Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
1 Views
Episode No 08
خوشیاں رقصاں تھیں۔اب وہاں صفاۓ ماتم بچھ گیا تھا۔۔ اقصیٰ جمشید اپنے ساتھ ساتھ اس گھر کی خوشياں بھی لے گئی تھی. . ۔۔۔۔۔۔۔۔ _____ "اقصیٰ کے والد کا سن کر بڑا افسوس ہوا۔"نرمین اپنی سیٹ پر غائب دماغی سے بیٹھی تھی۔جب ایک ساتھی کوليگ قریب آکر افسوس سے بولی۔۔ وہ چونک کر متوجہ ہوئی۔جو اب اس سے اقصیٰ کے بابت استفسار کرتی افسوس کر رہی تھی۔یہ تو ہماری قوم کا علمیا ہے جب تک وہ ہستی سامنے موجود ہے ہو تو کسی بھی قدر و منزلت سے نہیں نوازتے اور جب ان سے بچھڑ جائے تو نیک نامی میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑتے۔۔ نرمین بغیر کچھ کہے اس کو خاموشی سے سنتی بے زار سی تھی۔۔نرمین کو اپنی آخری ملاقات پھر اقصیٰ کی کڈنپنگ،اس کے ماں باپ کے گرتی حالت،جمشید صاحب کی موت کی اچانک خبر سب نظروں میں گھوم گیا۔۔۔جانے اُس کی قسمت میں کیا لکھا تھا۔۔۔۔ ______ "رپورٹر تمہارے لئے ایک بیڈ نیوز ہے۔۔"وہ آج اپنے اسی ٹپوریوں والے مخصوص حُلیہ میں موجود تھا۔۔اقصیٰ کو اس قید خانے میں دو ہفتے گزر چکے تھے۔مگر کوئی اس کی مدد کو نہیں آیا تھا۔۔ اقصیٰ نے خالی خالی سی نگاہ اٹھا کر اس کے چہرے کی جانب دیکھا۔جہاں مسکراہٹ رقصاں تھی۔۔ "کل رات تمہارا بیچارہ باپ تمہارا غم نا برداشت کرتے ہوۓ تمہارا غم سینے میں ہی دباۓ,،اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔چچچ۔۔۔بڑا افسوس ہوا۔۔"اس کہ لہجے میں مصنوعی افسوس سا تھا۔۔ اقصیٰ نے بے یقینی سے ایسے دیکھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اگلا سانس نہیں کھینچ سکے گی۔اس کو اپنی قوت سماعت پر یقین کرنا دنیا کا سب سے کٹھن کام لگا۔ "کیا ہوا رپورٹر کہیں صدمہ تو نہیں لگ گیا۔۔"وہ کرسی گُھما کر اس کے مقابل بیٹھتا،تمسخر سے مسکرایا۔جیسے اس کے تاثرات نے ایسے مزہ دیا ہو۔ "جھوٹ۔۔۔جھوٹ بول رہے ہو نا تم۔ٹریپ کرنا چاہ رہے ہو نا مجھے ۔۔"آنکھوں میں جهلملاتے آنسو پر ضبط کے باندھن باندھتی غم زدہ سا بولی۔۔ ٹائیگر جو اس کی بے بسی سے لطف اٹھا رہا تھا۔یکدم چونک کر سنجیدہ ہوا۔۔آنکھوں میں کئی ایسے مناظر لہراۓ ،جس کے باعث چند لمحوں۔کے لئے تو تو وہ خود کچھ کہ ہی نہیں پایا۔۔وہ اقصیٰ کی حالت سے خظ اٹھارہا تھا۔مگر اس کا آنسو سے تر چہرہ دیکھ نا جانے کیا ہوا،یکدم چیئر چھوڑ کر بوکھلا کر ،گھبراہٹ سے پیچھے ہٹا۔۔ "بتاؤ۔۔مجھے جھوٹ بول رہے ہو ناتم۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔وہ نہیں جاسکتے وہ بھلا کیسے جا سکتے ہیں۔۔