Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 03/01/2026
14 Views
Episode No 03
سے نکل رہی تھی۔ناجانےاس راه میں اور کتنی دشواریاں تھیں جو اس کی منتظر تھین۔ "اقصیٰ۔۔۔ جی ارہی ہوں۔وه اپنی سوچوں میں غرق شگفتہ بیگم کی آواز پر چونک کر باہر کی جانب بڑھی تھی۔جہاں جمشید صاحب کے ساتھ ساتھ شگفتہ بیگم بھی اس کا ناشتے پر انتطار کر رہی تھیں۔جمشید صاحب کو وه کل رات ہی اپنے ارادوں سے آگاه کرتی مطمئن کر چکی تھی۔۔۔ ******* صبح سے مختلف نیوز چینلز میں انٹرویوز دینے کے بعد اب اقصیٰ ہر جگہ کی خاک چھانے کے بعد ایک آخری امید پر ایک نجی چینل کی جانب جا رہی تھی۔جس چینل کےنام سےبھی شایدشازر نازر لوگ ہی واقف ہونگے۔زندگی ان پرڈیکٹیبل ہے۔یہاں کب کیا ہو جائے کوئی نہیں جانتا۔انسان کیا کیا سوچ رہا ہوتا ہے۔اور رب کے فیصلے کے اگے اس کے سارے خواب آدھورے ره جاتے ہیں۔ یہ بات میڈیا انڈسٹری میں اگ کی مانند پھیل گئی تھی۔باظاہر آقصیٰ کو ٹائیگر کے دھمکانے والی بات کو پس پردھ کر کردیا گیا تھا۔مگر اندر خانہ سب لوگ اس بات سے واقف ہوچکے تھے۔کوئی بھی نیوز چینل والا اقصیٰ کو اپنے پاس رکھ کر اپنے چینل یا اسٹاف کو خطره میں نہیں ڈالنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا۔کیونکے اب ٹائیگر سے اقصیٰ کی جان کو بھی خطره لاحق تھا۔ رکشہ کا کرایہ ادا کرتی اب وہ غیر معروف چینل کی تین منزلہ عمارت کے اگے کھڑی تھی۔ایک نظر اٹھا کر اُپر کی جانب دیکھا ۔پھر روڈ کراس کرتی،ایک آخری امید کے ساتھ اس بلڈنگ کی جانب بڑھی۔جہاں ایک نیا محاذ سر کرنا تھا۔ ویسے مخالفین بھی آپ کی زندگی میں ایک بہت اہم کر دار ادا کرتے ہیں ۔یہ وه لوگ ہوتے ہیں جو آپ کو ہمیشہ گراونڈ پر ہی رکھتے ہیں۔جب آپ خود کو آسماں پر سمجھتے ہیں۔یہ محض چند سکینڈ میں ہی آپ کو زمین پر لا پٹختے ہیں۔تو اپنے مخالفین کی قدر کیجیے۔کیوں کہ انسان صدا عرش پر نہیں ره سکتا،ایک نا ایک دن ایسے زمین پر ضرور انا پڑتا ہے۔اور جب خود کو عرش سمجھنے والے منہ کےبل فرش پر گراتے ہیں۔تو چوٹ زیاده لگتی ہے۔بہتر یہی ہے کے آپ ہمیشہ فرش پر ہی قیام کریں۔انسان مٹی کا پتلا ہے۔اور مٹی سے بنی چیزین مٹی میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ہر انسان کی اپنی ایک الگ ہی ویلیو ہوتی ہے۔اپنی ویلیوز کو کسی کے بھی تحقیر زدہ لفظوں کی خاطر اپنی ذات کو اگنور نہ کریں۔اقصیٰ اپنے مخالفین کی بھی دل سے قدر کرتی تھی۔جبھی تو اس کے حوصلے بلند تھے۔جو کبھی اس کے قدم ڈگمگانے نہیں دیتے تھے۔ ********* If i'm not wrong, Miss Aqsa. You are one of the most popular senior reporter in our media industry. And also you did a great job with the highest rated channel. So why are you here? And why do you want to work with us on this level? وه اس کی سی وی پر درج تمام تر قابلیت اور تجربے پر نظر ثانی کرنے کے بعد اقصیٰ کو اپنے سامنے دیکھ زرا حیران نظر ارہے تھے۔