Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
1 Views
Episode No 08
#محبت_بازیِ_آخر #ہما_قریشی #قسط_نمبر_08 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منہ پر پڑتی سورج کی تیز شعاعوں سے اقصیٰ نے سن دماغ کے ساتھ آہستہ آہستہ سے آنکھ کھولیں۔۔ذہن آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگا۔۔بار بار بند ہوتی آنکھوں کو زبردستی کھولنے کی کوشش میں اِرد گِرد میں نگاہ ڈالی تو خود کو ایک خالی کمرے میں کرسی پر رسی سے بندها ہوا پایا۔۔ذہن نے کام کرنا شروع کیا تو آہستہ آہستہ گزری رات کے تمام مناظر آنکھوں کے پردے پر لہرانے لگے ۔۔چارو جانب وحشت سے دیکھتی اقصیٰ پر ایک بار پھر خوف سا طاری ہوگیا۔۔کمرے کی چار دیواری میں قد سے کئی فٹ اونچی صرف ایک کھڑکی نصب تھی۔جہاں سے سورج کی تیز کرنیں داخل ہوتی سیدھی اس کے منہ پر پڑ رہی تھیں۔جبکہ کمرے کے عین وسط میں موجود کرسی پر موٹی موٹی رسیّوں سے بندھی بیٹھی اقصیٰ پر اس صورتحال میں لرزہ سا طاری ہوگیا۔۔۔ "کھولو مجھے۔کوئی ہے یہاں پر۔۔مجھے یہاں کیوں بند کیا ہے۔پلیز مجھ جانے دو یہاں سے۔۔"گلے میں پڑی خراش کو نظر انداز کرتی وہ پوری شدّت سے چیخی۔ ہاتھ میں کھانے کی ٹرے پکڑا،ٹائیگر اس کے کمرے کے قریب آتا تمسخر سے مسکرایا۔ "گڈ مارننگ رپورٹر!!!ٹائیگر کی جاگیر میں معصوم رپورٹر کی رات کیسی گزری۔رات گزارنے میں کوئی خاصی پریشانی کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا۔"پرجوش مسکراتے لہجے میں ہنوز شیطانیت ٹپک رہی تھی۔اقصیٰ کی آنکھوں میں بے یقینی سے تحیر سی سمٹ آئی۔ صاف ستھرے اُجلے کپڑوں میں ملبوس،وہ گزری رات کے موالیوں والے حلیہ سے بالکل مختلف نظر آرہا تھا۔۔ صاف ستھرا رنگ،براؤن آنکھیں جن میں ہم وقت رہنے والی سرخی موجود تھی۔مسكرآتی انکھوں سے عجیب سی وحشت ٹپک رہی تھی۔چہرے پر ہلكی سی فرنچ داڑھی،سلکی لمبے بالوں کو پیچھے کی جانب سمیٹ کر ربڑ بینڈ میں قید کر رکھا تھا۔بلیو جینز کی پینٹ کے ساتھ سفید ہائی نیک پر لیدر کی جیکٹ پہنے وہ اس پر ایک ہی رات میں پراسرار شخصیت کے ساتھ آشکار ہوا تھا۔اقصیٰ کی محویت ناٹ کر ٹائیگر کے لبو پر گہری مسکراہٹ چھاگئی۔۔ جبکہ اقصیٰ ٹائیگر کا قدم قدم چل کر اپنے نزدیک آنا بھی ناٹ نہیں کر سکی،وہ چند لمحے کے لئے سب کچھ بھول کر ٹرانس کی سی کیفیت میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے مقابل کھڑی ہستی کو دیکھ رہی تھی۔جس کے چہرے پر وہی مخصوص گمراہ کر دینے والی مسکراہٹ اپنی الگ ہی چھاپ دکھا رہی تھی۔۔گزرے دو سالوں میں شاید اقصیٰ وہ پہلی ہستی تھی ۔جو جرائم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ٹائیگر کا چہرہ دیکھنے میں کامیاب ہوئی تھی۔یا یوں کہا جائے جیسے ٹائیگر نے یہ شرف بخش تھا۔۔۔ "کیا ہوا رپورٹر۔۔پیاس لگ رہی ہے کیا۔۔"کھانے کی ٹرے زمین پر رکھتا،وہ پچکار نے والے انداز میں بولا۔۔ اقصیٰ کے اؤسان خطا ہوگئے تھے۔ذہن کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے مفلوج ہوگیا۔ "لو پانی پیو۔۔مزید چلانے کے لئے تمہارے گلے کا تر ہونا بہت ضروری ہے رپورٹر۔۔۔۔"اس نے پانی سے بھرا گلاس اس کے منہ سے لگایا۔تو کل رات سے پیاسی اقصیٰ نے بغیر کسی احتجاج پر گھونٹ گھونٹ پانی حلق میں اتارا۔۔ "کیا ہوا رپورٹر۔رات کے بعد سے زبان کہیں چھوڑ تو نہیں آئی ہو۔۔"مسکراتی آنکھوں سے آئبرو اٹھا کر پوچھا۔۔ "جانے دو مجھے یہاں سے۔۔"اقصیٰ نے سپاٹ لہجے میں دھیمے سے کہا۔۔ "ہاہاہا۔۔رپورٹر۔۔آزادی کا خیال اپنے دل سے نکال دو۔۔"اس کے نرم لہجے میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔۔ "آخر کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا۔۔جانے دو یہاں سے۔"اقصیٰ بے بسی سے شدّت سے چیخی۔۔ "اففف!!!ایک تو تمہاری آواز سیدھی کانوں میں جاکر چبھتی ہے۔۔"