حائل ہوا۔ "دیکھیں راستہ چھوڑیں میرا۔"زہرا کی تیوری چڑھ گئی تھی۔ "ناں!!پہلے نام بتاؤ۔"وہ بضد ہوا۔ "میں نے کہا راستہ چھوڑیں۔۔وہ غصّہ سے سرخ پڑتی دانت پر دانت رکھ کر کچکچا کر گویا ہوئی۔ "کیا ہوگیا ہے زہرہ صرف نام ہی تو پوچھ رہا ہے وہ۔"شائنہ نے زوہان اور اس کے ساتھ آتے دوسرے لڑکے کو دیکھ مداخلت کی۔۔ "آہاں!!زہرہ۔۔۔خوبصورت ہاں۔۔ڈیٹس لائک یو۔۔"وہ شرارت سے مسکرایا۔جبکہ زہرہ نے خشک نگاہوں سے شائنہ کو دیکھا جو شرآرت سے مسکرا کر بے نیازی سے کندھے اچکاگئی۔۔ "چلو تم جاؤ۔تیز ایکسپریس۔۔کہیں معصوم تیز گام تمھیں نظروں ہی نظروں میں کچانا چبا جائے۔۔"شاہ زین نے ان دونوں کو آنکھوں ہی آنکھوں میں لڑتا دیکھ،آنکھ دبا کر مسکرا کر کہا۔۔جبکہ زوہان کی ہمرآہی میں نزدیک آتے شخص نے بڑی توجیہی سے سامنے کھڑی کامنی سی لڑکی کو دیکھا تھا۔جو فضول میں اتنے نخرے دکھا رہی تھی۔۔ "ویسے ایک آخری بات تو سنتی جاؤں!!معصوم تیز گام۔۔"اُس نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر پیچھے سے ہانک لگائی۔ "تمہاری دوست۔میرا مطلب ہے تیز ایکسپریس نے مجھے پہلے ہی تمہارے خوبصورت نام سے اگاہ کر دیا تھا۔"وہ اونچی آواز میں پیچھے سے شرارت بھرے انداز میں بولا تھا۔جبکہ ساتھ کھڑے زوہان کا بلند قہقاہ تیسرے فلور کی راہداری میں گونج اٹھا تھا۔۔شاہ زین کی آواز پر زہرہ نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھا۔جو شرارتی انداز میں معصوم صورت بناۓ، ایک کان کا کونہ پکڑ کر معذرت خواں انداز کھڑی تھی۔۔ _________ یہ منظر ایک گُهپ اندھیرے کمرے کا تھا۔جہاں وہ سے قید تھی۔ہاتھ پیچھے کو کُرسی کی پشت پر باندھے گئے تھے۔جبکہ منہ پر کپڑا اس انداز میں بندھا گیا تھا۔کہ اب ہونٹ چرنے لگے تھے۔۔ کُرسی کی پشت سے نڈھال سی ٹیک لگا کر بیٹھی۔وہ دروازہ کی جانب ہوتی آہٹ پر چونک کر سیدھی ہوئی تھی۔منہ پر بکھرے بالوں سے سخت الجُھن محسوس ہو رہی تھی۔جبکہ اچانک ہی اندھیرے کمرے میں کسی نے بلب روشن کیا تھا۔ اندھیرے میں ہونے کے باعث روشنی ہو جانے کی وجہ سے چندھیا سی گئی تھیں۔۔چند لمحوں میں آنکھیں سامنے کا منظر دیکھنے کے قابل ہوئی تھیں۔ تاریک زدہ کمرے میں نيم اُجالا سا پھیل گیا تھا۔اُس نے وحشت زدہ نظروں سے سامنے نمودار ہونے والی شخصیت کو دیکھا۔جو کمينگی سے مُسکراتا نزدیک آرہا تھا۔۔ "اوہ!!بے بی کو رونا آرہا ہے۔"وہ اس کے چہرے پر سے کپڑا ہٹاتا پچکارنے والے انداز میں بولا۔اقصیٰ کی ایک دم سسکیاں گونجی تھیں۔ "چلو!!تیار ہو جاؤ اپنی اصل جگہ جانے کے لئے۔"وہ اچانک سخت تاثرات سے کہتا اِس کا دم خشک کرگیا۔آنسو سے لبا لب ہراساں نگاہوں میں خوف سا امڈ آیا تھا۔ سر بے ساختہ نفی میں ہلا تھا۔آنکھوں سے آنسو گلابی گالوں پر جھرنے کی مانند بہنے لگے تھے۔۔ "کیا سمجھتی ہو تم خود کو ہاں!!اس طرح رُو دُھو کر ثابت کیا کرنا چاہتی ہو۔"اقصیٰ کو مزاحمت کرتا دیکھ،وہ اس کا نازک سا چہرہ اپنے مضبوط ہاتھوں میں جکڑ کر چیخا۔ "تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو ۔تم تو کہتے تھے۔تم مجھ سے محبّت کرتے ہو۔میں تمہارے خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر آگئی۔۔اور تم۔۔"بے یقینی،دُکھ اور درد کی سی کیفیت میں وہ بے بسی سے بولی تھی۔آخر وہ کس کس بات پر ماتم کرتی۔۔۔ "ناں ناں!!تم میری محبّت میں کچھ نہیں چھوڑ کر آئیں۔بلکہ تمھیں میرے پیسے کی ہوا میری طرف کھینچ لائی ہے۔کیوں ایسا ہی ہے نا۔۔"وہ اس کے چہرے کے قریب جُھکتا استہزایہ مسکرایا۔جبکہ اقصیٰ آنسوں سے لبالب آنکھوں میں اپنے لئے حقارت دیکھ سسک اٹھی تھی۔ "اوکے!!ڈارلنگ تمہاری بات مان لیتا ہوں۔کہ تم سب میرے خاطر چھوڑ کر میرے پاس آئی ہو۔تو پھر ٹھیک ہے۔اب سے تم صرف میرے لئے کام کروگی۔مطلب۔۔۔۔۔سمجھ رہی ہو نا شاطر دماغ۔"وہ اقصیٰ کے منہ کے قریب جُھکتا سرد سی سرگوشی میں بول کر،آنکھ دبا کر خباثت سے مسکرایا۔جبکہ اُس نے خوف سے جُھرجُھری لی تھی۔۔ "نہیں۔۔۔نہیں۔۔تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔محبّت کرتی ہوں میں تم سے۔۔"وہ ایک دم شدّت سے چیخی۔جبکہ نیم اندھیرے کمرے کی فضا میں اس کا ایک جاندار قہقہہ بلند ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔ "تو محبّت کی راہ پر چلنے والے کے لئے کچھ کانٹے بھی اُن کے منتظر ہوتے ہیں۔اب ان کانٹوں پر ننگے پیر چل کر ذرا اس محبّت کا قرض تو ادا کردو بے بی۔۔"وہ اس کے بالوں سے لٹیں کان کے پیچھے آڑستا،شیطانیت سے کہتا ہوا مسکرا اٹھا تھا۔۔۔ "اوکے!!باۓ باۓ۔۔۔"وہ اچانک کہتا ہوا وہاں سے باہر نکل گیا تھا۔ "نہیں۔۔۔۔تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔"پیچھے اقصیٰ شدّت سے چیختی خوف سے اٹھ بیٹھی تھی۔ "نہیں۔۔نہیں۔۔۔"اقصیٰ خواب کے زیرِ اثر ایک دم اٹھ کر بیٹھی تھی۔اچانک منظر آنکھوں سے اُوجھل ہوتا اب دهواں دهواں ہوا تھا۔۔۔ "میں یہاں۔۔"خوف سے پورا وجود پسینے سے شرابور ہو رہا تھا۔نظر کمرے میں گُھومی تو جان میں جان آئی۔وہ اس درندے صفت انسان کی قید میں نہیں۔بلکہ اپنے مخصوص کمرے میں موجود تھی۔کپکپاتے ہاتھوں سے پاس رکھا پانی کا جگہ اٹھا کر حلق میں پانی اُنڈیلا۔جس میں سُوکھ کر خر اش پڑنے لگی تھی۔۔ "یہ حقیقت۔۔۔یہ خواب نا جانے کب میرا پیچھا چھوڑیں گے۔"یہ وہ حقیقت تھی۔جس سے وہ سالوں سے دامن بچاتی آرہی تھی۔مگر زندگی کا یہ تلخ باب برا سایہ بن کر اُس کے گرد ہی منڈلاتا رہتا تھا۔۔ _______ آج صبح سے اقصیٰ دس بار ٹائیگر کے کمرے کے پاس جاکر ڈر کر واپس لوٹ آئی تھی۔آج صبح سے وہ دونوں پھر ہٹ سے غائب تھے۔جبکہ اقصیٰ یہاں آزاد تھی۔جانتے تھے کہ کم از کم ابھی تو وہ کہیں نہیں جانے والی تھی۔ "اففف!!!ابھی تک صرف چار ہی بجے ہیں۔"اقصیٰ گھڑی دیکھ بڑبڑآئی۔دن پہاڑ جیسا ہوگیا تھا۔ "کیا کروں۔۔کیا کروں۔۔"وہ کام کاج کرنے والی ایک مصروف بندی تھی۔اور اب ایسے فارغ بیٹھ بیٹھ کر اُکتاگئی تھی۔ "پتہ نہیں۔یہ غنڈا مولی کب آۓ گا۔اس کے کمرے کی تلاشی