کچھ توقف کے بعد وه زرا کھوجتی ہوئی نظروں سے اس کے تاثرات کا اندازه لگاتے تحمل سے گویا ہوئے۔ ان کے متعجب انداز اور خود پر مرکوز نظریں دیکھ پہلے اقصیٰ دھیرے سے مسکائئ پھر سنجیدگی سے گویا ہوئی ۔ Because they fired me. اقصیٰ کا جواب ان کے لیے غیر متوقع تھا۔کچھ لمحے تو وه اس شاکڈ کے باعث کچھ بول ہی نہیں سکے تھے. Wait, what did you say, Miss Aqsa? They fired you. ان کی حیرانگی بجا تھی۔بھلا کوئی بھی فرم یا نیوز چینل کیسی ایسے شخص کو کیوں نکال سکتا ہے۔جو آپ کو کما کر دے رہا ہو،یا جو آپ کے چینل پر سب سے زیادہ ریٹنگ لینے کا باعث بنے۔آقصیٰ محض ہولے سے اثبات میں سر ہلا کر ره گئی تھی۔ But why Miss Aqsa? Any reason? ان کے تفتیش بھرے انداز پر اقصیٰ ایک گہری سانس بھر کر ره گئی تھی۔ "سر آپ تو ماشاٰا الله سے کافی سمجھدار ہیں ہیں۔تو آپ اس بات سے بخوبی واقف ہونگے کہ ہم اسکرین پر سر گرم رہنے والے لوگوں کے جہاں ایک طرف سپورٹرز بھی ہوتے ہیں۔تو دوسری جانب کافی زیاده مخالفین کی بھی ایک کثیر تعداد موجود ہوتی ہے،بس یہی وجہ تھی کے سر زمان اور ان کا اسٹاف میرے ساتھ کام کرتے ہوئے زراانسکیور فیل کر رہا تھا۔جس کے باعث مجھے یہ جاب چھوڑنی پڑی اور اب میں آپ کے سامنے موجود ہوں۔اقصیٰ نے پر سکون انداز میں زرا مختلف طریقے سے اپنی سابقہ جاب کے چلنے جانے کے بابت تفصیل سے اگاه کیا۔جبکہ اب وه کافی پر سوچ نظر ارہے تھے۔ ویل مس اْقصیٰ جو بھی بات ہے۔ہم فی لحال آپ کو جاب نہیں دے سکتے۔وجہ کوئی ڈر اور خوف نہیں۔بلکہ ہمارے یہاں آپ کے لیول کی کوئی بھی ویکنسی موجود نہیں ہے۔ایک چھوٹے سے کیمرا پر آکر ایک غیر شناسہ چینل کے ساتھ کام کرنا تو یقیناً آپ کو پسند نہیں آئیے گا۔وه اپنی جانب بجا تھے،اْقصیٰ بھی ان کی بات سے متفق تھی،مگر فی الحال جاب چاہیے تھی،بھلے تنخواه جتنی بھی ہو،یا پھر اس جاب میں خواری ایسے سب منظور تھا۔ اگر آپ کے چینل میں کوئی بھی ویکنسی موجودہو تو،آپ بلا جھجھک مجھے یاد کرسکتے ہیں۔اقصیٰ خاموشی سے اپنی فائل اٹھا کر نرمی سے انہیں اگاه کرتی۔آفس سے باہر نکل چکی تھی۔ جبکہ ان کی پر سوچ نظریں گلاس ڈور دھکیل کر باہر نکلتی اقصیٰ پر مرکوز تھیں۔اقصیٰ وه لڑکی تھی۔جس کے باعث ایل ٹی وی چینل پھر سے بحال ہوگیاتھا۔اور دو سال میں ہی اس کی ریٹنگ پہلے کی طرح عروج پر پہنچ چکی تھی۔جو گزرے پانچ سالوں میں کچھ غلط خبریں نشر کرنے کے باعث زرا کم ہوگئی تھی۔اور آج وہ ایک بار پھر نئے طریقے سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے جا رہی تھی۔۔ ******** جاری ہے۔۔۔۔۔۔