ماما بابا میرا انتظار کر رہے ہونگے۔جانے دو مجھے یہاں سے۔۔"بےرابطہ سے جملہ ادا کرتی وہ ابھی بھی بے یقینی کی كیفيت میں مبتلہ نظر آرہی تھی۔۔ "بتاؤ مجھے۔۔بولو ۔۔بولو۔کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔بولو۔۔۔۔"شدّت سے رسّی سے بندھے ہاتھ جھٹکتی جذبات میں تیز لہجے میں دھاڑی۔۔مگر مقابل کچھ سن ہی کب رہا۔تھا۔ اس پر تو عجیب مرگ سی کفیت طاری ہوگئی تھی۔۔کشاده پیشانی پر اچھے خاصے ٹھنڈے ماحول میں بھی پسینہ سا چمکنے لگا۔۔ جبکہ اقصیٰ ضبط کے سارے بندھن توڑتی بے بسی سے ہچکیوں سے رو پڑی تھی۔۔وہ منہ پر ہاتھ پھیرتا اقصیٰ کو بری طرح سسکتا دیکھ گهبرا کر تیزی سے کمرے سے باہر بھاگ گیا۔۔ "پلیز!!!!!!!پلیز بول دو کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔بس ایک بار۔۔ایک بار کہ دو کہ جو تم بول رہے ہو۔۔وہ بس تم نے جھوٹ ۔۔جھوٹ کہا ہے۔۔اس میں کوئی سچائی نہیں۔۔پلیز!!!بس ایک بار۔۔۔میں ۔۔میں۔۔میں یہاں سے جانے کی بھی ضد نہیں کروں گی۔۔ہاں!!!پکّا۔۔جیسا ۔۔جیسا تم کہوں گے بالکل ویسا۔۔ویسا ہی کرونگی۔۔بس ۔بس ایک بار مجھے بتادو کہ تم جھوٹ بول رہے تھے۔۔۔بس ایک بار۔۔۔۔۔۔" اقصیٰ کا رونا،چلانا۔ ازیت ،غم کی انتہا ،بے یقینی حیرانی سے گونجتی تیز آوازیں کمرے کے باہر تک سنائی دے رہی تھیں۔کرسی پر رسیوں سے بندھی بیٹھی وہ پھوٹ پھوٹ کر قسمت کی اس ستم ظریفی پر ماتم کناں تھی۔یہ درد ناقابل برداشت سا ہو رہا تھا۔۔جبکہ دوسری جانب وہ خود اپنی کیفیت سے انجان دل میں اٹھتے ناقابلِ برداشت درد کو زائل کرنے کے لئے ڈرگز کی طلب شدّت سے محسوس کر، ڈرگز کی تلاش میں پاگلوں سے طرح اِدھر سے اٌدھر ہاتھ مارتا،پورا کمرہ بگاڑ چکا تھا۔مگر سکون تھا کہ کسی حال میسر نہیں آرہا تھا۔۔۔ _______ "کہاں ہے ٹائیگر،ایسے زمین کھا گئی۔یا آسمان نگل گیا۔۔"اپنے بنگلے پر موجود نادر پچھلے ایک ماہ سے مسلسل ٹائیگر کی گمشدگی میں غیر حاضری دیکھ آج ہی وطن واپسی کر فون کان سے لگاۓ شدّت سے دهاڑا۔۔۔ بلیک کپڑوں اور جوتوں میں اسلحہ سے لیس کھڑے گارڈز نادر کو غصّہ کی شدّت سے پاگل ہوتا دیکھ رہے تھے۔جو چند گھنٹوں پہلے ہی وطن واپسی لوٹا تھا۔۔مگر ٹائیگر کی مسلسل گمشدگی کی خبریں سن سن کر اشتعال سے پاگل ہوتا بهپرے ہوۓ شیر کی مانند غراتا بنگلے کے بڑے سے حال میں مسلسل چکّا پھیر کر رہا تھا۔۔ "کچھ بھی کرو۔۔۔کچھ بھی۔زمین کھودو یا پہاڑ چیر ڈالو مجھے ٹائیگر چاہیے۔ہر حال میں اپنے سامنے چاہیے سمجھے۔۔"