وہ کان میں انگلی ڈالتا نفی میں سر ہلا کر بولا۔۔۔۔ "جانے دو مجھے۔۔۔۔" ششش۔۔۔زیادہ پھڑپھڑانے کی ضرورت نہیں۔ورنہ پر کاٹنے میں وقت نہیں لگاؤں گا ۔۔"وہ ایکدم طیش میں اس کا چہرہ دبوچ کر منہ پر غرآیا۔ اقصیٰ اچانک افتاد پر سہم کر رہ گئی۔۔ "یہ کھانا پڑا ہے کھا لینا۔۔نہیں کھایا تو پھر بھوکی مرجاؤگی آیندہ یہ کھانا خود چل کر تمہارے پاس ہر گز نہیں آۓ گا۔۔"وہ اس کے ہاتھ کھولتا۔اِسے آنکھوں میں ڈر خوف لئے خود کو تکتا پاکر مسکرا کر بولا۔۔۔ اقصیٰ کا دماغ جیسے سن ہوگیا تھا۔سب کچھ سمجھ سے باہر تھا۔اس کے بے یقین چہرے پر ایک مسکراتی نگاہ ڈالتا۔کمرے کے دروازہ کو مقفل کر کے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔جبکہ پیچھے بیٹھی اقصیٰ شدّت سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔ _______ سیف کو جب اقصیٰ کی گمشدگی کی خبر لگی تو وہ حیرت کی زیادتی سے چند پل تو بالکل گنگ رہ گیا۔۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔کہ اس قدم کا اتنا بڑا خمیازہ اقصیٰ کو بھگتنا پڑے گا۔ گزرے چار دنوں میں اس نے اپنی ساری سورسز لڑا رہی تھیں۔مگر اس کا کچھ پتہ نہیں لگ سکا۔وہ اس کے گھر بھی گیا۔مگر دہلیز پار کرنے کی ہمّت ہی نہیں ہوئی۔اور مایوس سا واپس لوٹ گیا۔ اپنے گھر کے ٹی وی لاؤنج میں صوفے پر نیم دراز سیف کی نظریں سامنے چلتی ہیڈلائنز پر ضرور تھیں۔مگر دماغ مختلف سوچوں میں الجھا ہوا تھا۔۔ وہ لاشعوری طور پر سکرین تک رہا تھا۔جبھی اچانک ایک بریکنگ نیوز نے اِسے متوجہ ہونے پر مجبور کردیا۔۔ "ناظرین !!!یہاں آپ کو بریکنگ نیوز سے آگاہ کرتے چلیں۔کہ چار روز قبل بندرگاہ سے روانہ ہونے والا تجارتی جہاز اپنی منزل پر پہنچنے سے پہلے ، منزل کے بہت قریب اپنے تمام سازو سامان اور بہت سی زندگیوں کو اپنی لپیٹ میں لئے سمندر کے بیچ و بیچ ڈو ب گیا۔۔جی ہاں ناظرین اس سال کا سب سے بڑا تجارتی جہاز سمندر کے بیچ و بیچ ڈوب گیا۔۔زرائع کےمطابق چار روز قبل روانے ہونے والے تجارتی جہاز میں اربوں روپے کا غیر قانونی طریقے سے لیجانے والا مال موجود تھا۔اس سمندری جہاز کے ڈوب جانے کے باعث ملک کے بڑے بڑے تاجروں کو بڑا نقصان۔۔۔"تیز تیز آواز میں بار بار ایک ہی خبر کو دہرآتی نیوز کاسٹر اب وہی خبر دہرا رہی تھی۔جبکہ سیف حیران سا بیٹھا سکرین گھور رہا تھا۔۔کیا دعائیں اتنی جلدی قبول ہو جاتی ہیں۔اور دل سے ہاں کی آواز انے پر وہ پوری مسکراہٹ سے مسکرایا۔۔ اگر یہ جہاز اپنے مقام پر پہنچ جاتا تو ناجانے کتنی زندگیوں کوتآباہی کی جانب لے جاتا۔بے شک جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے۔ اگر اس رات سیف وہ جہاز پکڑنے میں کامیاب ہو بھی جاتا تو اس میں موجود مال کسی نا کسی طریقے سے مارکیٹ میں ضرور اترتا۔۔اور نا جانے کتنی زندگیآں تباہ کر دیتا۔۔ مگر آج وہ جہاز اپنے اندر سمائے بہت سے درندو اور انسانیت کے دشمن کی سازشوں سمیت سمندر کی گہرآئی میں غرق ہوگیا تھا۔۔۔ _______ جمشید صاحب کے گھر کے انگن میں یہ صبح کسی کی آخری صبح لے کر پر پھیلانے لگی تھی۔۔ بیٹی کی گمشدگی کو دو ہفتے ہونے کو آۓ تھے۔مگر کوئی پتہ نہیں لگ سکا ۔۔بلڈ کینسر کے مریض جمشید صاحب جن کو اپنی بیماری کا کچھ عرصے قبل کی ادراک ہوا تھا۔۔بیٹی کی گمشدگی پر اس محلق بیماری سا نالڑنے کی تاب لاتے رات کو شگفتہ بیگم کو اس بھری دنیا میں تن تنہا اس بے حس زمانے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنی آنکھیں موند گئے ۔۔۔ شگفتہ بیگم غم سے نڈھال پتھر کی ہو گئی تھیں۔نا رو رہی تھیں۔نا کچھ بول رہی تھیں بس خاموش تھیں۔زبان سے کوئی لفظ بھی نکلنے سے نکاری تھا۔۔پہلے بیٹی کی گمشدگی اور اب جمشید صاحب کا اچانک یوں چلے جانا۔۔ان کے جسم کو بھی بے روح کر گیا تھا۔۔ جس گھر میں چند دنوں پہلے تک صرف خوشياں ہی
