Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 07
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
0 Views
Episode No 07
#محبت_بازیِ_آخر #ہما_قریشی #قسط_نمبر_07 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "شٹ۔۔۔"سیف کو بندرگاہ تک پہنچتے بہت دیر ہو چکی تھی۔چند منٹوں پہلے ہی تجارتی جہاز بحری اڈا چھوڑ کر اپنے نئے سفر پر روانہ ہو چکا تھا۔۔ "ایم سوری سر۔۔"وہ تمام افسران سر جھکا کر ندامت سے بولے۔۔ "اتنی ساری پولیس فورس ایک جہاز نہیں روک سکی۔ کیا جھک مار رہے تھے آپ تمام لوگ۔۔"سیف ان کی مایوس شکلیں دیکھ وہاں موجود آفیسرز پر جبڑیں بھینچ کر دهاڑا۔۔ "سر ہمیں اوپر سے آرڈر تھا کہ شپ کو بغیر کسی روک ٹوک آگے جانے دیا جائے۔"وہ سر جھکا کر بولا تو سیف طیش میں مٹھیاں بھینچ کر چہرے پر ہاتھ پھیر کر خود پر قابو کرتا سر جھٹک کر رہ گیا۔۔ بندرگاہ کے گہرے سمندر پر نگاہ ڈالی جہاں دور بیچ سمندر میں شپ اپنی رفتار سے منزل کی جانب گامزن تھا۔۔غصّہ کی شدّت اتنی تھی کہ بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی وہاں جاکر شپ کو روک لے۔ مگر یہ سب اس کے ہاتھ میں نہیں تھا۔۔تاسف سے وہاں موجود آفیسرز پر ایک طیش بھری نگاہ ڈالتا،ضبط سے وہاں سے نكلتا چلا گیا۔۔ ______ "اتنی رات ہوگئی ہے پتہ نہیں کہاں رہ گئی میری بچی۔۔۔"گھڑی میں رات کے دو بجتے دیکھ،وہ مسلسل رو رہی تھیں۔۔ جمشید صاحب اقصیٰ کی تلاش میں ہر طرف ہاتھ پیر مار چکے تھے۔ مگر کہیں سے کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا۔۔اب وہ خود مایوس سی چارپائی سے پیر نیچے لٹکاۓ سر پکڑے بیٹھے ہوۓ تھے۔۔ "میری اقصیٰ کا کچھ پتہ نہیں لگ رہا۔۔اور آپ ہیں کہ یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔پولیس میں ایف آئی آر کیوں نہیں کٹواتے۔۔"وہ دوپٹے سے آنسو پونچھ کر بولیں۔۔ جمشید صاحب نے ایک زخمی نظر اٹھا کر انہیں دیکھا۔پھر خاموشی سے واپسی سر جھکا گئے۔۔ پولیس۔۔ "چوبیس گھنٹوں سے پہلے رپورٹ درج نہیں کریں گے۔یہ لوگ۔۔اور اگر رپورٹ درج کر بھی لیں گے تو محض فضول سوالوں کے ایک تنکا تک نہیں ہلائیں گے۔ ۔۔کچھ نہیں کریں گے یہ لوگ۔۔اب بس دعا کرو کہ اقصیٰ جہاں کہیں بھی ہو محفوظ ہو۔"جمشید صاحب غصّے میں خود پر ضبط کر کے بولے تو ان کے رونے میں مزید شدت آگئی۔۔وہ روتے ہوۓ مسلسل ایک ہی گردان کر رہی تھیں۔۔۔ "کتنی بار کہا تھا کہ مت بھیجو اس کو اس فریبی دنیا میں وہ اس کے لئے نہیں ، یہاں صرف دوغلے لوگوں کی ہی جیت ہے اس جیسی ایماندار کی وہاں کوئی ویلیو نہیں۔۔مگر نہیں۔۔میری بات پر کسی نے کان نہیں دھرا۔۔"جمشید صاحب خاموش تھے ،بالکل خاموش ، کہتے بھی تو کیا کہتے۔۔۔۔ یہ قیامت زدہ تاریک رات قطرہ قطرہ پگھلتی اقصیٰ کی قسمت میں مکمل سیاہی بھر گئی تھی۔۔ ______ یہ كهنڈر عمارت انکا خفیہ اڈا تھی۔جہاں اکثر وہ فورسز کی نظروں سے اوجهل ہونے کے لئے پناہ لیا کرتے تھے۔ٹائیگر گینگ کے بہت سے گینگسٹر پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ اس کھنڈر عمارت میں پہلے سے موجود گنگسٹرز ایک زبردست پولیس مقابلے کے بعد ہی یہاں سے رفو چکر ہوچکے تھے۔اس مقابلے میں کتنے ہی پولیس اہلکار شدید زخمی ہو گئے تھے۔کچھ کی حالت تفشیش ناک تھی۔جبکہ اس مقابلے میں ٹائیگر کے دو بندے بھی جان کی بازی ہار گئے تھے۔۔اب وہاں محض ٹائیگر تھا جو بس صرف ان کا وقت برباد کر رہا تھا۔۔اب بس انتظار تھا تو صبح کا۔۔۔ "اوں۔۔۔اوں۔۔۔"اپنی آنکھوں کے سامنے خون کی ہولی دیکھ اقصیٰ نے وحشت زدہ ہو کر مزمت کرنی چاہی۔ٹائیگر کا بھاری ہاتھ ایک بار پھر اس کے منہ پر آگیا تھا۔ "ششش !!!!! خاموش ہوجاؤ لڑکی،اگر غلطی سے بھی تمہارے منہ سے مزید کوئی آواز باہر نکلی تو اپنے انجام کے لئے تیار رہنا۔" آنکھوں میں عجیب سا جنون لئے وہ سامنے کھڑی نازک سی لڑکی کے منہ پر ہاتھ رکھے اس کی پھٹی پھٹی آنکھوں میں اپنی سرخ انگار ہوتی آنکھوں کو گاڑے،وہ اسے مکمل طور پر اپنے شکنجے کی قید میں کئے دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔جہاں وہ بے بس سی پھڑپھڑا بھی نہیں سکی تھی۔ "دیکھو ٹائیگر ہم تمہارے سامنے سرینڈر کرنے کے لئے تیار ہیں۔میرا تم سے وعدہ ہے کہ میں خود تمھیں اور تمہارے گینگ کو پولیس کے ہمراہ باحفاظت یہاں سے نکلنے میں تمہاری مدد کرونگا۔ تم اس لڑکی کو چھوڑ دو۔یہ ایک معصوم شہری ہے۔اس سارے قصّہ میں اس لڑکی کا کوئی قصور نہیں ہے۔۔" رات کے اندھیرے میں پولیس کی وردی میں موجود جدید اسلحہ سے لیس پولیس ڈیپارٹمنٹ کے جانباز سپاہی نڈر،چوکنے انداز میں لاوڈ سپیکر میں اعلانیہ انداز میں ٹائیگر اور اس کے گینگ کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکنے کا اعلان کر چکے تھے۔انہیں خبر لگ چکی تھی کہ نادر کا مدد کرنے والا اور کوئی نہیں بلکہ ٹائیگر ہی ہے۔۔ "معصوم شہری ۔۔۔" ٹائیگر نے اسی اندھیری عمارت میں خوف سے کپکپاتی اس لڑکی کو دیکھ طنزیہ لفظ پھنکارے۔ جس پر مقابل اس قدر سرد سرگوشی پر کانپ گئی۔ ٹائیگر نے ذرا روشنی والے حصّے کی جانب اقصیٰ کی پشت دیوار سے لگا کر گن کنپٹی پر رکھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب گہری رات میں آسمان پر پھیلتی چاندی میں ٹائیگر کی نظر اقصیٰ کے چہرے پر پڑی۔۔کچھ لمحے تو وہ خود اس رپورٹر کو سامنے دیکھ چند پل بے یقینی سے کچھ بول ہی نہیں سکا۔۔اقصیٰ خوف سے آنکھیں پھاڑے پورے وجود سے کپکپاتی اس کا چہرہ تک رہی تھی۔جو پہلے ہی اس کی جان کا دشمن تھا۔۔ حیرانی ،اور پھر ایک مکّار سی مسکراہٹ نے اس کے لبوں کا احاطہ کیا۔ شکار خود چل کر شکنجے میں پھنس گیا۔ اب فائدہ اٹھانا تو بنتا تھا۔۔ پہلے وہ ایسے کوئی عام سی لڑکی سمجھ کر وہیں بلڈنگ میں چھوڑ کر خاموشی سے وہاں سے غائب ہونا چاہتا تھا۔مگر اپنے مقابل رپورٹر کو دیکھ اس کا ارادہ تبدیل ہوگیا۔۔ "واہ شکار خود چل کر، جال میں پھنس گیا ہے۔۔بہت خوب !!"ٹائیگر وحشت سے مسکرایا تھا۔۔ "سن اؤ رپوٹر۔ جیسا میں کہتا ہوں اور جہاں بھی لے جاتاہوں۔ وہاں خاموشی سے میرے ساتھ چل نکل، ورنہ یاد رکھنا، اگر تو نے ذرا سی بھی چوں چراں کی یا پھر کوئی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی تو سمجھ لیو تیرا کھیل ختم۔۔" ٹائیگر جانتا تھا کے پولیس مقابلے کے دوران ہی اس کے سارے بندے اس کھنڈر عمارت سے رفو چکر ہو چکے ہیں۔ ۔جو کچھ عرصے سے ان کی رہائش گاہ تھی۔پلین بی کے مطابق ان کا ارادہ پولیس والوں کو گمراہ کر کے یہاں لانے کا تھا اب پولیس نے اس عمارت کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔اب صرف یہاں سے نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا کہ وہ اس رپورٹر کے ذریعہ انہیں بلیک میل کر کے یہاں سے رفو چکر ہوجائے، ورنہ یہ پولیس والے اپنی زبان کے کتنے پابند تھے وہ اچھے سے جانتا تھا۔ اور ساتھ ہی اس رپورٹر کو بھی تو مزہ چکھانا تھا۔ جو بڑی دلیری سے رات کے اس پہر ٹائیگر کے سامنے آگئی تھی۔ یقیناً یہ رپورٹر ویڈیو بنانا چاہتی ہوگی ۔۔جس کا اس سارے قصّہ میں محض پروموشن تک کا مفاد وابستہ تھا۔۔اپنی خود ساختہ سوچ کے تحت اب وہ اس رپورٹر کی بہت اچھی پروموشن کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اقصیٰ کی مسلسل مزامت پر وہ گن پر دباؤ ڈالتا اس کی آواز حلق میں ہی دبا گیا۔ اب ٹائیگر چوکنا سا اس کے ہمرا بہت احتیاط سے پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہا تھا۔ ساری لائٹس اسی بلڈنگ کو فوکس میں لئے ہوئیں تھیں۔ پورے شہر میں ہائی الرٹ جاری تھا۔شہر سے کئی کلو میٹر کے فاصلے پر ہونے کے باوجود فضا