وہ طیش کے عالم میں موبائل کے اس پار بیٹھے شخص پر غراتا کھٹ سے موبائل اف کرتا موبائل دور پھنک گیا۔۔۔۔ نادر کو غصّہ سے پاگل ہوتا دیکھ وہاں موجود ہر شخص کو ہی خوف کے مارے سانپ سونگھ گیا۔۔پہلے ہی جہاز ڈوب جانے کے باعث اتنا بڑا نقصان برداشت کیا تھا۔اور اب ٹائیگر کی مسلسل گمشدگی اس کا دماغ گھمانے کے لئے کافی تھی۔ وطن واپسی لوٹ کر سب سے پہلا کام اس نے پولیس ڈیپارٹمنٹ کے تمام ایماندار آفسرز کی لسٹ نکلوانے کا انجام دیا تھا۔جو بلاوجہ اس کے راستے میں دیوار بنانے کی کوشش میں خوار ہوتے اپنی موت کو دعوت دے چکے تھے۔۔ "ٹائیگر!!ٹائیگر ۔۔تم جہاں کہیں بھی ہو خود ہی سامنے آجاؤ۔۔ورنہ اگر میں نے تمھیں تلاش کیا تو یاد رکھنا تمہاری انے والی سات نسلیں بھی نادر چغتائی کا بدلہ یاد رکھیں گی۔۔"لب بھینچے،دانت پر دانت جما کر ،جبڑوں کو سختی سی بند کیے ۔وہ خود ساختہ بڑبڑاتا ہر لفظ چبا چبا کر پھنکارا ۔ _____ "سیف میرے بچے۔۔کیوں ان خطرناک لوگوں سے دشمنی مول لے رہے ہو۔چھوڑ دو ، ان لوگوں کو ان کے حال پر۔یہ بے حس ،بے ضمیر درندے ہیں۔جن کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔یہ انسانیت کے دشمن ہیں۔اور تم میرے اکلوتے بیٹے ہو۔میرے بڑھاپے کا واحد سہارا۔۔"سیف کی لپ ٹاپ کیز پر تیزی سے چلتی انگلیاں چند لمحوں کے لئے تھم سی گئیں۔۔وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا۔کہ پس پردہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔۔ "موت کے خوف سے انسان جینا تو نہیں چھوڑدیتا نا بابا۔۔"وہ ٹھنڈے مزاج کا بندہ تھا۔مگر اپنے باپ کے الفاظوں پر آنکھوں میں ناپسندیدگی سی ابھری۔جبکہ پچھلے ایک ماہ سے اس کی آنکھوں میں چھائی بے رونقی انکی زیرک نگاہوں سے ہر گز بھی مخفی نہیں تھی۔۔ "مگر زندگی اتنی بھی سستی نہیں کہ جان کو ہتھیلی پر لیکر گھما جائے۔"آج کل وہ کسی ایسے کیس کی تفشیش میں جُتا ہوا تھا۔جس ہستی کا جرم کے ساتھ ساتھ جرائم کی دنیا میں بھی ایک بڑا نام تھا۔۔ "جس دن میں نے یہ وردی پہلی بار اپنے تن پر ڈالی تھی نا بابا ۔اسی دن دل میں یہ عہد کرلیا تھا کہ اب سے میری جان اس ملک و قوم کی امانت ہے۔اور آپ مجھے امانت میں خیانت کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔جو میں ہرگز نہیں کر سکتا۔کیونکہ مجھے مرنے کے بعد اس رب کو بھی منہ دکھانا ہے۔زندگی اور موت اللّه کے ہاتھ میں،مگر میں اپنے فرض سے دستبردار نہیں ہوسکتا۔"وہ ليپ ٹاپ ایک طرف رکھ کر اپنے مخصوص نرم لہجے میں بولتا انہیں خاموش کرواگیا۔۔ انہیں ایکدم ہی اپنے بیٹے
